سوشل اشوز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سوشل اشوز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 12 جون، 2025

غزہ میں صیہونی فورسز نے 57 امدادی کارکنوں سمیت 120 فلسطینی کو شہید کردیا

میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستانی میڈیا ایسے نیوز نشر کرتا ہے جیسے کوئی معمول کی بات ہو اور آلو بھنڈی کے ریٹ بتائے جارہے ہوں۔ ایک عام سی خبر کہ غزہ میں اتنے شہید کردیے گئے، یا فلاں مارے گئے۔

یہ سب کس کو سنارہے ہیں؟

اگر عوام کو سنارہے ہیں تو کس منہ سے سنارہے ہیں؟

کیا عوام کچھ کرسکتے ہیں؟

اگر ہاں تو کیا کریں؟

اگر نہیں تو عوام کے بجائے یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ غزہ پر حملہ کرنے والے اسرائیلی یہودی کتوں کو ان کی اوقات دکھائے جاکر اور انہیں لگام ڈالے؟

ظاہر سی بات ہے یہ کام پاکستانی آرمی سمیت دنیا کی تمام مسلم فورسز کے ذمہ آتا ہے۔

کیا وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں؟

اگر ہاں، تو یہ جنگ بند کیوں نہ ہوسکی اب تک؟

اگر نہیں، تو اب تک کیا جھک ماررہے ہیں؟

انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستان نے تہہ بہ تہہ حملہ کردیا کہ ہمارے ملک کا معاملہ ہے۔

یہ فلسطینی کس کا معاملہ ہے؟

کیا اب اللہ کو خود آنا پڑے گا یہ سارے معاملات طے کرنے کے لیے؟

اگر وہ آگیا تو پھر باقی کسی کو نہ چھوڑے گا۔

ساری دولت، شہرت، طاقت، عہدے، دبدبہ لاشوں کے انبار میں بدل کر رکھ دے گا۔

اب بھی وقت ہے، مسلم آرمی ہوش کے ناخن لے اور پاکستانی آرمی جاکر غزہ میں جنگ بندی کرے یا پھر تمام مسلم ممالک کے حکمران اور ان کے چمچے اپنی عیاشیاں چھوڑ کر پہلے غزہ پر کاروائی کریں ارو انہیں سپورٹ کریں اور انہیں اپنے ملکوں میں رہائش اور بنیادی سہولتیں فراہم کریں۔

اس سے پہلے کہ اللہ ان کے شہروں کو عبرت کا نشان بناڈالے یا ان کے محلوں کو زمین بوس کرڈالے اور اللہ پر ایسا کرنا بہت آسان ہے۔

وللہ واحد القہار


ہفتہ، 12 اپریل، 2025

کیا اسرائیلی پراڈکٹ کا بائیکاٹ کرنا درست عمل ہے؟

"بائیکاٹ: غیرت یا جذباتی خودفریبی؟"

جب ہم کہتے ہیں کہ "ہم اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں", تو کیا ہم واقعی ظلم کے خلاف کھڑے ہیں — یا صرف سوشل میڈیا پر نعرے مار کر دل کو تسلی دے رہے ہیں؟

1. بائیکاٹ — سنت کے مزاج میں ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو نضیر کے درخت کاٹے، ان کے معاشی غرور کو توڑا — یہ صرف جنگی چال نہیں تھی، یہ ایک پیغام تھا:
"جو ظلم کرے گا، ہم اس کے نظام کو چیلنج کریں گے۔"

تو جی ہاں — ظالم کا معاشی بائیکاٹ سنت کے مزاج میں ہے — اگر وہ شعور، اتحاد اور قربانی کے ساتھ ہو۔


2. مگر صرف کھانے کا بائیکاٹ کیوں؟

یہ سوال ہر شعور والے دل میں آتا ہے:

  • کوک، میکڈونلڈز، نیسلے — ہاں، ان کا بائیکاٹ!

  • مگر...

    • آئی فون کیوں نہیں چھوڑا؟

    • گوگل، یوٹیوب، فیس بک کیوں استعمال ہو رہے ہیں؟

    • اسرائیلی ٹیکنالوجی پر بنی ویکسینز، چپس، سافٹ ویئر کیوں چل رہے ہیں؟

یہ دو نمبری نہیں تو کیا ہے؟

بائیکاٹ اگر غیرت ہے، تو صرف من پسند چیزیں چھوڑنا غیرت نہیں — نفاق ہے۔


3. بائیکاٹ کیسے ہو؟

  • صرف جذباتی نہیں — معلوماتی بائیکاٹ ہو۔

  • صرف آسان چیزیں نہیں — تکلیف دہ چیزیں بھی چھوڑنے کا حوصلہ ہو۔

  • صرف "وہ نہ کھاؤ" نہ کہا جائے — بلکہ "یہ مت سوچو، یہ مت پہنو، یہ مت دیکھو" بھی کہا جائے۔

  • صرف بائیکاٹ نہ کرو — متبادل پیدا کرو۔


4. نتیجہ:

اگر تم صرف کوک نہ پینے کو اپنی غیرت سمجھتے ہو، مگر اسرائیلی موبائل، سافٹ ویئر، برین واشنگ کلچر کو سینے سے لگائے رکھتے ہو —
تو یہ غیرت نہیں، خودفریبی ہے۔

امت کو بیدار کرو — مگر پورے سسٹم کے خلاف۔
صرف روٹی نہیں، سوچ بھی آزاد کرو۔


#BoycottWithIqra #امت_جاگ_اٹھو #سنت_مقابلہ_نظام_ظلم #مسلمشعور #FakeNonFakeBoycott

جمعہ، 11 اپریل، 2025

غریب آبادیوں کے کنجڑ خانے

 

میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ رات کے سناٹے میں رات کے 12 بجے ایک بجے دو بجے تین بجے اور کچھ بے غیرت تو صبح تک اپنا کنجڑ خانہ چلا کے رکھتے ہیں اور رات بھر کئی کئی گھنٹے الٹے سیدھے بےہودہ اور عجیب گھٹیا قسم کے گانے چلاتے ہیں۔ 


یہ میں نے کچی آبادیوں میں سنا ہے۔ ان آبادیوں میں جس پہ لوگ ترس کھاتے ہیں کہ یہاں کے لوگ بہت غریب ہیں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہاں کے لوگ غریب تو ہیں لیکن بہت سے لوگ ان کے اندر کنجڑ ہیں۔ بے غیرت ہیں ذلیل ہیں اور انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں ہیں۔


ایسے غریب ہونے پر لعنت بھیجنی چاہیے جو غریب ہونے کے بعد بھی گنہگار بنا ہوا ہے اور اللہ سے معافی نہیں مانگ رہا۔ بجائے یہ کہ اس کو اپنے برے عمل کو چھوڑنا چاہیے تاکہ اللہ اس کے حالات بدلے اور اس کو مالدار بنائے اور اس کے لیے آسانیاں پیدا کرے لیکن وہ بغیرت اپنی غریبی فقیری کو دیکھنے کے باوجود بھی دوسروں کی ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے۔


بھلا کسی جاہل اور بے غیرت پر میں کس قسم کا ترس کھاؤں؟ دل سے تو بددعا نکلتی ہے۔ اس لیے کہ ایک انسان رات کے وقت میں تاریکی میں سناٹے میں خاموشی میں مراقبہ کرتا ہے، اللہ کا ذکر کرتا ہے، توجہ کے لیے بیٹھتا ہے کہ وہ اللہ سے دل لگائے، کچھ باتیں کرے اور پڑوس کے کچھ کنجڑ تیز آواز میں گانے بجاتے ہیں اور اگر ان کو سمجھاؤ تو مزید ہٹ دھرمی سے اور بجاتے ہیں۔ اس لیے میں غریب آبادیوں کے کنجڑوں پر کوئی ترس نہیں کھاتا۔ یہ لوگ عذاب کے لائق ہیں اور اللہ ان کو برباد کرے۔


جو یہ کہتا ہے کہ نرمی دکھائی جائے۔ نرمی سے جہاں کام چلتا ہے وہاں نرمی دکھائی جاتی ہے ورنہ اگر صرف نرمی کی ضرورت ہوتی تو سزائیں نہیں رکھی ہوتیں اللہ نے دین اسلام میں۔


اگر کوئی ٹریفک سگنل کا قانون توڑ دے تو پولیس والا بھی چالان کرتا ہے۔ اس کی معافی تلافی نہیں چلتی۔ تو جب کوئی اللہ کے قانون توڑ رہا ہے تو کس بات کی اس کو معافیاں دی جائیں؟ نرمی دی جائے اس کو جب بے غیرتیاں دکھا رہا ہے، کنجڑ خانے چلا رہا ہے اور رات رات بھر بغیرتیاں مچاتا ہے؟


بات غریب اور امیر کی نہیں ہے۔ بات کنجڑ خانہ چلانے کی ہے۔ چاہے امیروں کی آبادی میں کوئی کنجڑ بنا ہوا ہو، چاہے غریبوں کی آبادی میں کوئی کنجڑ بنا ہو، جو کنجڑ بنا ہوا ہے وہ کنجڑ ہی ہے اور بغیرت ہے۔


جسے دوسروں کا احساس نہیں ہے، جو رات کی تاریکی میں تیز آواز میں گانے بجائے اور لوگوں کی نیند خراب کرے، لوگوں کی عبادت خراب کرے، ایسا بے غیرت جہنم میں جانے کے لائق ہے۔ کم سے کم میری نظر میں تو ایسا ہی ہے۔ اللہ اپنے جس بندے کو چاہے معاف کرے وہ اس کی مرضی لیکن میں ایسے بندوں کے خلاف بد دعا کرتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ ان کو بدترین عذاب ہو۔ ان کو فالج پڑے۔ ان کے ہاتھ پیر ٹوٹ جائیں۔ ان کے کانوں سے یہ بہرے ہو جائیں۔ ان پر دردناک عذاب آسمانوں سے نازل ہو اور یہ عبرت کا نشان بنیں۔ اس لیے کہ یہ دوسروں کو سکون سے رہنے نہیں دیتے۔


اللہ اکبر 

لیجنڈ

بدھ، 4 دسمبر، 2024

نریندر مودی اور نتن یاہو گدھے ہیں یا گدھے سے بدتر ہیں؟

ایک گدھے کے سامنے انسان کلام کرے اور گدھے کو بات سمجھ نہ آئے تو وہ انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ اس کے سامنے گدھا کھڑا ہے اس لیے بات سمجھ نہیں سکتا۔ مگر جب بات انسان سے کی جارہی ہو اور وہ گدھے والی حرکتیں کرے تو بات سمجھ نہیں آتی کہ گدھا زیادہ جانور ہے یا وہ انسان جو انسان ہونے کے باوجود گدھے والی حرکتیں کررہا ہے؟

اسرائیل کا پرائم منسٹر ہو یا انڈیا کا پرائم منسٹر ہو، دونوں انسان ہیں۔ دونوں پیشاب پاخانہ اپنے پیٹ میں لیے پھرتے ہیں۔ ان میں کوئی کمال کی بات نہیں۔ ایک غریب کے پاس بھی وہی سب کچھ ہے جو ان کے پاس ہے۔ فرق صرف عہدے کا ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ انڈیا کے پرائم منسٹر نریندر مودی یا اسرائیل کے پرائم منسٹر نتن یاہو کو کسی خدا نے سرٹیفیکیٹ دے دیا ہے کہ تم میرے بندوں کو مارو اور قتل عام کرو؟

کیا دنیا میں انسان جی رہے ہیں یا پروفیشنلزم کے نام پر گدھوں سے میرا واسطہ پڑچکا ہے جنہیں بات سمجھ نہیں آرہی؟ گدھے کے سر سے بات گزرجائے ٹھیک ہے، مگر انسان ہونے کے باوجود گدھے والی حرکتیں؟ پھر میں یہ کہنے کا حق رکھتا ہوں کہ اربوں انسان گدھوں سے بھی گئے گزرے ہوچکے ہیں جو محض دولت کے پجاری، اندھے بہرے گونگے اور جھوٹے خداوں کے بیوپاری بن چکے ہیں۔

غضب خدا کا، ایک سال ہونے کو ہے اور غزہ کے نہتے معصوم بچوں کا قتل عام کیا جارہا ہے۔ دنیا کے پرائم منسٹرز اور آرمی آفیسرز بھنگ پی کر سوچکے ہیں کیا ؟کسی کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ہے ؟ کیسے انسان ہو تم لوگ؟ جانوروں سے بھی بدتر بن چکے ہو؟ 

ایک طرف جھوٹے خداوں کے نام پر جھوٹے مذاہب بنارکھے ہیں ۔پھر ان مذاہب کے نام پر لاکھوں سے زیادہ کتابوں کے انبار لگارکھے ہیں۔پھر اپنے اپنے ممالک کے نام پر اللہ کی زمین کو ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہے اور ویزا سسٹم بناکر لوگوں کو اپنا غلام بنارکھا ہے۔یہ سب تم کر کیا رہے ہو؟ کیا تم نے مرنا ہے یا جیتے رہنا ہے؟

کیا اللہ نے باقی چھوڑا پچھلی قوموں کو؟ نہیں! وہ سب مرچکے۔ تم سب بھی مرجاو گے مگر آستین کے سانپوں، تم سب اپنا حساب ضرور دو گے  کہ ایک شخص تمہیں سمجھا سمجھاکر تھک گیا مگر تم گدھوں سے بھی گئے گزرے نکلے۔

فنی ویڈیوز دیکھو گے، ننگی فحش باتیں کرو گے، فضول گپیں مارو گے مگر اصل کام کی بات تمہارے منہ اور ہاتھوں سے نکلتی نہیں۔نظر انداز کرکے خود کو عقلمند سمجھتے ہو؟ تم واقعی گدھے سے بھی بدتر ہو۔

دنیا کا ہر بچہ مسلم پیدا ہوتا ہے۔ دنیا کے ہر بچہ کو اللہ اس کی ماں کے پیٹ میں بناتا ہے۔ دنیا کے تمام غیرمسلم جھوٹے خداوں کے پجاری ہیں۔ دنیا کے تمام مذاہب دو نمبر اور جھوٹے اور فراڈ ہیں اسلام کے مقابلہ پر۔ یہ ہے حقیقت اور پورا سچ جسے دنیا کے دو ارب کے قریب مسلم غیرمسلموں سے چھپاتے ہیں جبکہ دنیا کے 6 ارب سے زائد غیرمسلم اپنے ماں باپ کے ہاتھوں بے وقوف بن کر کافر ہوچکے ہیں۔

کدھر ہیں عقل استعمال کرنے کے دعویدار؟ کیا تم لوگ نتن یاہو اور نریندر مودی جیسے غلام ہو جو شیطان کے اشاروں پر ناچ رہے ہو یا تم بھی اپنی عقل استعمال کرنے سے محروم ہوچکے ہو؟ اگر نہیں تو کلمہ پڑھو اور اسلام میں واپس لوٹ آو اور اپنے تمام دوست یاروں کو بتادو کہ انڈیا کا پرائم منسٹر اور اسرائیل کا پرائم منسٹر، دونوں دہشت گرد ہیں اور انسانوں کے قاتل ہیں۔  

انسانیت کے علمبردار اداروں کو چاہیے کہ ان دونوں خبیثوں کو گرفتار کرکے سخت ترین سزا دے کر دنیا کے انسانوں کو قتل عام سے بچایا جائے۔ ایک نے یہودیت کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کروایا ہے اور دوسرے نے اس کی سپورٹ کی ہے اور ساتھ ہی ہندوازم کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کروایا ہے۔دونوں بے غیرت شیطان کے یار ہیں اور اللہ کے غدار ہیں۔

جمعرات، 17 اکتوبر، 2024

جمعہ، 11 اکتوبر، 2024

تحفہ رد کیا جاسکتا ہے

تحفہ کے حوالے سے سوسائٹی میں یہ رسم پالی گئی ہے جو دل چاہے کسی کو تحفہ دے اور جب دل چاہے اس کے دل کو روند کر رکھ دے۔ ایسے جاہلوں سے میرا اپنی زندگی میں بہت واسطہ پڑچکا ہے اور میں نے فیصلہ کررکھا ہے کہ کس سے تحفے قبول کرنے ہیں اور کن لوگوں سے تحفے قبول نہیں کرنے۔

اس حوالے سے سیدھا سا فارمولا ہے کہ جو لوگ تحفہ دینے کے بعد احسان جتائیں کہ انہیں نے ہم پر فلاں فلاں رقم خرچ کی ہے، یا فلاں چیز فلاں وقت تحفہ میں دی تھی یا تحفہ دینے کے بعد یہ جتائیں کہ یہ ان کی چیزیں ہیں اورانہیں واپس چاہیں، تو یہ ایسے لوگ ہیں جن سے کبھی تحفہ غلطی سے بھی قبول نہیں کرنا چاہیے۔یہ دنیا پرست لالچی اور بےغیرت قسم کے لوگ ہیں جو کسی کی عزت نفس کا خیال نہیں کرتے اور اس کو اپنے احسانات تلے دبانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

انہیں کبھی برداشت نہیں ہوتا کہ کوئی دوسرا ان سے آگے نکل جائے۔یہ بیماری زیادہ تر پڑھے لکھے جاہلوں میں نظر آتی ہے جن کے پاس چار پیسے زیادہ ہوجاتے ہیں اور وہ دوسروں کو ترس کھاکر مدد کرنے کو حاتم طائی کی قبر پر لات مارنا اور اپنا احسان عظیم سمجھتےہیں جبکہ اللہ نے انہیں اس قابل کیا ہوتا ہے کہ انہیں دولت دے کر آزمائے مگر یہ نرے احمق اور جاہل گنوار لوگ اپنی جہالت کو اپنی عظیم عقلمندی سمجھ کر اپنی آخرت تباہ کرلیتے ہیں کیونکہ جس پر احسان کرکے جتارہے ہوتے ہیں اور اس کے دل کے ٹکڑے کررہے ہوتے ہیں اس پر تو نرم بات کہہ دینا بہتر ہے اس صدقہ سے جس کے بعد دل آزاری کی جائے۔

یہ ہے دین اسلام مگر لوگوں کا اسلام سے دور دور تک واسطہ پریکٹیکل دنیا میں مجھے تو اب نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اب لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرچکا ہوں اور اپنے کام سے کام رکھتا ہوں۔جس کو مرنا ہے مرجائے، جس کو خودکشی کرنی ہے شوق سے کرے، جسے گناہ کرنے کے چسکے لگے ہیں وہ اپنا کام جاری رکھے اور جس کا دل چاہے وہ تقوی اختیار کرلے۔

نہ میں لوگوں پر داروغہ ہوں اور نہ میں کوئی نبی یا رسول ہوں کہ جس کے ذمہ ساری دنیا کو سدھارنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ میں ایک انسان ہوں اور اللہ کا تیار کردہ بندہ ہوں جس کے ذمہ بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ دین اسلام کی سچائی ہمیشہ کے لیے انٹرنیٹ کے ذریعہ ثابت کرچکا ہے اور اگر میرے ان کاموں کو دیکھ کر کوئی مجھے تحفہ تحائف دینے کی کوشش کرے گا تو یہ بھی میرے لیے میری آخرت خراب کرنے کا سبب ہوگا کیونکہ اسلام کی سچائی کے کام میں نے خالص اللہ کے لیے کیے ہیں اور انسانوں میں کسی سے بھی مجھے اس کے بدلے شکریہ، واہ واہ یا تعریفوں کے تمغے نہیں چاہیں۔

جہاں تک عام روایتی زندگی کی بات ہے تو اس حوالے سے ہمارا آپس میں کیا سلوک ہونا چاہیے؟ اس پر میں نے چیٹ جی پی ٹی سے ایک مضمون تحریر کروایا ہے جو اس کی زبان میں زیر خدمت ہے۔۔۔

**تحفہ رد کرنے کے جواز پر مضمون**

تحائف کا تبادلہ ایک خوبصورت اور خوشگوار سماجی رسم ہے، جو افراد کے درمیان محبت، خلوص، اور تعاون کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ دین اسلام میں بھی تحائف دینے کی ترغیب دی گئی ہے، کیونکہ یہ دلوں میں انس و محبت پیدا کرتا ہے اور رشتوں کو مضبوط بناتا ہے۔ تاہم، تحائف کا مقصد ہمیشہ خالص نیت اور اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ دنیاوی مفاد یا توقعات کے پیش نظر۔

### تحفے کی نیت اور مقاصد

تحائف دینے کا بنیادی مقصد دوسرے شخص کو خوشی دینا، اس کی مدد کرنا، یا تعلقات کو مزید گہرا کرنا ہوتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ "تحفے دیا کرو، اس سے محبت بڑھتی ہے۔" لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ تحفہ دینے والے یا لینے والے کی نیت صرف اللہ کی رضا اور محبت ہو، نہ کہ کوئی مادی یا مالی فائدہ۔

### تحفہ اور توقعات کا تعلق

بعض اوقات تحائف دینے والے لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں بدلے میں اسی قدر یا اس سے زیادہ قیمتی تحفہ ملے گا۔ یہ رویہ تحفے کی اصل روح کے خلاف ہے۔ تحفہ تو بے لوث محبت اور خلوص کی علامت ہے، اور اس میں کسی قسم کی مالی یا مادی توقعات رکھنا مناسب نہیں۔ اس لیے جہاں یہ اندیشہ ہو کہ تحفہ دینے والے کی نیت خالص نہیں ہے یا وہ بدلے میں کچھ حاصل کرنے کی توقع رکھتا ہے، وہاں تحفہ قبول نہ کرنا ایک مناسب قدم ہوسکتا ہے۔

### تحفہ رد کرنے کا جواز

اسلامی تعلیمات میں یہ بات واضح ہے کہ تحفے کے تبادلے میں خلوص نیت اور خالص محبت ضروری ہے۔ اگر کسی تحفے کے پیچھے دنیاوی یا مالی مفادات وابستہ ہوں، یا تحفہ دینے والا بدلے میں کسی خاص فائدے کی توقع رکھے، تو ایسے تحفے کو رد کرنا جائز اور بعض صورتوں میں ضروری بھی ہو جاتا ہے۔ اس طرح کا تحفہ قبول کرنے سے نہ صرف دین کے احکام کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ اس سے انسانی تعلقات میں بھی بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص تحفہ اس نیت سے دے کہ وہ بدلے میں زیادہ قیمتی یا مساوی مالیت کا تحفہ لے گا، یا وہ تحفہ قبول نہ کرنے کی صورت میں ناراضگی کا اظہار کرے گا، تو یہ رویہ تحفہ دینے کی اصل نیت کو خراب کرتا ہے۔ ایسے مواقع پر تحفہ قبول کرنے سے بہتر یہ ہے کہ اس کو رد کردیا جائے، تاکہ دونوں طرف سے نیت صاف اور خلوص پر مبنی رہے۔

### مالی تعاون اور تحائف کا فرق

تحائف کا مقصد محبت اور اخلاص ہوتا ہے جبکہ مالی تعاون کا مقصد کسی ضرورت کو پورا کرنا یا کسی کی مدد کرنا ہوتا ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ تحفے کے بدلے میں کوئی توقع نہیں رکھی جاتی جبکہ مالی تعاون میں یہ توقع ہو سکتی ہے کہ مدد لینے والا کسی وقت مدد واپس کرے گا۔ جہاں تک مالی تعاون کا تعلق ہے، اگر کوئی شخص اس نیت سے تحفہ دیتا ہے کہ وہ بدلے میں کچھ حاصل کرے گا، تو یہ تحفے کی تعریف میں نہیں آتا اور اسے رد کرنے کا جواز موجود ہوتا ہے۔

### جھگڑے کی صورت میں تحفہ رد کرنا

تحفہ دینے اور قبول کرنے میں خلوص اور رضا کا عنصر بہت اہم ہوتا ہے۔ اگر تحفہ قبول نہ کرنے یا بدلے میں کچھ نہ دینے پر جھگڑا یا ناراضگی پیدا ہو تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحفہ دینے والے کی نیت خالص نہیں تھی۔ ایسے حالات میں تحفے کو قبول کرنا بہتر نہیں، بلکہ اسے رد کرنا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے تاکہ رشتہ کشیدہ نہ ہو اور نیتوں میں صفائی قائم رہے۔

### نتیجہ

تحفہ دینا اور لینا ایک اہم اور خوبصورت عمل ہے، جو سماجی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، اس میں نیت کی صفائی اور محبت کا خالص ہونا لازمی ہے۔ جہاں تحفے کے پیچھے دنیاوی مفادات یا بدلے کی توقعات ہوں، وہاں اسے قبول کرنے کی بجائے رد کرنا زیادہ مناسب ہے۔ اس سے نہ صرف دین کے اصولوں کی پیروی کی جاتی ہے بلکہ رشتوں میں بھی سچائی اور خلوص کو برقرار رکھا جاتا ہے۔

نوٹ: مشینی بوٹس انسانوں کی رائٹنگ کا مقابلہ نہیں کرسکتے کیونکہ یہ ہماری طرح جذبات و احساسات سے عاری مشینیں ہیں لہذا ان کی ہر بات کو قرآن و حدیث سمجھ کر یقین کرنے کے بجائے انسان کو اپنی عقل استعمال کرنا چاہیے اور ان کے لکھے ہوئے مضامین میں سے بھی جو بات صحیح لگے اسے قبول کیا جائے اور جو غلط معلوم ہو اسے رد کردینا چاہیے۔

جمعرات، 12 ستمبر، 2024

بچیوں، لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ زنا کے واقعات پاکستان میں کیوں بڑھ رہے ہیں؟


جس معاشرے کے بچے، نوجوان لڑکے اور مرد حضرات اور خصوصیت کے ساتھ بوڑھے لوگ رات رات بھر ننگی عورتیں دیکھیں گے، پورن فلمیں چلائیں گے، سوشل میڈیا پر نیم برہنہ عورتوں کے دیدار کریں گے، ہالی وڈ کے نام پر ننگی عورتوں کو ڈانس کے مجرے کرتے دیکھیں گے، کھلی لٹکتی چھاتیاں ابھار سمیت مٹکتے دیکھیں گے، سینہ کے کٹ سامنے دیکھیں گے، عورتوں کے کھلے بدن ننگی ٹرانسپیرینٹ بازاروں میں دیکھیں گے وہاں یہ سب ہونا بہت معمولی بات ہے۔


جب سامنے گوشت پوست کی لڑکی، بچی یا جوان عورت یا پھر کفن شدہ دفن لاش ہی عورت کی کیوں نہ آجائے۔۔۔یا پھر ہسپتال ہی سہی، جدھر جس کا بس چل رہا ہے وہ "زنا" کررہا ہے۔

گدھے اور کتوں سے بھی بدتر انسانوں کا معاشرہ بن چکا ہے۔محض شکل سے چلتے پھرتے انسان نظر آتے ہیں ورنہ اندر سے ناجانے کتنے ہی مرد اور عورتیں شیطان کے پجاری بن چکے ہیں۔

جمعرات، 30 نومبر، 2023

ذہنی اذیت، تنہائی کا شکار، خود کو بےکار سمجھنے لگا ہوں، اپنے وجود سے نفرت ہوگئی ہے

 السلام علیکم میرا درد سمجھ کر مجھے مشورہ دینا تنقید نہ کرنا میرا رشتہ نہیں ہو رہا تین چار جگہ سے ریجکٹ ہوگیا رشتہ کوئی کیا نقص نکالتا کوئی کیا کوئی شکل و صورت کا کوئی قد کا کوئی رنگ اور کوئی جاب کا اس وجہ مجھے بہت تکلیف ہے زہنی تکلیف بہت تنہائی کا شکار ہوں خود کو بےکار سمجھنے لگا ہوں اپنے وجود سے نفرت ہوگئی ہے سوچ سوچ کر سر درد ہوتا نہ نیند اتی نہ دن کو کسی چیز میں دل لگتا غصہ اتا چیزیں توڑ دیتا اس کا علاج بتادیں پلیز

وعلیکم السلام

جو لوگ تمہیں ریجیکٹ کررہے ہیں اور تنقید کررہے ہیں یہ ان کی اپنی سوچ ہے اس کا تمہاری حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے لہذا سب سے پہلے یہ بات اپنے دماغ میں بٹھالو۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تم خوبصورت اور پرفیکٹ نہیں ہو مگر جب ان کے خلاف دشمنوں نے نفرت اپنے دل میں پالی تھی تب ان پر جادوگر ہونے اور جھوٹا ہونے تک کے الزامات لگائے تھے یہاں تک کہ انہیں قتل کرنے کے لیے سازشیں بھی کرڈالیں۔ کیا تم پر ایسی کوئی آفت نازل ہوئی ہے؟

کیا تمہاری ذہنی کنڈیشن اور اذیت اس بات سے ذیادہ ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے کام کرنے کے دوران دی گئیں تھیں؟

کیا انہوں نے خود کو بےکار سمجھ کر اللہ کا کام کرنا چھوڑ دیا تھا؟

کیا انہیں لوگوں کی باتوں کی وجہ سے اپنے وجود سے نفرت ہوگئی تھی؟

کیا وہ تنہائی کا شکار ہوکر کام اور مشن ترک کر بیٹھے تھے؟

کیا وہ غصہ کرکے چیزیں توڑا کرتے تھے؟

اگر ان سب سوالات کے جوابات تمہارے پاس "ہاں" میں ہیں تو بے شک اپنا کام جاری رکھو بصورت دیگر غور کرو کہ تم لوگوں کو کنٹرل کرنا چاہتے ہو کہ وہ ویسا کریں جیسا تم چاہتے ہو ویسا سوچیں جیسا تم سوچتے ہو جو کہ ممکن نہیں ہے۔

جس طرح تمہیں خود پر پابندی پسند نہیں اسی طرح دوسرے انسانوں کو بھی خود پر پابندی پسند نہیں۔

ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار خود ہے اور تم بھی۔

لہذا لوگوں کو سوچنے دو جو وہ تمہارے بارے میں سوچتے ہیں اور تم وہ کرو اپنی زندگی میں جو تم کرنا چاہتے ہو۔

Your Value Does Not Decrease by Criticism of People Your Value Does Not Increase by Praises of People

You Are Always You - the Beautiful Human Made by ALLAH (اللہ)

ایک سڑک پر بلی جارہی ہو لوگ ہزار باتیں بنائیں گے مگر وہ بلی نہ اونچی ہوجائے گی اور نہ نیچے سوائے اپنے دماغ میں سوچتے رہنے سے اگر اس کو لوگوں کی باتیں سمجھ آنا شروع ہوجائیں کہ لوگ اس کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں۔

کیا سمجھے؟

تم لوگوں کے ایکشن کو نظرانداز کرو خصوصا ان کی باتوں کو جو تمہارے خلاف کرتے ہیں۔

تم سے سوال نہ ہوگا، ان سے اللہ خود نمٹ لے گا ان کے کالے گھٹیا کرتوتوں کے سبب لہذا خوشی مناو کہ ان کے تمہارے ساتھ برا سلوک کرنے کے بدلے تمہیں جنت میں کار، بنگلے، لگزری لائف اسٹائل، باغات، لیپ ٹاپ، موبائل فون وغیرہ مفت ملیں گے۔

کیا یہ انعام کافی نہیں ہے تمہارے صبر کرنے کے بدلے کہ چیزیں توڑ کر اپنا نقصان کررہے ہو؟

وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ۗ اَتَصْبِرُوْنَۚ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا

 ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے کیا تم صبر کرتے ہو؟ تمہارا رب سب کچھ دیکھتا ہے

آفس جاب میڈم اور زنا کی دعوت

ایک فیس گروپ میں سوال کیا گیا کہ

"میری ایک آفس میں جاب ہوئی ہے وہاں پہ ایک میڈم نے بہت ساتھ دیا ہر لحاظ سے کیونکہ دوسرے شہر ہوئی ہے جاب

پہلے ہفتہ اچھا گزرا لیکن اب وہ مسلسل واٹس ایپ میسج کرتی ہے اور کالز کرتی ہے رپلائی نہ کرنے یا کال اٹینڈ نہ کرنے پر ناراض ہو جاتی ہے اور غصہ کرتی ہے

جب اٹینڈ کروں تو آدھی آدھی رات لگی رہتی ہے اس طرح میری نیند پوری نہیں ہوتی سکون برباد ہوگیا ہے

جب اگنور کروں آفس میں بُلا کر پھر اکیلے ذلیل کرتی ہو اگنور کرنے پہ وہ میڈم مجھ سے عمر میں دو سال چھوٹی ہے لیکن جاب میں وہ سینئر ہے مجھ سے جہاں تک خیال ہے وہ پیار کر بیٹھی ہے اس کی باتوں سے لگتا ہے دلفریب باتیں ہوتی ہیں اس کی

جب کہ میرا ذرا برابر بھی اس طرف دھیان نہیں ہے

میں کیسے اس صورتحال سے اس کو بھی اور خود کی بھی نکالوں

کیونکہ مجھے ڈر ہے اگر اس کی بات نہ مانی تو وہ جاب سے نکلوا بھی سکتی ہے لیکن مجھے جاب کی ضرورت ہے مشکل سے ملی ہے

پریشان ہوں کیا کرنا چاہئے یہ حقیقت ہے کوئی مزاق نہیں پلیز سنجیدہ جواب دیں"

اس پر میرا جواب یہ ہے

"اس عورت پر شیطان سوار ہے اور وہ تمہیں اس عورت کے ذریعے اس گناہ کی طرف دعوت دینے کی مسلسل کوشش کررہا ہے جس کے ذریعے وہ تم دونوں کے لباس اترواکر زنا کروائے گا اور اس کے بعد تم یا وہ عورت یا دونوں اللہ کے سامنے ذلیل و رسوا ہوجاوگے۔

شیطان نے حضرت آدم و حوا علیہ السلام کے لباس جنت میں اتروائے تھے اور اللہ نے تمہارے حقیقی والدین کو جنت سے نکال دیا تھا۔

اب سوچ لو کہ تم اللہ کے سامنے ذلیل ہونا چاہتے ہو یا شیطان کا کھیل خراب کرنا چاہتے ہو؟ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور ہر طرح وار کرے گا پینترے بدل بدل کر جب تک کہ وہ تمہارے نفس کو مجبور نہ کردے کہ تمہارا نفس تمہیں زبردستی گھسیٹ کر عورت کے ساتھ مس نہ کردے اور اس کے بعد باقی کام شیطان تمہارے برین کو کنٹرول کرکے کرے گا۔

شیطان خود بھی اس عورت سے تمہارے ذریعے مزے لے گا جیسے کسی ڈراونی مووی میں کسی انسان کے جسم میں بھوت داخل ہوجاتا ہے تو اپنے جسم کی ہوس بجھانے کے لیے عورت کا ریپ کرتا ہے ایسے تمہیں ٹریپ کرکے استعمال کیا جائے گا۔

لہذا ہوشیار رہو اور خود کو سنبھالو۔

جہاں تک بات ہے آفس جاب کی تو دیکھو کہ یہ جاب تمہیں اللہ نے دی ہے، تمہاری اپنی قابلیت کی اس میں وہ اہمیت نہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔

جب یہ جاب اللہ نے دی ہے تو وہ جب چاہے تمہیں اس جاب سے نکلوابھی سکتا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ تم اس عورت کے ساتھ اپنا منہ کالا کرو اور اس کے بدلے تمہیں سزا کے طور پر اللہ اس جاب سے نکلوادے؟

اگر ایسا ممکن ہے تو تب کیا کرو گے؟ ذلت در ذلت ملے گی اور جاب بھی ہاتھ سے جائے گی اور اللہ بھی ناراض ہوگا مگر شیطان خوش ہوگا کہ وہ کامیاب ہوگیا جبکہ اگر تم اللہ کے ڈر کی وجہ سے اور اللہ کو خوش کرنے کے لیے عورت کو ٹھکرا دو گے اور اللہ کو اپنا سہارا بناو گے تو اللہ کے لیے کوئی مسئلہ نہیں کہ اگر وہ عورت مکروفریب کرے تمہارے خلاف تو اللہ تمہاری مدد نہ کرسکے، اللہ اتنا کمزور نہیں ہے۔

کیا تم اتنے کمزور ہو؟

کیا تم شیطان کو کامیاب کرو گے؟

کیا تمہیں یقین نہیں کہ عورت کے چاہنے سے جاب ختم نہیں ہوسکتی جب تک کہ اللہ نہ چاہے؟

وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ

اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ ربّ العالمین نہ چاہے۔

جمعرات، 12 اکتوبر، 2023

باپ کا بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر حق

 از: محمد شمیم اختر قاسمی، شعبہ سنی دینیات، اے ایم یو، علی گڑھ

ایک باپ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے بچوں کے ساتھ ہی اچھا برتاؤ کرے اور ان کے ساتھ شفقت و ہمدردی سے پیش آئے اس کی دلجوئی اوراس کے کھیل کود، سیر و تفریح کے مواقع بھی فراہم کرے بلکہ سماج کے اور دوسرے بچوں کے بھی اس کے دل میں محبت و ہمدردی ہونی چاہیے۔ اوراس کے برعکس چھوٹوں کو چاہیے کہ وہ ادب و احترام کا مظاہرہ کریں۔ دراصل ایک گونہ ذمہ داری بڑوں کی ہے کہ وہ اپنے چھوٹوں کی زندگی بنانے اور سنوارنے پر متوجہ ہوں۔ اس کو اچھی تعلیم دیں اوراس کی عمدہ سے عمدہ تربیت کریں لغویات سے بچائے رکھیں اور یہ تمام خوبیاں جو سراسر اخلاق پر مبنی ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ میں بدرجہ اتم موجود تھی، جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے حق میں بہت شفیق تھے، ان سے ہنسی کھیل کرتے،اور ان کی دل جوئی کرتے، ٹھیک یہی طرز عمل آپ کا تھا۔ اور ایسے لوگوں کو پسند کرتے جو بچوں کی دلجوئی اور دل بستگی کی باتیں کرتے تھے، اور ان کے سامنے وہی بات اور کام کرتے جس کا مثبت اثر بچوں کی ذات پر پڑے۔ یہاں تک کہ اپنے اقوال حکیمانہ سے اس امر کی بھی وضاحت کی ہے کہ:

”باپ کا بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر حق ہے۔ باپ کا حق یہ ہے کہ بیٹا ہر حال میں اس کی اطاعت کرے، الا یہ کہ باپ کسی معصیت کی بات کا حکم دے، اس میں اس کا اتباع نہ کیا جائے، اور باپ پر بیٹے کا یہ حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے، اچھی تربیت کرے اور قرآن پڑھائے۔“

آج ہمارے معاشرہ میں باپ اور بیٹے دونوں کو ایک دوسرے سے شکایت ہے، اور دونوں ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں اور بعضے وقت صورت حال بہت خراب ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ سوائے اس کے اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم نے اس اخلاقی تعلیمات کو سرے سے بھلارکھا ہے۔ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور باغبان درخت کو بنانے اور سنورانے میں کتنی محنت اور جاں فشانی کرتا ہے ہم اور آپ سبھی جانتے ہیں۔ آج ہم بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے رجوع کرتے ہیں مغربی طریقہٴ تعلیم کی طرف اور قرآن جو سراپا ہدایت ہے اسے پس پشت ڈال رکھا ہے۔

اتوار، 8 اکتوبر، 2023

پاکستان کے غریب کیا کریں بجلی کا بل 35 ہزار روپے؟

اپنے میڈیا کے ذریعہ غریبوں کو پیغام دو کہ اسکولوں میں بچوں کو بھیجنا بند کردیں، گھروں سے بجلی کا کنکشن ختم کروالیں، یہ 35 ہزار بجلی کا بل حرام خوروں کو ادا کرنے اور ہزاروں روپے اسکول کے نام پر رٹا سسٹم والوں کی جیب میں بھرنے کے بجائے اپنے گھر محلہ یا گلی میں چھوٹا سا کاروبار شروع کریں اور اس کاروبار کے ذریعہ ہونے والی آمدنی سے ایک سولر سسٹم چھوٹا سا لگائیں، بیٹری لگائیں، سورج کی روشنی سے گھر کا ایک پنکھا چلائیں، فریج ٹی وی گھر سے بیچ دیں، سادگی پر آجائیں، پانی اور گیس سے باقی کام سنبھل جائے گا ان شاء اللہ۔


اپنی آمدنی کماکر اپنے ضروری اخراجات پورے کریں اور بجلی کے نام پر خصوصی طور پر پورے ملک میں بائیکاٹ کردیا جائے اور تمام غریب ان حرام خوروں سے بجلی سروس لینا بند کردیں۔ اس کے علاوہ پورے ملک کے غریب اپنے بزنس میں حرام خوری، جھوٹ بولنا، چوری کرنا، دھوکہ بازی کرنا، ملاوٹ کرنا، بچیوں کے ریپ کرنا، وغیرہ جیسے جرائم بھی بند کردیں ورنہ انہیں اس سے بھی ذیادہ ذلت کی مار پڑے گی۔ اللہ کے ساتھ کسی قسم کی دھوکہ بازی نہیں چلتی۔

اللہ اکبر

پیر، 25 ستمبر، 2023

جاہل مرد اور جاہل عورت

 جاہل شوہر بیوی کو کنٹرول کرنے میں لگا رہتا ہے اور عقلمند شوہر بیوی کو اپنے ساتھ چلاتا ہے۔

جاہل بیوی شوہر کو کنٹرول کرنے میں لگی رہتی ہے اور عقلمند بیوی شوہر کے ساتھ چلتی ہے۔

دونوں کو کس طرح زندگی گزارنی چاہیے اس کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی عورتوں سے شادیاں کرکے ایک وقت میں پریکٹیکل طور پر دکھادیا کہ شوہر اور کئی بیویاں کیسے زندگی گزارسکتے ہیں اور ان کی بیگمات نے بھی پریکٹیکل طور پر ثابت کردیا کہ بہت ساری بیویاں ملکر ایک شوہر کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہیں۔

اب جو مرد و عورت شیطان کے یار ہیں اور اسلام کے غدار ہیں یا منافق ہیں وہ تو ایک عورت بھی ساتھ نہیں چلا پاتے یا ان کے خدا بن کر انہیں اپنی نوکرانی یا باندی بنانے میں لگ جاتے ہیں یا شیطان کی غلام عورتیں مردوں کو اپنا غلام بناکر ان کی خدا بن جاتی ہیں اور ان کے مرد ان کے حکم پر اللہ کے خلاف جاکر پکے شیطان کے یار بن جاتے ہیں۔

اب جس کا جو دل چاہے کرے مگر جیسے ہی اس کی موت ہوگی اس کے ہوش ٹھکانے لگادیئے جائیں گے۔

ہفتہ، 5 اگست، 2023

جاہل عورت میری بات سنو

او جاہل عورت اور مسلمانی کے دعوے کرنے والی پڑھی لکھی ہونے کے غرور میں مبتلا فرعون میری بات غور سے سنو

اللہ نے تمہیں اس لیے اولاد نہیں دی کہ تم ان پر حکمرانی کرو اور ان کی شخصیت کو اپنی فرعونیت کے تلے دباکر ان کا بچپن ضائع کرو۔ اگر تم جاب کرکے کمارہی ہو اور ان کو اسکول بھیج رہی ہو تو تمہیں تب بھِی یہ حق نہیں کہ تم اپنے بچوں پر مار پیٹ اور ظلم و تشدد اور مینٹل ٹارچر کرو ،بے غیرت ہو تم۔

اللہ نے تمہیں ایسا کوئی حق نہیں دیا کہ ظالم بن کر بچوں پر تشدد کرو۔ اللہ کی لعنت ہو تم پر اور اللہ تمہیں غارت کرے۔ تم جیسی منحوس اور ظالم نام نہاد مسلم عورتیں جو خود کو ڈگری یافتہ پڑھی لکھی کہتی ہو محض جانور ہو بلکہ ان سے بھی بدتر ہو کیونکہ تم مسلمانی کا دعوی کرنے کے باوجود اپنی عقل استعمال کرنے سے محروم ہو۔

تمہاری ڈگری تمہاری تعلیم نہیں بلکہ جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ تمہیں اتنی ڈگریاں لینے کے بعد بھی چھوٹے بچوں سے بات کرنے کا سلیقہ اور ادب اور تہذیب نہ آسکی اور تم ان پر اپنی خرافات اور گندگی نکالتی ہو۔ مسائل تمہارے اپنے آفس کے ہوتے ہیں مگر سارا دن تمہیں جب موقع لگ جائے تو تم بچوں کے کان خراب کرتی ہو۔ ان پر چِیخ چلاتی ہو۔ بے غیرت ہو تم

تمہارا شوہر تمہیں منع کرتا ہے تو تم اسے ذلیل کرنے لگ جاتی ہو، بے غیرت ہو تم

تم پر تو اللہ کی لعنت ہے اور تم اسے نعمت سمجھ رہی ہو، جاہل بھی ہو تم

دو چار حج عمرہ کرکے ایصال ثواب کرکے تم خود کو فاطمہ الزہرہ سمجھ رہی ہو، گنوار ہو تم

تمہاری یہ دولت، شہرت، عیش و عشرت تمہیں کامیابی نظر آتی ہے؟ پاگل ہو تم

حقیقت سے غافل ہو تم

جس دن موت کا فرشتہ تمہاری روح باہر نکالے گا تب تمہیں اپنے کرتوتوں اور بےحیائی کا علم اور شعور حاصل ہوگا مگر تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی اور تب تم اللہ سے رو رو کر معافیاں مانگو گی مگر تب تمہیں تمہارے گھٹیا اعمال کا بدلہ بھرپور دیا جائے گا۔

جس طرح تم نے بچوں پر تشدد کیا ہے اس کا بدلہ تم سے ضرور لیا جائے گا۔

جس طرح تم نے بچوں کو ڈرایا دھمکایا ہے اور ان کی شخصیت تباہ کی ہے اس کا بدلہ تم سے ضرور لیا جائے گا۔

کیونکہ تم تو اپنے غرور میں ایسی گم ہو کہ تمہیں اللہ معافی مانگنے کی توفیق بھی نہیں دیتا۔ اتنا کافی نہیں؟

بے شک عقل والی مسلم عورت کے لیے اتنا بھی کافی ہے کہ وہ سنبھل جائے مگر جانوروں سے بدتر نام نہاد مسلم عورتیں نہ سنبھل پاتی ہیں اور نہ سدھرتی ہیں بلکہ اپنی بےحیائی، نافرمانیوں اور شوہروں کو ذلیل کرنے اور بچوں کو تباہ کرنے کو عقلمندی اور ہوشیاری سمجھتے ہوئے جہنم واصل ہوجاتی ہیں۔

تم نے جنت اپنے باپ کی جاگیر سمجھ لی ہے کہ تم جو مرضی کرو اور تمہیں جنت دے دی جائے؟

بچوں پر ظلم کے بدلے تمہیں جنت دی جائے؟

شوہر کو ذلیل کرنے کے بدلے تمہیں جنت دی جائے؟

اپنے جسم کی نمائش اپنے آفس جاکر کرنے پر تمہیں جنت دی جائے؟

باہر غیر مردوں میں گلچھڑے اڑانے کے بدلے تمہیں جنت دی جائے؟

ماں باپ کے ساتھ بدتمیزی کرنے کے بدلے تمہیں جنت دی جائے؟

اللہ اور محمد رسول اعظ٘م صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غداری کرنے کے بدلے تمہیں جنت دی جائے؟

تم ہو کس خوش فہمی کے اندر؟

تمہاری اوقات ہے کیا؟

دو کوڑی کی عورت ہو تم اور غرور تمہارا آسمان جتنا؟

یہ ہے تمہاری اصل اوقات جو میں نے تمہیں دکھادی ہے۔

اب بھی وقت ہے۔

باز آجاو اور سدھر جاو۔

ورنہ اللہ نے جس دن تمہیں اپاہج کردیا یا فالج کردیا یا بدترین عذاب میں گرفتار کیا تو کوئی تمہیں اللہ سے بچانے والا مددگار نہ مل سکے گا اور تمہیں تب یاد بھِی نہ ہوگا کہ تم نے اپنے ماضی میں کیا کچھ کیا تھا جس کا یہ بدلہ ہے۔

سدھر جاو اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔

اتوار، 10 اکتوبر، 2021

مجرم کون، مذہبی کاروباری یا سائنسی کاروباری؟

ایک جرمن فلاسفر نطشے سے منسوب پوسٹ سامنے آئی جس پر لکھا ہوا تھا کہ "مذہبی کاروبا رکرنے والوں نے قوموں کو حقیقت کا مقابلہ کرنے کے بجائےفرار کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ لوگ محض دعاوں اور عبادات کو دنیا کے مسائل کا حل سمجھتے ہیں" ~ جرمن فلاسفر نطشے

میرے نزدیک سائنس والے بھی کم مجرم نہیں ہیں لہذا تصویر کا دوسرا عکس یہ ہے "سائنسی کاروبار کرنے والوں نے قوموں کو حقیقی خدا کو قبول کرنے کے بجائے فرار کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ لوگ محض دواوں اور سائنس کو دنیا کے مسائل کا حل سمجھتے ہیں" ~ پاکستانی فلاسفر لیجنڈ

لہذا آئندہ سے جرمن یا دیگر ممالک کے کسی غیرمسلم فلاسفر کو عقلمند سمجھنے کے بجائے مسلم فلاسفر کو کفار ومشرکین سے بہتر سمجھا جائے کیونکہ کائنات کے بادشاہ اللہ واحد القہار اور اس کے آخری نبی محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت کو تسلیم نہ کرنے والے تمام غیرمسلم فلسفی کسی بھی طور پر عقلمند کہلانے کے مستحق نہیں ہیں ۔

خود کو فلسفی، سائنسی و افلاطون سمجھنے والے تمام لوگ اگر غیرمسلم ہیں اور اللہ کو خدا تسلیم نہ کرسکیں تو یہ واضح ثبوت ہے کہ وہ اپنی عقل استعمال نہیں کرسکتے ۔ اور جو اپنی عقل استعمال نہ کرسکیں انہیں فالو کرنا حماقت ہے۔

اتوار، 29 اگست، 2021

پاکستان میں غربت کی سب سے بڑی وجہ آپ کی نظر میں کیا ہے؟

غربت کی اصل وجہ اور جڑ دنیا میں بہت سے خداوں کا وجود ہے۔ صدیوں پرانے انسانوں نے اپنے جیسے انسانوں کو خدا کا درجہ دے کر ان کی پوجا کرنا شروع کردی تھی اور ان کے علاوہ دیگر مخلوقات کو خدا بنادیا ۔

ان کے بعد آنے والی نسلوں نے بغیر تحقیقات کئےاپنے باپ دادوں کی باتوں اور کہانیوں پر اندھا ایمان لاکر ان کے سکھائے ہوئے ناموں کو خدا سمجھ کر یقین کرنا شروع کردیا اور پھر یہی اولادیں جوان ہوئیں تو کوئی ڈاکٹر بن گیا، کوئی فوج میں چلا گیا، کوئی مذہبی پیشوا بن گیا تو کوئی کچھ اور بن گیا وغیرہ وغیرہ

اکیسویں صدی میں اگر ایک عقل مند اور غیرجانبدار انسان دنیا بھر کا جائزہ لے تو اس کو اندازہ ہوجائے گا کہ دنیا بھر میں جنگوں اور ہتھیاروں پر ٹریلین ڈالرز خرچ ہوتے ہیں اور انسان ایک دوسرے کو اپنے اپنے خداوں کے ناموں پر جان سے ماررہے ہیں۔

اس سے ایک عقل مند انسان سمجھ لے گا کہ چونکہ خداوں کے وجود کا فیصلہ نہیں کیا جارہا اور آپس میں جنگیں ختم کرنے پر کام نہیں ہورہا بلکہ مسلسل ایک دوسرے کے ممالک کے خلاف ہتھیاروں پر ٹریلین ڈالرز خرچ کررہے ہیں لہذا اپنے اپنے ممالک کے غریبوں کی فلاح پر خرچ کرنے کے لیے بہت ذیادہ انویسٹ نہیں کرپاتے وہاں کے حکمران ۔

اس کے نیتجہ میں اس ملک میں رہنے والے بہت سے غریب و مجبور لوگ مہنگائی، جرائم و دیگر برائیوں میں ملوث نظر آتے ہیں کیونکہ ان کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں ہوتیں جبکہ دوسری جانب خداوں کے ناموں پر قتل و غارت جاری ہے ۔

بجائے یہ کہ تمام بڑے بڑے مذاہب کے بڑے بڑے مذہبی پیشوا ملکر اکٹھے ہوتے کسی ٹی وی چینل پر اور ایک مرتبہ خداوں کے وجود اور کس مذہب کا خدا واقعی سچا ہے کا فیصلہ کرلیتے تاکہ دنیا کی عوام کو معلوم ہوجاتا کہ سچا خدا اور سچا دین کونسا ہے یہ بڑے بڑے مذاہب کے پیشوا اپنی اپنی عوام کو جھوٹی کہانیاں سنا سنا کر اپنے خیالی خداوں کی پوجا پر لگاکر رکھے ہوئے ہے اور اپنی شہرت کے ڈنکے بجوارہے ہیں۔

غربت ختم کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ جس دین کا خدا پریکٹیکل ثبوتوں کے ذریعہ سچا ثابت ہوجائے دنیا بھر کے انسان اسی خدا کو تسلیم کرلیں اور کھربوں ڈالرز خداوں کے نام پر جنگوں میں خرچ کرنے کے بجائے اپنے اپنے ممالک میں رہنے والے غریب انسانوں کی فلاح پر خرچ کریں۔

اسی طرح پاکستان سمیت دنیا بھر سے غربت و جہالت ختم کی جاسکتی ہے بصورت دیگر جتنا مرضی کوششیں کرلی جائیں جب تک سچے خدا کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا اور اس کے سچے دین کو تمام ادیان و مذاہب پر غالب نہیں کیا جائے گا، دنیا بھر کے غریبوں سمیت اکثر انسان ذہنی غلامی ، مایوسی اور فرسٹیشن کا شکار رہیں گے کیونکہ جنگوں کے سبب پاکستان سمیت دیگر ممالک کے پاس موقع نہیں ہوگا کہ اپنے اپنے ممالک کی عوام پر سہولت سے دولت خرچ کرسکیں۔

بدھ، 21 جون، 2017

دنیا بھر کے مسلمان اکیسویں صدی میں عالمی طاقت کیوں نہیں بن پارہے ؟

 میرے علم ، فراست اور دنیا پر نظر کے مطابق فرقہ پرست مسلمانوں کی اکثریت نے اپنی کوششیں اپنے فرقوں کی ترقی اوردیگر فرقوں کو کافر و مشرک قرار دینے تک محدود کرلی ہیں جبکہ  دنیا کی طرف ذیادہ رجحان اور لگاو رکھنے والے اکثر مسلمانوں کو دین اسلام  تمام باطل ادیان و مذاہب پر غالب کرنے سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے لہذا روئے زمین پر تقریبا ستر فیصد غیرمسلموں کے سامنے مسلمانوں کی تقریبا پچیس فیصد آبادی ناکارہ ہوچکی ہے۔ باقی کے پانچ فیصد مسلمانوں میں سے کتنے فیصد سو فیصد اخلاص کے ساتھ غلبہ اسلام کے لیے کوششیں کررہے ہیں وہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔

اسی لیے عملی طور پر مسلمان اکیسویں صدی میں عالمی طاقت نہیں بن پارہے   نیز میں بغیر کوشش کے خالی دعاوں کا قطعی قائل نہیں۔یہ انبیاء کرام کا طریقہ نہیں اور نہ ہی اللہ کا ۔اگر ایسا ہوتا تو  تقریبا دو ارب مسلمانوں کی صرف دعاوں سے دنیا کی کایا پلٹ چکی ہوتی اللہ کے حکم سے۔ 

اگر اللہ کے وعدے پر بغیر کوشش کیے ہی بیٹھنا اسلام کی حقیقی تعلیمات ہوتیں تو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ کرام عملی طور پر جنگوں کے میدان کے بجائے مصلے بچھاکر دعاوں کے ذریعہ معجزات و کرامات کے بل بوتے پر سارے کارنامے سرانجام دیتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔یہاں تک کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد  حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی عملی طور پراسلام کو غالب کرنے میں مصروف رہےاور مسلم دنیا جانتی ہے کہ انہوں نے اسلام کو کس قدر غالب کیا تھا اللہ کی مدد اور حکم سے  تو  کیا یہ سارے کام صرف دعاوں سے ہوئے ؟

آج اکیسویں صدی میں رہنے والے مسلمانوں کی اکثریت سے   آپ اسلام غالب ہوجانے کی امید لگائیں گے؟

ان کا مقصد اپنے اپنے فرقوں ، جماعتوں، تنظیموں ، اداروں وغیرہ کی تبلیغ اور چودہراہٹ قائم کرنا، مخالفین کو کافر و مشرک قرار دینا، علمی اختلاف کرنے والے کو دشمن اسلام سمجھ کر اس کے خلاف جھوٹے  بیانات اور سازشیں کرنا اور اپنے ہاتھ میں قرآن و حدیث لے کر خود کو اسلام کا ٹھیکے دار ثابت کرکے چندہ، خیرات و   صدقات کے ذریعہ عوام کو دھوکے میں رکھنا ہے۔

علمائے حق تو آج بھی موجود ہیں لیکن مجموعی طور پر فرقہ پرستی کے زہر میں ڈوبے  فرقی مسلمانوں میں نفرت کی آگ اس قدر بھیانک طریقے سے بھڑک رہی ہوتی ہے کہ یہ دوسرے فرقے کے مسلمان کو برداشت کرنا تو بہت دور کی بات ہے، اسے مسلمان ہی نہیں مانتے اسی لیے اس کو دوبارہ مسلمان کرکے اپنے فرقے میں گھسیٹنے کے لیے کوششیں کررہے ہوتے ہیں تو یہ اپنی توجہ غلبہ اسلام پر کدھر سے لے کر جائیں گے؟

امید ہے کہ اب آپ کو سمجھ آگئی ہوگی کہ دنیا بھر کے مسلمان اکیسویں صدی میں عالمی طاقت کیوں نہیں بن پارہے ؟   ایسے حالات میں دنیا میں تبدیلی دیکھنے کے خواہشمند اکثر مسلم صرف خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں اور یہ حقیقت ہمارے لیے ایک زناٹے دار تمانچہ ہے۔