اللہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اللہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 21 اکتوبر، 2024

اللہ متکبر ہے

اللہ کے "متکبر" ہونے کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ یہ صفت انسانوں کی تکبر والی کیفیت سے بالکل مختلف ہے۔ انسانی تکبر ایک کمزوری ہے، جو محدودیت، خوف، یا عدم تحفظ سے پیدا ہوتی ہے۔ مگر اللہ کا متکبر ہونا اس کی عظمت اور کمال کی نشانی ہے۔

اللہ کا متکبر ہونا:

اللہ متکبر ہے، یعنی وہ اپنے جلال، قدرت، اور عظمت میں منفرد ہے۔ وہ ایسا بادشاہ ہے جس کی بادشاہت میں کوئی شریک نہیں، وہ ایسی ہستی ہے جو ہر چیز پر مکمل اختیار رکھتی ہے۔ اس کی شان اتنی بلند ہے کہ اسے کسی سے موازنہ کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ جیسے کائنات کی ہر شے، ستارے، سیارے، کہکشائیں، اور جو کچھ ہم دیکھتے اور نہیں دیکھتے، سب اس کی تخلیق ہیں اور سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ وہ اپنی ذات میں کامل اور بے نیاز ہے۔ 

تصور کرو کہ تم ایک ایسے گیمر ہو جو اپنی گیم میں ہر چیز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ تمہاری مرضی کے بغیر کوئی حرکت بھی نہیں کر سکتا، اور تمہارے پاس ایسی طاقت ہے کہ تم جس لمحے جو چاہو، ویسا ہی ہو جائے۔ کوئی تمہارے برابر آنے کی طاقت نہیں رکھتا، اور تمہاری ہر کامیابی تمہاری ذاتی صلاحیتوں کی بدولت ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ یہ تمہاری تخلیق کردہ دنیا میں ہے، اور وہ ایک محدود دنیا ہے۔ اللہ کی تخلیق پوری کائنات ہے، اور وہ نہ صرف اس کا خالق ہے بلکہ اس پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے، ہمیشہ سے اور ہمیشہ تک۔

اللہ کی بڑائیاں:

1. بے انتہا قدرت: 

   اللہ کی طاقت کی کوئی حد نہیں۔ وہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے، بس کہہ دیتا ہے "ہو جا" اور وہ ہو جاتی ہے۔ اس کی طاقت کو کوئی کم نہیں کر سکتا، اور وہ جو چاہے کر سکتا ہے، چاہے انسانوں کی سوچ سے باہر ہو۔

2. علم کی وسعت:

   اللہ کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ ماضی، حال، مستقبل، ہر لمحے کا علم اس کے پاس ہے۔ وہ تمہارے دل کی گہرائیوں میں چھپی باتوں کو جانتا ہے، تمہارے خیالات اور ارادوں کو تم سے بہتر سمجھتا ہے۔ اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے، کائنات کے ہر راز سے واقف۔

3. بے نیاز:

   اللہ کسی کا محتاج نہیں، نہ کسی تعریف کا، نہ کسی خدمت کا۔ انسان کمزور ہوتا ہے، دوسروں کی مدد کا محتاج ہوتا ہے، مگر اللہ بے نیاز ہے۔ وہ چاہتا ہے تو انسان کو عطا کرتا ہے، اور چاہے تو واپس لے لیتا ہے، اور پھر بھی اس کی بادشاہت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

4. ہر چیز پر حاکمیت:

   دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے، وہ اللہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتا۔ ہر شخص، ہر شے اس کے حکم کے تابع ہے۔ کوئی طاقت، کوئی ہستی، کوئی ملک یا قوم اس کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی۔

5. محبت اور انصاف:  

   وہ اپنے بندوں کے لیے بے انتہا محبت رکھنے والا ہے، مگر وہ انصاف کرنے والا بھی ہے۔ اس کی عظمت اس بات میں ہے کہ وہ ہر عمل کا حساب رکھتا ہے اور قیامت کے دن ہر کسی کو انصاف فراہم کرے گا۔

اللہ کا "متکبر" ہونا اس بات کا اعلان ہے کہ وہ عظیم ترین ہے، سب سے برتر ہے، اور اس جیسا کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنی ذات میں مکمل اور بے نیاز ہے، اور اس کی شان اتنی بلند ہے کہ کسی مخلوق کی اس سے موازنہ کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔

محسوس کرو:  

جب تم کائنات کی وسعت کو دیکھتے ہو، ستاروں کی روشنی، زمین کی خوبصورتی، اور ہر چیز کو ایک ترتیب میں چلتا ہوا دیکھتے ہو، تو یہ سب اللہ کی قدرت اور عظمت کا مظہر ہیں۔ تم جو کچھ بھی حاصل کرتے ہو، وہ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے، اور جو تمہیں نہیں ملتا، وہ بھی اس کی حکمت کا حصہ ہے۔ اس کی بڑائی کو سمجھنا اس احساس کے ساتھ جڑا ہوا ہے کہ ہم سب اس کے محتاج ہیں، اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔

پیر، 14 اکتوبر، 2024

بچوں کے ہاتھ پر اللہ کے نام کے ڈیزائن اللہ کا ثبوت ہے

اللہ نے ہر بچہ کے ہاتھ پر اپنے نام کا ڈیزائن بناکر اسے ماں کے پیٹ میں مسلم تیار کیا تھا تو والدین انہیں یہودی، عیسائی، ہندو، مشرک، ملحد بنانے سے باز کیوں نہیں آرہے؟ کیا ان کو آنکھوں سے نظر نہیں آتا یا ان کا دماغ کام نہیں کررہا؟

اللہ نے ان کے گھٹیا کرتوتوں اور بداعمالیوں اور بدنیتیوں کے سبب ان کی عقل کو اوندھا کردیا ہے لہذا وہ اپنی آنکھوں کے باوجود یہ حقیقت دیکھنے سے قاصر ہیں اور دماغ ہونے کے باوجود یہ سب سمجھنے سے محروم ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو جانوروں سے بدتر مخلوق ہیں اور اللہ کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہیں اس لحاظ سے کہ ان کو جنت میں جگہ دے ماسوائے ان لوگوں کے جو واقعی دین کے معاملے میں اپنی عقل سے کام لیں اور اللہ کو خدا تسلیم کرلیں اپنی موت سے پہلے۔

یہ حقیقت ہے کہ دنیا کا ہر بچہ مسلم پیدا ہوتا ہے اور صرف اللہ ان بچوں کو ان کی ماوں کے پیٹ میں تخلیق کرتا ہے۔

ہفتہ، 12 اکتوبر، 2024

میں مردوں کو زندگی دینے والے کی عبادت کرتا ہوں

دنیا کے اکثر انسان جاہلوں کی طرح اپنے مذہبی روحانی پیشواوں کی باتوں میں غلام بن کر صرف ان جعلی خداوں کی عبادت کررہے ہیں جو ان کے پیشواوں نے ان کے ماں باپ کو سکھادیے تھے اور ان کے ماں باپ نے انہیں بچپن سے برین واش کرکے سکھادیے تھے جبکہ ثبوت ان سب میں سے کسی کے پاس موجود نہیں اپنے ان جھوٹے خداوں کی موجودگی کا مگر میرے پاس واضح ثبوت موجود ہیں کہ میں جس خدا کی عبادت کررہا ہوں وہ اکیلا ہی اس پوری سلطنت کا حکمران ہے۔

وہ اللہ واحد القہار ہے ورب ذوالجلال ہے
اسی کی سلنت ہے اور اسی کی بادشاہت ہے

وہی ہے جو لاکھوں، کروڑوں بلکہ اربوں ماوں کے پیٹ میں موجود بے جان مردہ بچوں کے جسموں میں جان ڈال کر انہیں زندہ کررہا ہے اور انہیں باہر نکلنے کے لیے موقع دے رہا ہے اور ان میں سے جس سے چاہے اپنے نام کی گواہی دلواکر اسی فزیکل دنیا کے انسانوں کو سنوارہا ہے اور ہر بچہ کے ہاتھ کو اپنے نام کے مطابق ڈیزائن کرکے باہر نکال رہا ہے تاکہ یہ لوگ سمجھیں اور اپنی عقل کو استعمال کرکے اسلام میں واپس لوٹ آئیں مگر اس کے باوجود یہ جاہل لوگ اپنے جعلی خداوں کی عبادت سے باز نہیں آرہے ہیں اور جبکہ ان کے جعلی اور مصنوعی خداوں نے آج تک مکھی کا پر تک نہیں بنایا وہ انسانی بچہ کیسے بنادیں گے؟

کیا کسی کی عقل کام کرتی ہے؟ اگر وہ تمام جعلی خدا اصلی ہوتے جن کی یہ لوگ عبادت کررہے ہیں اللہ کے مقابلہ پر تو وہ ذرا کسی بھی ماں کے پیٹ کے اندر صرف ایک بچہ ٹپکائے ہوئے قطرے سے بناکر دکھادیں اور اس بچہ کے ہاتھ کو اپنے نام پر ڈیزائن کریں  اور پھر اس بچے کو زندگی عطا کرکے باہر نکالیں اور پھر اس بچے کے منہ سے اپنے نام کی گواہی دلواکر دکھائیں  اگر وہ سچے ہیں مگر وہ سب ایسا کبھی نہ کرسکیں گے کیونکہ تمام غیرمسلم مکمل طور پر سو فیصد پکی گمراہی اور جہالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ بے شک اللہ ایسا کرتا ہے، وہ ایسا کرچکا ہے اور وہ ایسا کرتا رہے گا جب تک وہ چاہے گا۔ اس پوری کائنات میں، زمین و آسمانوں میں نہ کبھی کوئی اللہ کو روک سکا ہے اور نہ کبھی روک سکے گا۔ للہ واحد القہار

لیجنڈ آف اللہ واحد القہار
ڈاکٹر لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

جمعہ، 13 ستمبر، 2024

اللہ کے خلاف بھونکنے والے بےچارے ملحدین کی اوقات اور حیثیت

چودہ سو سال بعد بھی کافروں کو اس زمین پر موجود اللہ کی نشانیوں کا علم نہیں ہے۔ لوگ ان بے چاروں سے خدا کے بارے میں سیکھ رہے ہیں؟




جمعہ، 6 ستمبر، 2024

اللہ کے ذکر کرنے کی حقیقت

اللہ کا ذکر کرنا منہ سے اللہ اللہ اللہ کرنا ہے یا اللہ کا ذکر کرنے سے مراد اللہ کے بارے میں غیرمسلموں کو بتانا اور اس کے بارے میں تعارف کروانا ہے؟ اللہ کے ذکر کی بہت تعریفیں سنی ہیں میں نے۔۔۔اللہ کا ذکر کرنے کی حقیقت کیا ہے؟

اللہ کا ذکر کرنا ایک بہت وسیع اور عمیق مفہوم رکھتا ہے، اور یہ مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ “ذکر” عربی زبان میں یاد کرنے اور یاد دہانی کے معنی میں آتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، ذکرِ الٰہی کا مقصد اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا، اس کی حمد و ثناء بیان کرنا، اور اپنے دل کو اللہ کی محبت اور خشیت سے معمور رکھنا ہے۔

اللہ کے ذکر کی دو اہم اقسام ہیں:

لسانی ذکر (زبانی ذکر):

یہ ذکر زبان کے ذریعے کیا جاتا ہے، جیسے “اللہ، اللہ” کہنا، “سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ” وغیرہ۔ یہ ایک روحانی عمل ہے جس سے دل کو اللہ کی یاد سے معمور کیا جاتا ہے اور ایمان کو تازہ کیا جاتا ہے۔ اس قسم کا ذکر آسان اور عام ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی بہت فضیلت بیان فرمائی ہے۔

مثال کے طور پر، قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
 “فاذکرونی اذکرکم” 
(سورۃ البقرہ: 152) 
 “پس تم میرا ذکر کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔”

قلبی ذکر (دل کا ذکر):
یہ ذکر دل کے ساتھ اللہ کی یاد میں مشغول رہنے کو کہتے ہیں، یعنی ہر کام میں اللہ کی رضا کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے قریب ہونے کی کوشش کرنا۔ یہ ذکر دل کی گہرائیوں میں ہوتا ہے، اور اس کا مقصد اپنے دل کو دنیاوی علائق سے ہٹا کر اللہ کی محبت میں مشغول کرنا ہے۔

ذکر کا دوسرا پہلو: اللہ کی معرفت اور دعوت
ذکر کا ایک اور معنی ہے کہ اللہ کی معرفت اور اس کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچایا جائے، یعنی غیر مسلموں کو اللہ کے بارے میں بتانا، اس کی وحدانیت اور صفات کا تعارف کروانا۔ یہ بھی ذکر کی ایک صورت ہے، کیونکہ جب ہم دوسروں کو اللہ کے بارے میں بتاتے ہیں، تو دراصل ہم اللہ کی یاد کو ان تک پہنچا رہے ہوتے ہیں۔

 ذکر کی حقیقت اور اہمیت:
ذکر الٰہی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک قریبی اور خالص تعلق قائم کرنا ہے۔ ذکر کا تعلق صرف زبان سے نہیں، بلکہ دل، عقل اور عمل سے بھی ہے۔ ذکر سے مراد یہ بھی ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ کو یاد رکھے، اس کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرے، اور دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے اس کی رہنمائی کے مطابق زندگی گزارے۔

حضرت محمد ﷺ نے ذکر کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے، اور ایک حدیث میں فرمایا:
 “وہ شخص جو اللہ کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا، ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔” 
(صحیح بخاری)

 خلاصہ:
اللہ کا ذکر صرف زبان سے “اللہ اللہ” کہنا نہیں، بلکہ دل سے اللہ کو یاد کرنا، اس کی عبادت کرنا، اس کی صفات کو سمجھنا، اور اس کی رضا کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔ اور ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت اور اس کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانا بھی ذکر کی ایک اہم صورت ہے۔
ChatGPT

جمعرات، 20 اکتوبر، 2022

گیمرز کے لیے کائنات کے بادشاہ کا تعارف (لائیو سیشن)


یہ ان لوگوں کے لیے ہےجو ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں اور اللہ سے محبت کرتے ہیں لیکن وہ اللہ کے حوالے سے اس کی طاقتوں اور اس کی صلاحیتوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے ۔ گیمرز کے لیے اللہ واحد القہار کا ایک نئے اور منفرد قسم کا تعارف ۔ اللہ کے ٹیلنٹ، صلاحیتیں، مدد کرنے کے انداز، رحمت اور حکم سے کیا کرسکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ گیمرز اس کو سنیں، سمجھیں اور اپنے دوست یاروں سے شیئر کریں۔

اللہ اکبر، اللہ واحد القہار
الحمدللہ رب العالمین 

جمعہ، 23 جون، 2017

اللہ کے مخلص مومن بندےمعاشرے میں نظر کیوں نہیں آتے؟

میں اللہ کے کام کرنے کےکچھ  طریقے اپنے علم کے مطابق خوب جانتا ہوں۔اگر اللہ کو دنیا میں خود ہی سب کچھ کرنا ہوتا تو آن کی آن میں ساری دنیا کی کایا پلٹ سکتا ہے۔مگر وہ ایسا نہیں کرے گا کیونکہ اس کام کیلئے اس نے انسان کو اپنا نائب بناکر بھیجا ہے اور یہ امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمانوں پر ایک بہت بھاری ڈیوٹی ہے کیونکہ دنیا کے غیر مسلموں کے ہاتھوں اکیسویں صد ی میں  گلوبل ولیج بناکر اللہ نے مسلمانوں پر ظاہری وسائل اور ٹیکنالوجی فراہم کرکے بہت بڑا احسان کیا ہے کہ وہ آسانی سے گھر بیٹھے ہی دنیا بھر کے کفار و مشرکین کے سامنے دین اسلام کے معجزاتی دلائل اور روشن نشانیاں پہنچانے کی کوشش کرسکیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ فرقوں میں بٹے اکثر مسلمان دین اسلام کو کیا خاک غالب کرینگے بلکہ اکثر فرقہ پرست مسلمان تو ایک دوسرے کو ہی کافر و مشرک بنانے کی ڈیوٹی سر انجام دینے میں مصروف ہیں  اور معمولی مسائل پر لڑرہے ہیں۔

اس لیے دین اسلام کے حقیقی کام کو سمجھنا اور اس پر کام کرنا کم از کم کسی فرقی مسلمان کے بس کی بات ہرگز نہیں کیونکہ وہ پہلے یہ دیکھتا ہے کہ کیاکوئی مسلم اس کی جماعت سے تعلق رکھتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو نفرت سے نظرانداز کردے گا ۔

اس طرح مخلص مومن بندے کو اکثریت کی جانب سے نظرانداز ہونا اور تنہا رہ جانے کا تجربہ ہوتا ہے تو وہ بھلا معاشرے میں کیسے نظر آئے گا ؟

 رہ گئے  دنیا دار مسلمان جنہیں مذہب سے خاص لگاو نہیں تو ان سے اسلام غالب کروانے میں ساتھ ہوجانے کی امید میں محنت کرنے کے بعد تاحال مجھے بھی کوئی سپورٹ حاصل نہیں ہوئی  تو کیا  یہ لوگ کسی مخلص مومن بندے کو سپورٹ کریں گے جو حق اور سچ بغیر ملاوٹ کے بولتا ہو اور کھلم کھلا اعلان کرتا ہو کہ تمام غیرمسلم ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیں گے ، تمام غیرمسلموں کے تمام معبود باطل ہیں اور اکثر مسلم جھوٹے اور دھوکہ بازی کرنے والے ہیں؟ 

نہیں۔ ایسا نہیں ہوتا۔تو جب سپورٹ نہیں ملے گی تو وہ بھلا معاشرے میں کیسے نظر آئیں گے؟

اللہ جس کو چاہے اپنے دین اسلام کیلئے استعمال کرسکتا ہے اس لیے میں بھی اپنے طور پر غیرمسلموں تک دین اسلام کی سچائی پر ناقابل شکست ثبوتوں کو پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں لیکن فرقہ پرست مسلمانوں اور دنیا دار مسلمانوں سے ہٹ کر جتنے بھی دیگر مسلمان کسی سیاسی یا دیگر جماعتوں سے وابستہ ہیں ان کی جماعتیں دنیا میں کچھ خاص کام نہیں کرسکیں اور نہ کر پارہی ہیں کیونکہ وہ اتنا ہی آگے بڑھ سکتے ہیں جتنا غیر مسلم قوتیں چاہتی ہیں یعنی کہ ابلیس کے پیروکار۔ اسی لیے یہ جماعتیں صرف احتجاج ، رونا پیٹنا، تقاریر وغیرہ کرکے لوگوں سے ہمدری اور مال بٹور سکتی ہیں مگر دین اسلام غالب کرنا یا دنیا کے مظلوم مسلمانوں کو کفار کے ظلم و ستم سےعملی طور پر نجات دلانا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی کیونکہ ان کے پاس اس کا سو فیصد حل موجود ہی نہیں ہے، نہ مادی قوت، نہ روحانی قوت ۔ اس لئے ناکام ہیں۔

اب وہ چند فیصد جماعتیں جو بالکل ہی غیر سیاسی بن کر صرف اللہ ہو ، سنتیں اور تبلیغ کے نام پر کام کرتی ہیں تو ان کے کام اسی لئے جاری و ساری ہیں کہ یہ لوگ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی طرز پر کام نہیں  کررہے ورنہ ان کا ٹکراو ظلم کے نظام کے خلاف نظر آتا۔یہ لوگ تو اس سوچ کے تحت چلتے ہیں کہ اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں اور کسی کا عقیدہ چھیڑو نہیں۔اس لئے مذہبی اور غیر سیاسی جماعتوں کی اکثریت کے باوجود ٹیپو سلطان، محمد بن قاسم، شیر شاہ سوری، عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی طرز پر معاشرے میں مسلمان نظر نہیں آرہے۔

 آخر میں وہ مجاہدین اسلام جو اللہ کیلئے مخلص ہیں اور اللہ کی مدد کے سہارے اپنا کام کررہے ہیں تو ان کے خلاف غیرمسلموں کا میڈیا چلتا ہے اور دنیا بھر کامیڈیا یہودیوں کے اشاروں کا غلام ہے ۔

یہودی بہت شاطر قوم ہے وہ صرف جنگوں کے ذریعے لڑائی نہیں کرتے بلکہ انہوں نے عورتوں کے ذریعے بھی نوجوان مسلمانوں کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ یہ کافروں کے خلاف عملی طور پر  کچھ کرسکیں لہذا یہ اخلاقی و معاشی طور پر تباہ ہوچکے ہیں تو مومن بندے  بھلا معاشرے میں کیسے نظر آئیں گے  ؟

ایسے حالات میں اگر کوئی مسلمان یہ کائناتی سوچ رکھے کہ وہ اکیلا حضرت محمدصلی اللہ علیہ کی امت کیلئے عالمی سطح پر کچھ کرے تو اس کا ٹکراو مخلص مجاہدین اسلام کے علاوہ باقی تمام طبقات کے انسانوں اور جنات سے لازمی طور پر ہوگا  لیکن وہ یاد رکھے کہ اکثر مسلم اپنے دنیاوی مفادات، موت کے خوف یا 

جمعرات، 22 جون، 2017

اکثر لوگ اللہ تک کیوں نہیں پہنچ پاتے؟

غیر مسلم کا اللہ تک پہنچنے کا سوال اس لیے پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ اور حجاب ان کے لیے خود کفر ہے جبکہ مسلمان کا عقیدہ کسی دلیل کے تحت ہوتا ہےاور ایک مسلم اپنا کوئی بھی عقیدہ اختیار کرکے اسی پر اعتماد کرکے بیٹھ جاتا ہے ۔

اگر یہ عقیدہ اسے علم و دلائل کے تحت حاصل ہوا تو پھر بہت ہی مشکل ہوتا ہے کہ وہ اس عقیدے کو چھوڑ سکے۔پھر یہی عقیدہ زندگی بھر اس کا یقین بنا رہتا ہے خواہ وہ باطل عقیدہ ہی کیوں نہ ہو کیونکہ وہ اپنے عقیدے پر یقین کرکے بیٹھ جاتا ہے اور عمل، تجربہ اور نتیجہ کے میدان میں اتر ہی نہیں پاتا۔

اسی لئے دین اسلام کے وہ حقائق جو علم الیقین سے عین الیقین اور پھر حق الیقین تک لے کر جاتے ہیں اس کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتے۔یہ بہت سخت نقصان دہ بات ہے کیونکہ ایسے عقیدہ والے مسلمان کیلئے اسلام صرف زبانی کلامی اور چند مخصوص اعمال کا مجموعہ بن کر رہ جاتا ہے جو کہ درحقیقت ایسا ہی ہے جیسا کہ دوسرے مذاہب والے پیروکاروں کا اپنے باطل اور تصوراتی خداوں کو حقیقی خدا سمجھ کر ان کی عبادت اور پوجا کرتے رہنا کیونکہ یہی عقیدہ ان کے دل و دماغ میں بچپن سے ان کے والدین نے سکھاکر بٹھادیا ہوتا ہے۔

لہذا صرف کتابوں کے سہارے لفاظی کرنے والے اکثر مسلمان اور علماء کبھی بھی کسی غیر مسلم کو  پریکٹیکل کے ذریعہ اللہ کے وجود اور ذات حقیقی تک پہنچنے اور ماننے پر یقین کامل نہیں دلواسکتےکیونکہ وہ خود بھی اس سے محروم ہیں اور جب شریعت کے مطابق عمل نہ کیا جائے تو روحانیت کیسے حاصل ہوگی؟

اور جب روحانیت یعنی طریقت  کا استاد بھی کوئی نہ ہو تو حقیقت کیسے حاصل ہوگی؟

اور جب حقیقت حاصل نہ ہو تو سو فیصد یقین کامل کیسے حاصل ہوگا؟

اور سو فیصد یقین کامل تو اللہ کے فضل سے ہی حاصل ہوتا ہے اور اللہ تک رسائی بھی محض اللہ کی توفیق سے ہی نصیب ہوسکتی ہے، محض اپنی کوشش کے ذریعہ نہیں ۔

لہذا اکثر لوگ اسی لیے اللہ تک نہیں پہنچ پاتے کیونکہ اکثر لوگوں کا مائنڈسیٹ اور فوکس اللہ کی ذات نہیں بلکہ اپنی خواہشات نفسانی اور دنیا کی ہوس ہوتی ہے اس لیے خواہش کے باوجود ان کے لیے اللہ تک پہنچ جانے کی منزل تک رسائی ناممکن ہوتی ہے۔