سائنس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سائنس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 30 اگست، 2026

مون سون خود نہیں چلتا چلایا جاتا ہے

 لاہور شہر میں مسلسل موسن سون اسپیل کے دعوے چلائے جارہے تھے۔

جولائی سنہ 2026 سے لے کر اگست کے اختتام تک یہ لوگ مون سون سمجھ سمجھ کر جتنے دعوے کررہے تھے سب خاک کا ڈھیر ثابت ہوئے۔

ایسا کیوں نہ ہوتا؟ آخر اس کائنات کا خدا موجود ہے تو اس کی موجودگی میں کس کی مجال ہے کہ وہ موسن سون تو کیا بارش کا ایک اسپیل بھی چلاسکے اور پانی کا قطرہ آسمان سے ٹپکاسکے؟

اب کدھر مرگئے سائنس کے چیمپیئن اور علمبردار لیجنڈ کے سامنے؟

اللہ اکبر

۔ 23 اگست 2026 کے دن ایک سیریز بناکر پبلش کی جس کے بعد لاہور میں برستی ہوئی بارشوں کو بریک لگ گیا۔

یہ مسلسل دعوے کرتے آرہے تھے مون سون پہلا اسپیل، دوسرا اسپیل، تیسرا اسپیل اور یکایک پورا مون سون غائب؟؟؟

اور پھر ان کو مجبور ہوکر کہنا پڑا کہ اس ہفتے بارش کا کوئی امکان نہیں ہے اب اگلے ہفتے یا بعد میں بارش ہوگی۔

اور اس طرح اللہ کافروں کو ذلیل کرکے رکھ دیتا ہے۔

لاہور شہر میں گرمی میں اضافہ ہوگیا۔

ان کو سمجھ ہی نہیں آسکی کہ یہ سب اچانک کیا ہوا؟

کہاں لاہور شہر میں سردی چل رہی تھی، خوشگوار موسم چل رہا تھا مگر اچانک یہ سب گرمی کی لپیٹ میں آگئے۔

اور ان کا ساتواں مون سون اسپیل دھواں بن کر اڑگیا۔

کیونکہ اس کے بعد میں میدان میں اتر آیا اور ایک گیمنگ سریز کا آغاز کردیا۔

اور پھر میں نے اسی شدید گرمی میں اللہ سے بارش برساکر دکھانے کے لیے آغاز کیا۔

ان کے دعوے جو مرضی یہ کرتے گئے ویسا کچھ نہ ہوا۔

بلکہ وہ ہوا جو میں چاہتا تھا مگر اللہ کی مرضی کے مطابق ہوا۔

جس سے ثابت ہوا کہ کائنات میں وہ خدا ہے جس کے مقابلے پر کوئی اور خدا موجود ہی نہیں ہے۔

ورنہ عین میرے چاہنے کے مطابق ہوتا مگر اس نے اپنی پرفیکشن کے حساب سے پوری کیلکولیشن کے ساتھ زبردست ایونٹ سرانجام دلوایا۔ الحمدللہ

اور جب میں اس سیریز سے فارغ ہوا تب تک 28 اگست شروع ہوچکا تھا۔

اور آتے کے ساتھ ہی ایک نئی سیریز کا آغاز کردیا "تیری سائنس تے شے کوئی نہیں" جس کے بعد اللہ نے انجینیئر محمد علی مرزا جیسے تمام انجینیئرز اور سائنس کا کلمہ پڑھ کر اولیاء اللہ کو ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو میرے ہاتھوں عبرتناک انجام دلوایا۔ اللہ اکبر

انہوں نے دعوی کردیا کہ مون سون آٹھواں اسپیل شروع ہونے والا ہے۔

ہم نے کہا دیکھ لیتے ہیں 🙂

اور پھر بنی ایک اور سیریز

چل گیا مون سون؟

اور مون سون نہ چل سکا۔

مگر کہانی یہاں پر بھی ختم نہ ہوسکی۔

کل میں نے ایک اور سیریز بنا ڈالی

بے چارہ مون سون

اور مون سون بےچارگی میں رہ گیا اور یہ دعوی کرتے رہ گئے۔

بارش کی بوند بھی نہ برساسکے۔

برساتے کیسے؟

اللہ واحد القہار سارے نظام کا خالق اور مالک ہے۔

اور اب اسی دن کی ایک رپورٹ کے مطابق اب بھی وہی دعوے کے مون سون آج یعنی 30 اگست سے شروع ہوگا۔ پہلے دعوے کرتے رہ گئے کہ مون سون اسپیل 29 اگست سے شروع ہوگا۔

جب وہ نہ ہوسکا تو 30 کو آج کا دن بنا ڈالا۔


تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بارش کہاں گئی اور مون سون اسپیل کدھر غائب ہوگیا؟



یہ ہے سائنس اور سائنس والوں کا مداری پن جس کے بل بوتے پر یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس اتراتے پھرتے ہیں اولیاء اللہ کے خلاف؟ اس علم کی بنیاد پر مولوی، عالم، مفتیان کرام کا مذاق اڑاتے پھرتے ہیں؟

اور آج ہے 31 اگست 2026

اب دیکھنا یہ باقی ہے کہ آگے کیا ہوگا؟

---

یکم ستمبر 2026

صبح سویرے اللہ نے خوبصورت بادلوں سے آسمان کا منظر سجادیا اور دلکش نظارہ کردیا۔

ان لوگوں نے دوپہر تک گرمی اور حبس کی شدت دیکھی اور میڈیا پر رپورٹ کردیا نیز بارش ہونے کا دعوی بھی کیا جبکہ اللہ نے اس دن بارش ہی نہیں برسائی۔ اب کدھر گیا مون سون کا سسٹم جبکہ اسلام آباد/راولپنڈی میں طوفانی بارشوں سے ندیاں بہہ نکلیں اور سڑکیں زیر آب اگئیں اور علاقے پانی میں ڈوب گئے؟


بہرحال دوپہر میں آکر میں نے اللہ سے بادلوں کو بنانے کے لیے درخواست کی اور اللہ نے کالے بادلوں کے لشکر سجاکر رکھ دیے پھر اس کے بعد یک دیگر بعد عجیب عجیب نظارے دیکھنے کو ملے مگر پانی کی ایک بوند تک نہ برس سکی۔ 

جہاں ایک طرف مون سون برس رہا ہے جیسا ان کا دعوی ہے تو لاہور شہر خالی اور سنسان کیوں پڑا ہے؟

کیا یہ ایک حیران کن بات نہیں ہے؟

اسلام آباد اور دیگر شہروں میں مون سون کام کررہا ہے تو لاہور میں کس نے اسے برسنے سے روک رکھا ہے؟

اللہ واحد القہار

ان کے مون سون کے دعوے، شہر میں وقفے وقفے سے بارش، آج مون سون برسے گا وغیرہ سب تہس نہس کرکے رکھ دیا گیا۔

اللہ اکبر

یہاں پتہ لگتا ہے کہ بادشاہت صرف اللہ کی ہے۔

نہ جھوٹے خداوں کی کوئی اوقات ہے\
نہ سائنس پڑھنے والے موسم کے بارے میں کوئی یقینی علم رکھتے ہیں

للہ جو چاہے سو کرتا ہے۔

وما علینا الاالبلاغ المبین

اللہ اکبر
لیجنڈ

ہفتہ، 17 جنوری، 2026

کیا اسموگ صرف آلودگی ہے یا قدرت کا کوئی اشارہ؟ دھرو راٹھی کے نظریات اور ایک حقیقت پسندانہ جواب

Dhruv Rathee on God Existence: Science vs Religion

آج کل جب ہم صبح اٹھتے ہیں تو کھڑکی سے باہر نیلا آسمان نہیں بلکہ سرمئی رنگ کی ایک گہری چادر نظر آتی ہے جسے ہم 'اسموگ' کہتے ہیں۔ جہاں دنیا بھر کے ماہرینِ ماحولیات اسے انسانی سرگرمیوں اور آلودگی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، وہیں حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

حال ہی میں محمد ذیشان ارشد نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں انہوں نے معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی کے دہریت پر مبنی نظریات کو براہِ راست چیلنج کیا ہے۔

ویڈیو کا مرکزی خیال: ایک گھنٹے میں بدلتی دنیا

اس ویڈیو میں محمد ذیشان ارشد نے ایک حیران کن مشاہدہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق، 16 جنوری کی رات 11 بجے تک لاہور کا آسمان صاف تھا اور ستارے چمک رہے تھے۔ لیکن محض ایک گھنٹے کے اندر، رات 12 بجے کے قریب پورا شہر اچانک اسموگ اور دھند کی لپیٹ میں آگیا۔

وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ: "وہ کون سی مشین تھی؟ وہ کون سی سائنس تھی جس نے آناً فاناً پورے شہر کو دھوئیں سے بھر دیا؟"

سائنس بمقابلہ خالقِ کائنات

دھرو راٹھی اپنی ویڈیوز میں اکثر چیزوں کو خالصتاً سائنسی اور ارتقائی  ایولوشن تناظر میں دیکھتے ہیں اور خدا کے وجود کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ محمد ذیشان ارشد نے اسی نکتے پر ضرب لگائی ہے کہ جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ سب کچھ جان گیا ہے، تب قدرت کوئی ایسا منظر دکھاتی ہے جو انسانی عقل اور سائنسی حساب کتاب سے باہر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اچانک تبدیلیاں اللہ کی قدرت کی نشانی ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ کائنات کا کوئی نظام چلانے والا موجود ہے، یہ سب خود بخود نہیں ہو رہا۔

ہمیں کیا سیکھنا چاہیے؟

یہ بحث ہمیں دو اہم پہلوؤں پر سوچنے پر مجبور کرتی ہے:

ماحولیاتی ذمہ داری: ہمیں اسموگ کو کم کرنے کے لیے شجرکاری اور آلودگی میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔

عاجزی: چاہے سائنس جتنی بھی ترقی کر لے، کائنات میں اب بھی بہت کچھ ایسا ہے جو انسانی دسترس سے باہر ہے اور ہمیں خالقِ حقیقی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا یہ اسموگ صرف انسانی غلطی ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہرا پیغام چھپا ہے؟

ذیل میں دی گئی ویڈیو دیکھیں اور اپنی رائے کا اظہار کریں:

ہفتہ، 14 ستمبر، 2024

ہوا سے پانی بنانے والی مشین (انڈیا)

 

انسان اگر کچھ کرنے کا سوچ لے تو کیا کچھ ممکن ہے؟ اس کا ایک نظارہ اس مشین کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح ہوا سے پانی بناکر انسانوں کو دیا جارہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے کوئی احمق ہی جھٹلاسکتا ہے کیونکہ کمپیوٹر سے بنی فیک ویڈیو اور فزیکل ورلڈ میں بنی حقیقی ویڈیو کو دیکھ کر ہی فرق معلوم ہوجاتا ہے۔

ایک فیک اشتہار اور حقیقی دنیا کے پروفیسرز، ڈاکٹرز، سائنسدانوں کے تجربات کی ویڈیوز میں بھی زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے جسے ایک عقلمند انسان بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ اب اس ویڈیو سے یہ ثابت ہوگیا کہ انسان اگر ہوا سے پانی بنانا چاہے تو بناسکتا ہے۔

میں سوچتا تھا کہ غریب آبادیوں میں پانی کا بڑا مسئلہ ہوتا ہے اور اگر کہیں پانی نہ ملے تو انسان کیا کرے؟ کیسے زندگی گزارے؟ کیونکہ کھانا پینا تو چل جاتا ہے مگر نہانے، وضو کرنے، پاک ہونے وغیرہ کا مسئلہ بڑھ جاتا ہے لہذا پانی بہت ضروری ہے کہ کسی زیرزمین بورنگ کروائے بغیر جنریٹ ہوسکے یعنی ہوا سے پانی بن جائے کیونکہ ہوا چوبیس گھنٹہ دستیاب ہوتی ہے اور اس ویڈیو کو دیکھ کر مجھے امید کی ایک نئی کرن روشن ہوگئی ہے کہ الحمدللہ اس بات میں یہ لوگ کامیاب ہوچکے ہیں۔

یہ تو اللہ کا فضل ہے کہ وہ اپنے بندوں کی مدد کرتا رہتا ہے جو وہ کرنا چاہیں اور کوشش کریں۔ مجھے اس سے غرض نہیں کہ یہ مشین بنانے میں میں کامیاب ہوا یا کوئی اور مگر ایسا ہے کہ کوئی اور کامیاب ہوا تو گویا میرا مقصد پورا ہوگیا کیونکہ اگر یہ لوگ مشینیں بناکر فروخت کررہے ہیں اور عام عوام کے لیے بھی میٹھا پینے کا پانی فراہم ہوسکتا ہے تو پھر بہتر ہے کہ اب ان کے بارے میں لوگوں کو بتایا جائے اور اسی طرح کے جو دیگر کام کرنے والے لوگ مشینیں بنارہے ہیں ان کے بارے میں عام عوام کو بتایا جائے تاکہ لوگ ان سے رابطے کرکے فائدے حاصل کریں۔

اسی طرح دنیا کے تمام انسانوں، چرند پرند چرند اور دیگر مخلوقات کا فائدہ ممکن ہے۔ ویسے تو میرے پاس قیاامت کے دن تک آسمان سے بے تحاشہ پانی برسوانے اور زمین کے اندر سے بے شمار پھل فروٹ سبزیاں وغیرہ اگوانے کا فارمولہ ہے جو مجھے قرآن کے ذریعے اللہ کے فضل و کرم سے حاصل ہوا مگر اس کے لیے شرط تقوی، ایمان اور نیک اعمال کرتے رہنا ضروری ہے کیونکہ اس کا تعلق براہ راست اللہ واحد القہار کی خوشی سے ہے اور اگر اللہ ناراض ہوگا تو وہ طریقہ کام نہ کرسکے گا اور وہ تو بے شمار انسانوں کو بیک وقت فائدہ پہنچانے والا طریقہ ہے۔

اس طریقے کے حوالے سے میں نے اس ویڈیو میں بہت کچھ بتادیا ہے۔ جسے ضرورت ہو وہ سن سکتا ہے۔


موسم تبدیل کرنے کے حوالے سے اور بارشیں برسانے اور روک دینے کے اوپر میرے بہت سے کارنامے یوٹیوب پلے لسٹ کی صورت میں ترتیب دے کر یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کردیے گئے ہیں۔ جسے ضرورت ہو وہ انہیں بھی دیکھ سکتا ہے۔

Channel Link: Legend Muhammad Zeeshan Arshad 

بدھ، 11 ستمبر، 2024

بھینس پانی کے اندر کیوں نہیں ڈوبتی؟


بھینس پانی میں اس لیے نہیں ڈوبتی کیونکہ اس کا جسم بہت بڑا اور ہلکا ہوتا ہے۔ جب ہم پانی میں گیند ڈالتے ہیں تو وہ بھی پانی کے اوپر تیرتی رہتی ہے کیونکہ اس کے اندر ہوا بھری ہوتی ہے۔  اسی طرح غبارے کے اندر بھی ہوا بھری ہوتی ہے جو اسے پانی میں تیرنے میں مدد دیتی ہے۔ بھینس کا معاملہ بھی اسی طرح سے ہے۔ اگر ہم سمندر کی بات کریں تو وہاں کا پانی اور بھی زیادہ نمکین ہوتا ہے۔ جب ہم پانی میں نمک ڈالیں تو چیزیں زیادہ تیرنے لگتی ہیں۔ اس لیے بھینس سمندر میں بھی نہیں ڈوبتی۔


ذیشان ارشد

ہفتہ، 21 اکتوبر، 2023

سائنس کی آسان ترین تعریف

سائنس ایک ایسا لفظ ہے جسے اللہ کا انکار کرنے والے بالشتئے اور نام نہاد مسلم بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں اور اس کی آڑ میں روحانیت، اولیاء اللہ، کرامات، معجزات وغیرہ کا بھی مذاق اڑاتے ہیں۔ سائنس گروپ آف پاکستان میں "سائنس" کی آسان تعریف کے حوالے سے سائنس کے طالب علم کیا کہتےہیں؟ اس پر یہ جواب کافی ہے۔


 

بدھ، 21 دسمبر، 2022

کیا انسان موسم کو بارش پر مجبور کر سکتا ہے؟

دنیا کا کوئی بھی انسان اللہ کی مدد کے بغیر نہ تو موسم تبدیل کرسکتا ہے اور نہ ہی آسمان سے بارش برساسکتا ہے لیکن اللہ کی مدد سے انسان بارش بھی برساسکتا ہے اور موسم بھی تبدیل کرسکتا ہے اور اگر اللہ چاہے تو جب ارادہ کرے اپنے کسی بھی بندے کے لیے اپنی مرضی سے موسم پلٹ سکتا ہے جیسا کہ اس نے میرے اس کریش کورس بنانے کے درمیان معجزہ دکھایا۔

یہ اس بات کا پریکٹیکل ثبوت ہے کہ اللہ جب چاہے موسم تبدیل کرتا ہے اور اگر اللہ کا کوئی بندہ چاہے کہ موسم تبدیل ہوجائے اور اللہ اس بات کی اجازت دے تو موسم اللہ حکم سے تبدیل ہوجاتا ہے ورنہ کچھ نہیں ہوسکتا۔

جہاں تک فزیکل سائنس کی بات ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ سائنسی آلات اور مشینوں اور جہازوں کے ذریعہ مصنوعی بارشیں برسائی جاسکتی ہیں۔ اگر اس بات کو تسلیم کیا جائے تو اس کے لیے پہلے ایسی باتیں کرنے والوں سے پریکٹیکل اور ناقابل شکست ثبوت مانگے جائیں اور اگر کوئی ثبوت نہ پیش کرے تو اس کی باتوں کا کوئی اعتبار نہیں

قدرتی طور پر ایسا ہونا کہ انسان ارادہ کرے اور موسم پلٹ جائے یا آندھی طوفان یا زلزلے آجائیں یا کورونا وائرس کی لہروں میں اضافہ یا کمی ہوجائے یہ صرف اللہ کے حکم اور اجازت سے ہوتا ہے ورنہ کوئی انسان ایسا کچھ نہیں کرسکتا

کچھ غیرمسلم دعوے کرتے ہیں کہ وہ اپنی روحانی طاقت سے موسم پلٹ سکتے ہیں یا بارش کرسکتے ہیں یا مردے زندہ کرسکتے ہیں لیکن حقیقی طور پر کسی بھی غیرمسلم کے بس میں ایسا کچھ بھی نہیں اور ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ کوئی غیرمسلم ارادہ کرے اور موسم پلٹ جائے تو اس کے جعلی معبودوں کا نام بادلوں کے ذریعہ ظاہر ہوجائے جبکہ جب اللہ کا پجاری اگر ارادہ کرے اور ایسا ہوجائے تو اس پر الہامی نشانی یہ ہوگی کہ اللہ کے نام کا ظہور بھی ہوگا جیسا میرے ساتھ پیش آنے والے بہت سے واقعات میں ایسا ہوا

اسی طرح ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ کوئی غیرمسلم ارادہ کرے تو کسی پرانی قبر کے اندر سے مردہ دوبارہ زندہ ہوکر قبر پھاڑ کر باہر نکل آئے مگر اللہ کا پجاری ارادہ کرے اور اللہ سے دعا کرے تو یہ سو فیصد ممکن ہے کہ پرانی قبر میں دفن شدہ مردہ قبر پھاڑ کر بھی دوبارہ باہر نکل کر آسکتا ہے اللہ کے حکم سے کیونکہ اللہ اس پر قادر ہے کہ جب چاہے آنا فانا ایسا کردکھائے کسی بھی لمحہ بغیر ظاہری اسباب کے، اللہ اکبر، الحمدللہ رب العالمین

انسانی مداخلت کرکے سائنسی مشینوں اور آلات کے ذریعہ نیچر کے سسٹم میں تبدیلیاں پیدا کرنا کسی بھی طور پر خدائی عمل قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی اسے خالص انسانی کام کہا جاسکتا ہے

دعا کے ذریعہ اللہ سے کوئی کام کروانا ایک الگ بات ہے اور اللہ چاہے تو اپنے کسی بھی بندے کے لیے معجزہ دکھاسکتا ہے مگر مشینوں کے ذریعہ کوئی کام ظاہری وسائل سے کرنا کسی قسم کا معجزہ نہیں ہوتا اور غیرمسلموں کے جعلی معبودوں کے اختیار میں تو ویسے ہی کچھ بھی نہیں