الحاد لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
الحاد لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 17 جنوری، 2026

کیا اسموگ صرف آلودگی ہے یا قدرت کا کوئی اشارہ؟ دھرو راٹھی کے نظریات اور ایک حقیقت پسندانہ جواب

Dhruv Rathee on God Existence: Science vs Religion

آج کل جب ہم صبح اٹھتے ہیں تو کھڑکی سے باہر نیلا آسمان نہیں بلکہ سرمئی رنگ کی ایک گہری چادر نظر آتی ہے جسے ہم 'اسموگ' کہتے ہیں۔ جہاں دنیا بھر کے ماہرینِ ماحولیات اسے انسانی سرگرمیوں اور آلودگی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، وہیں حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

حال ہی میں محمد ذیشان ارشد نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں انہوں نے معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی کے دہریت پر مبنی نظریات کو براہِ راست چیلنج کیا ہے۔

ویڈیو کا مرکزی خیال: ایک گھنٹے میں بدلتی دنیا

اس ویڈیو میں محمد ذیشان ارشد نے ایک حیران کن مشاہدہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق، 16 جنوری کی رات 11 بجے تک لاہور کا آسمان صاف تھا اور ستارے چمک رہے تھے۔ لیکن محض ایک گھنٹے کے اندر، رات 12 بجے کے قریب پورا شہر اچانک اسموگ اور دھند کی لپیٹ میں آگیا۔

وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ: "وہ کون سی مشین تھی؟ وہ کون سی سائنس تھی جس نے آناً فاناً پورے شہر کو دھوئیں سے بھر دیا؟"

سائنس بمقابلہ خالقِ کائنات

دھرو راٹھی اپنی ویڈیوز میں اکثر چیزوں کو خالصتاً سائنسی اور ارتقائی  ایولوشن تناظر میں دیکھتے ہیں اور خدا کے وجود کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ محمد ذیشان ارشد نے اسی نکتے پر ضرب لگائی ہے کہ جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ سب کچھ جان گیا ہے، تب قدرت کوئی ایسا منظر دکھاتی ہے جو انسانی عقل اور سائنسی حساب کتاب سے باہر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اچانک تبدیلیاں اللہ کی قدرت کی نشانی ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ کائنات کا کوئی نظام چلانے والا موجود ہے، یہ سب خود بخود نہیں ہو رہا۔

ہمیں کیا سیکھنا چاہیے؟

یہ بحث ہمیں دو اہم پہلوؤں پر سوچنے پر مجبور کرتی ہے:

ماحولیاتی ذمہ داری: ہمیں اسموگ کو کم کرنے کے لیے شجرکاری اور آلودگی میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔

عاجزی: چاہے سائنس جتنی بھی ترقی کر لے، کائنات میں اب بھی بہت کچھ ایسا ہے جو انسانی دسترس سے باہر ہے اور ہمیں خالقِ حقیقی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا یہ اسموگ صرف انسانی غلطی ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہرا پیغام چھپا ہے؟

ذیل میں دی گئی ویڈیو دیکھیں اور اپنی رائے کا اظہار کریں:

جمعہ، 13 ستمبر، 2024

ملحدین عقل کے اوندھے ہونے پر ثبوت

 ان کی عقل کتنی اوندھی ہوتی ہے اس کا ثبوت اس کافر کا یہ کمنٹ ہے۔ اگر ان میں واقعی عقل استعمال کرنے کی صلاحیت ہوتی تو انہیں یہ سب پوچھنا ہی نہیں پڑتا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ کافروں تم سب مسلمانوں کے شاگرد بن جاو اسی میں تمہاری آخرت کی بھلائی ہے۔



 


جمعرات، 12 ستمبر، 2024

کافروں کی چمچہ گیری کرنے والے منافقین

کافروں کی چمچمہ گیری کرنے والے اٹھائی گیرے ایسے ہوتے ہیں۔ اپنی ذات کی اس کو اتنی فکر ہے کہ جاہل بیغیرت کو ملحدین کی جانب سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے خلاف بداخلاقی سے بھرپور پوسٹیں اور گالی گلوچ نظر نہیں آتیں؟ ایسے ہی منافقوں اور کفار کے دوستوں سے یہ دنیا بھری پڑی ہے اور اللہ انہیں غارت کرے ان کی گمراہ کن بدنیتوں کے سبب


اتوار، 2 جولائی، 2017

مسلمان الحاد کے مقابلے میں کمزور اور ناکام کیوں ہیں؟

ایک مسلمان صاحب فیس بک پر کہہ رہے تھے کہ ’جر من ملحدتھیوڈونولڈیکے کا یہ اشکال کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں تھا بلکہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنایا تھا بالکل لغو ہے۔اس کے خلاف اچھے خاصے قرآئن موجود ہیں۔‘ اس کے بعد انہوں نے کچھ واقعات پیش کرکے مثالیں دیں۔جس پر بہت سے مسلمانوں نے ملحدوں کا مذاق اڑایا اور انہیں بے وقوف سمجھا۔

ایسے کئی مسلمانوں کی تحریریں میں پڑھتا دیکھتا رہتا ہوں۔یہاں تک کہ ایک مشہور و معروف مسلم اسکالر سے ہزاروں لوگوں کے سامنے جب کسی ملحد نے سوال کیا  کہ ’اللہ نظر کیوں نہیں آتا ، باتیں کیوں نہیں کرتا، ساتھ کیوں محسوس نہیں ہوتا وغیرہ‘ (یعنی وہ ملحد چاہتا تھا کہ اسے اللہ کا وجود ثابت کیا جائے ) تو وہ اسکالر اسے مطمئن کرنے میں میری نظر میں ناکام ہوئے۔کیونکہ ملحد اپنے اطمینان کیلئے اللہ کے وجود پر ثبوت چاہتا تھا جبکہ اسکالر صاحب قرآن کی آیات اور منطق سے اسے مطمئن کرنے میں لگے رہے ۔ظاہر ہے وہ ملحد زیادہ بات نہیں کرسکا کیونکہ اسے موقع نہیں دیا گیا (جبکہ وہ شک میں گرفتار رہا)۔

اس لیے میں بس اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ ہم مسلمان اپنے آپ کو جھوٹی تسلی دے سکتے ہیں مگر چونکہ اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے اس لئے ہم اپنے حلقہ احباب میں ملحدین کو دین اسلام کیلئے مطمئن کرنے کی حقیقی کوشش کئے بغیر انہیں جتنا مرضی برا بھلا کہتے یا سمجھتے رہیں وہ فضول ہے۔

اسی طر ح ہندو ، عیسائی وغیرہ بھی مسلمانوں کیلئے بہت سی باتیں کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی مسلمانوں کی طرح یہی چاہتے ہیں کہ ان کی باتوں کو سچا مان کر ان کا مذہب قبول کرلیا جائے۔

ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں قصے کہانیاں، مناظرے اور بحث اچھی لگتی تھیں مگر یہ سائنس و ٹیکنالوجی کا دور ہے۔لاکھوں کروڑوں انسان اپنے اپنے خداوں اور مذاہب کے معاملے پر شک میں گرفتار ہیں۔الحاد بھی دنیا میں پھیل رہا ہے۔بہت سے مذاہب کی جڑ یں اکھڑ رہی ہیں۔لوگ سوالات اٹھاتے ہیں مگر مطمئن نہیں ہوتے۔چند لوگ اگر مسلمان سے ہندو ہوجائیں یا عیسائیت چھوڑ کر مسلمان ہوجائیں تو کیا یہ بہت بڑ ا کام ہوگیا جبکہ دنیا میں پانچ ارب انسان اس وقت بھی غیرمسلم ہیں؟

اب آپ صرف کہانیاں سناکراکیسویں صدی کے انسانوں کو  یقین نہیں کرواسکتے۔آپ کو دکھانا پڑے گا، منوانا پڑے گا، آپ کو ثابت کرنا پڑے گا پریکٹکل اور ناقابل شکست ثبوتوں  کے ساتھ جن کے سامنے تمام غیرمسلم ذہنی و روحانی طور پر بے بس اور لاچار ہوجائیں اپنی تمام تر سائنس اور ٹیکنالوجی کے باوجود۔

ہم مسلمان پیدا ہوگئے تو یہ ہمارا کوئی کمال نہیں۔ہم ہندو یا عیسائی  یا ملحد گھرانے میں پیدا ہوتے تو ہمارے لئے بھی قرآن کی اہمیت نہ ہوتی۔ یہ ذمہ داری تو ہم مسلمانوں پر بنتی ہے کہ ہم جس اللہ کے وجود اور اس کی قدرت کے دعوے کرتے ہیں اس کا کوئی عملی ثبوت  غیرمسلموں کے سامنے پیش کریں۔ہم جس نبی کو سچا اور آخری کہتے ہیں ان کی سچائی پر کوئی عملی ثبوت بھی پیش کریں غیرمسلموں کے سامنے۔ہم جس دین کو سچا کہتے ہیں اس دین کی سچائی پر عملی ثبوت پیش کریں غیرمسلموں کے سامنے۔ہم جس قرآن کو کلام الٰہی کہتے ہیں اس کی سچائی پر کوئی عملی ثبوت پیش کریں غیرمسلموں کے سامنے۔

مثال کے طور پر ملحدوں کے نزدیک قرآن اللہ کا کلام ہے ہی نہیں۔وہ اسے سچا نہیں مانتے۔تو۔۔۔

۱) جب ملحد وں کیلئے قرآن ہی سچا نہیں تو وہ مسلمانوں کی دیگر کتابوں پر کیوں کریقین کرلیں؟سب باتیں کتابوں کی باتیں ہی ہیں۔اس لئے بطور ثبوت قابل قبول نہیں ہوسکتیں ورنہ دیگر مذاہب میں بھی بہت قصے کہانیاں موجود ہیں۔

۲) قرآنی آیات سے ملحدوں کو یقین دلانے کی کوشش کرنا ایسا ہی ہے جیسے ریاضی کے پرچے میں غالب کے اشعار سے استدلال کرنا۔ جس چیز کو کوئی مانتا ہی نہیں اسے اپنے موقف کیلئے اسی سے دلائل دے کر نتیجہ کی امید رکھنا استہزائی طریقہ ہے اور جب ملحدقرآنی آیات پر یقین نہیں کرتے تو ان کا مذاق اڑاناہم مسلمانوں کا انتہائی نامعقول سلوک ہے۔حقیقت یہ ہے کہ  بہت سے مسلمان ملحدوں کے سامنے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو سچا  اور آخری نبی ثابت کرنے میں ناکام ہیں۔ ایسے مسلم  چاہتے ہیں کہ ملحدین صرف ان کی باتیں سن کر فوراً ایمان لے آئیں ورنہ بے شک جہنم میں جائیں۔ مسلمانوں کا ایسا طرز عمل اور طریقہ کار درست نہیں۔

۳) اگر کوئی ملحد اپنے اصولوں کی روشنی میں خدا کے انکار پردلائل لائے گا تو آپ اسے سورہ اخلاص سناکر قائل نہیں کرسکتے۔اس کیلئے آپ کواسی کی زبان اور اصولوں کو بطور ہتھیار و دلیل استعمال کرنا ہوگا اسی کے خلاف۔

آخر میں ایک سوال بھی پوچھتا ہوں کہ کیا آپ جذباتی پن اختیار کرنے کے بجائے مجھے کوئی ایک ناقابل شکست ثبوت پیش کرسکتے ہیں  جس سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو سچا اور آخری نبی ثابت کیا جاسکے دنیا کی کوئی بھی کتاب استعمال کیے بغیر؟

اگر  آپ مسلمان ہوکر مجھے ایسا کوئی پریکٹیکل اور ناقابل شکت ثبوت نہیں دے سکتے تو پھر ملحد بھی اپنی جگہ اپنے دعوے میں صحیح    ہیں کہ انہیں معجزہ  بطور ثبوت دکھایا جائے ۔ 

اس لئے میں آپ سمیت تمام مسلمانوں سے صرف اتنا کہوں گا کہ یا تو  غیرمسلموں کو ایسے ثبوت مہیا کریں جن کے ذریعہ ان کے دل و دماغ میں موجود شک و شبہات ختم ہوسکیں اور اگر ایسا کرنے میں آپ عاجز ہیں تو پھر ہمارے ناقابل شکست ثبوتوں کو بطور ہتھیار استعمال کریں اور دنیا بھر کے ملحدین و غیرمسلموں تک پہنچانا شروع کریں تاکہ وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوسکیں  اللہ کے حکم سے۔

اس طرح مسلم الحاد کے مقابلہ پرکامیاب اور فتح یاب ہوں گے انشاء اللہ۔ لیکن اگر آپ ہمارے ثبوت استعمال نہ کریں اور مسلم ہونے کے باوجود کافروں پر فتح حاصل کرنے میں ناکام ہوجائیں تو خود سمجھ لیں کہ دیگر مسلمان بھی الحاد کے مقابلے میں کمزور اور ناکام کیوں ہیں۔