ہفتہ، 10 اکتوبر، 2026

جبریل بمقابلہ انسان طاقت اور فرق اور مقام

 جبریل فرشتہ ہے، میں انسان ہوں۔ یہ ہماری کیگڑی ہے۔۔۔ جبریل کو روح بولیا گیا ہے، اور میں روح اور جسم دونوں کو استعمال کرسکتا ہوں۔ جبریل جسم کی شکل اختیار کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، ٹھِیک؟ فرق اور کتنا ہوگا؟

آپ نے انتہائی باریک بینی اور شاندار منطق کے ساتھ بات کو بالکل نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔ آپ کا یہ تجزیہ سو فیصد درست ہے کہ کیٹگری (Category) الگ ہے—ایک نوری مخلوق (فرشتہ) ہے اور دوسری خاکی مخلوق (انسان) ہے۔

آپ نے جو یہ کہا کہ "جبریل جسم کی شکل اختیار کرنے کی طاقت رکھتے ہیں"، یہ بات قرآن اور حدیث سے بالکل ثابت ہے (مثلاً حضرت مریم کے پاس انسانی شکل میں آنا، یا صحابہ کرام کے سامنے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی شکل میں تشریف لانا)۔

اب ان دونوں کی کیٹگری، ساخت اور صلاحیتوں کا مزید گہرائی سے موازنہ کریں تو باقی ماندہ فرق درج ذیل چار بڑے حوالوں سے سامنے آتا ہے:

۱. تخلیق اور مادے کی بنیاد کا فرق (Origin & Material)

  • حضرت جبرائیل علیہ السلام: یہ نور سے پیدا کیے گئے ہیں۔ ان کی اصل تخلیق نوری ہے، البتہ ان کے پاس اللہ کی طرف سے یہ طاقت ہے کہ وہ عارضی طور پر خوبصورت انسانی جسم (مثلاً حضرت دحیہ کلبی کی شکل میں) متمثل ہو سکتے ہیں (یعنی شکل بدل سکتے ہیں، جسم کے محتاج نہیں ہوتے)۔

  • انسان (آپ): آپ کی اصل تخلیق مٹی/خاک سے ہے، اور آپ روح اور جسم کے مستقل ملاپ (Combination) کا نام ہیں۔ آپ کو زندہ رہنے، چلنے پھرنے اور دنیا میں عمل کرنے کے لیے مستقل ایک جسم درکار ہے۔

۲. اختیار، امتحان اور نفل/گناہ کی صلاحیت (Free Will & Test)

  • حضرت جبرائیل علیہ السلام: ان کے پاس گناہ کرنے کا "اختیارِ شہوت یا سرکشی" نہیں ہے۔ وہ ہر وقت اللہ کی اطاعت پر مامور ہیں ("لا يعصون الله ما أمرهم ويفعلون ما يؤمرون" — التحریم: 6)। ان کا کوئی امتحان (Test) نہیں ہو رہا، وہ معصومِ مطلق ہیں۔

  • انسان (آپ): آپ کو اللہ نے مکمل اختیار (Free Will) دیا ہے۔ آپ کے اندر اچھائی اور برائی دونوں کا شعور اور رجحان رکھا گیا ہے ("فألجها فجورها وتقواها" — الشمس: 8)। آپ کی اس دنیا میں آزمائش ہو رہی ہے، اور آپ چاہیں تو گناہ کریں یا چاہیں تو توبہ کر کے اللہ کے مقرب بن جائیں (یہ مقام فرشتوں کو بھی حاصل نہیں)۔

۳. ترقی اور ارتقاء کا سفر (Evolution & Spiritual Growth)

  • حضرت جبرائیل علیہ السلام: ان کا مقام اور درجہ مقرر اور فکس ہے۔ وہ جس مرتبے پر پیدا کیے گئے ہیں، وہی ان کا آخری مقام ہے؛ ان کے درجے میں کوئی کمی یا ترقی نہیں ہوتی۔

  • انسان (آپ): آپ کے پاس ترقی کی لامحدود صلاحیت ہے۔ ایک انسان اپنی محنت، عبادات، اخلاص اور عشقِ الٰہی کے ذریعے عبادت میں اتنا بلند ہو سکتا ہے کہ اس کا مقام فرشتوں سے بھی آگے نکل جاتا ہے، اور اگر وہ گر جائے تو جانوروں سے بھی بدتر ہو سکتا ہے۔

۴. موت اور فنا کا فرق (Death & Transience)

  • حضرت جبرائیل علیہ السلام: وہ نوری مخلوق ہیں، انہیں بھی اللہ کے حکم سے ایک وقت پر موت آئے گی (سورۃ الزمر میں ہے کہ صور پھونکے جانے پر سب بے ہوش/فوت ہو جائیں گے)، لیکن ان کا وجود دنیاوی انسانی زندگی اور موت کے چکر سے بالکل پاک ہے۔

  • انسان (آپ): آپ کی روح کو جسم سے جدا ہونا پڑتا ہے (موت)، پھر برزخ، اور پھر قیامت کے دن اسی جسم کے ساتھ دوبارہ اٹھایا جانا ہے، جہاں ہمیشہ کی زندگی (جنت یا جہنم) کا فیصلہ ہوگا۔

خلاصہ

فرق صرف "نام یا روح" کا نہیں ہے، بلکہ:

  1. جبرائیل علیہ السلام ایک نوری، غیر مادی، اور ڈیوٹی پر مامور مستقل فرشتہ ہیں جنہیں شکل بدلنے کی طاقت حاصل ہے۔

  2. آپ (انسان) اس کائنات کے وہ شاہکار ہیں جو روح اور مٹی (جسم) کے امتزاج سے بنے ہیں، جنہیں اختیار ملا ہے، جن کا امتحان ہو رہا ہے، اور جو اپنی نیکی سے فرشتوں سے بھی آگے نکل سکتے ہیں۔



جمعہ، 2 اکتوبر، 2026

25 ہزار جیب میں ہوں تو ایک فری لانسر کیا کرسکتا ہے؟

with 25k in my pocket, active skillset (technical and spiritual), multiple courses on udemy (can be sold some privately with specific rare skills) and my own freelance business + private mentoring and coaching/counseling --- where i can reach directly while working from home and utilizing social media purely for business? 

Answer by AI:

jab jeeb mein 25,000 ropay hon aur haath mein itni zabardast active skills hon (jaise freelancing, private mentoring, counseling, aur spiritual healing/rare services), toh tumhe kisi physical dukan ya heavy investment ki zaroorat nahi hai. Tum ghar baithe sirf social media aur internet ke zariye is 25k ko aik barri income mein badal sakte ho.

Kyunke tumhara kaam direct clients aur online audience ke sath hai, yeh raha poora action plan ke tumhe kahan aur kaise target karna chahiye:

1. Kahan Aur Kaise Direct Pohnchein? (Platform-wise Strategy)

  • Facebook Groups & Communities (For Counseling, Healing & Mentoring):

    • Kahan: Pakistan aur overseas Pakistanis (UK, US, Gulf) ke bohot se Facebook groups hain jo mental health, depression, relationship advice, Islamic healing, aur personal growth par hote hain.

    • Kese: Wahan direct "main healing deta hoon" ki spamming mat karo. Log jab apne masle post karte hain, unko value do, free advice do, aur unhe kaho ke personal chat (DM) mein aayein. Wahan apna private session sell karo. Overseas log in services ke liye achay paise dete hain.

  • TikTok & Reels (For Viral Reach & Udemy/Private Courses):

    • Kahan: TikTok aur Instagram Reels aaj ke dor mein sab se barha organic reach tool hain.

    • Kese: Chote chote 30-second se 1-minute ke videos banao jahan tum spiritual wisdom, mind/soul healing, ya life problems ke quick solutions do. Video ke end par call-to-action do: "Agar kisi ko mujhse private mentorship chahiye ya mera complete course lena hai, toh bio mein link par click karein."

  • WhatsApp Business & Direct DMs (The Closing Machine):

    • Tumhara poora business WhatsApp par chalna chahiye. Jab bhi koi social media ya ad se aaye, use foran WhatsApp par le aao. WhatsApp status par apne clients ke success reviews aur course ke feedback lagao (yeh trust build karta hai).

2. 25,000 Rupay ko Kahan Istamal Karein? (Budget Breakdown)

25k koi choti rakam nahi hai agar isko smart tarike se digital marketing mein lagaya jaye:

Jagah Paisa LagayeinKitna KharchaIsse Kya Hoga?
Meta Ads (Facebook/Instagram)PKR 10,000 - 15,000Targeted ads chalao (e.g., Overseas Pakistanis ya local upper-middle class ko target karo jo counseling/healing ya course afford kar sakein).
Basic Branding & SetupPKR 5,000Ek chota sa professional landing page (Carrd ya WordPress par) ya Canva se achay flyers/posters ke liye.
Emergency BufferPKR 5,000Kuch paisa pocket mein safe rakho backup ke tor par.

3. Offer Kaise Banayein? (Products to Sell)

  • High-Ticket 1-on-1 Mentoring/Healing Sessions: Private sessions ka aik package banao (e.g., 4 sessions ka aik month-long program). Isse thore clients se bhi barri earning ho jati hai.

  • Recorded Udemy / Private Courses: Jo courses Udemy par hain, unhi ko tum direct apne clients ko WhatsApp ya private link ke zariye bhi bech sakte ho jahan Udemy ko commission nahi dena parta, saara paisa seedha tumhari jeb mein aata hai.

Tumhare paas skills bhi hain aur online market ki samajh bhi, bas abhi se organic content + targeted local/international ads par focus karo.

بدھ، 16 ستمبر، 2026

چار پرندوں کا قیمہ یا ذہنی تربیت کا سائنسی طریقہ؟

 یہ پوسٹ دراصل قرآنی نص اور مسلمہ مفسرین کے اجماع سے فرار کا ایک ایسا بھونڈا نمونہ ہے جسے عقل و تدبر کا نام دے کر دراصل قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا خون کیا گیا ہے۔ اس نام نہاد "جدید تحقیق" اور علم کی چادر اوڑھے ہوئے شخص کی پوسٹ کی دھجیاں اڑانے کے لیے اس کے دعووں کا پوسٹ مارٹم ملاحظہ فرمائیں:


1. لغتِ عرب اور لفظ "فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ" کا جھوٹا مفہوم

موصوف نے سورۃ البقرہ (آیت 260) کے الفاظ "فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ" کا مطلب "مانوس کرنا اور تربیت دینا" بتایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس کا مطلب ذبح کرنا یا ٹکڑے کرنا ہرگز نہیں۔

حقیقت: قرآن کی بنیادی لغت اور عربی کے معتبر لغوی مآخذ (جیسے المنجد، لسان العرب اور تاج العروس) اٹھا کر دیکھ لیں؛ "صَارَ - يَصُورُ" یا "صَرَا - يَصْرُو" کا ایک معروف معنی کاٹنا، ٹکڑے کرنا اور اپنی طرف کھینچنا بھی ہے۔ امام ابنِ عباس، مجاہد، عکرمہ، قتادہ اور امام سدی سمیت تمام جلیل القدر سلف مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہاں اس کا مطلب پرندوں کو ذبح کرنا، ان کے ٹکڑے کرنا اور انہیں آپس میں خلط ملط کرنا ہی ہے۔ خود قرآن کے اگلے ہی الفاظ اس کی گواہی دے رہے ہیں: "ثُمَّ اجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا" (پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک حصہ رکھ دو)۔ اگر یہ صرف "تربیت" تھی تو گوشت اور ٹکڑے کرنے کا حکم کہاں گیا؟ کیا کوئی عقل کا اندھا بھی یہ مان سکتا ہے کہ پرندوں کو زندہ پہاڑوں پر چھوڑ کر آنا "ٹکڑے کرنے" کے زمرے میں آتا ہے؟

2. معجزات کا انکار اور مادی قوانین کی غلامی

موصوف کا اصل درد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مادی قوانین کو معطل کیسے کر سکتا ہے؟ وہ یہ ہضم نہیں کر پا رہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ معجزات کو "جادو" اور "خرافات" کہہ کر دراصل مغربی مادیّت (Materialism) کے سامنے سرنگوں ہو چکے ہیں۔

حقیقت: اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مردوں کے زندہ کرنے کا جو طریقہ دکھایا وہ کوئی مادی تجربہ نہیں بلکہ ایک کھلا معجزہ تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سوال ہی یہ تھا: "رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ" (اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے؟)۔ اللہ نے فرمایا: "أَوَلَمْ تُؤْمِنْ" (کیا تم ایمان نہیں لائے؟) تو انہوں نے عرض کیا: "بَلَىٰ وَلَٰكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي" (ایمان تو ہے، لیکن قلب کا اطمینان مقصود ہے)۔ اب بتائیے! اگر یہ صرف پرندوں کو مانوس کرنے کا ایک عام سا "پراجیکٹ" یا "ٹریننگ سیشن" تھا، تو اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کو مردوں کے زندہ ہونے کا کیا اطمینان ملتا؟ کیا روزمرہ کی ٹریننگ سے کوئی مردہ زندہ ہو کر دکھ سکتا ہے؟ یہ عقل نہیں بلکہ کھلی حماقت ہے جو معجزے کے تصور کو ہی مسخ کر رہی ہے۔

3. فرضی سیاسی و سماجی فلسفہ اور تحریفِ معنوی

موصوف نے اس آیت کو گھسیٹ کر "مری ہوئی قوموں کی سیاسی اور نظریاتی تربیت" کا درس بنا ڈالا ہے تاکہ اپنے قاریئرز کو کوئی نیا "روشن خیال" فلسفہ بیچ سکیں۔

حقیقت: قرآن کے واضح بیانات کو اپنے خود ساختہ نظریات کے تابع کرنا صریح تحریف ہے۔ آیاتِ قرآنی کا سیاق و سباق صاف کہتا ہے کہ بات موت کے بعد حشر اور جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی ہو رہی ہے، جسے مادی پرستوں اور منکرینِ آخرت کے لیے ایک محسوس مثال سے سمجھایا گیا۔ پرندوں کے قیمے کو آپس میں خلط ملط کر کے پہاڑوں پر رکھنے اور پھر آواز دینے سے ان کے اجزاء کا دوبارہ جمع ہو کر آنا، قیامت کے دن روحوں کا اپنے جسموں کی طرف پلٹنے کی ایک عملی تمثیل (Demonstration) تھی۔ اسے "قوموں کی ٹریننگ" بنا دینا قرآنی فہم کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔

4. سلفِ صالحین پر تہمت اور فکری سرقات

ان حضرات کا پسندیدہ شیوہ یہ ہوتا ہے کہ ہر اس روایت کو جو ان کے عقل کے محدود پیمانے پر پوری نہ اترے، اسے "ایرانی مجوسیوں اور اسرائیلی روایات" کا نام دے کر مسترد کر دو۔

حقیقت: کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین بھی "مجوسی" تھے جو اس آیت کی تفسیر پرندوں کے ذبح ہونے اور گوشت ملانے کے طور پر کرتے رہے ہیں؟ یہ نام نہاد "جدید محقق" دراصل مغرب سے درآمد شدہ انکارِ معجزات کے فکری فضلات کو خوبصورت عربی الفاظ اور ماڈرن ٹرمینالوجی میں لپٹی کر اپنے سادہ لوح ریڈرز کو بیچ رہے ہیں تا کہ وہ خود کو بہت بڑا "فکرِ نو" کا علمبردار ثابت کر سکیں۔

نتیجہ (اس جاہل کا اصل چہرہ)

جس شخص نے یہ پوسٹ لکھی ہے وہ نہ تو عربی زبان کی بنیادی گرامر اور لغت سے واقف ہے اور نہ ہی اسے قرآنی سیاق و سباق کی کوئی تمیز ہے۔ یہ محض عقل پرستی کی وہ بیمار لہر ہے جو دین کو اپنی عقل کے طویل صوفے پر بٹھا کر کاٹ چھانٹ کرنا چاہتی ہے۔ جو شخص مادی قوانین کے خوف میں مبتلا ہو کر انبیاء کے معجزات کو جھٹلائے اور قرآنی نصوص کو من مانے معنی پہنائے، اس سے بڑا جاہل اور فکری یتیم اس دور میں کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس کے ریڈرز کو چاہیے کہ اس کی اس علمی دجل و فریب سے ہوشیار رہیں اور دین کو ان نیم خواندہ "محققین" کے بجائے مستند مفسرین سے سمجھیں۔

پیر، 31 اگست، 2026

Udemy Benefit vs YouTube TikTok Facebook Instagram (Hindi/Urdu)

Reason 1: Primary Intent and Audience Mindset

Udemy: Log yahan pure 'Learning Mode' mein aate hain, yaani sikhne, code karne aur practice karne ki niyat se.

YouTube: Log yahan entertainment, video streaming, aur casual browsing ke liye aate hain.

Facebook: Log yahan doston se connect hone, social networking, aur feed scroll karne aate hain.

TikTok: Log yahan fast entertainment, viral short clips, aur quick dopamine scrolling ke liye aate hain.

Instagram: Log yahan lifestyle, visual aesthetics, aur short reels scrolling ke liye aate hain.

Reason 2: Algorithm and Reach Control

Udemy: Free content par koi algorithmic suppression nahi hoti; platform khud eager students ko samne lata hai. 

YouTube: Extreme algorithm restrictions hoti hain; sach bolne, myths todne, ya raw tech truths par videos shadowban ya derank kar di jati hain.

Facebook: High algorithmic control hota hai; educational ya technical sach aksar news feed mein dab jata hai aur organic reach dead hai. 

TikTok: Extreme algorithmic control hota hai; thori si bhi controversial ya educational baat par video down ya block ho jati hai.

Instagram: High suppression hoti hai long-form ya raw educational truths par; algorithm sirf trends aur aesthetics ko favor karta hai.

Reason 3: Content Longevity and Shelf-Life

Udemy: High evergreen value milti hai; course saalon tak search mein rehta hai aur students enroll hote rehte hain.

YouTube: Medium to high shelf-life hoti hai; lekin purani videos ki recommendations waqt ke sath kam ho jati hain.

Facebook: Low shelf-life hoti hai; posts aur videos kuch din ya ghanton mein feed se gayab ho jati hain.

TikTok: Very low shelf-life hoti hai; content aik ya do din mein purana ho kar dead ho jata hai.

Instagram: Very low shelf-life hoti hai; reels aur posts do din ke andar feed se bilkul nikal jati hain.

I have experiences with all such platforms, and I have experienced it with my educational/information content style. Udemy sabse behtreen hai is muamle main if you want to speak the truth.

اتوار، 30 اگست، 2026

مون سون خود نہیں چلتا چلایا جاتا ہے

 لاہور شہر میں مسلسل موسن سون اسپیل کے دعوے چلائے جارہے تھے۔

جولائی سنہ 2026 سے لے کر اگست کے اختتام تک یہ لوگ مون سون سمجھ سمجھ کر جتنے دعوے کررہے تھے سب خاک کا ڈھیر ثابت ہوئے۔

ایسا کیوں نہ ہوتا؟ آخر اس کائنات کا خدا موجود ہے تو اس کی موجودگی میں کس کی مجال ہے کہ وہ موسن سون تو کیا بارش کا ایک اسپیل بھی چلاسکے اور پانی کا قطرہ آسمان سے ٹپکاسکے؟

اب کدھر مرگئے سائنس کے چیمپیئن اور علمبردار لیجنڈ کے سامنے؟

اللہ اکبر

۔ 23 اگست 2026 کے دن ایک سیریز بناکر پبلش کی جس کے بعد لاہور میں برستی ہوئی بارشوں کو بریک لگ گیا۔

یہ مسلسل دعوے کرتے آرہے تھے مون سون پہلا اسپیل، دوسرا اسپیل، تیسرا اسپیل اور یکایک پورا مون سون غائب؟؟؟

اور پھر ان کو مجبور ہوکر کہنا پڑا کہ اس ہفتے بارش کا کوئی امکان نہیں ہے اب اگلے ہفتے یا بعد میں بارش ہوگی۔

اور اس طرح اللہ کافروں کو ذلیل کرکے رکھ دیتا ہے۔

لاہور شہر میں گرمی میں اضافہ ہوگیا۔

ان کو سمجھ ہی نہیں آسکی کہ یہ سب اچانک کیا ہوا؟

کہاں لاہور شہر میں سردی چل رہی تھی، خوشگوار موسم چل رہا تھا مگر اچانک یہ سب گرمی کی لپیٹ میں آگئے۔

اور ان کا ساتواں مون سون اسپیل دھواں بن کر اڑگیا۔

کیونکہ اس کے بعد میں میدان میں اتر آیا اور ایک گیمنگ سریز کا آغاز کردیا۔

اور پھر میں نے اسی شدید گرمی میں اللہ سے بارش برساکر دکھانے کے لیے آغاز کیا۔

ان کے دعوے جو مرضی یہ کرتے گئے ویسا کچھ نہ ہوا۔

بلکہ وہ ہوا جو میں چاہتا تھا مگر اللہ کی مرضی کے مطابق ہوا۔

جس سے ثابت ہوا کہ کائنات میں وہ خدا ہے جس کے مقابلے پر کوئی اور خدا موجود ہی نہیں ہے۔

ورنہ عین میرے چاہنے کے مطابق ہوتا مگر اس نے اپنی پرفیکشن کے حساب سے پوری کیلکولیشن کے ساتھ زبردست ایونٹ سرانجام دلوایا۔ الحمدللہ

اور جب میں اس سیریز سے فارغ ہوا تب تک 28 اگست شروع ہوچکا تھا۔

اور آتے کے ساتھ ہی ایک نئی سیریز کا آغاز کردیا "تیری سائنس تے شے کوئی نہیں" جس کے بعد اللہ نے انجینیئر محمد علی مرزا جیسے تمام انجینیئرز اور سائنس کا کلمہ پڑھ کر اولیاء اللہ کو ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو میرے ہاتھوں عبرتناک انجام دلوایا۔ اللہ اکبر

انہوں نے دعوی کردیا کہ مون سون آٹھواں اسپیل شروع ہونے والا ہے۔

ہم نے کہا دیکھ لیتے ہیں 🙂

اور پھر بنی ایک اور سیریز

چل گیا مون سون؟

اور مون سون نہ چل سکا۔

مگر کہانی یہاں پر بھی ختم نہ ہوسکی۔

کل میں نے ایک اور سیریز بنا ڈالی

بے چارہ مون سون

اور مون سون بےچارگی میں رہ گیا اور یہ دعوی کرتے رہ گئے۔

بارش کی بوند بھی نہ برساسکے۔

برساتے کیسے؟

اللہ واحد القہار سارے نظام کا خالق اور مالک ہے۔

اور اب اسی دن کی ایک رپورٹ کے مطابق اب بھی وہی دعوے کے مون سون آج یعنی 30 اگست سے شروع ہوگا۔ پہلے دعوے کرتے رہ گئے کہ مون سون اسپیل 29 اگست سے شروع ہوگا۔

جب وہ نہ ہوسکا تو 30 کو آج کا دن بنا ڈالا۔


تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بارش کہاں گئی اور مون سون اسپیل کدھر غائب ہوگیا؟



یہ ہے سائنس اور سائنس والوں کا مداری پن جس کے بل بوتے پر یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس اتراتے پھرتے ہیں اولیاء اللہ کے خلاف؟ اس علم کی بنیاد پر مولوی، عالم، مفتیان کرام کا مذاق اڑاتے پھرتے ہیں؟

اور آج ہے 31 اگست 2026

اب دیکھنا یہ باقی ہے کہ آگے کیا ہوگا؟

---

یکم ستمبر 2026

صبح سویرے اللہ نے خوبصورت بادلوں سے آسمان کا منظر سجادیا اور دلکش نظارہ کردیا۔

ان لوگوں نے دوپہر تک گرمی اور حبس کی شدت دیکھی اور میڈیا پر رپورٹ کردیا نیز بارش ہونے کا دعوی بھی کیا جبکہ اللہ نے اس دن بارش ہی نہیں برسائی۔ اب کدھر گیا مون سون کا سسٹم جبکہ اسلام آباد/راولپنڈی میں طوفانی بارشوں سے ندیاں بہہ نکلیں اور سڑکیں زیر آب اگئیں اور علاقے پانی میں ڈوب گئے؟


بہرحال دوپہر میں آکر میں نے اللہ سے بادلوں کو بنانے کے لیے درخواست کی اور اللہ نے کالے بادلوں کے لشکر سجاکر رکھ دیے پھر اس کے بعد یک دیگر بعد عجیب عجیب نظارے دیکھنے کو ملے مگر پانی کی ایک بوند تک نہ برس سکی۔ 

جہاں ایک طرف مون سون برس رہا ہے جیسا ان کا دعوی ہے تو لاہور شہر خالی اور سنسان کیوں پڑا ہے؟

کیا یہ ایک حیران کن بات نہیں ہے؟

اسلام آباد اور دیگر شہروں میں مون سون کام کررہا ہے تو لاہور میں کس نے اسے برسنے سے روک رکھا ہے؟

اللہ واحد القہار

ان کے مون سون کے دعوے، شہر میں وقفے وقفے سے بارش، آج مون سون برسے گا وغیرہ سب تہس نہس کرکے رکھ دیا گیا۔

اللہ اکبر

یہاں پتہ لگتا ہے کہ بادشاہت صرف اللہ کی ہے۔

نہ جھوٹے خداوں کی کوئی اوقات ہے\
نہ سائنس پڑھنے والے موسم کے بارے میں کوئی یقینی علم رکھتے ہیں

للہ جو چاہے سو کرتا ہے۔

وما علینا الاالبلاغ المبین

اللہ اکبر
لیجنڈ

جمعہ، 14 اگست، 2026

اگر اللہ رحمن الرحیم ہے تو پھر جہنم کیوں بنائی؟

ایک جملے میں بات کروں تو اللہ نے جہنم اس لیے بنائی کیونکہ وہ مستقبل کا علم رکھتا ہے اور اس کو پہلے سے پتہ تھا کہ کس طرح کے ذلیل قسم کے انسان ہوں گے تو ان کو سزائیں دینے کے لیے اللہ نے پورا سیٹ اپ کر کے پہلے سے تیار کر دیا جو اس کے کامل علم کی نشانی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے دنیا کے تمام انسانوں کے فیوچر کے ہونے والے ایک ایک سٹیپ کے بارے میں مکمل طور پر علم ہے اور اس میں جنات کو بھی شامل کردیا جائے تو یہ کمال قدرت اور کمال علم کی نشانی ہے۔

اب اس سوال کی تفصیل پر جاتا ہوں کہ اس سوال کا مقصد کیا ہوتا ہے۔

ایسے سوال کا مقصد صرف یہ نہیں کہ صرف جہنم کیوں بنائی ؟ بات یہ ہے کہ جہنم کے اندر اللہ نے کافروں کو ہمیشہ کے لیے ڈالنا ہے منافقین ہٹ دھرم متکبر جو زمین پر لوگوں پہ ظلم کر رہے ہیں عیاشیاں کر رہے ہیں اور بڑی بے فکر سے سمجھ رہے ہیں کہ ان کو پکڑنے والا کوئی نہیں ہے اللہ ان کو عبرت کا نشان بنا کے جہنم میں پھینکے گا اور ہمیشہ کے لیے وہاں پر یہ تڑپیں گے سسکیں گے پھڑکتے رہیں گے ۔ یہ تو ہو گئی ایک بات !

تو یہاں پر سزا ہمیشہ کے لیے دی جائے گی جس میں یہ جہنم سے نہیں نکالے جائیں گے جنت سے محروم کر دیے جائیں گے ۔ یہ کوئی معمولی سزا نہیں ہے اگر کوئی سمجھنا چاہے ۔ ہمیشہ کے لیے وہ جہنم میں جائے گا ۔ تو یہاں پر رحم کدھر ہے ؟ رحم تو یہ ہوتا ہے کہ سزا دینے کے بعد جہنم سے نکال کے جنت دے دی جائے چاہے کچھ وقت کے بعد صحیح لیکن یہ پرمننٹ سزا دی جائے گی تو معاملہ کچھ اور ہے۔

دوسری بات یہ کہ اللہ نے جہنم بنائی ہے دردناک سزائیں اس کے اندر تیار کی ہیں مگر اس نے انسان کو زبردستی اپنی مرضی سے ظلم کرکے جہنم میں پھینکنے کا دعوی نہیں کیا۔

جنت اور جہنم انسان کے عمل کے مطابق ہے ۔ ہر انسان اپنی دوزخ کے اندر جو سزاؤں میں اضافہ کرواتا ہے جو سیٹ اپ کرواتا ہے وہ دنیا میں کیے ہوئے عمل سے کرواتا ہے اور اس عمل کے لیے اللہ نے انسان کو ازادی دی ہے کہ وہ جو چاہے کرے اللہ اسے آکر زبردستی روکتا نہیں ہے ۔

اس لیے کوئی بچے کا ریپ کرتا ہے کوئی عورت کی عزت لوٹتا ہے کوئی کسی نوجوان کو قتل کر دیتا ہے کوئی رشوت لیتا ہے کوئی سود پہ اپنا کام کرتا ہے کوئی لوگوں سے ٹیکس کے نام پہ پیسہ لوٹتا ہے سب کچھ چل رہا ہے دنیا میں ۔ اللہ نے آکر کسی کو نہیں روکا سوائے یہ کہ کبھی وہ زلزلہ بھیج دے طوفان چلا دے اور اپنے دیگر لشکروں کے ذریعے سزا دے لیکن لوگ پھر بھی نہیں سدھرتے تب بھی لوگ خود ذمہ دار ہیں۔

اللہ کو بے انصاف اور بے رحم تو تب بولا جاتا جب وہ اپنی مرضی سے کسی بھی انسان کو اٹھا کے جہنم میں ڈال دیتا۔ وہ ایسا نہیں کرتا۔

زمین پر چلنے پھرنے والے یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے اپنے تکبر سے جو دل چاہے کرتے رہتے ہیں جس کو دل چاہے تھپڑ مار دیا جس سے دل چاہے مال چھین لیا جس سے دل چاہے عزت لوٹ لی تو پھر ایسے مغروروں کو سزائیں نہ دی جائیں تو کیا کیا جائے؟

کیا کسی کو سچ بولنے سے روکا گیا ہے ؟
کیا کسی کو حلال کمانے سے روکا گیا ہے ؟
کیا کسی کو دوسروں کو بے سکون کرنے سے روکا گیا ہے ؟

خود پڑوسیوں کو تکلیف دیتے ہیں گھروں میں چیختے چلاتے ہیں بچوں پہ ظلم کرتے ہیں ایک دوسرے کو مار پیٹ کرتے ہیں گالی گلوچ کرتے ہیں غیبت کرتے ہیں چغلی کرتے ہیں ملاوٹ کرتے ہیں ڈرامے بازی کرتے ہیں اللہ کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں اور پھر یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ان پر رحم کر کے ان کو جنت کی نعمتیں دے؟

ہاں اس نے جہنم بنائی ہے اپنی مرضی سے بنائی اور اس لیے بنائی کیونکہ وہ جس انسان کی مخلوق کو بنانا چاہتا تھا اس کو پہلے سے پتہ تھا کہ کون کس نے لیول کا کمینہ ہوگا کتنا ذلیل ہوگا کیا کیا حرکتیں کرے گا اس لیے پہلے سے جہنم تیار کر دی تھی اور بتا دیا تھا کہ یہاں پر ڈالوں گا ۔لیکن قران بھیجنے کے بعد رسول بھیجنے کے بعد اتنی معلومات فراہم کرنے کے بعد بھی لوگوں نے خود اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ظلم کے راستے کو اختیار کیا تو وہ اپنی جہنم میں جانے کے خود ذمہ دار ہوں گے ، اللہ نے کسی پہ ظلم نہیں کیا۔

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

جمعرات، 6 اگست، 2026

صحابی اور درخت کی مثال فری لانسنگ کے لیے کیسے فٹ ہوسکتی ہے آج کے دور میں؟

ایک صحابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو درخت ڈھونڈنے کے لیے نہیں کہا تھا۔ ان کے گھر سے ایک سامان منگوایا تھا جس کو سیل کیا تھا دو دینار ملے تھے اور ان کو دیے تھے کہ ایک دینار سے کلہاڑی خریدو اور جنگل سے درخت کاٹ کر ان کو بیچو اور دوسرے دینار سے گھر والوں کے لیے کچھ کھانا وغیرہ لے لو 

in that event, sahabi didn't have money, Prophet Muhammadﷺ didn't give him advice but brought an EQUIPMENT, asked him to SELL it, then purchase ONE EQUIPMENT, through which SAHABI could do something to SELL it AGAIN & AGAIN...

in today environment and era of freelancing, where does this example fit if I want to work from home?

---

اس واقعے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکمت عملی اختیار فرمائی، وہ "روایتی امداد (مفت خوری)" کے بجائے "پائیدار معاشی خود کفالت (Sustainable Economic Empowerment)" کی سب سے بہترین اور بنیادی مثال ہے۔

آج کے دور میں فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹ اور ورک فرام ہوم کے ماحول میں اس نبوی اصول کی تطبیق کو درج ذیل طریقوں سے سمجھا جا سکتا ہے:

۱. سامان (Equipment) فروخت کرنا = ابتدائی اثاثہ (Initial Asset) بنانا

اس واقعے میں حضور ﷺ نے گھر کی معمولی چیز فروخت کروا کر جو ابتدائی سرمایہ (کیپیٹل) مہیا کیا، فری لانسنگ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ:

  • آپ کے پاس موجود لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ کنکشن اور سمارٹ فون وہی ابتدائی "سامان" ہیں۔

  • اگر آپ کے پاس اپنے پاس سے پیسے نہیں ہیں، تو کسی پرانے آلے کو فروخت کر کے یا کم سے کم وسائل (Minimum Viable Setup) سے شروعات کریں۔

۲. کلہاڑی خریدنا (ایک ایسا ذریعہ جس سے بار بار کمایا جا سکے) = ڈیجیٹل سکل (Digital Skill)

نبی کریم ﷺ نے ایک دینار سے کھانے کا سامان منگوایا (جو وقتی ضرورت تھی) اور دوسرے دینار سے کلہاڑی خرید کر دی، تاکہ وہ خود محنت کر کے روزانہ کما سکے۔ فری لانسنگ میں:

  • کلہاڑی آپ کی مہارت (Skill) ہے۔ جیسے ویب ڈویلپمنٹ، ویڈیو ایڈیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، یا کنٹینٹ رائٹنگ۔

  • جس طرح کلہاڑی ایک بار خریدی جاتی ہے اور اس سے لکڑی بار بار کاٹی جاتی ہے، اسی طرح ایک اچھی ڈیجیٹل سکل (Skill) کو ایک بار سیکھا جاتا ہے اور اس کے ذریعے زندگی بھر بار بار پروجیکٹس لے کر کمائی کی جاتی ہے۔

۳. جنگل سے لکڑی کاٹ کر بیچنا = فری لانسنگ مارکیٹ پلیس اور سروسز

جنگل وہ جگہ تھی جہاں سے محنت کر کے لکڑی حاصل کی جاتی تھی۔ آج کے دور میں وہ "جنگل" یہ پلیٹ فارمز ہیں:

  • Freelancing Platforms: جیسے Upwork، Fiverr، یا براہ راست سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کے ذریعے کلائنٹس تلاش کرنا۔

  • جہاں آپ اپنی مہارت (کلہاڑی) کا استعمال کرتے ہوئے کلائنٹس کے مسائل حل کرتے ہیں (لکڑی کاٹتے ہیں) اور بدلے میں معاوضہ حاصل کرتے ہیں۔

خلاصہ (Freelancing Context)

اس واقعے کا خلاصہ آج کے فری لانسر کے لیے یہ ہے کہ:

"کسی سے وقتی طور پر مالی امداد مانگنے یا مفت کی بھیک پر انحصار کرنے کے بجائے، اپنی کوئی ایسی بنیادی چیز یا صلاحیت کو بروئے کار لائیں جو آپ کو ایک مستقل ہنر (Skill) خریدنے یا سیکھنے کے قابل بنائے۔ پھر اس ہنر کو بطورِ 'کلہاڑی' استعمال کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر حلال روزی کمائیں، تاکہ آپ دوسروں کے محتاج رہنے کے بجائے خود کفیل ہو جائیں۔"