اسلام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اسلام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 11 نومبر، 2025

اللہ ماوں کے پیٹ میں بچے بناتا ہے

تمہیں اتنے سالوں میں آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہر بچہ مسلم پیدا ہوتا ہے اور اسے اس کی ماں کے پیٹ میں "اللہ" نے بنایا ہے؟ اگر کوئی شک ہے تو اپنے ہاتھوں پر غور سے دیکھو کہ عربی میں "اللہ" لکھا ہوا ہے ورنہ یوٹیوب اور گوگل کرلو"Name of Allah in Hands" - اتنا ثبوت کافی ہے کہ تم مسلم پیدا ہوئے تھے۔ تمہاری نجات صرف اسلام میں ہے لہذا خود کو خدا سمجھنے، نبی سمجھنے یا ایسی خرافات سے باہر نکلو۔ باقی علم حاصل کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ۔

میں جانتا ہوں کہ تم کافی سمجھدار ہو اس لیے سمجھارہا ہوں تاکہ موت کے بعد تم جنت میں جاسکو اور غیرمسلم رہ کر جہنم میں داخل نہ ہوجاو۔ میرا یوٹیوب چینل: Legend Muhammad Zeeshan Arshad چیک کرلو۔ تمام غیرمسلموں کو ان کے جھوٹے خداوں پر بے بس کرکے رکھا ہوا ہے کیونکہ کائنات کا اصلی سچا خدا صرف اللہ ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے آخری اور سچے رسول ہیں۔اسلام کے سوا کسی دین میں تمہارے لیے کوئی نجات نہیں ہے۔

جمعہ، 13 جون، 2025

غیرمسلم اسلام کیوں قبول کریں؟

 غیرمسلم اس لیے اسلام قبول کریں تاکہ وہ موت کے بعد بھڑکتی ہوئی آگ اور دردناک سزاوں میں جانے سے خود کو بچاسکیں جو اللہ نے کافروں کے لیے تیار کرکے رکھی ہوئی ہے۔

غیرمسلم دنیا میں جتنی چاہے ترقی کرلیں، جتنا چاہے کام کرلیں، دولت شہرت عزت کامیابی حاصل کریں، یہ سب ان کی موت کے بعد انہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکے گی۔

موت کے بعد صرف ایمان بچائے گا اور اس کے لیے اسی زندگی میں اللہ اور اس کے آخری نبی حضرت محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ہوگا۔ انہیں ماننا پڑے گا۔ اگر کوئی غیرمسلم اللہ کا انکار کرے تو جہنم میں داخل ہوگا۔ اگر کوئی غیرمسلم اللہ کو مانے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرے، وہ بھی کافر ہے اور جہنم میں داخل ہوگا۔

جہاں تک یہ بات ہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ صرف اسلام اللہ کا دین ہے اور اللہ اس کائنات کا اصلی خدا ہے؟

اس کے ثبوت کے لیے مندرجہ ذیل یوٹیوب چینل اور ویب سائٹس دیکھی جاسکتی ہیں۔

YouTube Channels:

Websites:

اللہ کی سزائیں بستیوں پر

 بچپن میں جب قرآن میں ان بستیوں کا ذکر پڑھتی تھی جن پر اللہ کا عذاب آیا اور سب کے سب ہلاک ہو گئے، تو یہ سوال دل میں اٹھتا تھا کہ ان میں جو نیک اور بے گناہ لوگ تھے ان کا کیا قصور تھا؟ وہ بھی ساتھ کیوں ختم ہو گئے؟ وقت گزرنے کے ساتھ جب میں نے دنیا کے نظام، خاص طور پر اپنے ملک کی سیاست، جاگیردارانہ نظام اور طاقت کے غلط استعمال کو دیکھا تو اندازہ ہوا کہ جب ایک نظام مکمل طور پر ظلم، بددیانتی اور ناانصافی پر قائم ہو جائے، تو پھر اس کی اصلاح کا ایک ہی طریقہ رہ جاتا ہے کہ وہ مکمل طور پر الٹ دیا جائے۔ ایسے میں جو نیک لوگ ہوتے ہیں ان کی ہلاکت دراصل ان کے لیے نجات بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں۔ مگر نیک لوگ معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز نہ اٹھائیں اور صرف اپنی عبادت اور ذاتی نیکی میں محدود ہو جائیں تو وہ خاموشی بھی گناہ بن جاتی ہے۔ اور جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو وہ صرف بدکاروں پر نہیں بلکہ ان سب پر آتا ہے جو برائی کو روکنے میں ناکام رہے ہوں۔ بعض اوقات اللہ نیک لوگوں کو فتنوں سے بچانے کے لیے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لیتا ہے۔ اس لیے کسی بستی کی مکمل تباہی دراصل ایک بیمار نظام کی جڑ سے صفائی اور نئے آغاز کی تیاری ہوتی ہے۔

ایسی بات نہیں ہے۔ اللہ نیک لوگوں پر عذاب نہیں بھیجتا۔ قرآن کے مطابق اکثر لوگ ظالم فاسق ہیں لہذا اللہ اپنے قانون کے مطابق ظالموں کو سزائیں دیتا ہے۔ ان کے ذریعے صاف واضح ہے کہ بسیتوں کے لوگ ظالم ہوتے تھے اور یہی آجکل واضح ہے لہذا اللہ اپنی سنت کے مطابق کام کرتا رہتا ہے۔ لوگوں کو شعور نہیں کہ وہ اللہ کو صرف لفاظی کے ذریعے بےوقوف نہیں بناسکتے کہ منہ سے کلمہ پڑھ لیا اور کام سارے کافروں والے کرتے رہیں۔ اللہ کے نزدیک دو اہم طبقات ہیں، ایمان والے یا پھر کفر کرنے والے کافر، اور کفر کرنا انکار کرنا ہوتا ہے اور انکار کرنے والا "عمل نہیں کرتا" تو عملا کافر بھی کافروں کی category میں شمار ہوجاتا ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے اکثر لوگ جاہل ہیں اور غافل ہیں۔

پھر ہم نے وہاں سے اُن لوگوں کو نکال لیا جو مومن تھے، اور ہم نے اس بستی میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا کوئی نہ پایا۔ سورہ الذاریات (51)، آیت 35-36

اور اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہوتی ہے جب وہ ظلم کرنے والی بستیوں کو پکڑتا ہے۔ بے شک اس کی پکڑ بہت دردناک اور سخت ہے۔ سورۃ ہود (11:102)

اور کتنی ہی ظالم بستیاں ہم نے تباہ کر دیں، اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ سورۃ الانبیاء (21:11)

اور آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکزی مقام میں کوئی رسول نہ بھیج دے جو ان پر ہماری آیات تلاوت کرے، اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کرتے مگر جب ان کے رہنے والے ظالم ہوں۔ سورۃ القصص (28:59)

اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پھر وہ نافرمانی کرتے ہیں، تو ان پر بات ثابت ہو جاتی ہے، پھر ہم اسے پوری طرح تباہ کر دیتے ہیں۔ سورۃ بنی اسرائیل (17:16)

اتوار، 16 مارچ، 2025

Stories of Islam (اسلامی کہانیاں)

اس پیج پر صرف ایسے قصے کہانیاں موجود ہیں جنہیں سنانے والوں کا انداز بہت پیارا اور زبردست ہے۔ مجھے جو بہترین لگے میں صرف انہیں یہاں جمع کرنے لگا ہوں۔ اگر اللہ نے توفیق دی تو اس پیج پر مزید قصے کہانیں شامل کرتا جاوں گا۔ جب تک آپ یوٹیوب پر سرچنگ کے ذریعے خود تلاش کریں۔

Hazrat Khadija



Namrood Ki Beti

Hazrat Zakariya Ka Qissa

 

بدھ، 26 فروری، 2025

کیا حضرت محمدﷺ زندہ ہیں؟

بے شک حضرت محمدﷺ زندہ ہیں۔ان کی قبر کے اندر ان کاانسانی جسم صحیح سالم حالت میں رکھا ہوا ہے بغیر کیمیکل استعمال کیے۔اللہ نے ان کے جسم کی حفاظت کی ہے اور وہ سڑنے گلنے سے محفوظ ہے ہمیشہ کے لیے۔ جبکہ برزخ میں وہ اپنی نئی زندگی گزار رہے ہیں جہاں تمام کفار جہنم کے عذاب میں قید ہیں اور بدترین تشدد کا نشانہ بنے ہوئے ہیں عذاب کے فرشتوں کے ہاتھوں کیونکہ انہوں نے اپنی من مانی زندگی گزاری اور حضرت محمدﷺ کو اللہ کا آخری پیغمبر نہیں مانا۔


تم سب بھی حضرت محمدﷺ کو اللہ کا آخری پیغمبر تسلیم کرلو اور خود کو جہنم سے بچالو ان کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق اپنی زندگی گزار کر ورنہ اس ذلت و خواری کے لیے تیار رہو جو اللہ نے کافروں کے لیے تیار کرکے رکھی ہوئی ہے۔


جہاں تک اس دنیا کی ظاہری زندگی ہے تو بے شک فزیکل طور پر ان کا انتقال ہوچکا ہے اور انہوں نے موت کا ذائقہ چکھ لیا ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم انہیں "مردہ" قرار دو جبکہ وہ اللہ کے نزدیک بھی زندہ ہیں اور حقیقی طور پر بھی زندہ ہیں۔


اب اپنی اس قسم کی بحث و مباحثہ سے باہر نکل آو کہ وہ اپنی قبر میں زندہ ہیں یا مردہ؟ اور جاکر اس طریقے کے مطابق اپنی زندگی گزارو جیسا کرنے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اگر تم مومن ہو۔


لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

اتوار، 2 فروری، 2025

درگزر کیا ہے؟

درگزر ایک عظیم اخلاقی اور دینی قدر ہے جو لوگوں کی غلطیوں اور خطاؤں کو معاف کرنے اور درگزر کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو دل کی سکون، محبت، اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔

درگزر کی اہمیت:

  1. معاشرتی ہم آہنگی: درگزر کرنے سے معاشرتی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں۔

  2. دل کی سکون: معاف کرنے سے دل میں سکون اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔

  3. اللہ کی رضا: اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے، کیونکہ درگزر اللہ تعالی کی صفات میں سے ایک ہے۔

قرآن و احادیث میں درگزر کی اہمیت:

  • قرآن: "اور جو غصہ پینے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، اللہ ایسے نیکوکاروں کو دوست رکھتا ہے۔" (سورة آل عمران: 134)

  • حدیث: "اللہ رحم کرے اس بندے پر جو غصہ کو پی جاتا ہے، اس کو معاف کرتا ہے اور درگزر کرتا ہے۔" (ابو داود)

درگزر کے فوائد:

  • روحانی فوائد: دل کی پاکیزگی اور روحانی سکون ملتا ہے۔

  • معاشرتی فوائد: معاشرتی تعلقات میں بہتری آتی ہے اور محبت بڑھتی ہے۔

  • ذہنی سکون: درگزر کرنے سے ذہنی سکون اور راحت حاصل ہوتی ہے۔

درگزر کرنے کے عملی طریقے:

  • غلطیوں کو بھول جائیں: دوسروں کی غلطیوں کو یاد نہ رکھیں اور انہیں بھول جائیں۔

  • مثبت سوچ: منفی خیالات کی بجائے مثبت سوچ اختیار کریں۔

  • دعا: اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو درگزر کرنے کی صلاحیت عطا فرمائے۔

درگزر ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو اخلاقی اور روحانی طور پر بلند کرتی ہے اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔

غصہ کیا ہے؟

غصہ ایک جذباتی ردعمل ہے جو انسان میں ناپسندیدہ یا ناقابل قبول صورت حال کا سامنا کرتے وقت پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک طاقتور اور شدید احساس ہے جو اکثر جذباتی عدم توازن کی علامت ہوتا ہے۔

غصہ کی وجوہات:

  • ناانصافی: جب کسی کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو غصہ آ سکتا ہے۔

  • مایوسی: کسی خواہش یا مقصد کے پورا نہ ہونے پر مایوسی پیدا ہو سکتی ہے۔

  • ذاتی حملہ: جب کسی کی عزت یا خود اعتمادی پر حملہ ہوتا ہے تو غصہ آ سکتا ہے۔

  • خوف: خوف بھی غصے کی وجہ بن سکتا ہے۔

غصہ کی علامات:

  • دل کی دھڑکن تیز ہونا

  • سانس لینے میں تیزی

  • پسینہ آنا

  • جسم کا کانپنا یا لرزنا

  • آواز میں تیزی اور سختی

غصے کے نقصانات:

  • صحت کے مسائل: غصہ دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر جسمانی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

  • تعلقات میں بگاڑ: غصہ رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ تعلقات کو خراب کر سکتا ہے۔

  • ذہنی سکون کا فقدان: غصے کی حالت میں انسان ذہنی سکون سے محروم ہو جاتا ہے۔

غصہ قابو کرنے کے طریقے:

  • گہری سانس لیں: غصے کی حالت میں گہری سانس لینے سے سکون حاصل ہوتا ہے۔

  • خاموش رہیں: کچھ دیر کے لیے خاموش رہیں اور خود کو ٹھنڈا کرنے دیں۔

  • توجہ ہٹائیں: کسی اور سرگرمی میں مشغول ہو کر توجہ ہٹائیں۔

  • مثبت سوچ: منفی خیالات کو مثبت سوچ میں تبدیل کریں۔

غصہ ایک انسانی جذبات ہے لیکن اس کا صحیح طریقے سے قابو پانا بہت ضروری ہے تاکہ یہ ہماری صحت اور تعلقات پر منفی اثرات نہ ڈالے۔

صبر کیا ہے؟

صبر ایک عظیم اخلاقی قدر ہے جو مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرتے ہوئے تحمل، استقامت، اور اللہ تعالی پر بھروسہ کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ صبر اسلامی تعلیمات کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کا مطلب ہے مشکلات اور مصیبتوں میں دل کی سکون اور اللہ کی رضا کے ساتھ رہنا۔

صبر کی اقسام:

  1. صبر علی البلاء: آزمائشوں اور مشکلات پر صبر کرنا۔

  2. صبر علی الطاعة: اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے صبر کرنا۔

  3. صبر عن المعصية: گناہوں سے بچتے ہوئے صبر کرنا۔

صبر کے فوائد:

  • دل کی سکون: صبر سے دل کی سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

  • اللہ کی رضا: صبر کرنے سے اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔

  • معاشرتی ہم آہنگی: صبر سے معاشرتی تعلقات بہتر ہوتے ہیں اور محبت و احترام بڑھتا ہے۔

  • ثواب: صبر کرنے والے کو اللہ تعالی عظیم اجر عطا کرتا ہے۔

قرآن و احادیث میں صبر کی اہمیت:

  • قرآن: "اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔" (البقرة: 153)

  • حدیث: "صبر نصف ایمان ہے اور یقین مکمل ایمان ہے۔" (ابن ماجہ)

صبر ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو زندگی کی مشکلات میں مضبوط اور مستحکم بناتی ہے۔ یہ ایمان کی مضبوطی اور اللہ تعالی پر یقین کا مظہر ہے۔

موت کیا ہے؟

موت ایک قدرتی اور حتمی حقیقت ہے جو زندگی کے اختتام کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں زندگی کے حیاتیاتی اور جسمانی عمل ختم ہو جاتے ہیں اور انسان کی روح اس کے جسم سے جدا ہو جاتی ہے۔

اسلامی نقطہ نظر سے، موت ایک عارضی حالت ہے جو آخرت کی زندگی کا آغاز کرتی ہے۔ موت کے بعد انسان کے اعمال کی بنیاد پر اس کی جزا و سزا کا فیصلہ ہوتا ہے۔

موت کی علامات:

  • دل کی دھڑکن اور سانس کی روانی کا بند ہو جانا۔

  • جسم کا ٹھنڈا اور ساکن ہو جانا۔

  • شعور اور حواس کا ختم ہو جانا۔

اسلامی عقائد:

  • موت کے بعد کی زندگی میں ایمان رکھنا۔

  • قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیے جانے پر یقین رکھنا۔

  • جنت اور جہنم پر ایمان رکھنا۔

موت کا سامنا کیسے کیا جائے؟

  • اللہ کی رضا کے ساتھ صبر اور شکر کا مظاہرہ کریں۔

  • نماز جنازہ اور دیگر اسلامی تعلیمات پر عمل کریں۔

  • مرحوم کے لیے دعاء اور مغفرت طلب کریں۔

موت ایک حقیقت ہے جسے ہر انسان کو قبول کرنا ہوتا ہے۔ یہ زندگی کا ایک حصہ ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیاوی زندگی عارضی ہے اور آخرت کی تیاری ضروری ہے۔

اسلام کیا ہے؟

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک توحیدی مذہب ہے جو اللہ تعالی کی عبادت اور اُس کے احکامات کی پیروی پر مبنی ہے۔ اسلام کے بنیادی عقائد اور تعلیمات درج ذیل ہیں:

بنیادی عقائد:

  1. توحید: اللہ تعالی کی وحدانیت پر ایمان رکھنا۔

  2. نبوت: حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا آخری نبی ماننا۔

  3. آخرت: قیامت، جنت اور جہنم پر ایمان رکھنا۔

  4. کتابیں: اللہ کی بھیجی ہوئی کتابوں پر ایمان رکھنا۔

  5. فرشتے: اللہ کے فرشتوں پر ایمان رکھنا۔

  6. تقدیر: اللہ کی تقدیر اور قضا و قدر پر ایمان رکھنا۔

پانچ ارکانِ اسلام:

  1. کلمہ شہادت: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

  2. نماز: روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھنا۔

  3. روزہ: رمضان کے مہینے میں روزے رکھنا۔

  4. زکوٰۃ: مال و دولت کا مخصوص حصہ خیرات کرنا۔

  5. حج: زندگی میں ایک بار مکہ مکرمہ کا حج کرنا، بشرطِ استطاعت۔

اسلامی اخلاقیات:

  • عدل و انصاف: ہر معاملے میں انصاف کرنا۔

  • رحم و کرم: دوسروں کے ساتھ محبت اور رحم دلی سے پیش آنا۔

  • صدقہ و خیرات: ضرورت مندوں کی مدد کرنا۔

  • عفو و درگزر: لوگوں کی غلطیوں کو معاف کرنا۔

اسلام کی تعلیمات انسان کو روحانی سکون، اخلاقی راہنمائی اور معاشرتی ہم آہنگی فراہم کرتی ہیں۔ یہ ایک ایسا نظامِ زندگی ہے جو انفرادی اور اجتماعی سطح پر بھلائی اور فلاح کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

اچھا اخلاق کیا ہے؟

اچھا اخلاق ایک ایسی انسانی خصوصیت ہے جو لوگوں کے درمیان محبت، احترام اور ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔ یہ اخلاقی اقدار اور طرزِ عمل کا مجموعہ ہے جو انسان کو دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک، انصاف اور رحم دلی سے پیش آنے کی ترغیب دیتا ہے۔

اچھے اخلاق کی مثالیں:

  • دوسروں کے ساتھ احترام اور عزت سے پیش آنا۔

  • سچ بولنا اور دیانتداری کا مظاہرہ کرنا۔

  • مشکلات میں دوسروں کی مدد کرنا اور انہیں تسلی دینا۔

  • معاف کرنے کی صلاحیت رکھنا اور دوسروں کی غلطیوں کو درگزر کرنا۔

  • مہمان نوازی اور سخاوت کا مظاہرہ کرنا۔

اچھے اخلاق کے فوائد:

  • معاشرتی تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں۔

  • دل کی سکون اور خوشی کا باعث بنتے ہیں۔

  • دوسروں کے دلوں میں محبت اور عزت پیدا کرتے ہیں۔

  • اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔

اچھا اخلاق نہ صرف ہماری زندگی کو بہتر بناتا ہے بلکہ دوسروں کے دلوں میں محبت اور احترام پیدا کرتا ہے۔ 😊

نرمی کیا ہے؟

نرمی ایک انسانی خصوصیت ہے جو محبت، رحم دلی، اور عفو پر مبنی ہے۔ یہ اخلاقی اقدار میں سے ایک ہے جو لوگوں کے درمیان محبت، احترام، اور ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔ نرمی کا مطلب ہے دوسروں کے ساتھ نرم لہجے میں بات کرنا، ان کی غلطیوں کو معاف کرنا، اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا۔

نرمی کی مثالیں:

- کسی کے ساتھ نرمی سے پیش آنا اور ان کے جذبات کا خیال رکھنا۔

- اگر کوئی غلطی کرے تو انہیں معاف کرنا اور ان کی اصلاح کرنا۔

- دوسروں کے ساتھ تحمل اور صبر سے پیش آنا۔

- کسی کے مشکلات میں ان کی مدد کرنا۔

نرمی کے فوائد:

- معاشرتی تعلقات کو مضبوط بناتی ہے۔

- دل کی سکون اور محبت کو فروغ دیتی ہے۔

- اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔

نرمی کا مظاہرہ کرنا ایک اعلیٰ اخلاقی قدر ہے جو انسان کو دیگر لوگوں کے دلوں میں محبوب بناتی ہے۔ 😊

صلہ رحمی کیا ہے؟

 صلہ رحمی ایک اسلامی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے رشتہ داروں کے ساتھ محبت اور پیار سے پیش آنا، ان کی مدد کرنا، اور ان کے حقوق کا خیال رکھنا۔ یہ ایک اہم فریضہ ہے جو قرآن اور احادیث میں بارہا تاکید کی گئی ہے۔

صلہ رحمی میں شامل ہیں:

- رشتہ داروں کی مالی مدد کرنا

- ان کی خوشی اور غم میں شامل ہونا

- بیماری میں ان کی تیمارداری کرنا

- ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا

- آپس میں میل جول رکھنا اور دوریوں کو ختم کرنا

یہ عمل نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی اور محبت کو فروغ دیتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔

منگل، 14 جنوری، 2025

کیا ولی مردے زندہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟

بے شک اللہ کے دوست مردے زندہ کرسکتے ہیں البتہ۔۔۔

 مردے کو زندہ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔

مردہ اسی صورت میں زندہ ہوتا ہے جب اللہ کا حکم ہوتا ہے۔

اگر اللہ نہ چاہے تو کوئی بھی شخص مردے کو زندہ نہیں کرسکتا۔

لوگ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ اور دیگر شخصیات پر اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے مردے زندہ نہیں کیے جبکہ یہ بات حقیقت کے سو فیصد خلاف ہے۔

اللہ جب چاہے مردے زندہ ہوجاتے ہیں کیمروں کے دور میں بھی۔

لیجنڈری فری لانسر آف پاکستان نے جتنے بھی مردے زندہ کیے ہیں وہ سب اللہ کی مدد کے حوالے سے کئے ہیں۔اگر اللہ اس کی مد د نہ کرتا تووہ کسی بھی مردے کو زندہ کرنے میں کامیاب ہرگز نہ ہوتا۔لہذا یہ بات ذہن میں رکھ لی جائے کہ مردے تبھی زندہ ہوتے ہیں جب اللہ کا حکم آپہنچتا ہے بصورت دیگر جتنی مرضی دعائیں کرلی جائیں، مردہ انسان زندہ ہونا تو بہت دور کی بات ہے، کوئی مردہ مچھر کو بھی زندہ نہیں کرسکتا اللہ کے حکم کے بغیر۔

جسے شک ہے آزماکر دیکھ لے، لگ پتہ جائے گا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی۔

جمعرات، 7 نومبر، 2024

بزنس اور اسلام کے لیے کام ایک ساتھ کرنے کا طریقہ اور آئیڈیاز

اسلامی فلاحی کاموں کے لیے پیسہ کمانا ایک بہت بڑا اور اہم مسئلہ ہے، خاص طور پر جب اس کا مقصد صرف اور صرف دین اسلام کی خدمت ہو۔ اس مضمون میں ہم بات کریں گے کہ کس طرح ہم دین اسلام کے لیے پیسہ کما سکتے ہیں، بغیر کسی ذاتی مفاد یا دنیاوی مقصد کے۔  

کیا آپ دین اسلام کے لیے پیسہ کمانا چاہتے ہیں؟

اگر آپ ایک مذہبی رہنما، روحانی پیشوا یا کسی ایسے فرد ہیں جو اسلام کے کاموں میں شریک ہو کر دین کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو پیسہ کمانے کے حوالے سے چند اہم اصولوں پر دھیان دینا ضروری ہے۔

 پیسہ صرف اسلام کی خدمت کے لیے

سب سے پہلے یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ پیسہ صرف اسلام کے فلاحی کاموں کے لیے استعمال ہوگا۔ اس پیسے کا کوئی ذاتی مقصد یا دنیاوی فائدہ نہیں ہوگا۔ چاہے آپ کسی کاروبار سے پیسہ کمائیں، سروس فراہم کریں یا پراڈکٹ بیچیں، اس کا واحد مقصد دین اسلام کی خدمت ہوگا۔ 

 ذاتی مفاد کو اسلام کے کام سے الگ رکھیں

پیسہ کمانے کا مقصد کبھی بھی ذاتی مفاد یا دنیاوی خواہشات کا حصول نہیں ہونا چاہیے۔ جب آپ اسلام کی خدمت کے لیے پیسہ کمائیں گے، تو اس پیسے کا ہر جزو صرف دین کے کاموں میں خرچ کیا جائے گا۔ اگر آپ اپنی ذاتی زندگی یا کاروباری معاملات میں اس پیسے کا استعمال کریں گے، تو اس سے اسلامی مشن میں خلل آ سکتا ہے، اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں اکثر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

 پیسہ کمانے کا طریقہ شفاف اور اصولی ہو

پیسہ کمانا ایک باوقار اور اصولی عمل ہونا چاہیے۔ اس عمل میں شفافیت اور ایمانداری کا ہونا ضروری ہے۔ جب آپ دین اسلام کے لیے پیسہ کماتے ہیں، تو آپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہر قدم درست طریقے سے اٹھایا جائے تاکہ پیسہ کسی غیر اسلامی مقصد کے لیے استعمال نہ ہو۔

سروس یا پراڈکٹ سے کلائنٹ کا اطمینان حاصل کریں

اسلامی مشن میں پیسہ کمانے کا ایک اہم جزو یہ ہے کہ آپ کی فراہم کردہ سروس یا پراڈکٹ کلائنٹ کے لیے مفید ہو اور وہ اس سے مکمل طور پر مطمئن ہو۔ جب کلائنٹ مکمل طور پر مطمئن ہو، تو اس کے بعد ہی پیسہ اسلامی کاموں میں خرچ کیا جائے گا۔ 

 پیسہ کا مکمل انتظام اور لین دین ایک شخص کے ذریعے ہو

پیسہ کا انتظام اور لین دین ہمیشہ ایک شخص کے ذریعے ہو تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی یا مسائل کا سامنا نہ ہو۔ اس شخص کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ پیسہ اسلامی کاموں کے لیے مختص کرے اور اس کا ہر حصہ شفاف طریقے سے استعمال کرے۔

معاہدے اور تحریری طور پر ذمہ داریوں کا تعین

پیسہ کمانے کا عمل اس وقت تک مکمل نہیں سمجھا جائے گا جب تک کہ اس کے بارے میں تمام ذمہ داریاں اور اصول تحریری طور پر واضح نہ ہوں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اور آپ کے شراکت داروں کے درمیان ایک معاہدہ ہو جس میں پیسہ کے استعمال اور ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہو۔

ذاتی اختلافات اور کاروباری معاملات کو علیحدہ رکھیں

ہمیں اپنے ذاتی اختلافات، فیملی مسائل اور کاروباری معاملات کو اسلامی مشن سے علیحدہ رکھنا چاہیے۔ اگر آپ چاہیں کہ اس مشن میں کامیاب ہوں، تو ذاتی اور مذہبی کاموں کو الگ رکھنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی پیچیدگیاں یا جھگڑے پیدا نہ ہوں۔

 غلبہ اسلام کا مقصد سب سے اہم اور اول نمبر پر ہونا چاہیے

یہ تمام اصول اور اقدامات اس لیے ضروری ہیں تاکہ ہم اسلام کے مشن کو ہر قیمت پر کامیاب بنائیں۔ پیسہ کمانا، کاروبار کرنا یا سروس فراہم کرنا، ان سب کا مقصد دین اسلام کی خدمت ہونا چاہیے۔ اس طرح ہم نہ صرف اسلام کی خدمت کریں گے بلکہ اس مشن کو بھی آگے بڑھائیں گے۔

آپ کے لیے کیا ہے؟

اگر آپ دین اسلام کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں اور اس مشن میں شامل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں، تو آپ کو پہلے ان اصولوں کو سمجھنا ہوگا اور اس پر عمل کرنا ہوگا۔ آپ کے لیے یہ موقع ہے کہ آپ اپنے کاروبار یا سروس کے ذریعے پیسہ کمائیں اور اسے اسلام کی خدمت میں لگائیں۔

خلاصہ

پیسہ کمانا اور دین اسلام کے لیے اس کا استعمال ایک عظیم مقصد ہے۔ ہمیں اپنی نیت صاف رکھنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہمارا ہر قدم دین اسلام کی خدمت کے لیے ہو۔ جب تک ہم اس بات پر عمل کرتے ہیں، ہم اس مشن میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور دنیا و آخرت میں اس کا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

اللہ ہمیں اپنے مشن کو پورا کرنے کی توفیق دے۔

پیر، 14 اکتوبر، 2024

میں لیجنڈ آف اللہ واحد القہار ہوں

 میں لیجنڈ آف اللہ واحد القہار ہوں 

دین اسلام کا ناقابل شکست علمبردار ہوں

میرے مقابلہ پر کوئی غیرمسلم دنیا میں موجود نہیں

قیامت تک دنیا کا کوئی غیرمسلم مجھے شکست نہیں دے سکتا

میں ہمیشہ کے لیے اللہ کے فضل و کرم سے ناقابل شکست ہوں

میرا جذبہ اور اللہ پر توکل بے حد ہے۔ میرا ایمان اور یقین اللہ کی قدرت پر مجھے مضبوط اور ناقابل شکست بناتا ہے، کیونکہ سچا ایمان اور اللہ کا فضل ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اسلام میں عقیدہ اور ایمان وہ بنیاد ہیں جو انسان کو ہر مشکل اور ہر دشمن کے سامنے ثابت قدم رکھتے ہیں۔

اللہ پر مکمل یقین

میرا  یہ یقین کہ میں اللہ کے فضل سے ناقابل شکست ہیں، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ میرا ایمان بہت مضبوط ہے۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے:

- **"إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ"** (سورہ محمد: 7)  

  یعنی "اگر تم اللہ کی مدد کرو گے، تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔"

اسلام کا علمبردار

اسلام کا علمبردار ہونے کا مطلب ہے کہ میں حق، انصاف، اور اللہ کی راہ پر چلتے ہوئے دین کی حفاظت کرنے والا ہوں۔ یہ عظیم ذمہ داری ہے، اور اللہ کے سچے بندے اس راہ میں لوگوں کی ملالت کی پرواہ نہیں کرتے کیونکہ ان کا مقصد اللہ کی رضا ہوتی ہے۔

غیر مسلموں کا مقابلہ

میرا  یہ یقین کہ کوئی غیر مسلم مجھے شکست نہیں دے سکتا، اس بات کی علامت ہے کہ میں اپنی طاقت اور توانائی اللہ سے لیتا ہوں ۔ دنیاوی لحاظ سے لوگ ہار جیت کا سامنا کرتے ہیں، لیکن میرا ایمان اللہ پر سو فیصد ہےلہذا میں غیرمسلموں کے ہاتھوں کبھی شکست نہیں کھاسکوں گاکیونکہ اللہ میرے ساتھ ہے اور میں روحانی طور پر ہمیشہ فاتح رہوں گا کفار کے مقابلہ پر انشاءاللہ

عاجزی اور شکرگزاری

 طاقت اور کامیابی ہمیشہ اللہ کی طرف سے ہے۔ میری کامیابیوں میں اللہ کا فضل شامل ہے، اور اس کے لیے شکرگزاری اور عاجزی بہت ضروری ہے۔ جتنا زیادہ انسان اللہ کے قریب ہوتا ہے، اتنی ہی زیادہ کامیابیاں اس کی زندگی میں آئیں گی کفار کے مقابلہ پر

استقامت اور صبر

میرا  راستہ حق اور سچائی کا ہے، لیکن اس راستے پر استقامت، صبر، اور اللہ سے مدد مانگنا بہت ضروری ہے۔ ہر مسلمان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن ان مشکلات میں اللہ ہی انسان کو ناقابل شکست بناتا ہے۔

 خلاصہ

میرا جذبہ، ایمان، اور اللہ پر بھروسہ مجھے دنیا میں مضبوط اور ناقابل شکست بناچکا ہے۔ اللہ کا فضل اور کرم میرے ساتھ ہے ، اور میں اسی طرح دین اسلام کی حفاظت اور فروغ میں اہم کردار ادا کرتا رہوں گا اللہ کے فضل و کرم سے۔ میرا عزم اور اللہ کی راہ میں استقامت مجھے ہمیشہ کامیابی کی طرف لے جائے گی اللہ کے حکم سے اور اللہ مجھے مزید طاقت عطا فرمائے گا اور میرے ایمان کو مضبوط تر بنائےگا محض اپنی رحمت اور کرم سے۔ الحمدللہ رب العالمین، اللہ اکبر، اللہ واحد القہار

لیجنڈ آف اللہ واحد القہار
اکیسویں صدی کا مسلم گیمر
دین اسلام کا ناقابل شکست علمبردار
لیجنڈری فری لانسر آف پاکستان

جمعہ، 20 ستمبر، 2024

ماں کے پیٹ سے زمین کے پیٹ میں

جب انسان ایک ٹپکایا ہوا قطرہ ہوتا ہے تو وہ ایک عورت کے پیٹ میں پہنچتا ہے ایک جرثومے کی شکل میں جسے میڈیکل سائنس کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ہوتی ہے انسان کی اصلیت یعنی کہ اصلی شکل


اس شکل سے اللہ اسے تبدیل کر کے جمے ہوئے خون میں بدلتا ہے۔


پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کے لوتھڑے میں تبدیل کرتا ہے۔




پھر اس گوشت کے لوتھڑے کو ہڈی میں بدل دیتا ہے۔


پھر اس ہڈی کے اوپر گوشت کا لباس پہنا دیتا ہے۔



پھر اس کے بعد اسے مختلف شکلوں کے اندر تبدیل کرنا شروع کرتا ہے پھر اس کے اندر ہاتھ نکالتا ہے پاؤں نکالتا ہے آنکھیں لگاتا ہے کان لگاتا ہے دل بناتا ہے پھیپھڑے اگاتا ہے۔ نسیں بناتا ہے خون جاری کرتا ہے سب کچھ لگاتا ہے لیکن ماں کے پیٹ میں وہ بے جان حالت میں پڑا ہوا ہوتا ہے یہ سب تب ہو رہا ہوتا ہے۔ 


سوچنے کی بات ہے کہ یہ بے جان قسم کی حالت کی ایک چیز ایک عورت کے پیٹ کے اندر رکھی ہوئی ہے اور کوئی اس کو حرکت دینے والا نظر بھی نہیں آرہا، اس کو الٹ پلٹ کرنے والا بھی نظر نہیں آرہا، اس کے اوپر کاریگری دکھانے والا بھی نظر نہیں آرہا پھر بھی وہ الٹ پلٹ ہوتا ہے۔ اس کے اندر چیزیں تیار ہو رہی ہوتی ہیں۔ پتہ لگا کہ اللہ جس طریقے سے کام کرتا ہے اس کے لیے اسے ماں کے پیٹ کے اندر آنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ صرف اپنے ارادے کرتا ہے اور اس کے ارادے کے مطابق چیز اس زمین پر بننا شروع ہو جاتی ہے۔ وہ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو بس کہتا ہے "کن" اور فیکون ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

پھر وہ اپنی ماں کے پیٹ کے اندر سے نکل کے باہر آتا ہے تو اس بچے کے ہاتھ کے اوپر ڈیزائن بھی اللہ کے نام کا بنا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے پیروں میں بھی اللہ کے نام کا ڈیزائن بنا ہوتا ہے۔ اس کی نسوں میں اور دیگر بہت سی جگہوں پر اللہ کے نام چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ دیکھنے والے خوب جانتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ بہت سے نومولود بچے ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی رونے کے بجائے اللہ اللہ کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

کسی بھی عقل استعمال کرنے والے انسان کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ کتابوں کی بحث میں پڑنے کے بجائے کلمہ پڑھ کے اسلام میں داخل ہو جائے کیونکہ اگر وہ کفر پہ مر جائے تو پھر ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد دنیا کے انسانوں کے ہاتھوں گمراہ ہونے پر کفر کی موت پہ مرنے کی وجہ سے جب اسے زمین میں دفن کر دیا جاتا ہے تو وہ ماں کے پیٹ سے نکل کے زمین میں دفن ہو جاتا ہے یعنی کہ زمین کے پیٹ میں پہنچ جاتا ہے۔

اس زمین کے پیٹ میں پہنچنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ جس طرح ماں کے پیٹ کے اندر وہ ایک ٹپکائے ہوئے قطرے سے انسان کی شکل میں تبدیل ہوتا ہے بس اسی طریقے سے وہ انسان کی شکل سے واپس ایک ہڈی کی صورت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

اس کے جسم کے سارے اعضاء سڑنا گلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ کیڑے مکوڑے کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بدبو آنا شروع ہو جاتی ہے۔ اسے ڈیکم پوزیشن پراسیس کہا جاتا ہے اور آخر کار وہ انسان ایسا ہو جاتا ہے جیسے وہ کبھی موجود ہی نہیں تھا۔ بے نام و نشان! قبر کی جگہ بھی خراب ہو جاتی ہے۔ مٹ جاتے ہیں نام۔ ختم ہو جاتے ہیں سارے بدنام۔ رہ جاتا ہے بس اللہ کا نام۔ اسی کی بڑائی اسی کی خدائی۔ وہی سب سے بڑا ہے وہی عالیشان ہے اور وہی اصل ذی شان ہے۔


لیکن وہ زمین کے پیٹ میں پہنچنے والے جسموں کے اندر اتنا کنٹرول رکھتا ہے کہ جب زمین کے اندر اس کے نیک پیروکاروں کی لاشوں کو دفن کر دیا جاتا ہے تو وہ ان کو وہاں پر بھی تازہ خون سمیت تروتازہ حالت میں محفوظ رکھتا ہے اور سلامت رکھتا ہے اور وہ یہ کام اپنی قدرت سے کرتا ہے۔ جس طرح وہ ماں کے پیٹ میں اپنی قدرت سے ایک ٹپکائے ہوئے قطرے کو انسان کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے بس وہی اللہ اپنی قدرت سے زمین کے پیٹ کے اندر موجود لاکھوں کروڑوں لاشوں کو اپنی قدرت سے محفوظ رکھتا ہے۔


اور اللہ کے لیے یہ بہت ہی معمولی سا کام ہے۔ بے شک اللہ جو چاہے سو کر سکتا ہے۔ ان اللہ علی کل شی قدیر۔ پوری کائنات میرے اللہ کی قدرت سے چل رہی ہے۔ وہ سارے علوم کا شہنشاہ اکیلا ہی ہے اپنے نام کا اور اپنے کام کا۔ اللہ اکبر

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

پیر، 6 نومبر، 2023

وضو میں داڑھی کے دھونے کا طریقہ

وضو کرتے وقت داڑھی دھونے کے حوالے سے ایک مسلم کو بہت پریشانی ہوتی ہے جسے صحیح طریقہ نہیں آتا۔ اس حوالے سے یہ چند ویڈیوز بہترین ہیں جنہیں دیکھنے اور سننے کے بعد ان شاء اللہ داڑھی کے سائز، اسے دھونے کا طریقہ اور کتنا حصہ دھونا فرض ہے اس حوالے سے کنفیوزن دور ہوجائے گی۔

 


ہفتہ، 21 اکتوبر، 2023

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں

تاریخی معلومات اور مسلمانوں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق  حضورنبی کریم محمد رسول اعظمﷺ  کی مقدس اور پاک دامن  بیویاں تقریباً سب ہی مالدار اور بڑے گھرانوں سے تھیں۔

 حضرت ام حبیبہ  رئیس مکہ حضرت ابو سفیان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ 

حضرت جویریہ   قبیلہ بنی المصطلق کے سردار اعظم حارث بن ضرار کی بیٹی تھیں۔ 

 حضرت صفیہ بنو نضیر اور خیبر کے رئیس اعظم حیی بن اخطب کی نور نظر تھیں۔ 

حضرت عائشہ صدیقہ حضرت ابوبکر صدیق  کی  پیاری بیٹی تھیں۔

حضرت حفصہ حضرت عمر فاروق کی چہیتی صاحبزادی تھیں۔

 حضرت زینب بنت جحش اور حضرت اُمِ سلمہ بھی خاندانِ قریش کے اونچے اونچے گھروں کی ناز و نعمت میں پلی ہوئی تھیں۔ 

یہ سب بچپن سے امیرانہ زندگی اور رئیسانہ ماحول کی عادی تھیں اور ان کا رہن سہن، کھانا پینا، لباس و پوشاک سب کچھ امیروں جیسی زندگی کا آئینہ دار تھا اور محمد رسول اعظم  کی مقدس اورپاک زندگی بہت ہی سادہ اور دنیاوی تکلفات سے یکسر خالی تھی۔

 دو دو مہینےحضور کے گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا اور  صرف کھجور اور پانی پر پورے گھرانے کی زندگی بسر ہوتی تھی۔

 لباس و پوشاک میں بھی پیغمبرانہ زندگی کی جھلک تھی ۔

مکان اور گھر کے سازو سامان میں بھی نبوت کی سادگی نمایاں تھی۔ 

حضور  اپنی رقم کا اکثر حصہ اپنی امت کے غریبوں پر خرچ کردیتے تھے  اور اپنی بیویوں کو صرف بقدر ضرورت رقم ادا کرتے تھے لہذا  ان کی بیگمات کی زیب و زینت اور بناو سنگھار کے لیے وہ رقم کافی نہ ہوتی تھی جبکہ حضور کی بیویوں کے مقابلہ پر آج مالدار مسلم عورتوں کے پاس اسقدر دولت ہے کہ اپنےبناو سنگھار کے لیے بیوٹی پارلر جاکر ماہانہ ہزاروں روپے خرچ کردیتی ہیں اور ہرسال عید تہوار اور دیگر تقریبات کے لیے الگ الگ مہنگے جوڑے خرید کر پہنتی ہیں۔

کائنات کے بادشاہ اللہ واحد القہار کے محبوب رسول اعظم ﷺ کی بیگمات یعنی امہات المومنین  نے متفقہ طور پر آپسے مطالبہ کیا کہ ان کے اخراجات میں اضافہ فرمادیں۔

یہ بات حضور کے دل پر بہت بھاری گزری کیونکہ حضور ﷺ غلبہ اسلام کے مشن پر کام کررہے تھے اور ان کے سکون اور اطیمنان میں رکاوٹ پیش آگئی کہ دنیاوی سازو سامان اور زینت و آرائش کی خاطر اگر پیسوں کا انتظام کرنا پڑے گا تو دین اسلام کا کام کیسے ہوگا ؟ اور امت کے غریبوں کو کیسے فائدہ پہنچایا جائے گا؟ اور غیرمسلموں کو اسلا م میں کیسے داخل کرنے پر توجہ دی جائے گی؟ لہذا حضور نے یہ قسم کھالی کہ اب ایک ماہ تک اپنی  بیویوں سے ملاقات اور بات چیت نہیں کریں گے اور پھر حضور نے ایک ماہ تک اس پر عمل کیا، اسے "ایلاء" کہتے ہیں۔

اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی مالدار مسلم عورت کا مسلم شوہر غلبہ اسلام کے مشن پر کام کررہا ہو اور اس مسلم عورت کے پاس اس قدر دولت ہے کہ وہ اپنے اخراجات آسانی سے پورے کرسکتی ہے اور اس کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت اور گھریلو ساز و سامان بھی رکھا ہوا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے ایسے عظیم شوہر کی قدر کرے اور اس کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور اسے ہرگز پریشان  اور تنگ نہ کرے تاکہ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ واحد القہار کے مشن غلبہ اسلام پر بھرپور توجہ کے ساتھ کام جاری رکھ سکے۔

بے شک اللہ کسی نیک مسلم عورت کی نیکیاں ضائع نہیں کرتا اور بے حد قدر کرتا ہے اگر وہ اپنے شوہر کی خدمت کرے اور اس کا خیال رکھے اور اس کے شوہر کو بھی چاہیے کہ اگر اسے خدمت گزار اور خیال کرنے والی بیوی ملی ہے اللہ کے فضل سے تو وہ بھی اللہ کا شکر ادا کرے اور اس کے ذہنی سکون کا خیال رکھے، اس کو آخرت کے حوالے سے تعلیم و تربیت کرے اور اسے بھی جنت کے محلات میں لے جانے کے لئے کوششیں کرے  اور اپنے بچوں کی تربیت کا بھی خیال رکھے تاکہ شیطان انہیں اللہ سے بدگمان اور اسلام سے بدظن نہ کرسکے۔ بے شک اللہ تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے۔

اللہ اکبر
اللہ واحد القہار
الحمدللہ رب العالمین

توکل

Eat Food with Hands, Not Prayers


Do Not Trust on Stuff


ALLAH Controls Everything

Do Your Efforts - Leave the Rest on ALLAH (اللہ)

You Are with ALLAH (اللہ)

Use Your Common Sense & Stuff Wisely


Pay Zakah and Make Money & Wealth


Prophet Muhammad ﷺ Went in War with Weapons & Resources


You Are in Way of ALLAH (اللہ) IF...3 Conditions Else...Shaitan Way