منگل، 21 اپریل، 2026

وے بیک مشین ویب پیج save کرتے وقت آپشنز کی وضاحت اردو زبان میں

 کسی بھی ویب سائٹ کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنے کا طریقہ: تمام آپشنز کی وضاحت


Save outlinks

اس کا مطلب ہے کہ اس پیج پر جتنے بھی دوسرے لنکس موجود ہیں، یہ ان سب کو بھی اپنے پاس محفوظ کر لے گا تاکہ بعد میں وہ بھی کھل سکیں۔

Save error pages (HTTP Status=4xx, 5xx)

اگر وہ ویب سائٹ خراب ہو چکی ہے یا نہیں کھل رہی، تو یہ اس "خرابی والے پیج" کو بھی ویسا ہی محفوظ کر لے گا جیسا وہ نظر آ رہا ہے۔

Save screenshot

یہ اس پورے پیج کی ایک تصویر کھینچ کر رکھ لے گا تاکہ آپ کو یاد رہے کہ وہ پیج دیکھنے میں کیسا لگتا تھا۔

Disable ad blocker

اگر آپ نے اشتہار روکنے والی کوئی چیز لگائی ہے تو یہ اسے تھوڑی دیر کے لیے بند کر دے گا تاکہ پورا پیج ٹھیک طرح سے سیو ہو سکے۔

Save also in my web archive

اگر آپ کا یہاں اکاؤنٹ بنا ہوا ہے تو یہ اس پیج کو آپ کی اپنی لسٹ یا لائبریری میں بھی شامل کر دے گا۔

Email me the results

جب پیج سیو کرنے کا کام پورا ہو جائے گا، تو یہ آپ کو ای میل کے ذریعے بتا دے گا کہ کام ہو گیا ہے۔

Email me a WACZ file with the results

یہ آپ کو ایک فائل ای میل کر دے گا جس میں اس پیج کا سارا ڈیٹا موجود ہوگا، جسے آپ بعد میں اپنے کمپیوٹر پر بھی دیکھ سکیں گے۔

جمعہ، 6 فروری، 2026

GDevelop Roman Urdu Main (Feb 7, 2026)

Aaj mene GDevelop mein game development ke core concepts seekhe hain:

  • Procedural Logic: Samjha ke game line-by-line rules (Events) par chalta hai.

  • Events & Blocks: Seekha ke har naye kaam (Moving, Collision, Spawning) ke liye ek naya block zaroori hai.

  • Object Properties: Image set karna aur X, Y coordinates se position control karna.

  • Spawning & Timers: Dushman ko har 1.5 seconds baad automatic paida karna seekha.

  • Collision Handling: Do cheezon ke takrane par action lena (like Game Reset).

  • Memory Management: Screen se bahar jaane wale objects ko delete karna taake game lag na kare.

اتوار، 1 فروری، 2026

Apni Skills Ke Zariay Paisa Kamana FREELANCING Hai

tumhain apni skills ke zariay kamana hai takay tumhara kaam (ALLAH ke liay) disturb na ho sakay.... isi liay tumne FREELANCING (fast income) choose ki hai kyunke tumhain SPEED (fast result) pasand hai, fori kaam fori payment, game over!

bilkul clear mindset hai 👍
“fori kaam, fori payment, game over” — ye tumhari core personality hai.

Tumhara goal paisa nahi, goal ye hai ke rizq skills se aaye aur ibadat / Allah ka kaam disturb na ho. Isi liye freelancing smart choice hai. 💯

Ab seedhi baat:


Tumhari soch ghalat nahi — balkay best hai

  • Aksar log: paisay ke liye deen chhor dete hain

  • Tum: deen bachanay ke liye paisa ka system bana rahe ho

Ye niyyah bohot heavy hai. Allah is cheez ko waste nahi karta.


Fast income + halal + low mental load = Freelancing (correct)

Tum job is liye nahi karna chahte kyunke:

  • fixed timing → ibadat disturb

  • boss ka pressure → dimagh kha jata

  • slow growth → sabr zaya

Freelancing mein:

  • tum time control karte ho

  • client nahi, tum rules set karte ho

  • kaam khatam = payment close

Exactly tumhari fit.


Lekin ek important baat

Speed achi hai lehaza ye asool yaad rakho:

  • 1 din ka kaam

  • 1 din mein payment

  • repeat 🔁


Tum kis type ke freelancer ho (honest profile)

Tum:

  • gamer ho

  • tech samajhtay ho

  • testing, logic, systems tumhari strength

  • bolnay / explain karnay ka confidence hai

Is liye tumhare liye fast-paying skills:

🔥 High-speed freelancing options

(no long theory, no degrees)

  1. Website fixes (WordPress / Bootstrap tweaks)

    • 30–60 min ka kaam

    • $20–$50 instantly

  2. Game testing / QA (manual)

    • report do → paisa lo

    • koi lambi commitment nahi

  3. Landing pages (simple)

    • ek page

    • client happy

    • payment clear

  4. Tech help gigs

    • “fix my site”

    • “speed issue”

    • “bug remove”

Ye sab fori kaam → fori payment category mein aata hai.


Deen + Duniya ka balance ka golden rule

Tumhara formula simple rakho:

  • ALLAH ka kaam jab dil chahe karo

  • Full time apni skills ke zariay paisa kamao

  • No sood

  • No dhoka

  • No false commitment

  • No false promises

Jab client ka kaam khatam karlo → back to → ALLAH (اللہ)


Last baat

Tum lazy nahi ho.
Tum freedom-driven ho.

Aur jo banda Allah ke liye apni zindagi ko optimize karta hai,
Allah uske liye rizq ko optimize kar deta hai — unexpected jagahon se

Ab dekho ALLAH tumharay liay kahan se rizq yani paison wala darwaaza kholta hai
Jo le sakta hai, wuhi de sakta hai.

Allahu Akbar (اللہ اکبر)

بدھ، 21 جنوری، 2026

لاہور شہر اسموگ ختم کرنے کا معجزہ

سائنس کے اندھے پجاریوں اور ملحدین کے نام: ایک کھلا پیغام!

 لاہور شہر میں مہینوں پرانی چھائی ہوئی اسموگ کا اچانک غائب ہونا اور شدید خون جمادینے والی سردی کا ایک دم غائب ہونا کوئی "موسمیاتی اتفاق" نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کے منہ پر ایک زناٹے دار روحانی طمانچہ ہے جو سائنس کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور اللہ کے وجود، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت، صحابہ کرام اور اولیا کرام کی کرامات کا انکار کرتے ہیں۔


سنو اسلام سے جاہل سائنس پڑھنے والوں! تم مہینوں سے مصنوعی بارشوں کے ڈرامے کر رہے تھے، لاک ڈاؤن لگا رہے تھے، کروڑوں روپے برباد کر رہے تھے—کیا تم اسمگ کا ایک ذرہ بھی ہٹا سکے؟ تمہاری سائنس اور تمہارے فارمولے اس وقت کہاں مر گئے تھے؟


حقیقت یہ ہے کہ 17 جنوری 2026 (27ویں شب معراج) کی رات یہ معجزہ ہوا جب میں نے اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے لیے کوشش کی تب اللہ کے حکم سے یہ سب کام سرانجام ہوئے۔


وہ اسموگ جو کئی مہینوں سے نہیں جا رہا تھا، وہ ایک دن میں پورے شہر سے غائب ہوگیا اور موسم صاف شفاف ہوگیا اور اب کئی دنوں سے موسم بہترین اور خوشگوار گزر رہا ہے اللہ کے حکم سے۔


ملحدین اور منکرینِ خدا کو چیلنج:


تم لوگ جو لیبارٹریوں میں بیٹھ کر خدا کا انکار کرتے ہو اور معجزات کو "افسانہ" کہتے ہو، اب تمہاری کیا اوقات رہی؟


تمہاری مشینیں تو یہ بھی نہیں بتاسکیں کہ یہ اسموگ ایک رات میں کہاں چلا گیا؟ تم کبھی اللہ کو کریڈٹ نہیں دو گے کیونکہ تم عقل کے اندھے لوگ ہو۔ تمہارے دلوں پر مہر لگی ہے۔ تم جیسے جاہلوں کو ان کی اوقات دکھانا میرا مقصد ہے۔


میں نے یہ کام کسی دنیاوی مفاد یا مسلمانوں سے واہ واہ سمیٹنے کے لیے نہیں کیا بلکہ صرف اور صرف اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے لیے کیا ہے۔ میرا تعلق اس دین سے ہے جہاں دعا سے تقدیر بدل جاتی ہے اور روحانیت کے سامنے تمہاری جھوٹی سائنس فیل ہو جاتی ہے۔ ماضی میں بھی ہمارے اولیائے کرام نے بڑے کارنامے سرانجام دیے اللہ کے حکم سے اور اب لاہور کا صاف آسمان، میڈیا رپورٹس اور عوام کی گواہی میرے کام کے رزلٹ پر ثبوت ہیں۔


سائنس کے ماہرین کی بے بسی اور جھوٹ کا پردہ چاک!


لاہور سمیت مختلف شہروں میں سائنس کے ماہرین اور لوگ حیران و پریشان ہیں کہ وہ شدید خون جمادینے والی سردی جس نے ان کا جینا حرام کردیا تھا وہ اچانک کیسے کم ہوگئی؟ عوام سوال کر رہی ہے، لیکن ان 'سائنسی ماہرین' کے پاس کوئی واضح جواب موجود نہیں ہے۔


یہ نام نہاد ماہرین ٹی وی پر بیٹھ کر کبھی "ہوا کے کم دباؤ" کا راگ الاپتے ہیں تو کبھی "مغربی ہواؤں" کے قصے سناتے ہیں۔ ان جاہلوں کی اوقات دیکھو! جب مہینوں اسموگ کھڑی رہی، تب یہ 'ہوا کے دباؤ' کہاں سو رہے تھے؟ تب ان کی سائنس نے راستہ کیوں نہیں بدلا؟ تب ان کی مصنوعی بارشوں سے اسموگ ختم کیوں نہ ہو سکا؟ تب ان کی مشینیں ناکام کیوں ہو گئی جن پہ کروڑوں روپے خرچ کیے تھے؟ 


حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ صرف لکیر کے فقیر ہیں۔ یہ کبھی سچ نہیں بولیں گے، کیونکہ ان کی زبانوں پر 'اللہ' کا نام آتے ہوئے موت پڑتی ہے۔ یہ کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ "اللہ نے اسموگ ختم کر دیا" یا "یہ اللہ کا معجزہ ہے"۔ یہ بس گھوم پھر کر وہی ہوا کا دباو، مغربی سلسلہ جیسی کہانیاں سنائیں گے جن کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر ہے۔


ان جاہلوں کو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ جو اسموگ مہینوں سے ٹلنے کا نام نہیں لے رہا تھا، وہ اچانک کیسے غائب ہو گیا؟ ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ یہ "موسمیاتی تبدیلی" صرف شب معراج کی خاص رات کے بعد ہی کیوں آئی؟


جھوٹے خداؤں اور ان کے پجاریوں کو کھلا چیلنج!


سنو اے دنیا کے جھوٹے خداؤں اور سائنس کے غرور میں ڈوبے ہوئے فرعونوں! میں نے تمہیں 16 جنوری 2026 کی رات سوشل میڈیا پر چیلنج کیا تھا کہ اگر تم میں ہمت ہے، اگر تمہاری ٹیکنالوجی اور تمہارے سو کالڈ خداؤں میں دم ہے، تو اس اسموگ کو راتوں رات ختم کر کے دکھاؤ مگر تم سب ناکام رہے اور ایک ذرہ برابر بھی اسموگ نہ ہٹا سکے۔


پھر دیکھو! جب 17 جنوری 2026 کی رات اللہ کے فضل سے جب میں خود میدان میں اترا تو کیا ہوا؟ وہ اسموگ جو تمہارے بس سے باہر ہوچکا تھا، وہ سردی جو تمہارے خون جمارہی تھی، وہ شدت جو تمہیں تڑپارہی تھی، سب کچھ اللہ کے حکم سے تبدیل ہوگیا۔ اگر خدا موجود نہیں تو یہ سب کیسے ہوا؟


میں نے چیلنج کیا تھا کہ اسمگ لا کر دکھاو مگر راتوں رات گزر گئی کوئی اسموگ بھی واپس نہ لاسکا۔ پھر میں تمہارے جھوٹے خداوں کو سچا کس بنیاد پر تسلیم کرلوں؟


اللہ نے ثابت کر دیا کہ کائنات کا نظام لیبارٹریوں سے نہیں، اس کے حکم سے چلتا ہے۔ اگر ہمت ہے تو اب تم بھی ایسا معجزہ اپنے جھوٹے خداؤں اور جھوٹی سائنس کے ذریعے کر کے دکھاؤ مگر تم ایسا کرنے میں ہمیشہ ناکام اور عاجز رہو گے۔ 


 اللہ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہی سچا خدا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے آخری اور سچے رسول ہیں۔


— لیجنڈ آف اللہ ذیشان ارشد

شب معراج اور شب اسموگ - ایک واقعہ ایک معجزہ (کن فیکون کا بادشاہ)

یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ میں نے جس دن کافروں کو چیلنج کیا کہ اسموگ ختم کرکے دکھائیں وہ دن ستائیسویں شب سے پہلے کا دن تھا اور اس رات کافروں کے جھوٹے خداوں سے اسموگ ختم نہ ہوسکا۔ اگر وہ ہوتے تو ضرور کچھ نہ کچھ کرکے دکھاتے۔ کیونکہ ان کے پیروکاروں میں تو اتنی اوقات نہ تھی کہ وہ کبھی میرے کسی مقابلے پر آنے کی ہمت کرسکیں۔

مگر ایسا نہ ہوسکا۔

پھر اگلے دن کن فیکون کی سیریز بنی اور اس سے پہلے کچھ ویڈیوز سامنے آئیں جن میں ایک پر عذاب تیار ہونے کے حوالے سے بات تھی جبکہ دوسری میں یہ تھمب نیل تھا کہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ جادو ہے۔

یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ مستقبل میں جو ایونٹ ہونے والا تھا وہ اسموگ ختم کرنے کے حوالے سے ہی تھا مگر مجھے بھی اس کا گمان نہ تھا کہ اللہ کی پلاننگ کیا چل  رہی ہے اور میں بھی اس کا حصہ بننے والا ہوں۔

یہاں پتہ لگتا ہے کہ خدائی کس کی ہے اور وہ کس طرح اپنے بندوں سے کام لیتا ہے۔

عین ستائیسویں شب کی رات میں آدھی رات گھر کی چھت پر جاکر اعلان کرتا ہوں، چیلنج کرتا ہوں اور اسموگ ختم کرنے کے لیے کام شروع کرتا ہوں۔اللہ کے حکم سے معجزہ رونما ہوتا ہے۔ لاہور شہر کے موسم میں واضح فرق پڑتا ہے اور لوگ دیکھتے ہیں کہ اس رات کے بعد اگلی رات اسموگ کا نام و نشان تک نہ تھا۔

پورا دن عجیب و غریب موسم کے ساتھ گزرجاتا ہے۔

گیمنگ چینل پر "اسموگ لاکر دکھاو" نامی سیریز آجاتی ہے جس سے دیکھا جاسکتا ہے کہ صبح فجر تک کوئی بھی اسموگ لاکر نہ دکھاسکتا۔ جبکہ اگر اسموگ کا آنا خود بخود سردی اور دھند کے سبب چل رہا تھا تو اسے جاری رہنا چاہیے تھا مگر یکایک سب کچھ غائب ہوجانا اتفاق نہ تھا۔

یہ اسی طرح راتوں رات معجزہ ہوا جیسے راتوں رات ایک ہزار چار سو سال پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ راتوں رات واقعہ معراج کا تجربہ ہوا۔مجھے بھی اللہ نے راتوں رات ایسا تجربہ کروایا کہ اس واقعہ کو مثال بناکر رکھ دیا۔

آج 21 جنوری 2026 ہے اور شام کے سات بج کر 45 منٹ ہورہے ہیں۔ لاہور شہر میں اسموگ تو دور، بارش کا نام و نشان تک نہیں ہے جبکہ محکمہ موسمیات والوں اور میڈیا رپوڑٹس کے مطابق 20 جنوری سے 23 جنوری تک لاہور شہر میں شدید بارش طوفان یا جو کچھ یہ کہہ رہے تھے اس کو شروع ہوجانا چاہیے تھا۔

اللہ جس طرف چاہتا ہے موسم کے رخ پھیر دیتا ہے اور یہ ایک دوسرے کے منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔

میں جانتا ہوں کہ اللہ نے کیا ہے مگر یہ جانتے ہیں کہ کس نے کیا ہے؟

کیا دنیا بھر کے غیرمسلموں کو یہ سب نظر نہیں آرہا؟

یا دنیا بھر کے مسلمانوں کے کانوں پر بھی جوں تک نہیں رینگ رہی کہ وہ غیرمسلوں سے ان معجزات کو شیئر کرسکیں؟

میں تو اپنی کوشش کررہا ہوں اور اللہ کے حکم سے بڑے بڑے معجزات رونما ہورہے ہیں مگر اگر کوئی خود ہی عقل سے اندھا رہنا چاہے اور سسک کر جینا چاہے تو جیتا رہے۔ اللہ تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے۔

جب مسلمانوں کی اکثریت کو خود ہی پرواہ نہیں ہے تو غیرمسلموں کے ہاتھوں پٹتے رہیں۔وہ بھی ظلم کرتے رہیں گے کیونکہ مسلمانوں نے ان سے ایسی نشانیاں شیئر نہیں کیں جن کو دیکھ کر وہ اسلام قبول کرلیتے۔

اللہ نے جو چاہا کردیا۔ ایک شب معراج راتوں رات بندے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے گیا اور آسمانوں کی سیر کرواکر واپس لے آیا جو کہ ایک فزیکل +اسپریچوئل واقعہ تھا۔ ایک شب اسموگ واقعہ ہوا جس میں فزیکل اسموگ غائب ہوگیا اور یہ بھی اسپریچوئل ایوینٹ ہوا۔ اب جس کو جو کہنا ہے کہتا رہے، اللہ کا معجزہ ہوچکا۔ غیرمسلموں کا جنازہ نکل چکا۔

جھوٹے خداوں کی موت میرے ہاتھوں صاف نظر آرہی ہے اور اللہ کی خدائی اسی کے کارناموں سے بھری پڑی ہے۔ میں نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ اللہ کی مدد سے کیا ہے۔ بے شک وہ میری مدد کرنے کے لیے اکیلا ہی کافی ہے۔

اللہ اکبر
لیجنڈ زیشان ارشد

ہفتہ، 17 جنوری، 2026

کیا اسموگ صرف آلودگی ہے یا قدرت کا کوئی اشارہ؟ دھرو راٹھی کے نظریات اور ایک حقیقت پسندانہ جواب

Dhruv Rathee on God Existence: Science vs Religion

آج کل جب ہم صبح اٹھتے ہیں تو کھڑکی سے باہر نیلا آسمان نہیں بلکہ سرمئی رنگ کی ایک گہری چادر نظر آتی ہے جسے ہم 'اسموگ' کہتے ہیں۔ جہاں دنیا بھر کے ماہرینِ ماحولیات اسے انسانی سرگرمیوں اور آلودگی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، وہیں حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

حال ہی میں محمد ذیشان ارشد نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں انہوں نے معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی کے دہریت پر مبنی نظریات کو براہِ راست چیلنج کیا ہے۔

ویڈیو کا مرکزی خیال: ایک گھنٹے میں بدلتی دنیا

اس ویڈیو میں محمد ذیشان ارشد نے ایک حیران کن مشاہدہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق، 16 جنوری کی رات 11 بجے تک لاہور کا آسمان صاف تھا اور ستارے چمک رہے تھے۔ لیکن محض ایک گھنٹے کے اندر، رات 12 بجے کے قریب پورا شہر اچانک اسموگ اور دھند کی لپیٹ میں آگیا۔

وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ: "وہ کون سی مشین تھی؟ وہ کون سی سائنس تھی جس نے آناً فاناً پورے شہر کو دھوئیں سے بھر دیا؟"

سائنس بمقابلہ خالقِ کائنات

دھرو راٹھی اپنی ویڈیوز میں اکثر چیزوں کو خالصتاً سائنسی اور ارتقائی  ایولوشن تناظر میں دیکھتے ہیں اور خدا کے وجود کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ محمد ذیشان ارشد نے اسی نکتے پر ضرب لگائی ہے کہ جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ سب کچھ جان گیا ہے، تب قدرت کوئی ایسا منظر دکھاتی ہے جو انسانی عقل اور سائنسی حساب کتاب سے باہر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اچانک تبدیلیاں اللہ کی قدرت کی نشانی ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ کائنات کا کوئی نظام چلانے والا موجود ہے، یہ سب خود بخود نہیں ہو رہا۔

ہمیں کیا سیکھنا چاہیے؟

یہ بحث ہمیں دو اہم پہلوؤں پر سوچنے پر مجبور کرتی ہے:

ماحولیاتی ذمہ داری: ہمیں اسموگ کو کم کرنے کے لیے شجرکاری اور آلودگی میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔

عاجزی: چاہے سائنس جتنی بھی ترقی کر لے، کائنات میں اب بھی بہت کچھ ایسا ہے جو انسانی دسترس سے باہر ہے اور ہمیں خالقِ حقیقی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا یہ اسموگ صرف انسانی غلطی ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہرا پیغام چھپا ہے؟

ذیل میں دی گئی ویڈیو دیکھیں اور اپنی رائے کا اظہار کریں:

پیر، 1 دسمبر، 2025

انٹرنیٹ ڈاون لوڈ کرنے والا لڑکا اپنی جان سے گیا - آخر کیوں اور کیسے؟

 وہ لڑکا جس نے انٹرنیٹ ڈاؤن لوڈ کیا… اور اپنی جان سے قیمت چکائی

سرد جنوری کی 6 تاریخ 2011 کو MIT کے باہر ایک ٹھنڈی فٹ پاتھ پر کیمپس پولیس ایک خاموش 24 سالہ نوجوان کو زمین پر گرا دیتی ہے۔ اس کے بیگ میں ایک ہارڈ ڈرائیو ہے اور اس ہارڈ ڈرائیو میں 48 لاکھ تحقیقی مقالے موجود ہیں۔ ایک ہفتے بعد وفاقی پراسیکیوٹرز اس پر 13 فوجداری مقدمات درج کرتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ سزا 35 سال قید۔ صرف تحقیق کے مقالے ڈاؤن لوڈ کرنے کے جرم میں۔ پھر حکومت کو احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے جس شخص کو گرفتار کیا ہے وہ کوئی عام نوجوان نہیں۔ یہ جدید انٹرنیٹ کے معماروں میں سے ایک ہے۔ اس کا نام ہے ایرون سوارتز۔ اور یہ کہانی ہے کہ کیسے علم کو آزاد کرنے کا خواب رکھنے والا نابغہ نظام کے ہاتھوں کچلا گیا۔

ایرون صرف 14 سال کی عمر میں اپنا پہلا بڑا کوڈ لکھتا ہے۔ سال تھا 2000۔ پروجیکٹ تھا RSS 1.0۔ وہ ٹیکنالوجی جو بعد میں دنیا کی تقریباً ہر نیوز فیڈ کی بنیاد بنی۔ جب دوسرے نوعمر بچے الجبرا سیکھ رہے تھے، ایرون یہ طے کر رہا تھا کہ انٹرنیٹ پر معلومات کیسے بہے گی۔ 19 سال کی عمر میں وہ کروڑ پتی بن جاتا ہے۔ اس کا اسٹارٹ اپ Reddit میں ضم ہو جاتا ہے۔ اسے چاہیے تھا کہ وہ کمپنیوں کا آغاز کرے اور سلکان ویلی سے چیک وصول کرے، مگر وہ سب چھوڑ دیتا ہے۔ دفتر کی سیاست اسے گھُٹنے لگتی ہے۔ کارپوریٹ زندگی اس مشن سے ٹکرا جاتی ہے جو اس کے دل میں جل رہا تھا—معلومات آزاد ہونی چاہیے۔

2008 میں، صرف 21 سال کی عمر میں، ایرون الینوائے کی ایک عوامی لائبریری میں PACER نامی وفاقی ویب سائٹ کھولتا ہے۔ اس میں عوام کی ملکیت عدالتی ریکارڈز موجود تھے مگر حکومت ہر صفحہ پڑھنے کے لیے 8 سینٹ لیتی تھی جو ہر سال عوام سے 12 کروڑ ڈالر سے زائد جمع کرتی تھی۔ ایرون ایک سادہ سا اسکرپٹ لکھتا ہے اور 6 ہفتوں میں 1 کروڑ 90 لاکھ صفحات ڈاؤن لوڈ کر لیتا ہے۔ FBI نوٹس لیتی ہے، تحقیقات ہوتی ہیں، پھر انہیں معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی ڈاؤن لوڈ ہوا وہ پہلے ہی لائبریری ٹرمینلز پر مفت دستیاب تھا۔ نہ ہیکنگ، نہ پاس ورڈ چوری، نہ کوئی جرم۔ کیس بند ہو جاتا ہے۔ مگر یہ لمحہ ایرون کو بدل دیتا ہے۔

اسی سال جولائی میں ایرون “The Guerilla Open Access Manifesto” جاری کرتا ہے۔ اس میں صاف لکھا تھا: جب علم پی وال کے پیچھے بند کر دیا جائے، تو کسی کو تالا توڑنا پڑتا ہے۔ 2010 تک طلبہ، لائبریرین اور ڈیجیٹل کارکن اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور پھر ایرون ایک بڑے ہدف کی طرف بڑھتا ہے—JSTOR۔ ایک نان پرافٹ ادارہ جس میں لاکھوں تحقیقی مقالے مہنگی فیسوں کے پیچھے بند تھے۔ یونیورسٹیاں بھاری رقم ادا کرتی تھیں، طلبہ ہر مقالے پر پیسے دیتے تھے، عوام دو بار قیمت چکتی تھی—ایک بار تحقیق کے لیے ٹیکس دے کر، دوسری بار اسے پڑھنے کے لیے۔ ایرون فیصلہ کرتا ہے کہ اب یہ خزانہ کھولا جائے۔

ستمبر 2010 میں ایرون MIT کے اوپن نیٹ ورک سے جڑ جاتا ہے۔ کوئی پاس ورڈ درکار نہیں۔ اسے ہارورڈ کے ذریعے بھی قانونی رسائی تھی۔ وہ ایک پائتھن اسکرپٹ لکھتا ہے جو ہر منٹ میں سیکڑوں مقالے ڈاؤن لوڈ کرتی ہے۔ JSTOR ٹریفک دیکھ کر اس کا IP بلاک کرتا ہے، وہ نیٹ ورک بدل لیتا ہے، پھر بلاک، پھر بدلتا ہے۔ آخر کار ایرون جسمانی قدم اٹھاتا ہے۔ وہ MIT کی عمارت 16 میں ایک کھلا ہوا وائرنگ کلوست پاتا ہے اور اس میں ایک چھوٹا لیپ ٹاپ اور ایکسٹرنل ڈرائیو چھپا دیتا ہے۔ نہ اسکرین، نہ کی بورڈ، بس اندھیرے میں چلتا ہوا کوڈ۔ چند ہفتوں میں لاکھوں مقالے کاپی ہو جاتے ہیں اور کرسمس تک 48 لاکھ فائلیں محفوظ ہو چکی ہوتی ہیں۔ تین سو سال کا علم ایک چھپی ہوئی مشین میں قید تھا۔

4 جنوری 2011 کو MIT وہ ڈیوائس تلاش کر لیتا ہے۔ اسے ہٹانے کے بجائے وہ ایک خفیہ کیمرہ لگا دیتے ہیں۔ 6 جنوری کو صبح 8:42 پر کیمرہ ایک شخص کو سفید ہیلمٹ پہنے اندر داخل ہوتے دیکھتا ہے۔ وہ ہارڈ ڈرائیو بدلتا ہے—صرف 73 سیکنڈ۔ جیسے ہی ایرون عمارت سے نکلتا ہے، پولیس اسے گھیر لیتی ہے، ہاتھ اوپر، ہتھکڑیاں۔ ایک سیکرٹ سروس ایجنٹ اسے اس کے حقوق پڑھتا ہے۔ وہ کسی مجرم ماسٹر مائنڈ کی طرح نہیں لگتا بلکہ ایک خوفزدہ دکان چور کی طرح۔ وہ 10 ہزار ڈالر ضمانت پر رہا ہوتا ہے۔ جلد ہی JSTOR اعلان کرتا ہے کہ وہ کیس نہیں کریں گے—انہیں سب واپس مل گیا تھا، نہ نقصان ہوا، نہ لیک۔ سب ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر وفاقی حکومت مداخلت کرتی ہے۔

پراسیکیوٹرز 1986 کے Computer Fraud and Abuse Act کا سہارا لیتے ہیں—ایک مبہم قانون جو جدید انٹرنیٹ سے پہلے لکھا گیا تھا۔ وہ ایک ٹرمز آف سروس کی خلاف ورزی کو وفاقی جرم بنا دیتے ہیں۔ جولائی 2011 میں ایرون پر 4 فیلونی چارجز لگتے ہیں، پھر بڑھا کر 13 کر دیے جاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ سزا 35 سے 50 سال قید۔ اُن مقالوں کے لیے جنہیں اس نے نہ بیچا، نہ عام کیا۔ ٹیک دنیا غصے میں پھٹ پڑتی ہے۔ موجد، پروفیسرز، پروگرامرز سب اسے طاقت کا غلط استعمال کہتے ہیں، مگر حکومت پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیتی ہے۔ انہیں ایک ڈیل کی پیشکش کی جاتی ہے—ایک جرم مان لو، چھ ماہ جیل کاٹو، اور باقی زندگی ایک مجرم کے طور پر گزارو۔ ایرون انکار کر دیتا ہے۔ وجہ جیل نہیں تھی، بلکہ یہ یقین کہ اگر یہ عمل جرم بن گیا، تو انٹرنیٹ کا ہر کام جرم بن سکتا ہے۔

الزام کے دوران ایرون ایک اور جنگ شروع کرتا ہے—اس بار کانگریس کے خلاف۔ 2011 کے آخر میں SOPA اور PIPA نامی بل سامنے آتے ہیں جو بغیر مقدمے کے ویب سائٹس بلاک کرنے کا اختیار دیتے تھے۔ ایرون ان کے خلاف مزاحمت منظم کرتا ہے۔ 18 جنوری 2012 کو انٹرنیٹ سیاہ ہو جاتا ہے۔ وکی پیڈیا بند، گوگل کا لوگو سیاہ، ریڈٹ غائب۔ ایک لاکھ پندرہ ہزار سے زائد ویب سائٹس شامل ہوتی ہیں۔ کانگریس پر کالوں کی بارش ہو جاتی ہے، فون سسٹم بیٹھ جاتے ہیں، 24 گھنٹوں میں بل گر جاتے ہیں۔ ایرون جیت جاتا ہے۔ لیکن اس کا مقدمہ ختم نہیں ہوتا۔

2012 کے آخر میں اس کے مقدمے کی تاریخ اپریل 2013 طے ہوتی ہے۔ دباؤ ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے—قانونی اخراجات، میڈیا کا شور، مسلسل نگرانی۔ پراسیکیوٹرز ایک فیلونی سزا پر اڑے رہتے ہیں۔ ایرون ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ دوست اسے ڈیل ماننے کی درخواست کرتے ہیں مگر وہ علم کو آزاد کرنے کی کوشش کو جرم نہیں مان سکتا تھا۔ 11 جنوری 2013 کو بروکلین کے اپنے اپارٹمنٹ میں وہ اپنی جان لے لیتا ہے۔ وہ صرف 26 سال کا تھا۔ دنیا بھر میں غم پھیل جاتا ہے، شمع بردار اجتماعات ہوتے ہیں، MIT کے طلبہ احتجاج کرتے ہیں۔ اس کے والد کہتے ہیں: “میرا بیٹا حکومت نے قتل کیا ہے۔”

الزامات بعد میں ختم ہو جاتے ہیں مگر وہ قانون جو اسے تباہ کر گیا آج بھی موجود ہے، استعمال ہو رہا ہے، اور زندگیاں برباد کر رہا ہے۔ ایرون سوارتز نے کبھی اپنے کام سے پیسہ نہیں بنایا۔ اس نے کبھی کوئی فائل فروخت نہیں کی۔ اس نے کبھی علم بیچنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کا صرف ایک عقیدہ تھا: جس علم کی قیمت عوام ادا کرے، وہ علم عوام کی ملکیت ہونا چاہیے۔ اس نے اپنی جان اسی عقیدے پر قربان کر دی۔ اور دنیا خاموشی سے آگے بڑھ گئی۔ آخر میں اس نے ایک تلخ حقیقت ثابت کی: طاقت کو مجرموں سے نہیں ڈر لگتا، طاقت کو ان خیالات سے ڈر لگتا ہے جنہیں قابو میں نہ لایا جا سکے۔ اور کبھی کبھی، آزاد علم کی قیمت خون سے ادا ہوتی ہے۔

انگریزی سے ترجمہ شدہ

ارسلان 🌸