بدھ، 16 ستمبر، 2026

چار پرندوں کا قیمہ یا ذہنی تربیت کا سائنسی طریقہ؟

 یہ پوسٹ دراصل قرآنی نص اور مسلمہ مفسرین کے اجماع سے فرار کا ایک ایسا بھونڈا نمونہ ہے جسے عقل و تدبر کا نام دے کر دراصل قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا خون کیا گیا ہے۔ اس نام نہاد "جدید تحقیق" اور علم کی چادر اوڑھے ہوئے شخص کی پوسٹ کی دھجیاں اڑانے کے لیے اس کے دعووں کا پوسٹ مارٹم ملاحظہ فرمائیں:


1. لغتِ عرب اور لفظ "فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ" کا جھوٹا مفہوم

موصوف نے سورۃ البقرہ (آیت 260) کے الفاظ "فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ" کا مطلب "مانوس کرنا اور تربیت دینا" بتایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس کا مطلب ذبح کرنا یا ٹکڑے کرنا ہرگز نہیں۔

حقیقت: قرآن کی بنیادی لغت اور عربی کے معتبر لغوی مآخذ (جیسے المنجد، لسان العرب اور تاج العروس) اٹھا کر دیکھ لیں؛ "صَارَ - يَصُورُ" یا "صَرَا - يَصْرُو" کا ایک معروف معنی کاٹنا، ٹکڑے کرنا اور اپنی طرف کھینچنا بھی ہے۔ امام ابنِ عباس، مجاہد، عکرمہ، قتادہ اور امام سدی سمیت تمام جلیل القدر سلف مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہاں اس کا مطلب پرندوں کو ذبح کرنا، ان کے ٹکڑے کرنا اور انہیں آپس میں خلط ملط کرنا ہی ہے۔ خود قرآن کے اگلے ہی الفاظ اس کی گواہی دے رہے ہیں: "ثُمَّ اجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا" (پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک حصہ رکھ دو)۔ اگر یہ صرف "تربیت" تھی تو گوشت اور ٹکڑے کرنے کا حکم کہاں گیا؟ کیا کوئی عقل کا اندھا بھی یہ مان سکتا ہے کہ پرندوں کو زندہ پہاڑوں پر چھوڑ کر آنا "ٹکڑے کرنے" کے زمرے میں آتا ہے؟

2. معجزات کا انکار اور مادی قوانین کی غلامی

موصوف کا اصل درد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مادی قوانین کو معطل کیسے کر سکتا ہے؟ وہ یہ ہضم نہیں کر پا رہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ معجزات کو "جادو" اور "خرافات" کہہ کر دراصل مغربی مادیّت (Materialism) کے سامنے سرنگوں ہو چکے ہیں۔

حقیقت: اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مردوں کے زندہ کرنے کا جو طریقہ دکھایا وہ کوئی مادی تجربہ نہیں بلکہ ایک کھلا معجزہ تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سوال ہی یہ تھا: "رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ" (اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے؟)۔ اللہ نے فرمایا: "أَوَلَمْ تُؤْمِنْ" (کیا تم ایمان نہیں لائے؟) تو انہوں نے عرض کیا: "بَلَىٰ وَلَٰكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي" (ایمان تو ہے، لیکن قلب کا اطمینان مقصود ہے)۔ اب بتائیے! اگر یہ صرف پرندوں کو مانوس کرنے کا ایک عام سا "پراجیکٹ" یا "ٹریننگ سیشن" تھا، تو اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کو مردوں کے زندہ ہونے کا کیا اطمینان ملتا؟ کیا روزمرہ کی ٹریننگ سے کوئی مردہ زندہ ہو کر دکھ سکتا ہے؟ یہ عقل نہیں بلکہ کھلی حماقت ہے جو معجزے کے تصور کو ہی مسخ کر رہی ہے۔

3. فرضی سیاسی و سماجی فلسفہ اور تحریفِ معنوی

موصوف نے اس آیت کو گھسیٹ کر "مری ہوئی قوموں کی سیاسی اور نظریاتی تربیت" کا درس بنا ڈالا ہے تاکہ اپنے قاریئرز کو کوئی نیا "روشن خیال" فلسفہ بیچ سکیں۔

حقیقت: قرآن کے واضح بیانات کو اپنے خود ساختہ نظریات کے تابع کرنا صریح تحریف ہے۔ آیاتِ قرآنی کا سیاق و سباق صاف کہتا ہے کہ بات موت کے بعد حشر اور جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی ہو رہی ہے، جسے مادی پرستوں اور منکرینِ آخرت کے لیے ایک محسوس مثال سے سمجھایا گیا۔ پرندوں کے قیمے کو آپس میں خلط ملط کر کے پہاڑوں پر رکھنے اور پھر آواز دینے سے ان کے اجزاء کا دوبارہ جمع ہو کر آنا، قیامت کے دن روحوں کا اپنے جسموں کی طرف پلٹنے کی ایک عملی تمثیل (Demonstration) تھی۔ اسے "قوموں کی ٹریننگ" بنا دینا قرآنی فہم کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔

4. سلفِ صالحین پر تہمت اور فکری سرقات

ان حضرات کا پسندیدہ شیوہ یہ ہوتا ہے کہ ہر اس روایت کو جو ان کے عقل کے محدود پیمانے پر پوری نہ اترے، اسے "ایرانی مجوسیوں اور اسرائیلی روایات" کا نام دے کر مسترد کر دو۔

حقیقت: کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین بھی "مجوسی" تھے جو اس آیت کی تفسیر پرندوں کے ذبح ہونے اور گوشت ملانے کے طور پر کرتے رہے ہیں؟ یہ نام نہاد "جدید محقق" دراصل مغرب سے درآمد شدہ انکارِ معجزات کے فکری فضلات کو خوبصورت عربی الفاظ اور ماڈرن ٹرمینالوجی میں لپٹی کر اپنے سادہ لوح ریڈرز کو بیچ رہے ہیں تا کہ وہ خود کو بہت بڑا "فکرِ نو" کا علمبردار ثابت کر سکیں۔

نتیجہ (اس جاہل کا اصل چہرہ)

جس شخص نے یہ پوسٹ لکھی ہے وہ نہ تو عربی زبان کی بنیادی گرامر اور لغت سے واقف ہے اور نہ ہی اسے قرآنی سیاق و سباق کی کوئی تمیز ہے۔ یہ محض عقل پرستی کی وہ بیمار لہر ہے جو دین کو اپنی عقل کے طویل صوفے پر بٹھا کر کاٹ چھانٹ کرنا چاہتی ہے۔ جو شخص مادی قوانین کے خوف میں مبتلا ہو کر انبیاء کے معجزات کو جھٹلائے اور قرآنی نصوص کو من مانے معنی پہنائے، اس سے بڑا جاہل اور فکری یتیم اس دور میں کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس کے ریڈرز کو چاہیے کہ اس کی اس علمی دجل و فریب سے ہوشیار رہیں اور دین کو ان نیم خواندہ "محققین" کے بجائے مستند مفسرین سے سمجھیں۔

پیر، 31 اگست، 2026

Udemy Benefit vs YouTube TikTok Facebook Instagram (Hindi/Urdu)

Reason 1: Primary Intent and Audience Mindset

Udemy: Log yahan pure 'Learning Mode' mein aate hain, yaani sikhne, code karne aur practice karne ki niyat se.

YouTube: Log yahan entertainment, video streaming, aur casual browsing ke liye aate hain.

Facebook: Log yahan doston se connect hone, social networking, aur feed scroll karne aate hain.

TikTok: Log yahan fast entertainment, viral short clips, aur quick dopamine scrolling ke liye aate hain.

Instagram: Log yahan lifestyle, visual aesthetics, aur short reels scrolling ke liye aate hain.

Reason 2: Algorithm and Reach Control

Udemy: Free content par koi algorithmic suppression nahi hoti; platform khud eager students ko samne lata hai. 

YouTube: Extreme algorithm restrictions hoti hain; sach bolne, myths todne, ya raw tech truths par videos shadowban ya derank kar di jati hain.

Facebook: High algorithmic control hota hai; educational ya technical sach aksar news feed mein dab jata hai aur organic reach dead hai. 

TikTok: Extreme algorithmic control hota hai; thori si bhi controversial ya educational baat par video down ya block ho jati hai.

Instagram: High suppression hoti hai long-form ya raw educational truths par; algorithm sirf trends aur aesthetics ko favor karta hai.

Reason 3: Content Longevity and Shelf-Life

Udemy: High evergreen value milti hai; course saalon tak search mein rehta hai aur students enroll hote rehte hain.

YouTube: Medium to high shelf-life hoti hai; lekin purani videos ki recommendations waqt ke sath kam ho jati hain.

Facebook: Low shelf-life hoti hai; posts aur videos kuch din ya ghanton mein feed se gayab ho jati hain.

TikTok: Very low shelf-life hoti hai; content aik ya do din mein purana ho kar dead ho jata hai.

Instagram: Very low shelf-life hoti hai; reels aur posts do din ke andar feed se bilkul nikal jati hain.

I have experiences with all such platforms, and I have experienced it with my educational/information content style. Udemy sabse behtreen hai is muamle main if you want to speak the truth.

اتوار، 30 اگست، 2026

مون سون خود نہیں چلتا چلایا جاتا ہے

 لاہور شہر میں مسلسل موسن سون اسپیل کے دعوے چلائے جارہے تھے۔

جولائی سنہ 2026 سے لے کر اگست کے اختتام تک یہ لوگ مون سون سمجھ سمجھ کر جتنے دعوے کررہے تھے سب خاک کا ڈھیر ثابت ہوئے۔

ایسا کیوں نہ ہوتا؟ آخر اس کائنات کا خدا موجود ہے تو اس کی موجودگی میں کس کی مجال ہے کہ وہ موسن سون تو کیا بارش کا ایک اسپیل بھی چلاسکے اور پانی کا قطرہ آسمان سے ٹپکاسکے؟

اب کدھر مرگئے سائنس کے چیمپیئن اور علمبردار لیجنڈ کے سامنے؟

اللہ اکبر

۔ 23 اگست 2026 کے دن ایک سیریز بناکر پبلش کی جس کے بعد لاہور میں برستی ہوئی بارشوں کو بریک لگ گیا۔

یہ مسلسل دعوے کرتے آرہے تھے مون سون پہلا اسپیل، دوسرا اسپیل، تیسرا اسپیل اور یکایک پورا مون سون غائب؟؟؟

اور پھر ان کو مجبور ہوکر کہنا پڑا کہ اس ہفتے بارش کا کوئی امکان نہیں ہے اب اگلے ہفتے یا بعد میں بارش ہوگی۔

اور اس طرح اللہ کافروں کو ذلیل کرکے رکھ دیتا ہے۔

لاہور شہر میں گرمی میں اضافہ ہوگیا۔

ان کو سمجھ ہی نہیں آسکی کہ یہ سب اچانک کیا ہوا؟

کہاں لاہور شہر میں سردی چل رہی تھی، خوشگوار موسم چل رہا تھا مگر اچانک یہ سب گرمی کی لپیٹ میں آگئے۔

اور ان کا ساتواں مون سون اسپیل دھواں بن کر اڑگیا۔

کیونکہ اس کے بعد میں میدان میں اتر آیا اور ایک گیمنگ سریز کا آغاز کردیا۔

اور پھر میں نے اسی شدید گرمی میں اللہ سے بارش برساکر دکھانے کے لیے آغاز کیا۔

ان کے دعوے جو مرضی یہ کرتے گئے ویسا کچھ نہ ہوا۔

بلکہ وہ ہوا جو میں چاہتا تھا مگر اللہ کی مرضی کے مطابق ہوا۔

جس سے ثابت ہوا کہ کائنات میں وہ خدا ہے جس کے مقابلے پر کوئی اور خدا موجود ہی نہیں ہے۔

ورنہ عین میرے چاہنے کے مطابق ہوتا مگر اس نے اپنی پرفیکشن کے حساب سے پوری کیلکولیشن کے ساتھ زبردست ایونٹ سرانجام دلوایا۔ الحمدللہ

اور جب میں اس سیریز سے فارغ ہوا تب تک 28 اگست شروع ہوچکا تھا۔

اور آتے کے ساتھ ہی ایک نئی سیریز کا آغاز کردیا "تیری سائنس تے شے کوئی نہیں" جس کے بعد اللہ نے انجینیئر محمد علی مرزا جیسے تمام انجینیئرز اور سائنس کا کلمہ پڑھ کر اولیاء اللہ کو ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو میرے ہاتھوں عبرتناک انجام دلوایا۔ اللہ اکبر

انہوں نے دعوی کردیا کہ مون سون آٹھواں اسپیل شروع ہونے والا ہے۔

ہم نے کہا دیکھ لیتے ہیں 🙂

اور پھر بنی ایک اور سیریز

چل گیا مون سون؟

اور مون سون نہ چل سکا۔

مگر کہانی یہاں پر بھی ختم نہ ہوسکی۔

کل میں نے ایک اور سیریز بنا ڈالی

بے چارہ مون سون

اور مون سون بےچارگی میں رہ گیا اور یہ دعوی کرتے رہ گئے۔

بارش کی بوند بھی نہ برساسکے۔

برساتے کیسے؟

اللہ واحد القہار سارے نظام کا خالق اور مالک ہے۔

اور اب اسی دن کی ایک رپورٹ کے مطابق اب بھی وہی دعوے کے مون سون آج یعنی 30 اگست سے شروع ہوگا۔ پہلے دعوے کرتے رہ گئے کہ مون سون اسپیل 29 اگست سے شروع ہوگا۔

جب وہ نہ ہوسکا تو 30 کو آج کا دن بنا ڈالا۔


تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بارش کہاں گئی اور مون سون اسپیل کدھر غائب ہوگیا؟



یہ ہے سائنس اور سائنس والوں کا مداری پن جس کے بل بوتے پر یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس اتراتے پھرتے ہیں اولیاء اللہ کے خلاف؟ اس علم کی بنیاد پر مولوی، عالم، مفتیان کرام کا مذاق اڑاتے پھرتے ہیں؟

اور آج ہے 31 اگست 2026

اب دیکھنا یہ باقی ہے کہ آگے کیا ہوگا؟

---

یکم ستمبر 2026

صبح سویرے اللہ نے خوبصورت بادلوں سے آسمان کا منظر سجادیا اور دلکش نظارہ کردیا۔

ان لوگوں نے دوپہر تک گرمی اور حبس کی شدت دیکھی اور میڈیا پر رپورٹ کردیا نیز بارش ہونے کا دعوی بھی کیا جبکہ اللہ نے اس دن بارش ہی نہیں برسائی۔ اب کدھر گیا مون سون کا سسٹم جبکہ اسلام آباد/راولپنڈی میں طوفانی بارشوں سے ندیاں بہہ نکلیں اور سڑکیں زیر آب اگئیں اور علاقے پانی میں ڈوب گئے؟


بہرحال دوپہر میں آکر میں نے اللہ سے بادلوں کو بنانے کے لیے درخواست کی اور اللہ نے کالے بادلوں کے لشکر سجاکر رکھ دیے پھر اس کے بعد یک دیگر بعد عجیب عجیب نظارے دیکھنے کو ملے مگر پانی کی ایک بوند تک نہ برس سکی۔ 

جہاں ایک طرف مون سون برس رہا ہے جیسا ان کا دعوی ہے تو لاہور شہر خالی اور سنسان کیوں پڑا ہے؟

کیا یہ ایک حیران کن بات نہیں ہے؟

اسلام آباد اور دیگر شہروں میں مون سون کام کررہا ہے تو لاہور میں کس نے اسے برسنے سے روک رکھا ہے؟

اللہ واحد القہار

ان کے مون سون کے دعوے، شہر میں وقفے وقفے سے بارش، آج مون سون برسے گا وغیرہ سب تہس نہس کرکے رکھ دیا گیا۔

اللہ اکبر

یہاں پتہ لگتا ہے کہ بادشاہت صرف اللہ کی ہے۔

نہ جھوٹے خداوں کی کوئی اوقات ہے\
نہ سائنس پڑھنے والے موسم کے بارے میں کوئی یقینی علم رکھتے ہیں

للہ جو چاہے سو کرتا ہے۔

وما علینا الاالبلاغ المبین

اللہ اکبر
لیجنڈ

جمعہ، 14 اگست، 2026

اگر اللہ رحمن الرحیم ہے تو پھر جہنم کیوں بنائی؟

ایک جملے میں بات کروں تو اللہ نے جہنم اس لیے بنائی کیونکہ وہ مستقبل کا علم رکھتا ہے اور اس کو پہلے سے پتہ تھا کہ کس طرح کے ذلیل قسم کے انسان ہوں گے تو ان کو سزائیں دینے کے لیے اللہ نے پورا سیٹ اپ کر کے پہلے سے تیار کر دیا جو اس کے کامل علم کی نشانی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے دنیا کے تمام انسانوں کے فیوچر کے ہونے والے ایک ایک سٹیپ کے بارے میں مکمل طور پر علم ہے اور اس میں جنات کو بھی شامل کردیا جائے تو یہ کمال قدرت اور کمال علم کی نشانی ہے۔

اب اس سوال کی تفصیل پر جاتا ہوں کہ اس سوال کا مقصد کیا ہوتا ہے۔

ایسے سوال کا مقصد صرف یہ نہیں کہ صرف جہنم کیوں بنائی ؟ بات یہ ہے کہ جہنم کے اندر اللہ نے کافروں کو ہمیشہ کے لیے ڈالنا ہے منافقین ہٹ دھرم متکبر جو زمین پر لوگوں پہ ظلم کر رہے ہیں عیاشیاں کر رہے ہیں اور بڑی بے فکر سے سمجھ رہے ہیں کہ ان کو پکڑنے والا کوئی نہیں ہے اللہ ان کو عبرت کا نشان بنا کے جہنم میں پھینکے گا اور ہمیشہ کے لیے وہاں پر یہ تڑپیں گے سسکیں گے پھڑکتے رہیں گے ۔ یہ تو ہو گئی ایک بات !

تو یہاں پر سزا ہمیشہ کے لیے دی جائے گی جس میں یہ جہنم سے نہیں نکالے جائیں گے جنت سے محروم کر دیے جائیں گے ۔ یہ کوئی معمولی سزا نہیں ہے اگر کوئی سمجھنا چاہے ۔ ہمیشہ کے لیے وہ جہنم میں جائے گا ۔ تو یہاں پر رحم کدھر ہے ؟ رحم تو یہ ہوتا ہے کہ سزا دینے کے بعد جہنم سے نکال کے جنت دے دی جائے چاہے کچھ وقت کے بعد صحیح لیکن یہ پرمننٹ سزا دی جائے گی تو معاملہ کچھ اور ہے۔

دوسری بات یہ کہ اللہ نے جہنم بنائی ہے دردناک سزائیں اس کے اندر تیار کی ہیں مگر اس نے انسان کو زبردستی اپنی مرضی سے ظلم کرکے جہنم میں پھینکنے کا دعوی نہیں کیا۔

جنت اور جہنم انسان کے عمل کے مطابق ہے ۔ ہر انسان اپنی دوزخ کے اندر جو سزاؤں میں اضافہ کرواتا ہے جو سیٹ اپ کرواتا ہے وہ دنیا میں کیے ہوئے عمل سے کرواتا ہے اور اس عمل کے لیے اللہ نے انسان کو ازادی دی ہے کہ وہ جو چاہے کرے اللہ اسے آکر زبردستی روکتا نہیں ہے ۔

اس لیے کوئی بچے کا ریپ کرتا ہے کوئی عورت کی عزت لوٹتا ہے کوئی کسی نوجوان کو قتل کر دیتا ہے کوئی رشوت لیتا ہے کوئی سود پہ اپنا کام کرتا ہے کوئی لوگوں سے ٹیکس کے نام پہ پیسہ لوٹتا ہے سب کچھ چل رہا ہے دنیا میں ۔ اللہ نے آکر کسی کو نہیں روکا سوائے یہ کہ کبھی وہ زلزلہ بھیج دے طوفان چلا دے اور اپنے دیگر لشکروں کے ذریعے سزا دے لیکن لوگ پھر بھی نہیں سدھرتے تب بھی لوگ خود ذمہ دار ہیں۔

اللہ کو بے انصاف اور بے رحم تو تب بولا جاتا جب وہ اپنی مرضی سے کسی بھی انسان کو اٹھا کے جہنم میں ڈال دیتا۔ وہ ایسا نہیں کرتا۔

زمین پر چلنے پھرنے والے یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے اپنے تکبر سے جو دل چاہے کرتے رہتے ہیں جس کو دل چاہے تھپڑ مار دیا جس سے دل چاہے مال چھین لیا جس سے دل چاہے عزت لوٹ لی تو پھر ایسے مغروروں کو سزائیں نہ دی جائیں تو کیا کیا جائے؟

کیا کسی کو سچ بولنے سے روکا گیا ہے ؟
کیا کسی کو حلال کمانے سے روکا گیا ہے ؟
کیا کسی کو دوسروں کو بے سکون کرنے سے روکا گیا ہے ؟

خود پڑوسیوں کو تکلیف دیتے ہیں گھروں میں چیختے چلاتے ہیں بچوں پہ ظلم کرتے ہیں ایک دوسرے کو مار پیٹ کرتے ہیں گالی گلوچ کرتے ہیں غیبت کرتے ہیں چغلی کرتے ہیں ملاوٹ کرتے ہیں ڈرامے بازی کرتے ہیں اللہ کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں اور پھر یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ان پر رحم کر کے ان کو جنت کی نعمتیں دے؟

ہاں اس نے جہنم بنائی ہے اپنی مرضی سے بنائی اور اس لیے بنائی کیونکہ وہ جس انسان کی مخلوق کو بنانا چاہتا تھا اس کو پہلے سے پتہ تھا کہ کون کس نے لیول کا کمینہ ہوگا کتنا ذلیل ہوگا کیا کیا حرکتیں کرے گا اس لیے پہلے سے جہنم تیار کر دی تھی اور بتا دیا تھا کہ یہاں پر ڈالوں گا ۔لیکن قران بھیجنے کے بعد رسول بھیجنے کے بعد اتنی معلومات فراہم کرنے کے بعد بھی لوگوں نے خود اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ظلم کے راستے کو اختیار کیا تو وہ اپنی جہنم میں جانے کے خود ذمہ دار ہوں گے ، اللہ نے کسی پہ ظلم نہیں کیا۔

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

جمعرات، 6 اگست، 2026

صحابی اور درخت کی مثال فری لانسنگ کے لیے کیسے فٹ ہوسکتی ہے آج کے دور میں؟

ایک صحابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو درخت ڈھونڈنے کے لیے نہیں کہا تھا۔ ان کے گھر سے ایک سامان منگوایا تھا جس کو سیل کیا تھا دو دینار ملے تھے اور ان کو دیے تھے کہ ایک دینار سے کلہاڑی خریدو اور جنگل سے درخت کاٹ کر ان کو بیچو اور دوسرے دینار سے گھر والوں کے لیے کچھ کھانا وغیرہ لے لو 

in that event, sahabi didn't have money, Prophet Muhammadﷺ didn't give him advice but brought an EQUIPMENT, asked him to SELL it, then purchase ONE EQUIPMENT, through which SAHABI could do something to SELL it AGAIN & AGAIN...

in today environment and era of freelancing, where does this example fit if I want to work from home?

---

اس واقعے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکمت عملی اختیار فرمائی، وہ "روایتی امداد (مفت خوری)" کے بجائے "پائیدار معاشی خود کفالت (Sustainable Economic Empowerment)" کی سب سے بہترین اور بنیادی مثال ہے۔

آج کے دور میں فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹ اور ورک فرام ہوم کے ماحول میں اس نبوی اصول کی تطبیق کو درج ذیل طریقوں سے سمجھا جا سکتا ہے:

۱. سامان (Equipment) فروخت کرنا = ابتدائی اثاثہ (Initial Asset) بنانا

اس واقعے میں حضور ﷺ نے گھر کی معمولی چیز فروخت کروا کر جو ابتدائی سرمایہ (کیپیٹل) مہیا کیا، فری لانسنگ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ:

  • آپ کے پاس موجود لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ کنکشن اور سمارٹ فون وہی ابتدائی "سامان" ہیں۔

  • اگر آپ کے پاس اپنے پاس سے پیسے نہیں ہیں، تو کسی پرانے آلے کو فروخت کر کے یا کم سے کم وسائل (Minimum Viable Setup) سے شروعات کریں۔

۲. کلہاڑی خریدنا (ایک ایسا ذریعہ جس سے بار بار کمایا جا سکے) = ڈیجیٹل سکل (Digital Skill)

نبی کریم ﷺ نے ایک دینار سے کھانے کا سامان منگوایا (جو وقتی ضرورت تھی) اور دوسرے دینار سے کلہاڑی خرید کر دی، تاکہ وہ خود محنت کر کے روزانہ کما سکے۔ فری لانسنگ میں:

  • کلہاڑی آپ کی مہارت (Skill) ہے۔ جیسے ویب ڈویلپمنٹ، ویڈیو ایڈیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، یا کنٹینٹ رائٹنگ۔

  • جس طرح کلہاڑی ایک بار خریدی جاتی ہے اور اس سے لکڑی بار بار کاٹی جاتی ہے، اسی طرح ایک اچھی ڈیجیٹل سکل (Skill) کو ایک بار سیکھا جاتا ہے اور اس کے ذریعے زندگی بھر بار بار پروجیکٹس لے کر کمائی کی جاتی ہے۔

۳. جنگل سے لکڑی کاٹ کر بیچنا = فری لانسنگ مارکیٹ پلیس اور سروسز

جنگل وہ جگہ تھی جہاں سے محنت کر کے لکڑی حاصل کی جاتی تھی۔ آج کے دور میں وہ "جنگل" یہ پلیٹ فارمز ہیں:

  • Freelancing Platforms: جیسے Upwork، Fiverr، یا براہ راست سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کے ذریعے کلائنٹس تلاش کرنا۔

  • جہاں آپ اپنی مہارت (کلہاڑی) کا استعمال کرتے ہوئے کلائنٹس کے مسائل حل کرتے ہیں (لکڑی کاٹتے ہیں) اور بدلے میں معاوضہ حاصل کرتے ہیں۔

خلاصہ (Freelancing Context)

اس واقعے کا خلاصہ آج کے فری لانسر کے لیے یہ ہے کہ:

"کسی سے وقتی طور پر مالی امداد مانگنے یا مفت کی بھیک پر انحصار کرنے کے بجائے، اپنی کوئی ایسی بنیادی چیز یا صلاحیت کو بروئے کار لائیں جو آپ کو ایک مستقل ہنر (Skill) خریدنے یا سیکھنے کے قابل بنائے۔ پھر اس ہنر کو بطورِ 'کلہاڑی' استعمال کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر حلال روزی کمائیں، تاکہ آپ دوسروں کے محتاج رہنے کے بجائے خود کفیل ہو جائیں۔"

بدھ، 5 اگست، 2026

صبح سات بجے لیپ ٹاپ کھلتا اور رات گیارہ بارہ بجے سے پہلے بند نہیں ہوتا تھا

صبح سات بجے لیپ ٹاپ کھلتا اور رات گیارہ بارہ بجے سے پہلے بند نہیں ہوتا تھا، درمیان میں بس نماز اور کھانے کا وقفہ ہوتا تھا۔ گھر والے الگ پریشان تھے، دوست ناراض تھے کہ بندہ ملتا ہی نہیں، اور صحت پر بھی آہستہ آہستہ اثر نظر آنے لگا تھا۔ یہ روٹین کوئی نئی نہیں تھی، کافی عرصے سے یہی چل رہا تھا۔
پھر اے آئی آ گیا اور سب کہنے لگے کہ اب تو کام آسان ہو جائے گا۔ میرے ساتھ الٹا ہوا، میری روٹین میں گھنٹے اور بڑھ گئے، جو بندہ گیارہ بجے سوتا تھا وہ دو بجے سونے لگا۔ اور اس کا سب سے بڑا قصوروار میں اپنے بھائی اور استاد Wali Ullah Shah کو ٹھہراؤں گا، کیونکہ ایک آئیڈیا ختم نہیں ہوتا تھا کہ دوسرا آ جاتا تھا۔ آج استاد کوئی نئی چیز بتاتے، اگلے دن میں بنا کر ان کے سامنے رکھ دیتا، اور سچ بتاؤں تو اس میں عجیب سا نشہ تھا جو ان کی وجہ سے ہی ملا ، نیند کم ہوتی گئی مگر مزہ آتا رہا۔
خیر، اصل بات پر آتے ہیں۔ انہی آئیڈیاز کے دوران ایک خیال یہ بھی آیا کہ کچھ وقت کام کم کرنا چاہیے، خود کو سنبھالنا چاہیے اور گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ بھی وقت گزارنا چاہیے۔ مسئلہ یہ تھا کہ کام چھوڑا نہیں جا سکتا تھا اور کم ہونے کے بجائے بڑھتا جا رہا تھا، تو سوال یہ بنا کہ کیوں نہ ایسا کوئی راستہ نکالا جائے کہ کام بھی چلتا رہے اور میں گھر سے باہر بھی نکل سکوں۔ بس یہیں سے ایک ایسے ایجنٹ پر کام شروع ہوا جو پورے سسٹم کو کنٹرول کر سکے، اور اس کا نام مجھے کلاڈ نے خود تجویز کیا، ZARA۔
زارا اصل میں میرے لیپ ٹاپ پر چلنے والا ایک ایجنٹ ہے جسے میں موبائل سے کنٹرول کرتا ہوں۔ سب سے پہلا سوال یہی تھا کہ اس سے بات کیسے کروں، اور اس کا جواب ڈسکورڈ ایپ نکلا، کیونکہ اس میں نہ کوئی پورٹ کھولنی پڑتی ہے، نہ راؤٹر کی سیٹنگ بدلنی پڑتی ہے اور نہ کوئی لنک بنانا پڑتا ہے، لیپ ٹاپ خود باہر رابطہ کرتا ہے اور میں فون سے میسج کر دیتا ہوں۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ اس کا دماغ کہاں سے آئے گا، تو وہ کلاڈ سے آیا، اور وہ بھی میری پہلے سے موجود سبسکرپشن پر، اس کے لیے الگ سے کوئی خرچہ نہیں کرنا پڑا۔
اصل مزہ تیسرے سوال پر آیا کہ یہ کرے گی کیا۔ زارا اسکرین شاٹ لیتی ہے اور صرف مجھے بھیجتی نہیں بلکہ خود بھی دیکھتی ہے کہ اسکرین پر ہو کیا رہا ہے، کمانڈ چلاتی ہے، فائلیں پڑھتی اور لکھتی ہے، ایپس کھولتی ہے، جس ونڈو پر کام کرنا ہو اسے سامنے لاتی ہے، ماؤس چلاتی ہے، ٹائپ کرتی ہے، واٹس ایپ پر میسج بھی بھیج دیتی ہے، اور اگر لیپ ٹاپ سست ہو رہا ہو تو بتا دیتی ہے کہ میموری کہاں خرچ ہو رہی ہے اور کہوں تو خالی بھی کر دیتی ہے۔
پھر خیال آیا کہ ٹائپ کیوں کروں، بول کر کیوں نہ کہوں۔ اب میں وائس نوٹ بھیجتا ہوں، چاہے اردو میں ہو یا انگریزی میں، وہ سمجھ جاتی ہے اور جواب بھی آواز میں دیتی ہے، اسی زبان میں جس میں میں نے بات کی ہو۔ پہلی بار جب میں نے اردو میں وائس نوٹ بھیجا اور جواب اردو آواز میں آیا تو یقین نہیں آ رہا تھا۔
مگر ایک بڑا مسئلہ رفتار کا تھا، شروع میں ایک وائس نوٹ کا جواب ساڑھے تین منٹ میں آتا تھا جو کسی کام کا نہیں تھا۔ میں نے اندازہ لگانے کے بجائے ہر مرحلے کا وقت ناپا اور پتہ چلا کہ سارا وقت آواز کو الفاظ میں بدلنے میں لگ رہا ہے، پورے ایک سو اکیانوے سیکنڈ۔ ماڈل بدلا، کچھ سیٹنگز درست کیں اور آخر میں ایک تیز سروس لگا دی، اور اب وہی کام تقریباً ایک سیکنڈ میں ہو جاتا ہے۔
پھر اصل امتحان بجلی نے لیا۔ بجلی گئی، راؤٹر بند ہو گیا، لیپ ٹاپ بیٹری پر چلتا رہا، اور جب بجلی واپس آئی تو چارجنگ بھی شروع ہو گئی اور راؤٹر بھی چل پڑا، مگر لیپ ٹاپ نیٹ ورک سے دوبارہ نہیں جڑا اور میں اس وقت گھر پر نہیں تھا۔ تو زارا کو یہ بھی سکھایا کہ جیسے ہی چارجر لگے، سمجھ جائے کہ بجلی آ گئی ہے اور راؤٹر بھی چل پڑا ہو گا، اس لیے وائی فائی خود دوبارہ جوڑے اور جیسے ہی انٹرنیٹ آئے مجھے ڈسکورڈ پر بتا دے کہ وہ واپس آن لائن ہے۔
اب زارا لاگ اِن ہوتے ہی خود چل پڑتی ہے، اور ہر تین منٹ بعد ایک چھوٹا سا پہرے دار پروگرام دیکھتا رہتا ہے کہ وہ چل رہی ہے یا نہیں، اگر کسی وجہ سے بند ہو جائے تو خود واپس لے آتا ہے۔
مزے کی بات بتاوں پوسٹ زارا نے ہی لکھوائی ہے میں تو چاہے پینے آیا بیٹھا اور مجھے بھیجی میں نے او کے کیا اس نے پبلش کر دی
اس سارے تجربے سے ایک بات اچھی طرح سمجھ آئی کہ اے آئی خود بخود آپ کا وقت نہیں بچاتا، جتنا آپ اسے اپنے کام کے مطابق بناتے ہیں اتنا ہی بچاتا ہے۔ یہ تو ایک چھوٹا سا ایجنٹ ہے میں مانتا ہوں سلیوشنز پہلے سے مارکیٹ میں ہیں لیکن یہ میں نے خود بنایا ہے بس یہ بات ہے اور کچھ نہیں۔ اگلی پوسٹ میں دکھاتا ہوں بڑا جادو
اور استاد Wali Ullah Shah صاحب کا احسان، جنھوں نے دکھایا یہ بھِیڑ سے نکلو ادھر دیکھو دنیا کہاں جا رہی ہے بس وہ دن تھا اور آج کا دن۔ آپ آئیڈیاز بھیجتے رہیں، سونے کا وقت دیکھا جائے گا۔

Facebook Post: Tanzeel Ur Rehman

Comments Selection from Facebook:

Assalam o Alaikum,
Past few months say me bhe ai ka sath kuch kam or experiments kar raha hun.
Khair mery pass ek chota sa pc setup or gpu free para tha to me nay usko use karty hwa ek apna khus ka Ai model bnaya hai.
Lekin unfortunately mujhy Ye is types ka advance ai models bnany ka idea nhe.
Lekin apki post say to lagta hai ka jessy is say hazaron rasty ho sakty hien.
Kindly kuch guide kijiya ka essa model ya ai agent kessy bna sakta hun me please.
Thanks a lot.

منگل، 28 جولائی، 2026

ڈیٹا سانبھال کر رکھنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے (ایک اہم معجزہ فائل کرپٹ ہوگئی)

 


آج میں ایک ہارڈ ڈسک سے دوسری ہارڈ ڈسک میں ڈیٹا ٹرانسفر کررہا تھا۔ کچھ پتہ ہی نہیں لگا کب ایک فائل اور اس کے علاوہ کچھ اور فائلز کرپٹ ہوگئیں۔ مجھے لگتا ہے ڈیٹا ٹرانسفر کرتے وقت وائر میں کچھ اشو ہوا یا ہارڈ ڈسک کا غلط آپشن سیلیکٹ ہوگیا اس کی وجہ سے ایسا نقصان ہوا مگر یہ معمولی نقصان نہ ہوا۔ اس کے پیچھے یقینا شیطان کی سازش ہے کیونکہ عین وہی فائل کرپٹ ہوئی جس میں براہ راست معجزہ پرفارم ہوا تھا، باقی تو لیکچرز تھے۔


خیر یہ ثبوت اس لیے رکھ رہا ہوں تاکہ دکھا سکوں کہ میرے پاس اوریجنل فائل موجود ہیں مگر اب وہ بیکار ہوچکی۔ کوشش کروں گا کہ کسی طرح ریکور ہوسکے۔ آن لائن بیک اپ کیا تھا لہذا وہاں سے اوریجنل فائل ڈاون لوڈ کرلی ہے۔


الحمدللہ فائل تو واپس مل چکی مگر اب اس کی ڈیٹ وہ نہیں رہی کیونکہ ڈاون لوڈ ہونے پر سسٹم آج کی تاریخ سیٹ کرچکا۔


نقصان یہ کہ اب اس کو اوریجنل نہیں کہا جاسکتا ریکارڈ تاریخ کے لحاظ سے ورنہ فائل اوریجنل معجزہ ہی ہے۔ دیکھنے والے کو ایسا ہی لگے گا کہ 29 جولائی کے دن ریکارڈ کی گئی ہے۔ خیر، اسی لیے ثبوت کے طور پر رکھ رہا ہوں تاکہ دنیا کے لوگ دیکھ سکیں کہ کتنا اوریجنل کام ہورہا ہے اللہ کے فضل و کرم سے۔ ہر معجزہ اپنی جگہ حقیقت ہے الحمدللہ

خیر کوئی دیکھنا چاہے تو یوٹیوب پر بھی پلے لسٹ موجود ہے۔


وما علینا الا البلاغ المبین
ڈاکٹر لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

سبق: اپنے اہم ڈیٹا کو move کرنے کے بجائے copy کریں۔ جب اوریجنل ڈیٹا کاپی ہوجائے اس کی تصدیق کرلیں۔ اچھی طرح چیک کرلیں اس کے بعد بے شک پہلے والی ہارڈ ڈسک پر سے وہ ڈیٹا ڈیلیٹ کردیں مگر ڈائریکٹ move ہرگز نہ کریں۔ خاص طور پر جبکہ آپ کے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر پاور بیک اپ نہ ہو۔ ذرا سی لائٹ جانے پر، پاور فلکچوئیٹ ہونے پر یا تار ہل جانے پر ڈیٹا کرپٹ ہوسکتا ہے اگر کاپی یا move ہورہا ہو۔ کاپی کی صورت میں خیر ہے کہ اصلی والا اپنی جگہ محفوظ رہے گا۔