اسلام، قرآن، روحانیت، گیمنگ، فری لانسنگ، کمپیوٹر، ویب ڈیویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، اللہ کے معجزات، عجیب و غریب نشانیاں، غیرمسلموں کو چیلنج، لائف کوچنگ، کیریئر کاونسلنگ، ریلیشن شپ کے لیے مشورے اور بہت کچھ آسان اردو زبان میں
جمعرات، 22 مئی، 2025
آن لائن سبزیاں سپلائی کرنے کا بزنس
منگل، 13 مئی، 2025
ہر بندہ روز کماتا ہے - کمانا منع نہیں ہے - کوشش کرنا ہمارا حق ہے
میں دیکھتا ہوں کہ ہر بندہ، فقیر ہو یا دکان والا ہو، پلمبر ہو یا مزدور ہو، کمانے کے لیے روز باہر نکلتا ہے۔
روزانہ کسی نہ کسی کو کہیں نہ کہیں پر کام ملتا ہے یا کسٹمر ملتا ہے۔
کام کروانے والے مزدوری کے بدلے پیسے دیتے ہیں۔
خریداری کرنے والے پیسے دے کر چیز خریدتے ہیں۔
میں نے اس سے یہ سیکھا ہے کہ انسان روزانہ کماسکتا ہے۔
روز کمانے کی کوشش کرنا چاہیے۔
ہر طرح کے وسائل استعمال کرنے چاہیں۔
اللہ نے کہیں بھی کسی کو منع نہیں کیا ہے سوائے ان حرام کاموں اور باتوں اور چیزوں کے جن کے بارے میں اس نے واضح طور پر قرآن میں منع کردیا ہے یا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمادیا ہے اور وہ صحیح احادیث سے متفق طور پر سچ ثابت ہو بغیر کسی عالمی اختلاف کے جس طرح پانچ نمازوں پر سب کا اتقاق ہے۔
بحیثیت فری لانسر، کام تلاش کرنا تمہارا حق ہے لہذا روز کام تلاش کرو۔
بحیثیت بزنس آنر، کسٹمر کا انتطار کرنا تمہارا حق ہے۔ انتظار کرو۔ اپنے آئیٹمز پوسٹ کرو۔ اپنی آن لائن دکان چلاو۔ اپنی دکان پر اپنا مال لگاو۔ کوئی خریدنا چاہے اس کو کسٹمر سمجھتے ہوئے ڈیل کرو۔
کوئی سیکھنا چاہتا ہے، کام کرنا یا بزنس کرنا، وہ تمہاری مرضی ہے کہ کتنی فیس لے کر سکھاتے ہو۔ وہ تمہارا اسٹوڈنٹ ہوگا اور اس سے تم جو مرضی فیس لے کر سکھاسکتے ہو۔ اگر غریب ہوگا تو کم فیس یا کوئی ڈیمانڈ مثلا وہ تمارے لیے کام کرے اور تم اس کے بدلے اس کو سکھادو یا امیر جو تمہیں منہ مانگی فیس ادا کرے اور بدلے میں تم اس کو اپنا ہنر یا طور طریقے سکھادو۔
فری میں کام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تم کسی کے باپ کے غلام یا نوکر نہیں ہو۔
کوئی کام کروائے گا تو تم بدلے میں کچھ بھی لے سکتے ہو، یہ تمہارا حق ہے۔
اپنا حق مارنے کی کسی کو اجازت مت دو ماسوائے یہ کہ وہ تمہارے والدین ہوں یا بیوی بچے جن کی ذمہ داری اور ٹیک کیئر کرنا تمہارا فرض ہے۔ باقی بہن بھائی رشتہ دار دوست احباب وغیرہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہیں۔
البتہ اگر تم کسی کے ساتھ احسان کرو تو وہ ایک الگ بات ہے اور وہ صرف اللہ کےلیے ہونا چاہیے، کسی شکریہ/بدلے/یا پیسوں کی امید پر ہرگز نہ ہونا چاہیے تاکہ تم آخرت میں اس عمل کے بدلے اللہ سے بہترین انعامات حاصل کرسکو۔
لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد
منگل، 14 جنوری، 2025
کاروبار کو کاروبار کی طرح کریں اور دو گھنٹے مذہب کے لیے وقف کریں
پیر، 13 جنوری، 2025
غریب کی طرح خریدو اور امیر کی طرف بیچو
جب انسان غریب کی طرح سوچتا ہے اور خریدتا ہے تو سستا خریدتا ہے۔ ایسی مارکیٹس تلاش کرتا ہے جہاں مال سستا ملے لیکن جب بیچنے کی باری آجائے تو اسے چاہیے کہ امیروں میں جاکر بیچے تاکہ مہنگے داموں اس کو آمدنی حاصل ہو اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ دین اسلام میں مال کمانے کے نفع پر کوئی پابندی نہیں ہے ایسی چیزوں پر جو لوگوں کو روزمرہ معاملات میں "ضرورت" کے تحت استعمال نہیں ہوتیں۔
مثال کے طور پر آٹا، گھی، چینی، نمک وغیرہ مگر۔۔۔اگر ان چیزوں کی روانی ہو اور کوئی خصوصی دال چینی، آٹا، گھی، نمک لاکر بیچے یعنی کہ روحانی آٹا، روحانی چینی، روحانی اگربتی وغیرہ تو وہ اس کے بدلے مہنگی قیمت وصول کرسکتا ہے اپنی برانڈ کے تحت جیسا کہ میں لیجنڈری فری لانسر ویب سائٹ پر ایسی روحانی پراڈکٹس اور سروسز فراہم کرتا ہوں جو عام طور پر دستیاب نہیں ہوتیں اور ان چیزوں کو استعمال کرنے پر لوگوں کو اللہ کے حکم سے شفا ملنے کا دعوی بھی کرتا ہوں کیونکہ انسان خواہ کوئی بھی دوا استعمال کرلے یا دعا کرلے، اپنی تمام تر کوششوں کے بعد نتیجہ اللہ کے حکم سے ملنے کا انتظار کرنا چاہیے۔
یہ بات یاد رہے کہ شفا اللہ کے حکم سے بغیر مل ہی نہیں سکتی۔لہذا دھندا کوئی بھی ہو اسلامی اصولوں کے مطابق ہو تو بہتر ہے۔ باقی جہاں تک غریب بن کر سوچنا اور بیچنا ہے تو وہ بات اس لیے ہے تاکہ فری لانسر ز اپنے فری لانسنگ بزنس میں سروسز کے ساتھ ساتھ پراڈکٹس بیچ کر بھی اپنی آمدنی میں اضافہ کرسکیں اور اپنی ویب سائٹ پر سب کچھ بیچنے کے لیے لگادیں۔
جب تک کسٹمر کو معلوم نہ ہوگا کہ آپ کیا بیچ رہے ہیں تو وہ خریدے گا کیسے؟
لہذا ایک فری لانسر چونکہ چلتا پھرتا بزنس مین ہوتا ہے اس لیے اسے لازمی ہے کہ ایک بزنس مین بن کر سوچے۔ مال کہاں سے سستا ملے ؟ اسے بھی نظر میں رکھے اور مال کدھر مہنگا کرکے بہچنا ہے، اس پر بھی نظر رکھے۔
ایک کلائںٹ جب چاہے امریکہ میں رہتے ہوئے کسی پاکستانی فری لانسر سے کام کرواسکتا ہے سستے ریٹ پر یا کسی انڈین فری لانسر سے کام کرواسکتا ہے مگر جب چاہے کسی امریکی فری لانسر کو بھی مہنگے داموں ہائر کرکے کام کرواسکتا ہے۔ تو فرق کس بات کا ہے؟ یہی کہ اسے بھی معلوم ہے کہ پاکستانی یا انڈین فری لانسرز سستے ریٹ پرسستی کوالٹی کا کام کرتے ہیں اور امریکی فری لانسر مہنگے ریٹ پرہائی کوالٹی کا کام کرتا ہے۔
لیکن اگر کسی امریکی کلائنٹ کو اچھا اور کوالٹی کام کرنے والا پاکستانی فری لانسر حاصل ہوجائے اور کم قیمت پر بہترین کام کرکے دے تو؟ تو ایسی صورت میں ظاہر سی بات ہے کہ وہ اسی کو بار بار ہائر کرے گا اور اپنے کام کروائے گا۔
اسی طرح اگر آپ کو اپنا فری لانسنگ بزنس کرتے ہوئے ایسے کاموں میں کسی سے کام کروانے کی ضرورت پڑجائے جو سستے داموں اپنی سروس بیچ رہا ہے تو آپ کو خریدنے میں ہرج ہی کیا ہے؟ یہ اس کے ریٹ ہین، آپ کے ریٹ نہیں۔آپ اس کو ہائر کریں، سستے داموں کام کروائیں اور اپنے بزنس کو آگے بڑھائیں۔
باقی جہاں تک پراڈکٹس کی بات ہے تو پاکستان میں کئی ایسی مارکیٹس ہیں جہاں سے سستے داموں مال ملتا ہے۔ آپ کو جو بھی پراڈکٹس خریدنی ہیں، وہاں سے خرید کر انٹرنیشنل مارکیٹس میں انگریزوں کو بیچنا شروع کردیں۔ ان کے پاس دولت ہے، وہ خرید کر آپ کو نفع دیں گے ان شاء اللہ۔
آپ کو کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ آپ مال کہاں سے خریدکر لاتے ہیں۔ یہ آپ کا بزنس سیکریٹ ہونا چاہیے۔جو آپ کے اسٹوڈنٹس بننا چاہیں اور آپ کو فیس ادا کریں، یہ باتیں آپ صرف انہیں کو سکھائیں تاکہ آپ کے مقابلہ پر ہر کوئی کھڑا ہونے کی جرات نہ کرسکے۔
یاد رکھیں، کوئی بھی برانڈ والا، اپنے بزنس سیکریٹس کسی اور کو نہیں دیتا۔ جب آپ اپنے نام سے کام کریں یا کسی برانڈ کے نام سے پہچان بنائیں تو اس چیز کا خیال رکھیں کہ آپ سستے ہرگز نہیں ہیں۔
ایک تجربہ کار فری لانسر ایک بزنس مین ہوتا ہے۔وہ اپنی پراڈکٹس اور سروسز کے ذریعے پیسہ کماتا ہے۔ڈالرز کماتا ہے۔ یورو کماتا ہے۔انڈین روپے کماتا ہے۔ پاکستانی روپے کماتا ہے۔اس کے پاس بہت ساری کرنسی ہوتی ہیں بلکل ایک ویڈیو گیم کی طرح جس میں مختلف کرنسی کماکر ایک گیمنگ کریکٹر اپنے لیے بہت سے فائدے حاصل کرتا ہے اور جس کرنسی میں جو مال ملے اسے خرید کر لاتا ہے یا فروخت کرتا ہے۔
آپ کہاں سے کمائیں گے؟ یہ آپ فیصلہ کریں۔
مگر آپ کہاں سے خریدیں گے؟ یہ میں آپ کو بتاچکا ہوں۔
غریب بن کر سوچیں، غریبوں کی طرح سستا خریدیں مگر اس کے بعد؟
امیر بن کر سوچیں اور امیروں کی طرح بزنس کرنا سیکھیں اپنے کسٹمرز کے ساتھ ایک برانڈ بناکر۔
لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد
ہفتہ، 28 دسمبر، 2024
فیس، چارجز، رشوت، کیس اور پراجیکٹس: مختلف تصورات اور پیشے
دنیا میں مختلف پیشے اور کام کرنے کے طریقے موجود ہیں جن میں لوگوں کی مہارت اور خدمات کے بدلے معاوضہ لیا جاتا ہے۔ طلباء کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ "فیس"، "چارجز"، "رشوت"، "کیس پر کام" اور "پراجیکٹس" کیا ہیں اور ان کا تعلق کس قسم کے پیشوں سے ہے۔ اس مضمون میں ہم ان تصورات کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ ان کے درمیان فرق کو واضح کیا جا سکے۔
1. فیس (Fee)
فیس ایک مقررہ رقم ہے جو کسی ماہر یا پیشہ ور شخص کو ان کی خدمات کے بدلے دی جاتی ہے۔ یہ ایک قانونی اور صاف ستھرا طریقہ ہے جس کے ذریعے کسی پروفیشنل کی مہارت اور وقت کا معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔
مثالیں:
- ڈاکٹر اپنی تشخیص کے لیے فیس لیتے ہیں۔
- وکیل اپنے کلائنٹ کی قانونی مشاورت کے لیے فیس لیتے ہیں۔
- ٹیوشن یا کوچنگ سینٹرز طلباء سے فیس لیتے ہیں۔
پیشے:
- میڈیکل (ڈاکٹرز، فزیو تھراپسٹ)
- تعلیم (ٹیچرز، کوچنگ انسٹیٹیوٹس)
- قانونی خدمات (وکیل، مشیر قانون)
2. چارجز (Charges)
چارجز عام طور پر کسی خاص سروس یا سہولت کے استعمال کے بدلے وصول کی جانے والی رقم کو کہتے ہیں۔ چارجز کا تعین فراہم کی جانے والی سروس کی نوعیت اور معیار کے مطابق کیا جاتا ہے۔
مثالیں:
- بینک کسی ٹرانزیکشن یا سہولت کے لیے چارجز لیتے ہیں۔
- ہوٹل یا ریسٹورنٹ اضافی سہولیات جیسے ڈیلیوری یا خصوصی خدمات کے لیے چارجز لیتے ہیں۔
پیشے:
- بینکنگ اور فنانس
- ہاسپیٹالٹی (ہوٹلز، ریسٹورنٹس)
- یوٹیلیٹی سروسز (بجلی، پانی، انٹرنیٹ فراہم کرنے والے)
3. رشوت (Bribe)
رشوت ایک غیر قانونی عمل ہے جس میں کسی کام کو غلط طریقے سے کروانے یا ضابطوں کو توڑنے کے لیے کسی کو پیسے یا تحائف دیے جاتے ہیں۔ رشوت دینا اور لینا دونوں جرم ہیں اور اس سے معاشرے میں کرپشن اور بدعنوانی کو فروغ ملتا ہے۔
مثالیں:
- کسی افسر کو غیر قانونی طریقے سے کام کروانے کے لیے رشوت دینا۔
- کسی حکومتی اہلکار کو اپنا فائل جلدی پروسیس کروانے کے لیے رشوت دینا۔
پیشے:
- کوئی بھی شعبہ جہاں غیر قانونی کاموں کے لیے پیسے دیے یا لیے جائیں۔
4. کیس پر کام (Case Work)
کیس پر کام خاص طور پر قانونی، طبی، یا سماجی مسائل میں استعمال ہوتا ہے۔ اس میں پیشہ ور افراد کسی مخصوص مسئلے کو حل کرنے کے لیے گہرائی سے کام کرتے ہیں۔
مثالیں:
- وکیل عدالت میں کسی کیس پر کام کرتے ہیں۔
- ڈاکٹر مریض کے مخصوص طبی مسئلے کو حل کرنے کے لیے اس کی کیس ہسٹری پر غور کرتے ہیں۔
پیشے:
- وکالت اور قانون
- طب اور صحت
- سماجی خدمات
5. پراجیکٹ بنانا (Project Work)
پراجیکٹ بنانا کسی مخصوص مقصد کے لیے ایک مقررہ مدت میں مکمل کی جانے والی سرگرمی یا کام کو کہتے ہیں۔ یہ کام تحقیق، تخلیق یا مسائل کو حل کرنے پر مبنی ہوتا ہے۔
مثالیں:
- طلباء اپنے تعلیمی اداروں میں سائنسی یا تحقیقی پراجیکٹس تیار کرتے ہیں۔
- انجینئرز کسی تعمیراتی یا ٹیکنالوجی کے پراجیکٹ پر کام کرتے ہیں۔
- آئی ٹی ماہرین سافٹ ویئر یا ایپلی کیشنز کے پراجیکٹس بناتے ہیں۔
پیشے:
- تعلیم و تحقیق
- انجینئرنگ
- آئی ٹی اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ
اہم فرق:
| تصور | مقصد | قانونی حیثیت | مثالیں |
|---|---|---|---|
| فیس | خدمات کے بدلے معاوضہ | قانونی | ڈاکٹر، وکیل |
| چارجز | سروس کے استعمال کے بدلے معاوضہ | قانونی | بینک، ہوٹل |
| رشوت | غیر قانونی فائدہ لینا | غیر قانونی | بدعنوانی |
| کیس پر کام | کسی مسئلے کا حل تلاش کرنا | قانونی | وکالت، طب |
| پراجیکٹ بنانا | مخصوص مقصد کے لیے تخلیق | قانونی | تعلیمی، انجینئرنگ |
نتیجہ:
طلباء کو ان تمام تصورات کے فرق کو سمجھنا چاہیے تاکہ وہ پیشہ ور دنیا میں مختلف پیشوں اور ان کے معاوضے کے نظام کو جان سکیں۔ فیس اور چارجز قانونی ذرائع ہیں، جبکہ رشوت غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔ کیس اور پراجیکٹس کا تعلق تحقیق، تخلیق اور مسائل کے حل سے ہے۔ اس علم کے ذریعے طلباء اپنے مستقبل کے پیشے کے بارے میں بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔
اتوار، 26 فروری، 2023
سولوپرینیور کے فوائد اور نقصانات
سولو پرینور کا مطلب ہے کہ آپ اپنے کاروبار کے واحد مالک ہیں اور خود کام کرتے ہیں۔ سولوپرینیور ہونے کے کچھ فوائد میں شامل ہیں:
لچک: آپ کو اپنے کام کے شیڈول پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور آپ جب چاہیں کام کر سکتے ہیں۔
خود مختاری: فیصلہ سازی کے عمل سمیت اپنے کاروبار کے تمام پہلوؤں پر آپ کا مکمل کنٹرول ہے۔
لاگت کی تاثیر: آپ اوور ہیڈ اخراجات جیسے دفتر کی جگہ، ملازمین کی تنخواہیں، اور بڑے کاروبار کو چلانے سے وابستہ دیگر اخراجات کو بچا سکتے ہیں۔
تخلیقی آزادی: آپ کو کسی اور کی منظوری کی ضرورت کے بغیر نئے خیالات کے ساتھ تجربہ کرنے کی آزادی ہے۔
تاہم، سولوپرینیور ہونے کے کچھ نقصانات بھی ہیں:
محدود وسائل: ایک سولو پرینور کے طور پر، آپ کے پاس محدود وسائل ہو سکتے ہیں، بشمول وقت، پیسہ اور مہارت۔
تنہائی: تنہا کام کرنا تنہا ہو سکتا ہے، اور دوسروں کے خیالات کو اچھالنا یا رائے حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
کوئی بیک اپ نہیں: اگر آپ بیمار ہو جاتے ہیں یا آپ کو وقت نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے، تو آپ کا احاطہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
ترقی کی محدود صلاحیت: ٹیم کے بغیر، اپنے کاروبار کو ایک خاص نقطہ سے آگے بڑھانا مشکل ہو سکتا ہے۔
بالآخر، سولو پرینور ہونا بہتر ہے یا نہیں، اس کا انحصار آپ کی انفرادی ترجیحات، اہداف اور حالات پر ہے۔
منگل، 21 فروری، 2023
کیا اسلا م میں زیادہ پیسہ کمانا حرام ہے؟
پیسہ کمانے کے حوالے سے ایسے مسلمانوں میں شدید کنفیوزن پائی جاتی ہے جو فرقہ پرستی میں گرفتار ہیں کیونکہ انہیں اکثر و بیشتر یہی سکھایا پڑھایا جاتا ہے کہ دنیا ایک بےکار جگہ ہے۔ یہ دل لگانے کے لیے نہیں ہے۔ انہیں اولیا اللہ اور صحابہ کرام کے حوالے سے من پسند قصے کہانیاں سنائی جاتی ہیں جن سے مائنڈسیٹ پر ایک غلط تاثر قائم ہوتا ہے کہ گویا ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو غریب ہو یا اللہ کا ولی وہی ہوتا ہے جس کے پاس ایک گدڑی ہو اور وہ کسی کٹیا یا جھونپڑی میں بیٹھا اللہ ہو کی ضربیں ماررہا ہو وغیرہ وغیرہ۔
یہاں میں پیسہ کمانے کے حوالے سے ایسے لوگوں کے ویڈیوز شیئر کررہا ہوں جو اس معاملہ میں خود ساختہ اور جھوٹے عقائد کے خلاف ایک غیرجانبدار اور صحیح بات کررہے ہیں خواہ ان کا تعلق کسی بھی فرقہ سے ہو لہذا ان ویڈیوز کو پیسہ کمانے کے لیے حوالے سے اپنے عقائد درست کرنے کے لیے ہی سنا جائے اور جتنا ممکن ہوسکے ایک مسلمان اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے مال کمانے کے لیے اپنی کوششیں کرے تاکہ غریبی و فقیری کے سبب کفر میں نہ پڑجائے اور اس کے گھر بار، والدین، رشتہ دار وغیرہ دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں بلکہ وہ انہیں اللہ کے دیے ہوئے مال سے مدد کرے اور اپنی دنیا کا حصہ بھی لے اور آخرت میں بھی کامیابیاں حاصل کرسکے اللہ کے فضل سے۔