ہفتہ، 27 جون، 2026

ایک واقعہ سبق آموز ہدایت کے لیے نیکی کرنے والوں کو ہمت دینے کے لیے

میں ماڈل ٹاؤن لاہور میں مقیم ہوں اللہ تعالی کا دیا ہوا سب کچھ ہے جو مقامی لاہوریئیے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ لاہور کے جو چند بڑی سوسائٹیاں ہیں ان میں سے ایک ماڈل ٹاؤن ہے اور یہاں ملک کی ایلیٹ کلاس ہی رہ سکتی ہے کسی وقت میں میں بھی بہت عیاش تھا میرے باپ کی کمائی تھی اور کروڑوں میں تھی میں کیا کرتا ہوں کہاں لگاتا ہوں مجھے کوئی پوچھ پکڑ نہیں تھی آئے دن ہمارے گھر میں پارٹی ہوتی تھی شراب شباب سب کچھ وہاں موجود ہوتا تھا اور پھر میں اپنے لیے الگ سے بھی ان چیزوں کا انتظام کیا کرتا تھا اج بھی میں جب دوپہر کے وقت شراب کا انتظام کرنے کے لیے نکلا گو کہ جو لوگ ایسے شغل کرتے ہیں انہیں لگے گا یہ پینے کا کوئی وقت نہیں ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ میرے پینے کا بھی کوئی وقت نہیں ہوتا تھا میرا جب دل کرتا تھا میں انتظام کر لیتا تھا اور پی لیتا تھا اج بھی ایسا ہی تھا مگر جب میں نکلا تو میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر کے قریب ہی ایک گھر سے ایک خاتون باہر نکل رہی ہے جو شاید 24 یا 25 سال کی ہو گئی اس کے کپڑے بوسیدہ اور پھٹے ہوئے ہیں وہ گھر کا دروازہ کھول کر باہر نکلتی ہے تو اسی دوران ایک گاڑی اس گیٹ کے سامنے ا جاتی ہے اور گیٹ خود بخود کھلنے لگتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ وہ گاڑی کسی گھر کے مکین کی تھی مگر وہ گاڑی اس خاتون کے پاس رک جاتی ہے وہ خاتون تپتی دھوپ میں باہر کھڑی گاڑی کے اندر بیٹھے لوگوں سے کچھ گفتگو کر رہی ہے جسے میں سن نہیں سکتا مگر خاتون کے چہرے کا حال بتاتا ہے کہ وہ اپنی کوئی مجبوری بیان کر رہی ہے اسی دوران میری نظر خاتون کے پاؤں کی طرف جاتی ہے تو میں دیکھتا ہوں کہ کبھی وہ ایڑیوں کے بل کھڑی ہو جاتی ہے اور کبھی وہ پنجوں کے بل کھڑی ہو جاتی ہے یعنی وہ اپنے پاؤں کو سیدھا زمین پہ نہیں رکھ رہی میں یہ منظر دیکھ کر رک جاتا ہوں مزید انتظار کرتا ہوں تھوڑی دیر ان لوگوں میں گفتگو ہونے لگتی ہے اسی دوران باہر کھڑی خاتون کی انکھوں سے انسو ا جاتے ہیں وہ انسو صاف کرتے ہوئے بات چیت جاری رکھتی ہے مگر تھوڑی دیر بعد اندر سے ایک نسوانی ہاتھ نکلتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاڑی میں بھی کوئی خاتون موجود تھی وہ باہر کھڑی خاتون کو دھکہ دیتی ہے اور گاڑی لے کر گھر کے اندر داخل ہو جاتی ہے جس خاتون کو دھکہ دیا جاتا ہے وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھا پاتی اور زمین پر گر جاتی ہے اس وقت دوپہر کا وقت تھا سخت گرمی کا موسم تھا زمین تانبے کی مانند گرم تھی یقینا گرنے والی خاتون کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہوگا مگر وہ اٹھتی ہے اپنے انسو صاف کرتی ہے اپنا دوپٹہ درست کرتی ہے اور روڈ پر چلنے لگ پڑتی ہے یقینا وہ اپنے گھر کے لیے نکلتی ہے میں ایک سائیڈ میں کھڑا یہ سارا منظر دیکھ رہا ہوتا ہوں جب وہ خاتون اپنی راہ پر چل دیتی ہے تو میں اپنی گاڑی اگے بڑھاتا ہوں اور اس خاتون کے پاس جا کر رک جاتا ہوں اس سے پوچھتا ہوں کہ کیا وجہ ہے اپ کیوں رو رہی ہیں پہلے تو وہ مجھے دیکھ کر ڈر جاتی ہے مگر میں گاڑی سے اتر کر اس کے پاس جاتا ہوں اس کے سر پہ ہاتھ رکھتا ہوں اسے تسلی دیتا ہوں اور پھر اس سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے اپ کو دھکا کیوں دیا ہے تو وہ خاتون بتاتی ہے کہ 

یہ میری میڈم ہے میں ان کے گھر میں کام کرتی ہوں میرے والد صاحب کا کل انتقال ہوا ہے میں نے ابھی تک کسی کو نہیں بتایا کیونکہ میرے پاس تدفین کے پیسے نہیں ہیں ان کے موت سے تین دن پہلے میں نے ان کو بتایا کہ میرے والد کی طبیعت خراب ہے ان کا کسی بھی وقت انتقال ہو سکتا ہے مجھے میری تنخواہ اور کچھ رقم ایڈوانس چاہیے اپ لوگ دے دیں تاکہ میں اپنے والد کے اخری رسومات ادا کر سکوں لیکن یہ لوگ وعدہ کرنے کے باوجود مجھے رقم نہیں دے رہے وہ تین دن بھی گزر گئیے اس کے بعد میرے والد کا انتقال ہوا اور اج میرے والد کو مرے بھی دوسرا دن ہے اس کی بے گورو کفن لاش میرے گھر میں پڑی ہے جس کمرے میں لاش رکھی ہے اس کمرے میں میں نے اگر بتیاں جلا رکھی ہیں اپنے بچوں کو اس کمرے میں جانے سے منع کر رکھا ہے اور اس کمرے کو باہر سے تالا لگا رکھا ہے تاکہ نہ تو باہر بدبو پھیلے اور نہ ہی میرے بچے میرے والد کی لاش دیکھ سکیں اور نہ ہی محلے کو پتہ چلے میں روٹین کے مطابق کھانے کی پلیٹ لے کر والد کے کمرے میں جاتی ہیں وہاں بیٹھے روتی ہوں اور کھانہ وہیں سائیڈ میں رکھ کے باہر ا جاتی ہوں صرف اس لیے کہ میرے بچوں کو یہی محسوس ہو کہ میرے والد ابھی تک زندہ ہیں خاتون اپنی بات کر رہی ہوتی ہے تو تب تک میں پسینے میں شرابور ہو چکا ہوتا ہوں میں اسے تسلی دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اپ میری گاڑی میں بیٹھیں میں اپ کا سارا انتظام کر دیتا ہوں پہلے تو وہ مجھ پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی وہ مجھے کہتی ہے کہ میں اپ کو اپنے گھر کا ایڈریس دیتی ہوں اپ وہاں چلیں میں پیدل ا جاتی ہوں گو کہ جس جگہ کو اس نے مجھے ایڈریس دیا اس جگہ جانے کے لیے اس کو کم از کم ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے کیونکہ اسے ایک دو گاڑیاں بدلنا پڑتی ہیں میں نے اسے تسلی دی بلکہ یوں سمجھیں کہ اللہ تعالی کی ذات کو ضامن دیا اور اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا جب وہ میرے ساتھ بیٹھی تو تب میں نے دیکھا کہ اس کے جوتے مکمل طور پر گھس چکے تھے اس کے جوتوں کے تلووں میں سوراخ ہو چکے تھے تو مجھے سمجھ اگیا کہ وہ خاتون کیوں کبھی ایڑیوں کے بل کھڑی ہوتی تھی اور کبھی پنجوں کے بل کیونکہ نیچے زمین گرم تھی اس کے پاؤں کی تلیوں کو گرمی محسوس ہوتی تھی اس لیے کبھی وہ زمین پہ اپنی ایڑیاں رکھ لیتی تھی اور کبھی اپنے پاؤں کی انگلیوں پر وزن ڈال لیتی تھی خیر اس نے میرا بھروسہ کر لیا اور میں اس کو لے کر اس کے گھر کے سامنے پہنچ گیا وہاں پہنچنے کے لیے گاڑی پر بھی مجھے بیس سے پچیس منٹ لگ گئیے میرے پاس رقم موجود تھی جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ میں اپنے لیے کچھ عیاشی کا سامان خریدنے جا رہا تھا یقین کریں جتنی رقم کا میرا وہ سامان انا تھا اس سے ادھی رقم میں اس خاتون کے والد کی تدفین ہو گئی میں نے کفن دفن کے انتظام کیا اس شخص کے جنازے کا اعلان ہوا مولوی صاحب ائے اس شخص کو غسل دینے کے لیے میں نے خود بھی حصہ ڈالا اس کی تدفین کے بعد فارغ ہوا تو تب تک کافی وقت گزر چکا تھا میرے پاس جو رقم باقی بچ گئی تھی میں نے وہ رقم بھی اس خاتون کے حوالے کر دی اس نے کہا کہ کچھ دنوں تک میں اپ کے لیے کسی بہتر گھر میں کام تلاش کر لوں گا میں وہ رقم اسے دے کر واپس اپنے گھر ا گیا میں نے اپنی عیاشی کے لیے کچھ نہ خریدا میری وہ رات بہت بے چینی میں گزری رات کو تقریبا 11 بجے کے بعد میرے لیے برداشت کرنا ممکن نہ رہا تو تب مجھے خیال ایا کہ سکون کے لیے سب سے بہترین چیز اللہ تعالی کا ذکر ہے میں نے وضو کیا نماز عشاء ادا کی اور یقین مانیں مجھے نہیں پتہ کہ میں اللہ کے سامنے کتنے وقت کے بعد جھک رہا تھا نماز کے بعد بھی مجھے بے چینی باقی رہی میں نے قران پاک اٹھایا اور تلاوت کرنے لگا تھوڑی دیر تلاوت کی قران پاک رکھا اپنے لیے دعا کی مگر میرے اندر وہ حرام چیز کی طلب ابھی باقی تھی میں نے اپنے موبائل کو سکرول کرنا شروع کر دیا جب پھر بھی وقت نہ کٹا اور مجھے نیند نہ ائی تو میں ایک بار پھر اٹھا میں نے ترجمہ اور تفسیر والا قران پاک اٹھایا اور قران پاک کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنا شروع کر دی اور تقریبا صبح کے تین بجے تک میں قران پاک کی تلاوت ترجمہ اور تفسیر ہی پڑھتا رہا اس کے بعد سو گیا صبح میں بہت دیر سے اٹھا مگر تب تک میں کافی حد تک بہتر ہو چکا تھا میں نے اس خاتون کی خبرگیری کرنے کا فیصلہ کیا اور وہاں چلا گیا 

باہر لوگ فاتحہ خوانی کے لیے بیٹھے ہوئے تھے گو کہ اس خاتون کا بھائی کوئی نہیں تھا شوہر اسے طلاق دے چکا تھا اور باپ کا انتقال ہو چکا تھا شاید اس کا کوئی ایک آدھ عزیز وہاں ہوگا مگر ظاہر سی بات ہے ان کو بھی اس کی ذات سے کوئی سروکار نہیں تھا تبھی اس کی باپ کی لاش دو دن تک اس کے گھر میں پڑی رہی تھی فاتحہ خوانی کے بعد میں نے کسی نہ کسی طرح اس خاتون سے ملاقات کی اس کے سر پہ دست شفقت رکھا اس سے ضرورت کے سامان کے بارے میں پوچھا وہ خاموش رہی مگر اس کی ایک بچی جو تھوڑی سمجھدار تھی اس نے بتایا کہ ہماری پانی والی موٹر خراب ہے ہم نے وضو کرنا ہے اور گھر میں پانی نہیں ہے ساتھ والے گھر سے تین چار بار مانگ چکے ہیں خاتون نے اپنی بچی کو منع کرنا چاہا مگر میں نے خاتون کو روکا بچی کی بات تسلی سے سنی اور ان کا یہ مسئلہ حل کیا اس کے بعد گھر اگیا میرے لیے یہ رات بھی کافی مشکل تھی اور اس رات بھی میں نے قران پاک کی تلاوت اور ترجمے کے ذریعے ہی سکون حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا میں تین چار دن تک وہاں جاتا رہا ان لوگوں کا جو بھی چھوٹا موٹا مسئلہ ہوتا ہے وہ حل کروا آتا 

پھر جب وہ لوگ سوگ سے فارغ ہو گئے اور خاتون واپس اپنی روٹین پر اگئی تو اسی دوران میں نے اپنے ایک ملازم سے جو نسبتا اچھا کماتا تھا اور اس کی بیوی فوت ہو چکی تھی بات کی دوسری طرف اس خاتون سے بھی بات کی اور ان دونوں کا نکاح کروا دیا اس وقت وہ دونوں ایک اچھی زندگی گزار رہے ہیں لیکن اس ایک نیکی کے بعد مجھے دوبارہ کبھی حرام کو منہ لگانے کی عادت نہیں رہی مجھے جو سکون ترجمے کے ساتھ قران پاک کو پڑھ کر ملا وہ سکون کہیں اور نہیں ملا تب مجھے احساس ہوا کہ جو پیسہ ہم لوگ اپنی عیاشی پر لگاتے ہیں اگر وہ پیسہ مخلوق خدا پر خرچ کرتے ہیں تو ہم دگنا سکون حاصل کر سکتے ہیں 

میں نے جب سے مخلوق خدا پر خرچ کرنا شروع کیا ہے اس دن سے اللہ تعالی نے میرے رزق میں بے انتہا اضافہ کر دیا ہے کبھی میرے والد جو میرے لیے فکر مند رہتے تھے کہ میں ان کی ساری دولت کو اڑا دوں گا اور خود سڑک پر ا جاؤں گا اج میرے والد میرے ساتھ بیٹھے ہوں تو مجھ سے پوچھا کرتے ہیں کہ کوئی نیا بزنس کب شروع کر رہے ہو اور میں ان کو کہتا ہوں کہ انشاءاللہ اسی سال کہیں نہ کہیں نئی جگہ پر میں اپنی رقم انویسٹ کر لوں گا اور مجھے ہر سال اللہ تعالی اتنا نواز دیتا ہے کہ میں کہیں نہ کہیں اچھی خاصی رقم لگا لیتا ہوں اور میری زندگی کو اللہ تعالی نے صرف میری ایک چھوٹی سی نیکی کے بدلے بدل ڈالا ھے اگر اس روز میں ان پیسوں کی شراب خرید کر پی لیتا تو ہو سکتا ہے اج واقعی میں سڑک پر ا چکا ہوتا لیکن اس روز وہ رقم میں نے اپنی عیاش پر لگانے کی بجائے ایک مجبور خاتون پر لگا دیا اج الحمدللہ ان کی زندگی بھی سنور چکی ہے اور میرا مستقبل بھی سنور چکا ہے میں اپنے جیسی کلاس کے لوگوں کو صرف اتنی نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں پتہ ہی نہیں ہے کہ لوگ کتنی مشکل زندگی گزار رہے ہیں جہاں ہم رہ رہے ہیں وہاں تو جنت ہے وہاں کسی کو کسی سے کوئی غرض نہیں ہے مگر ہمارے ملک کے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے گھر میں بے گورو کفن لاشیں پڑی ہوتی ہیں اور ان کے پاس کفن دفن کے پیسے نہیں ہوتے ہمیں ایسے لوگوں کا سہارا بننا چاہیے یقین کریں اگر میرے جیسے لوگ یہ بات سمجھ لیں تو ہمارے ملک میں کبھی کوئی بھوکا نہ سوئے مگر افسوس کہ میری بات کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہے بہرحال میں اپنے طور پر اپنے ہر جاننے والے کو یہ نصیحت کرتا ہوں کوئی عمل کرے یا نہ کرے یہ اس کا اپنا فعل ہے 

  #HidayatKiDhoop #EkBetiElBaap #RehamSeHidayatTak #AlllhaKiTadbeer #GunehgarSeBanda See less

اتوار، 14 جون، 2026

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَالرُّوْحُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍ (وضاحت)

 Al-Ma'arij 70:4

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَالرُّوْحُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍ ۚ 

to whom ascend the angels and the Spirit in a day the length of which is fifty thousand years.

جس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔

 یہ والی آیت کبھی بھی سمجھ نہیں آتی مطلب کہ اللہ کا دن جو ہے وہ 50,000 سال کے برابر ہے؟؟؟ کون سے 50,000 سال؟؟؟؟ وہ جو ہماری دنیا کے 50,000 سال ہوں گے وہ اللہ کا ایک دن ہے؟؟؟

یہ آیت واقعی پہلی نظر میں سوچ میں ڈال دیتی ہے، لیکن اس کا مطلب بہت گہرا اور خوبصورت ہے۔ اسے بالکل سادہ، آسان اور بچکانہ مثالوں سے سمجھتے ہیں تاکہ بات ہمیشہ کے لیے دماغ میں بیٹھ جائے۔

اس آیت کا آسان مطلب یہ ہے کہ جو فاصلہ یا کام دنیا کے حساب سے 50,000 سال میں پورا ہو، وہ اللہ کے ہاں (یا فرشتوں کے لیے) صرف ایک دن (یا اس کے ایک حصے) میں ہو جاتا ہے۔ یہ اللہ کی طاقت اور کائنات کی وسعت کو دکھانے کے لیے ایک مثال ہے۔

اسے سمجھنے کے لیے تین سادہ مثالیں دیکھیں:

1. چیونٹی اور ہوائی جہاز کی مثال (فاصلے کا فرق)

فرض کریں ایک چیونٹی کو لاہور سے کراچی جانا ہے۔ وہ اپنی رفتار سے رینگنا شروع کرے تو شاید اسے کئی سال لگ جائیں۔ لیکن اگر آپ اسی چیونٹی کو اٹھا کر ہوائی جہاز میں بیٹھ جائیں، تو آپ وہ فاصلہ صرف 2 گھنٹے میں طے کر لیں گے۔

چیونٹی کے لیے وہ سفر "کئی سال" کا ہے۔

آپ کے لیے وہ سفر "2 گھنٹے" کا ہے۔

بالکل اسی طرح، کائنات کا وہ فاصلہ جو انسان اپنی رفتار سے طے کرے تو اسے 50,000 سال لگیں، فرشتے اللہ کے حکم سے وہ فاصلہ صرف ایک دن میں طے کر لیتے ہیں۔

2. کمپیوٹر گیم کی مثال (وقت کی رفتار کا فرق)

اگر آپ کوئی کمپیوٹر گیم (جیسے کوئی سٹی بلڈنگ یا سمیلیٹر گیم) کھیل رہے ہوں۔ گیم کے اندر رات ہوتی ہے، پھر صبح ہوتی ہے، پھر پورا سال گزر جاتا ہے۔ گیم کے اندر موجود لوگوں کے لیے پورا ایک سال گزر گیا، لیکن باہر بیٹھے آپ کے لیے صرف 10 منٹ گزرے۔ کیونکہ آپ گیم کی دنیا سے باہر ہیں اور آپ کا وقت الگ رفتار سے چل رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ اس کائنات کا خالق ہے، وہ وقت اور جگہ (Time and Space) کا پابند نہیں ہے۔ یہ 50,000 سال ہمارے دنیا کے کلینڈر کے حساب سے ہیں، لیکن اللہ کی شان اور فرشتوں کی ڈیوٹی کے حساب سے وہ صرف ایک دن ہے۔

3. ویڈیو ڈاؤن لوڈنگ کی مثال (طاقت کا فرق)

فرض کریں ایک بہت بڑی 4K مووی ہے۔ اگر آپ اسے 1990ء کے پرانے انٹرنیٹ پر ڈاؤن لوڈ کریں، تو کمپیوٹر دکھائے گا کہ اسے ڈاؤن لوڈ ہونے میں 50 سال لگیں گے۔ لیکن اگر آپ کے پاس سپر فاسٹ فائیبر انٹرنیٹ ہو، تو وہی مووی 1 سیکنڈ میں ڈاؤن لوڈ ہو جائے گی۔

فائل وہی ہے، لیکن طاقت اور ٹیکنالوجی بدلنے سے وقت بدل گیا۔ فرشتے جن نورانی طاقتوں کے ساتھ سفر کرتے ہیں، ان کے لیے 50,000 سال کا سفر ایک دن کا کام ہے۔

خلاصہ (مفسرین کی نظر میں)

علماء اس کے دو بڑے مطلب بتاتے ہیں:

فرشتوں کا سفر: یعنی زمین سے عرش تک کا فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ اگر انسان عام طریقے سے طے کرے تو پچاس ہزار سال لگیں، مگر فرشتے اور روح (حضرت جبرائیل علیہ السلام) یہ کام ایک دن میں کر لیتے ہیں۔

قیامت کا دن: بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ قیامت کے دن کی لمبائی کا ذکر ہے، جو کافروں اور منکرین پر ان کی گھبراہٹ کی وجہ سے پچاس ہزار سال جتنا بھاری اور لمبا محسوس ہوگا، جبکہ ایک مومن کے لیے وہ وقت بہت جلدی گزر جائے گا۔

سیدھی سی بات ہے: وقت اور فاصلہ دیکھنے والے کی طاقت پر منحصر ہوتا ہے۔ ہمارے لیے جو پچاس ہزار سال ہیں، اللہ کی کائنات میں وہ ایک دن کی بات ہے۔

بدھ، 3 جون، 2026

موسم بدلنے کے معجزات اور جاہلوں کے اعتراضات

آج کل سوشل میڈیا پر کچھ ایسے جاہل بھی پائے جاتے ہیں جن کا اپنا ایمان اتنا کمزور ہوتا ہے کہ جب وہ کسی دوسرے پر اللہ کا کرم دیکھتے ہیں، تو حسد کی آگ میں جل کر اول فول بکنا شروع کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں کسی نے ایک طویل کمنٹ کر کے اپنی جہالت کا ثبوت دیا۔ اب اس کے ایک ایک پوائنٹ کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں تاکہ عقل والوں کو ایسے لوگوں کی جہالت کا اندازہ ہوسکے۔


استغفر اللہ، تمیز نہیں کسی چیز کی، جہالت دیکھو اپنی۔ یہ بھی نہیں پتا کہ اللہ سے دعا کیسے کی جاتی ہے، اکڑ دیکھو اپنی اور اللہ کو حکم دے رہے ہو تم؟ واہ، تم کون ہوتے ہو اسے بتانے والے کہ یہ کرو، وہ کرو؛ تم جب نہیں تھے، تب بھی وہی نظام چلا رہا تھا۔

یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت ہے۔ عقل کے اندھے کو یہ نہیں معلوم کہ اللہ سے گفتگو کرنے، اس کے سامنے گڑگڑانے، عاجزی اختیار کرنے، یقین کے ساتھ دعا مانگنے اور پھر اس دعا کی قبولیت پر ڈنکے کی چوٹ پر بات کرنے کو "حکم دینا" نہیں، بلکہ "سچا توکل اور مستجاب الدعوات ہونا" کہتے ہیں۔ حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ فرماتا ہے: "میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں"۔ میرا گمان اور یقین اللہ کی ذات پر سچا ہے، جب وہ میری لاج رکھتا ہے تو کمزور ایمان والے حسد کا شکار ہوجاتے ہیں کیونکہ انہیں اللہ پر ایسا یقین ہی نہیں ہے۔ نہ خود ایسے کام کرسکتے ہیں اور نہ کسی کو کرنے دیتے ہیں۔

اور دوسری بات، جب موسم بارش کا ہوا تو ویڈیو بنا لی کہ میرے کہنے پر بارش ہو رہی ہے، اور جب بارش رکی تو پھر بنا لی کہ دیکھو رک گئی، اور جب دھوپ آئی تو بنا لی کہ دیکھو اب دھوپ آ گئی، اللہ نے میری سن لی۔ جاہل، یہ تو موسم ہے، بدلتا رہتا ہے، اللہ نے فرشتوں کے ذمے لگایا ہے یہ کام اور یہ اللہ کے حکم سے بدلتا رہتا ہے۔ جب جب بدلا تم نے ویڈیو بنا لی اور کہہ رہے ہو کہ تم لیجنڈ ہو؟ تم نے کہا اللہ کو، تو اس نے تمہارے کہنے پر چینج کیا؟ کامن سینس ہی نہیں۔

یہ وہ لکیر کے فقیر ہیں جو موبائل کی 'فورکاسٹ' دیکھ کر جیتے ہیں۔ ان جاہلوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ یہاں ویڈیو موسم فار کاسٹ دیکھ کر نہیں بنتی، بلکہ جب فورکاسٹ کچھ اور کہہ رہی ہوتی ہے، تب اللہ پر کامل یقین کے ساتھ عین وقت پر چیلنج کیا جاتا ہے اور پھر اللہ فار کاسٹ والوں کے سامنے موسم بدل کر دکھاتا ہے۔ اگر یہ اتنا ہی آسان ہے اور صرف ایک "اتفاق" ہے، تو محکمہ موسمیات کے کمپیوٹر اپنے ڈیٹا سمیت ناکام کیوں ہوتے رہے میرے دعووں کے سامنے؟ فورکاسٹ والے تو خود میرے کام کی وجہ سےناجانے کتنی ہی بار اپنے دعوے بار بار بدل چکے ہیں۔ یہ اللہ کا نظام ہے اور اللہ کے حکم سے چلتا ہے اور اللہ اپنے مخلص بندوں کی دعاؤں پر اگر کوئی کام محکمہ موسمیات اور فار کاسٹ مشینوں کے خلاف کردیتا ہے تو اسے معجزہ کہتے ہیں جو حاسدوں کی عقل میں فٹ نہیں ہوتا۔

تیسری بات یہ کہ اوریجنل مسلم ہو اگر تو اسلام کو پڑھو اور عمل کرو، توبہ کرو اللہ سے اور آگے پھیلاؤ اسلام کو قرآن کے ریفرنس سے۔ روز موسم کی ویڈیو بنا کے کہنا معجزہ ہو گیا اور واقعی سب کو برا بھلا کہنا، کون سی اسلام کی تعلیم میں لکھا ہے؟

اسلام ہمیں منافقوں، حاسدوں اور حق کا انکار کرنے والوں کو آئینہ دکھانے سے نہیں روکتا۔ جب اللہ کی نشانی اور لائیو معجزہ سامنے موجود ہو اور پھر بھی کوئی اس کا انکار کرے، تو اسے جاہل کہنا عین اسلام ہے۔ قرآن پاک خود جاہلوں اور حق کا انکار کرنے والوں کی عقل پر تالے لگنے کا ذکر کرتا ہے۔ اسلام پڑھنے کا مشورہ وہ دے رہے ہیں جنہیں خود دعا کی طاقت اور اولیاء و صالحین کے توکل کا الف بے بھی نہیں پتہ۔

چوتھی بات یہ کہ اگر اتنے تم لیجنڈ ہو اور اللہ اگر تمہاری سن کر یہ سب کر رہا، تو فلسطین والوں کو بچاؤ نا، پھر ان کے لیے کچھ نہیں کرتے تم، بس باتیں ہی کرتے ہو ہمیشہ، اس کے علاوہ کچھ کیا تم نے آج تک؟ جاہل، تم جیسے لوگ ہیں جو اسلام کے نام پر ڈھونگ کر رہے ہیں۔

یہ اعتراض اس کی ذہنی پستی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ جن لوگوں کو غائبانہ نظامِ قدرت، دعاؤں کی پوشیدہ طاقت اور اللہ کی حکمتوں کا شعور ہی نہیں، وہ گھر بیٹھ کر صرف بھاشن دیتے ہیں کہ "فلسطین کیوں نہیں بچاتے"۔ میں جہاں موجود ہیں، وہاں سے جو کام کرسکتا ہوں وہ اللہ کے فضل سے کردیتا ہوں۔اور تمہاری عقل کو سمجھانے کے لیے کیا اتنا ہی کافی نہیں کہ دنیا کی نام نہاد سپر پاورز کا سب سے بڑا دفاعی نظام "آئرن ڈوم" (Iron Dome) فیل ہو گیا؟ جب اللہ کی مدد آتی ہے تو دنیا کی ٹیکنالوجی دھری کی دھری رہ جاتی ہے، لیکن یہ دیکھنے کے لیے حاسد کی آنکھ نہیں، ایمان کی آنکھ چاہیے۔ دنیا کا نظام اسباب اور حکمتوں کے تحت چلتا ہے؛ غزوہ بدر سے لے کر کربلا تک، اللہ کے پیاروں نے بھی حالات کے مطابق صبر اور جہاد کا راستہ اپنایا، اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ نعوذ باللہ ان کی دعائیں سچی نہیں تھیں۔ تم جیسے لوگ صرف کی بورڈ پر بیٹھ کر حسد کے تیر چلا سکتے ہیں، حقیقت کا سامنا کرنا تمہارے بس کی بات نہیں اور نہ بڑی بڑی سپر پاورز کے سرورز فیل کردینا اور ڈیٹا بدل دینا تمہاری دعاوں کی بدولت ممکن ہوسکے گا جب تک تم اپنے تکبر چھوڑ کر اولیاء کرام کی عزت کرنا نہ سیکھ لو۔ اللہ اکبر

حاصلِ کلام: یہ پوسٹ اس لیے لکھی ہے تاکہ سب دیکھ لیں کہ جب اللہ کسی کو عزت دیتا ہے اور اپنے کرم سے نوازتا ہے، تو لکیر کے فقیر نام نہاد مسلمانوں کے پیٹ میں کیسا مروڑ اٹھتا ہے۔ حسد کا کوئی علاج نہیں، یہ کمپیوٹر کی سکرینیں دیکھ کر کڑھتے رہیں گے، اور میں اللہ کے فضل و کرم سے معجزات دکھاتے رہوں گا جب تک اللہ خود چاہے گا۔

الحمد للہ، محمد عربی رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیروکار اکیسویں صدی میں کامیاب ہوچکا ہے۔

اتوار، 10 مئی، 2026

اسلام کی تبلیغ کرنے کے لیے اسلام دشمنوں کے خلاف ایک آئیڈیا ویڈیو ریکارڈنگ کے لیے

یوٹیوب دیکھتے ہوئے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے سامنے کچھ ایسے لوگ آتے ہیں جیسے کہ پاکستانی ملحد، غالب کمال، ایکس مسلم سمیر، آدم سیکر، جون ساقی وغیرہ۔ اس وقت یہ لوگ جس قسم کی غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں تو دل چاہتا ہے ان کو منہ توڑ جواب دیا جائے لیکن فوری طور پہ جواب دینے کے لیے ویڈیو ریکارڈنگ پھر اس کی ایڈیٹنگ اور اس طرح کی چیزوں کے مسئلے مسائل ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے میں یہاں پر رہنمائی فراہم کر رہا ہوں کہ فوری طور پر کیا ایکشن لیا جا سکتا ہے جس سے آسانی سے ویڈیو ریکارڈنگ ہو جائے گی اور ان دا سپوٹ کسی بھی شخص کے خلاف، جو بھی اسلام کے خلاف بکواس کرے، اسے منہ توڑ جواب دیا جا سکتا ہے اور ویڈیو ریکارڈ کرکے پبلش کی جا سکتی ہے یوٹیوب پر یا کہیں پر بھی کیونکہ یہ بہت آسان کام ہے الحمدللہ 

کرنا یہ ہے کہ xRecorder ایپ کو انسٹال کرلو

اس کے بعد اس ایپ کو اسٹارٹ کرو 

وہاں پر Facecam کے نام سے ایک بٹن ہوگا اس کو دباؤ تاکہ تمہارا کیمرہ آن ہو جائے 

اس کے بعد ریکارڈ کے بٹن پہ کلک کرو تمہارے سامنے آپشن ائیں گے 

ان آپشن میں Microphone والے آپشن کو سلیکٹ کرو تاکہ تم ویڈیو دیکھنے کے دوران اپنے مائک سے فوری طور پہ جواب دے سکو۔یہ تمہیں ریکارڈنگ کے دوران ری ایکشن دینے میں آسانی کرے گا۔

اسٹارٹ کے بٹن پہ کلک کرو

اس کے بعد جو popup ائے گا اس پہ share screen پہ کلک کر کے ریکارڈنگ سٹارٹ ہونے دو

اب اپنے یوٹیوب چینل/ فیس بک/ٹک ٹاک کو کھولو جہاں پر وہ ویڈیو ہے جس کو تم نے سننا ہے۔

اب ویڈیو سنو اور دوران ویڈیو جب چاہو اسے pause کرو اور فوری طور پر اپنا جواب ریکارڈ کرو کیونکہ مائیک ان ہوگا تو وہ مائک اس ویڈیو کی اواز کو بھی ریکارڈ کرے گا جب وہ چلے گی۔ جب تم اسے روک کے اپنی بات کرو گے تو وہ تمہاری اواز کو ریکارڈ کرے گا اس طرح آنا فانا فوری طور پہ ایکشن ری ایکشن چلتا رہے گا۔

جب بات تمہاری مکمل ہو جائے۔

تو ریکارڈنگ کو اسٹاپ کر دو۔

اب YouCut ایپ کے اندر اس کو اوپن کرو۔

اور اس ویڈیو کو واچ کرتے ہوئے آرام سے جس جس جگہ پہ اسپلٹ split کرنا ہو اس کو split کرو, فضول حصہ ڈیلیٹ کرو اور ویڈیو کو export کرکے 480 کوالٹی پر یا 720 کوالٹی پر پبلش کر دو جہاں پر بھی تمہیں کرنا ہے۔

اس انداز میں اس طریقے سے تم فوری طور پر کسی بھی کافر کو منافق کو یا کسی بھی واقعے پر اپنا تبصرہ پیش کر سکتے ہو اور فوری طور پر اس کو پبلش کرنے کے لیے تیار کر سکتے ہو۔

اور ایک ٹپ دیتا ہوں کہ اگر ویڈیو کو واچ کرنے میں تمہیں لگتا ہے کہ کافی دیر لگ رہی ہے بوریت ہورہی ہے تو اپنی ویڈیو کی اسپیڈ کو ایڈٹ کے دوران جب سننا ہو تو اس کو 2x سپیڈ پہ کر دو اور جب تمہیں دکھے کہ کوئی ایڈٹ کرنے والی چیز ہے تو واپس 1x سپیڈ پہ جا کے اس کو نارمل کرلو۔ سننے کے لیے ٹو ایکس رکھو ایڈٹ کرنے کے لیے ون ایکس پہ کام کرو۔ 

یا پھر ویڈیو کو الگ سے اوپن کر لو VLC ایپ کے اندر اور ٹو ایکس سپیڈ پہ سنو اور جس ٹائم spot کے اوپر ایڈٹ کرنا ہو YouCut کے اندر اسی ٹائم سپوٹ پہ ایڈٹ کر دو یہ زیادہ بہتر ہے۔

اس سے بار بار یو کٹ کے اندر سپیڈ زیادہ کم نہیں کرنی پڑتی۔ یو کٹ کے اندر ویڈیو ون ایکس پہ رہتی ہے اور وی ایل سی کے اوپر آپ تیز اسپیڈ پہ سن کر اپنا کام رفتار میں بڑھا سکتے ہو۔

بدھ، 6 مئی، 2026

کامیاب گیمنگ چینل چلانے کے لیے رہنمائی

نیتھن اس ویڈیو میں بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنا پہلا یوٹیوب چینل ایک انتہائی ناکارہ لیپ ٹاپ پر شروع کیا تھا، یہاں تک کہ انہیں اپنی پہلی ویڈیو ریکارڈ کرنے کے لیے آپریٹنگ سسٹم تک تبدیل کرنا پڑا۔ ان کا ماننا ہے کہ گیمنگ چینل شروع کرنا یوٹیوب پر کام کرنے کا بہترین طریقہ ہے کیونکہ اس کے لیے صرف ایک کمپیوٹر، مائکروفون اور گیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ان لوگوں کو غلط ثابت کرتے ہیں جو کہتے ہیں کہ گیمنگ کا شعبہ ختم ہو چکا ہے یا اس میں بہت زیادہ مقابلہ ہے۔

جب سوال کیا گیا کہ کیا یوٹیوب پر بہت زیادہ مقابلہ (سیچوریشن) ہے، تو نیتھن نے کہا کہ ہر کری ایٹر اس کی شکایت کرتا ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ اس ہجوم سے باہر نکل کر اپنی الگ پہچان کیسے بناتے ہیں۔ انہوں نے مائن کرافٹ کی مثال دی کہ جب وہ شروع ہوا تب بھی وہاں بہت زیادہ مقابلہ تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ گیم کی مقبولیت بڑھتی گئی، اس لیے ہجوم والے شعبے میں کام کرنا درحقیقت ایک موقع ہوتا ہے۔

گیم کے انتخاب کے بارے میں نیتھن کا مشورہ ہے کہ وہی گیم کھیلیں جسے آپ پسند کرتے ہیں اور جس میں آپ ماہر ہیں۔ آپ کو ایسی گیم چننی چاہیے جسے لوگ دیکھنا پسند کرتے ہوں، جیسے مائن کرافٹ، جی ٹی اے، یا روبلوکس۔ وقت گزرنے کے ساتھ، جیسے جیسے آپ زیادہ ویڈیوز بنائیں گے، لوگ آپ کو اس گیم کا ماہر سمجھنے لگیں گے۔

گیمنگ چینلز کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ صرف گیم پر توجہ دیتے ہیں، اپنی شخصیت (پرسنلٹی) پر نہیں۔ نیتھن کا کہنا ہے کہ لوگ گیم دیکھنے نہیں، آپ کو کھیلتے ہوئے دیکھنے آتے ہیں۔ اگر آپ کا پورا چینل صرف گیم پر منحصر ہوگا، تو گیم ختم ہوتے ہی آپ کا چینل بھی ختم ہو جائے گا۔ اپنی پہچان بنائیں تاکہ جب آپ دوسری گیم پر منتقل ہوں تو آپ کی آڈینس آپ کے ساتھ رہے۔

فارمیٹ کے بارے میں نیتھن کا کہنا ہے کہ طویل ویڈیوز (لانگ فارم)، لائیو سٹریمنگ اور شارٹس سب کچھ ایک ساتھ کرنے سے گریز کریں۔ اپنی توجہ کسی ایک فارمیٹ پر مرکوز رکھیں، کیونکہ مختلف فارمیٹس کی آڈینس الگ ہوتی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ابتدا میں صرف لانگ فارم مواد پر توجہ دیں اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد ہی دیگر چیزیں شامل کریں۔

آخر میں، تعاون (کولابریشن) کے بارے میں نیتھن کا کہنا ہے کہ یہ گروتھ کے لیے بہت ضروری ہے۔ جب آپ دوسرے کری ایٹرز کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تو آپ کی آڈینس آپس میں ملتی ہے اور مواد میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔ لیکن انہوں نے تاکید کی کہ صرف ویڈیوز کے لیے نہیں، بلکہ ان لوگوں کے ساتھ کام کریں جن کے ساتھ آپ کے دوستانہ تعلقات بن سکیں اور آپ ایک دوسرے سے سیکھ سکیں۔


نوٹ: اس ویڈیو کا خلاصہ میں نے گوگل جیمنی کے ذریعے کروایا ہے مزید ڈیٹیل کے لیے انگریزی ویڈیو کو دیکھا جا سکتا ہے۔

بدھ، 22 اپریل، 2026

بغیر گیس اور بغیر بجلی کا چولہا

اس ویڈیو کے اندر اس بندے نے دو خالی باکس لے کر کچھ مٹیریل کے ساتھ بغیر کسی گیس کے اور بغیر بجلی کے، چولہا بنا دیا اور اس میں آگ بھی جل رہی ہے اور اس کے اوپر بندہ کچھ پکا بھی سکتا ہے اور اس نے ایسا پریکٹیکل طور پر کر کے دکھایا ہے۔



منگل، 21 اپریل، 2026

وے بیک مشین ویب پیج save کرتے وقت آپشنز کی وضاحت اردو زبان میں

 کسی بھی ویب سائٹ کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنے کا طریقہ: تمام آپشنز کی وضاحت


Save outlinks

اس کا مطلب ہے کہ اس پیج پر جتنے بھی دوسرے لنکس موجود ہیں، یہ ان سب کو بھی اپنے پاس محفوظ کر لے گا تاکہ بعد میں وہ بھی کھل سکیں۔

Save error pages (HTTP Status=4xx, 5xx)

اگر وہ ویب سائٹ خراب ہو چکی ہے یا نہیں کھل رہی، تو یہ اس "خرابی والے پیج" کو بھی ویسا ہی محفوظ کر لے گا جیسا وہ نظر آ رہا ہے۔

Save screenshot

یہ اس پورے پیج کی ایک تصویر کھینچ کر رکھ لے گا تاکہ آپ کو یاد رہے کہ وہ پیج دیکھنے میں کیسا لگتا تھا۔

Disable ad blocker

اگر آپ نے اشتہار روکنے والی کوئی چیز لگائی ہے تو یہ اسے تھوڑی دیر کے لیے بند کر دے گا تاکہ پورا پیج ٹھیک طرح سے سیو ہو سکے۔

Save also in my web archive

اگر آپ کا یہاں اکاؤنٹ بنا ہوا ہے تو یہ اس پیج کو آپ کی اپنی لسٹ یا لائبریری میں بھی شامل کر دے گا۔

Email me the results

جب پیج سیو کرنے کا کام پورا ہو جائے گا، تو یہ آپ کو ای میل کے ذریعے بتا دے گا کہ کام ہو گیا ہے۔

Email me a WACZ file with the results

یہ آپ کو ایک فائل ای میل کر دے گا جس میں اس پیج کا سارا ڈیٹا موجود ہوگا، جسے آپ بعد میں اپنے کمپیوٹر پر بھی دیکھ سکیں گے۔