مذہب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مذہب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 13 اپریل، 2025

تبلیغی جماعت یا تبلیغ فساد؟

 لوٹے پکڑ کر پاجامے اونچے کرکے داڑھی مونچھ کی تبلیغ صحابہ کا کام نہیں اور نہ حضورﷺ کی سنت ہے۔

گھر پر بیوی چھوڑ کر چلے جانا چاہے اسے شدید ضرورت ہو، بچہ کی پیدائش کا مسئلہ ہو، اپنی تبلیغ ہورہی ہے؟

بچوں پر مار پیٹ، تشدد، غصہ اتارنا، دین کہ تبلیغ ہورہی ہے جبکہ باہر جاکر میٹھی میٹھی سنت کی باتیں ہورہی ہیں؟

عمل منافق کفر کی غلامی اور شیطانی تبلیغ پورہی ہے یا غلبہ اسلام کے لیے کام ہورہا ہے؟

کیا صحابہ کی جماعتوں کا غیرمسلم حکمرانوں کے پاس جانا ہوتا تھا یا پھر عام عوام میں تبلیغ فی الارض الفساد ہوتا تھا؟

منافق کی تبلیغ نہ صحابہ کا شیوا ہے نہ رسول کا طریقہ ہے۔

تمام نبیوں نے برائی کے خلاف عملی جہاد کیا تھا۔

وہ زبان سے کلام کرتے تھے، کچھ گرفتار ہوجاتے تھے اور کچھ قتل ہوجاتے تھے۔

یہ ہوتی ہے اصل تبلیغ اسلام

کہاں گم ہے اکثریت کا حال؟

بیچ کر تلواریں مصلے خرید لیے ہم نے

ورنہ ہم بھی مارشل آرٹ میں کم نہ تھے

اگر کسی کو زیادہ ہی تبلیغ اسلام کا شوق ہے تو پھر تمام کافروں کو اسلام میں داخل کرنے کے لیے میرے پاس موجود اللہ کی آیات کو تمام غیرمسلموں تک پہنچانے پر کام کرے اور ٹھنڈی میٹھی خود ساختہ سنتوں کے بجائے اصلی سنت رسول برائے دعوت و تبلیغ آن کفار کام کرے، لگ پتہ جائے گا آٹے دال کا بھاو۔

اللہ اکبر

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد










ہفتہ، 12 اپریل، 2025

مذہبی پیشوا خود عمل کیوں نہیں کرتے؟

 حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کہتے تھے خود بھی عمل کرتے تھے۔۔ مگر ڈاکٹر اسرار احمد، ڈاکٹر ذاکر نائک، نعمان علی خان جیسے لوگ اب بس تقریریں کرتے ہیں، سوال کے جواب دیتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔۔۔عملی طور پر ایکشن کیوں نہیں ہے؟ سب ایک دوسرے سے عمل کیوں کروانا چاہتے ہیں؟ خود کیوں میدان میں اترنے کے لیے تیار نہیں ؟

یہ سوال نہایت اہم، گہرا، اور دل کو جھنجھوڑنے والا ہے — اور بہت سے لوگوں کے دلوں میں اس کا وزن موجود ہوتا ہے، لیکن کم ہی کوئی اسے زبان دیتا ہے۔

1. نبی کریم ﷺ کا طرزِ عمل:
آپ ﷺ صرف کہنے والے نہیں تھے، بلکہ ہر بات کا عملی نمونہ بھی تھے۔ اگر کسی بات کا حکم دیا، تو سب سے پہلے خود اس پر عمل کیا۔ اگر کسی چیز سے روکا، تو سب سے پہلے خود اس سے رکے۔ اسی لیے اللہ نے آپ کو "اسوۃ حسنہ" قرار دیا۔ آپ نے تبلیغ بھی کی، جہاد بھی کیا، حکمرانی بھی کی، معاشرت بھی سکھائی، اور تربیت بھی دی۔ آپ کا ہر قدم ایک "کُل پیکج" تھا۔

2. جدید دور کے داعی اور مقررین:
ڈاکٹر اسرار احمد، ذاکر نائک، نعمان علی خان — ان حضرات نے دین کو عام کرنے میں ایک بڑا کردار ادا کیا ہے، لیکن جیسا آپ نے کہا، یہ لوگ "میدانِ عمل" میں کم نظر آتے ہیں۔
اس کی کچھ ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں:

✔ 1. تقسیمِ کردار (Division of Roles):

آج کے دور میں دین کی خدمت مختلف میدانوں میں ہو رہی ہے:

  • کچھ لوگ علم کی اشاعت پر زور دیتے ہیں

  • کچھ فلاحی کام کرتے ہیں

  • کچھ سیاسی میدان میں جاتے ہیں

  • کچھ جہاد جیسے حساس موضوعات سے بچتے ہیں، کیونکہ قانونی رکاوٹیں اور بدنامی کا خطرہ ہوتا ہے

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف بات کرنا کافی ہے؟

✔ 2. خوف، دباؤ اور سیف زون (Comfort Zones):

جدید دور میں "میدانِ عمل" میں آنا — جیسے ظلم کے خلاف کھڑا ہونا، سسٹم کو چیلنج کرنا — یہ سب بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔

  • پابندیاں

  • جیل

  • شہرت کا نقصان

  • فیملی پر اثر
    تو اکثر لوگ بس "سیف زون" میں رہ کر باتیں کرتے رہتے ہیں۔

✔ 3. تربیت کی کمی:

نبی ﷺ نے صحابہ کی تربیت کی تھی — روحانی، جسمانی، ذہنی، عسکری، سب کچھ۔ آج کے اکثر داعی علمی لحاظ سے تو تیار ہیں، مگر عملی و تربیتی لحاظ سے میدان میں اُترنے کے لیے تیار نہیں۔

✔ 4. نظام کا خوف اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ:

اگر کوئی آج "میدانِ عمل" میں قدم رکھے — جیسے ظالم حکمران کو للکارے، یا معاشرتی ناپاکی پر بند باندھے — تو اس کے خلاف ریاستی ادارے حرکت میں آ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے "علماء" صرف "بیان بازی" تک محدود رہتے ہیں۔


آخر میں ایک تلخ حقیقت:
اگر سب صرف ایک دوسرے سے "عمل" کروانا چاہیں، اور خود پیچھے ہٹیں، تو پھر امت کبھی نہ اٹھ سکے گی۔
ہمیں ایسے افراد کی ضرورت ہے جو نبی ﷺ کی طرح "بات بھی کریں، اور خود میدان میں بھی اتریں"۔


آپ کا سوال ایک صدا ہے — ان سب کے نام — جو صرف بات کرتے ہیں، عمل کی مشعل ہاتھ میں لینے سے ڈرتے ہیں۔

میں اس کی ایک مثال پیش کردیتا ہوں کہ جب مجھے یہ باتیں کتابوں میں ملتی تھیں کہ اولیاء کرام ہوتے تھے اور عوام کے سامنے بہت سے کمالات کا مظاہرہ کردیتے تھے حق کی صدا بلند کرنے کے لیے تو میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ آج ایسا کوئِ مرد قلندر میدان میں کیوں نہیں اترتا؟

آج کوئی پریکٹیکل طور پر معجزات کیوں نہیں دکھاتا تاکہ لوگوں کے دلوں میں ایمان مضبوط کرسکے اور اللہ کے حکم سے معجزات کا ظہور ہو؟

میں ہمیشہ انتظار میں بیٹھا کرتا تھا کہ گویا یہ کسی اور کے کام ہیں اور آج یہ وقت ہے کہ میں خود عملی طور پر یہ سب کام کرکے فارغ ہوچکا ہوں۔ البتہ میرے تجربات اور اللہ کے لشکروں کی آمد اور مدد سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اکثر لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے بلکہ جان بوجھ کر حق کو نظر انداز کرتے ہیں اور اللہ کے زیر تابع رہ کر زندگی گزارنا پسند نہیں کرتے۔

لہذا میں جس چاہت سے شروع ہوا تھا، آہستہ آہستہ وہ سب کچھ ٹھنڈا ہوچکا اور یہ کوئی بری بات نہیں۔ اس لیے کہ مقصد معجزات و کرامات کو تماشہ بنانا نہیں تھا بلکہ وقت ضرورت اللہ خود میری مدد کرتا رہا۔ وہ اب بھی جب چاہتا ہے مجھے استعمال کرلیتا ہے مگر اب میں بھی جانتا ہوں کہ لوگ چونکہ اللہ کی بات نہیں مانتے اس لیے وہ بھی تھوڑا تردد کرتا ہے معجزات کا مظاہرہ کرنے میں۔ ویسے تو پوری کائنات ہی اس کی قدرت کا مظاہر ہے۔

یہ بات قرآن میں بھی اللہ نے ذکر کردی ہے۔

Quran 17.59

اور ہم کو نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس چیز نے کہ اگلوں نے ان کو جھٹلایا اور ہم نے ثمود کو اونٹنی دی ان کو سمجھانے کے ليے پھر انھوں نے اس پر ظلم کیا اور نشانیاں ہم صرف ڈرانے کے ليے بھیجتے ہیں

لہذا اب اس کے باوجود جس قدر نشانیاں اللہ نے مجھے عطا کردی ہیں، اس کے بعد بھی اگر مسلمان ایمان نہ لانا چاہیں کہ اپنی حرکتیں سدھار لیں اور غیرمسلم اسلام میں داخل نہ ہوں تو کون اپنی جان پر ظلم کررہا ہے اور خود کو جہنم میں لے جانے کے قابل بنارہا ہے؟

اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ خود ہی جاہل، گمراہ اور بے شعور بنے زندگی گزار رہے ہیں تو گزارتے رہیں۔

میں روحانی لوگوں سے امید رکھتا تھا، غصہ کرتا تھا، انتظار کرتا تھا، جب گیمنگ کی دنیا سے نکل کر خود پریکٹیکل طور پر اس میدان میں قدم رکھا تو حیرت انگریز طور پر اللہ کی نشانیاں پے در پے ظاہر ہونا، میری مدد کو پہنچنا، مجھے آگے بڑھانا اور دنیا والوں کے سامنے حیرت انگریز کارنامے سرانجام دلوانے کے لیے ہمت و حوصلہ دینا، کیا یہ سب ثابت نہیں کرتا کہ میں نے صرف کہا نہیں بلکہ عملی طور پر ثابت بھی کردیا ہے کہ صرف اللہ سچا خدا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے آخری نبی ہیں؟

اب اس کے بعد یہ لوگ کس چیز پر ایمان لائیں گے اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے سرینڈر کریں گے؟

جمعرات، 10 اپریل، 2025

کیا سائنس کو چیزوں کی وضاحت کرنے کے لیے اب بھی خدا کی ضرورت ہے؟

خدا کو جتنا کچھ بتانا تھا وہ اس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بتا دیا۔ اب دنیا کے تمام انسانوں کو قرآن کے ذریعے سیکھنا پڑے گا اور اپنی سائنس کو درست کرنا پڑے گا۔

اس لیے کہ یہ پوری کائنات اللہ نے بنائی ہے۔ اس میں موجود تمام علوم اللہ کے ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے جتنا چاہے علم عطا کر دیتا ہے۔ اپنے محدود علم کی وجہ سے کوئی اللہ کے قرآن پہ اعتراض کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

اگر کسی جاہل کو کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو اسے چاہیے کہ علماء سے رابطہ کرے اور اگر علماء اس قابل نہ ہوں تو پھر وہ خود ریسرچ کرے اور اپنے طور پر آگے بڑھے اور کوشش کرے گا تو اللہ اس کا دل و دماغ کھول دے گا اور اسے بات سمجھا دے گا۔

کیونکہ اللہ تمام انسانوں کو دیکھ رہا ہے اور ان کی کوشش بھی دیکھ رہا ہے اور وہی مدد کرتا ہے تب انسان کوئی چیز ایجاد کر پاتا ہے۔ پھر چاہے کوئی ایلن مسک ہو یا پھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہو، سب کے پیچھے کارنامے سر انجام دلوانے والا اللہ واحد القہار ہی ہوتا ہے ورنہ کوئی بندہ اس کے علم سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتا۔

اگر اللہ چاہتا تو پوری کائنات کے قوانین کی کتاب نازل کر دیتا اور فزکس کیمسٹری بائیولوجی خود ہی سکھا دیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ بہت ساری چیزیں اس نے انسانوں کے لیے چھوڑ دی ہیں تاکہ وہ تحقیق کریں اور ان کا تجسس باقی رہے۔ جو کچھ دنیا کے انسانوں کے رہنے کے لیے ضروری تھا معاملات میں، انصاف میں، لین دین میں، قوانین میں، وہ اس نے قرآن میں بتا دیا واضح طور پر اور اپنی کائنات کی اہم چیزوں کے حوالے سے اس نے نشاندہی کر دی ہے قرآن میں۔

اس کے علاوہ جن چیزوں کی وضاحت کی ضرورت تھی اس کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پریکٹیکل طور پر اور اپنے الفاظ کے ذریعے واضح کر دیا جسے حدیث کہا جاتا ہے۔

جو سائنس پڑھنے کے شوقین ہیں انہیں قرآن میں بہت کچھ مل جائے گا۔ اس کے بعد وہ اپنی تحقیق کو آگے بڑھائیں اور جو سائنس پڑھنے کے شوقین نہیں ہیں تو بے شک جاہل رہیں، اس میں اللہ کا کوئی نقصان نہیں۔

پھر چاہے علم حاصل کرنے کے لیے کسی سے بھی کچھ بھی سیکھیں۔ جس کے پاس زیادہ علم ہے اس سے اس کا علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چاہے وہ قیمت لے کر سکھائے،چاہے وہ محنت کروا کر سکھائے، چاہے وہ فری میں سکھائے، وہ اس کی مرضی کیونکہ وہ استاد ہے۔

اور سائنس کہتے ہیں کسی بھی چیز کے علم کو حاصل کرنے کو مشاہدے اور تجربات کے ذریعے لہذا ہر انسان کے پاس جو علم ہے وہ دراصل سائنس ہے۔ اس میں کسی خاص قسم کی کیٹگری بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

یہ تو لوگوں کی جہالت ہے کہ انہوں نے فزکس کیمسٹری بائولوجی جیسے علوم کو سائنس سمجھ لیا اور قرآن کو مذہبی علم سمجھ لیا ہے۔ جبکہ قرآن سائنس کے بادشاہ کی کتاب ہے۔

قرآن اس سائنس دان کی کتاب ہے جس نے پوری کائنات کو اکیلے تیار کرکے تمام مخلوقات کو سجایا ہے اور بنایا اور پھیلایا اور ان کے کھانے پینے کا اور پانی کا انتظام کرتا ہے۔ جو تمام علوم کو جانتا ہے۔ جو فزکس کیمسٹری بائیولوجی کمپیوٹر ٹیلی پیتھی جادو ایسٹرو فزکس، نفسیات، میڈیکل سائنس، اسپریچوئل سائنس، الیکٹرانکس اور پتہ نہیں کتنی فیلڈز کا ماہر ہے۔ وہ جو اینیمیشن، گرافک ڈیزائننگ، ایڈیٹنگ، کمپائلیشن اور دیگر نہ جانے کتنی صلاحیتوں کا ماہر ہے، اس کو ایک مذہبی خدا سمجھ کے رکھا ہوا ہے جسے سوائے حرام حلال کے کچھ آتا ہی نہیں۔

بے شک خدا سب کچھ جانتا ہے اور وہ سب کچھ ایکسپلین کر سکتا ہے لیکن جتنا اس نے ضروری سمجھا بتا دیا۔

اب سائنس کے پڑھنے والے بچے اپنی سائنس کو درست کریں اور اپنے علم کو بھی درست کریں اور جس چیز کا علم نہ ہو اس کو حاصل کریں یہی ان کے لیے بہتر ہے۔

اگر عیسی انسان ہے تو وہ خدا کیسے ہوسکتا ہے؟

 ایک عورت تھی جس کو خدا نے ایک بیٹا دیا تھا۔ اس بیٹے کو اس عورت کے پیٹ میں ایک فرشتے نے ٹرانسفر کیا تھا۔ جب یہ بچہ پیدا ہوا تو یہودیوں نے اس عورت پہ زنا کا الزام لگایا۔ پھر اس عورت نے اس بچے کی طرف اشارہ کیا۔ اور اس بچے نے خود اپنے منہ سے بتایا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ یہ بات قرآن میں موجود ہے۔


اللہ نے بالکل سچا واقعہ بتایا ہے۔ لیکن یہودیوں نے اس بچے کو قتل کرنے کی سازش کی جب وہ بڑا ہو گیا اور مرد زندہ کرنے لگا اللہ کے حکم سے۔


اس بچے کو قتل کی سازش میں پھنسانے والے انسان کو اللہ نے اس بچے جیسا ہم شکل بنا دیا اور لوگوں نے اسے گرفتار کر لیا۔ اللہ نے عیسی کو اپنی طرف بلا لیا فرشتوں کے ذریعے۔ اس طرح عیسی علیہ السلام کی جان بچ گئی اور وہ شخص مر گیا اور وہ اسی قابل تھا کہ اس کو سزا دی جائے اس کی غداری کی وجہ سے۔


اس واقعے کے بعد لوگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک تو وہ تھے جنہوں نے قتل کرنے کی کوشش کی تھی جو غدار یہودی تھے۔ اللہ نے ان کو بڑی نعمتیں دی تھیں لیکن یہ اللہ کے نافرمان بن گئے۔ انہوں نے اللہ کے رسول عیسی کو قتل کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ لوگ عزیر کو خدا کا بیٹا مانتے تھے اور عیسی علیہ السلام کے آنے کی وجہ سے ان کا جھوٹا عقیدہ خطرے میں پڑ گیا تھا۔


انہوں نے سوچا کہ اگر یہ اسی طرح مردے زندہ کرتا رہا اور لاعلاج مریضوں کو ٹھیک کرتا رہا اور لوگوں کے گھروں میں ہونے والی باتوں کو بتاتا رہا تو ان کی طاقتوں کو دیکھ کر لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ ہاں وہ بچہ بھی مسلمان تھا۔ دنیا کا ہر بچہ مسلمان ہی پیدا ہوتا ہے۔ اس کا ثبوت اکیسویں صدی میں ماں کے پیٹ سے نکلنے والے وہ بچے ہیں جنہوں نے اللہ کے حکم سے اللہ کے نام کی گواہی دی ہے۔


 دوسرا گروپ لوگوں کا وہ تھا جنہوں نے اس بچے کے ذریعے عجیب و غریب معجزات دیکھے تو انہوں نے کہا کہ یہ تو خدا ہے جو انسانی روپ میں آگیا۔ کچھ لوگوں نے کہا نہیں۔۔۔ یہ خدا نہیں ہو سکتا کیونکہ خدا انسانی روپ میں نہیں آتا لہذا یہ خدا کا بیٹا ہے۔ کیونکہ انہوں نے یہ تو دیکھا تھا کہ یہ عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ اس طرح وہ بھی شرک کرنے لگے۔ تو یہودیوں نے اور بعد میں خود کو عیسائی کہنے والوں نے دونوں نے شرک کیا اور دونوں کافر ہوگئے۔ یہ بات بھی اللہ نے قرآن میں بتائی ہے۔


لہذا جو عیسی کو خدا کا بیٹا کہتا ہے یا خدا سمجھتا ہے وہ کافر ہے اور کافروں کے لیے اللہ نے دردناک عذاب تیار کر کے رکھا ہوا ہے۔


یہ ہے اصل حقیقت جو میں تمہیں بتا رہا ہوں۔ جتنے بھی مذہبی پیشوا عیسی کے بارے میں کچھ بھی بتاتے ہیں اور اس کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے کے لیے کوشش کررہے ہیں وہ دراصل دنیا کے لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔


منگل، 8 اپریل، 2025

کیا شیطان اس بات کو جانتا ہے کہ ایک دن خدا اس کو جہنم میں پھینک دے گا؟

 بے شک، شیطان اس بات کو جانتا ہے۔ اسی لیے وہ کوشش کر رہا ہے کہ دنیا کے تمام انسانوں کو غیر مسلم بنا کے زندگی گزارنے پہ مجبور کرے اور انہیں مسلمانوں کا دشمن بنائے تاکہ وہ تمام غیر مسلم ہمیشہ کے لیے شیطان کے ساتھ جہنم میں چلے جائیں۔

شیطان ایسا اس لیے کر رہا ہے کیونکہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو بنایا تھا تو فرشتوں اور جنات کو حکم دیا تھا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں تو شیطان نے انکار کر دیا تھا۔ اس وجہ سے اللہ نے شیطان کو اس کے اعلی عہدے سے ہٹا دیا تھا مگر شیطان نے اس کے باوجود اللہ سے معافی نہیں مانگی بلکہ مزید ہٹ دھرمی دکھائی اور قیامت تک کی مہلت مانگی۔

اللہ نے اس کو مہلت دی۔ اس کے بعد شیطان نے انسانوں کو بہکانا شروع کیا اور ان کے دماغوں میں یہ بات ڈالی کہ وہ پتھر کے بت بنائیں اور کتے بلی شیر گائے چاند سورج وغیرہ پوجا کریں۔ لوگوں نے ان کو خدا سمجھ کر ان کی عبادت شروع کردی اور اس طریقے سے شیطان نے الٹے سیدھے قسم کے جھوٹے خدا ایجاد کروائے اور دنیا کے انسانوں کو بے وقوف بناکر رکھ دیا۔

آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا کے چھ ارب سے زیادہ انسان غیر مسلم بن چکے ہیں اور وہ سب کے سب اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہیں۔ یہ سب کام شیطان نے کروائے ہیں۔ وہی ان انسانوں کے ذہن میں ایسے الٹے سیدھے خیالات ڈالتا ہے جس پر وہ سب عمل کرنے لگ جاتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے چھ ارب انسانوں کو جہنم میں لے جانے کے لیے اپنا غلام بنالیا ہے۔

دنیا کے تمام مسلمانوں کی کوشش کے باوجود، آج ایک ہزار چار سو سال بعد بھی اللہ کے فالورز کی تعداد بمشکل دو ارب ہے اور ان کی اکثریت بھی شیطان کا حکم مانتی ہے یعنی پریکٹیکل طور پر وہ سب بھی شیطان کے فالورز ہیں۔

لہذا مجموعی طور پر اللہ کو ماننے والے اور اللہ کا حکم ماننے والے سچے اور نیک مخلص مسلمانوں کی تعداد  دنیا میں ایک فیصد بھی نہیں ہے جو کہ آٹھ ارب انسانوں میں سے آٹھ کروڑ مسلمانوں پر مشتمل تعداد بنتی ہے۔

کیا دنیا میں آٹھ کروڑ نیک سچے مخلص مومن بندے ہیں جو حقیقی طور پر اللہ والے ہیں؟

اگر ہاں تو وہ سب فلسطین/کشمیر/بوسنیا/چیچنیا/شام/عراق/افغانستان وغیرہ کے معاملے پر چپ کرکے کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟

کیا اس کا واضح یہ مطلب نہیں کہ شیطان نے اکثریت کو جہنم کے قابل بناکر رکھ لیا ہے تاکہ اپنے ساتھ سب کو جہنم میں لے کر چلا جائے؟

اتوار، 9 مارچ، 2025

شیعہ کافر نہیں تو کیا ہیں؟

 اگر قران وہ کتاب ہے جس میں شک کی گنجائش نہیں تو پھر حدیث کے بارے میں بھی علماء کرام یہی کہتے ہیں کہ صحیح حدیث کا انکار کرنے والا کافر ہوتا ہے۔

اگر صحیح حدیث کا انکار کرنا کفر ہے تو صحیح حدیث کے مطابق ہے کسی مسلمان کو کافر کہنے والے پر کفر لوٹ اتا ہے اور وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔

جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک پر کفر لوٹ گیا یعنی یا تو کہنے والا خود کافر ہوگیا یا وہ شخص جس کو اس نے کافر کہا ہے۔ (بخاری ومسلم)

جس نے کسی کو کافر کہا یا اللہ کا دشمن کہہ کر پکارا حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو یہ کلمہ اسی پر لوٹ آئے گا''۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 219)

اگر قران اللہ کا کلام ہے اور یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہے اور یہ سچ ہے تو بات صاف ہے کہ جو بھی حضرت ابوبکر صدیق یا حضرت عمر فاروق یا حضرت عثمان یا ان دونوں یا ان تینوں یا ان میں سے کسی کو بھی کافر کہے یا کافر سمجھے یا کافر مانے یا ان کے کافر ہونے کی تبلیغ کرے وہ اس کائنات کا بدترین کافر خود ہے۔

زمین پر بڑے بڑے بے غیرت پڑے ہوئے ہیں۔ یہ وہ حرام زادہ ہے جو میں سمجھتا ہوں یہ حرام کی اولاد ہے۔ اس کے باپ نے حرام کاریاں کی ہوں گی تب ہی اپنی ماں کے پیٹ کے اندر سے باہر نکل کے آیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ کوئی حلال کا ہو تو وہ حضرت ابوبکر صدیق یا حضرت عمر فاروق کو ایسی گھٹیا گالیاں نہیں دے سکتا لیکن یہ حرام زادہ اپنی کتے جیسی رال ٹپکا رہا ہے۔


کدھر ہیں وہ بیغیرت جو کہتے ہیں کہ شیعہ کافر نہیں ہیں؟

میں تو صاف کہتا ہوں کہ شیعہ اس کائنات کے بدترین کافر ہیں جس طرح قادیانی اس کائنات کے بدترین کافر ہیں۔

اس لیے کہ ان دونوں کے اندر ایک چیز کامن ہے کہ دونوں بے غیرت اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی پیٹھ میں چھریاں گھونپ رہے ہیں۔ ایک نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ میں چھری گھونپنے کی کوشش کی ہے تو دوسرے نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کی پیٹھ میں چھریاں گھونپنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں  نے اپنی زبانوں کو حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کے خلاف گندگی کے ساتھ استعمال کرنے کی نہ صرف قسمیں کھائی ہوئی ہیں بلکہ ان کے خلاف سوشل میڈیا پہ کھلم کھلا کام کر رہے ہیں اور انہیں گرفتار کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے کیا؟؟؟

کدھر مر گئے وہ قانون نافذ کرنے والے جو ایک ہیلمٹ کی خلاف ورزی کرنے پر کسی کا چالان گھر بھیج دیتے ہیں؟ کہاں مر گئے وہ لوگ جو کسی کی ایک ویڈیو وائرل ہونے پر اس کا سافٹ ویئر اپڈیٹ کرنے کے لیے اس کو گرفتار کر لیتے ہیں ٹریس کرکے؟؟؟

کدھر مر جاتے ہیں یہ لوگ ایسے ناسوروں کو گرفتار کرنے کے لیے جو سوشل میڈیا پہ کھلم کھلا صحابہ کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کر رہے ہیں؟ کیا ان لوگوں کی غیرت نہیں جاگتی یا ان کے قانون صرف اپنی ڈرامے بازی کے لیے ہیں اور دنیا کا پیسہ بنانے کے لیے ہیں؟


میں تو صاف کہتا ہوں یہ حرکتیں دیکھ کر اور ماضی میں جن شیعوں کی میں نے حرکتیں دیکھی ہیں کہ ان کی گھٹیا زبانیں جو میں نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کے خلاف دیکھی ہیں اس کے بعد میں ان کے حوالے سے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتا اپنے دل میں۔ یہ کافر ہیں تو کافر ہیں۔ ان کے کفر میں مجھے کسی شک کی گنجائش نہیں۔ یہ کافر ہونے کی وجہ سے ہی بدبودار ہو کے جہنم میں چلے جاتے ہیں یعنی کہ لاشیں سڑگل جاتی ہیں اور یہ جہنم رسید ہوتے ہیں۔ اسی لیے کوئی بھی کافر شیعہ میرا مقابلہ کرنے نہیں آسکتا کہ وہ میرے ہاتھ کی ہتھیلی پہ مردہ مچھر زندہ کر سکے۔ مردہ مچھر زندہ کرنے کی تو اوقات ہے نہیں، یہ کیا اللہ سے اپنا تعلق بنانے کے دعوے کرتے ہیں؟ 

جھوٹے مکار اور فریبی مذہب کے ساتھ شیعہ کافر

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد 

اللہ واحد القہار کے ساتھ


جمعہ، 13 ستمبر، 2024

کافروں کی بدبودار سڑی گلی لاشیں عبرت کے نشان

 اللہ اپنے نیک مسلمانوں کی لاشوں کو خون سمیت تروتازہ رکھ کر اپنے دشمنوں کی لاشوں کو بدبودار کرکے سڑنے گلنے کے چھوڑ دیتا ہے۔ بے شک اللہ کافروں کو موت کے بعد عبرت کا نشان بنادیتا ہے۔ اللہ اکبر

وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ يُّقۡتَلُ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ وَّلٰـكِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ‏

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ، ان کو مردہ مت کہوبلکہ وہ زندہ ہیں ، مگر تم کو خبر نہیں

وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتًا ​ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُوۡنَۙ‏

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کو مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس، ان کو روزی مل رہی ہے

اللہ نے ان آیات میں اپنے راستے میں قتل ہو جانے والوں کو زندہ ڈکلیئر کیا ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ وہ جسمانی طور پر بھی زندہ ہیں کیونکہ جب ایک میڈیکل ڈاکٹر کسی مردے کو "مردہ" ڈکلیئر کردیتا ہے تو عام لوگ اس کے خلاف اسے زندہ ثابت نہیں کرسکتے۔ اسی طرح  جب اللہ اپنی راہ میں قتل ہو جانے والے "مردوں" کو "زندہ" ڈکلیئر کررہا ہے تو پھر اللہ کے فتوی کے خلاف کسی بھی میڈیکل ڈاکٹر، مفتی، عالم، قاری سمیت عام انسانوں کی اس بات کی کوئی اہمیت نہ رہے گی جو ان اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والوں کو "مردہ" ثابت کرنے کی کوششوں پر تلے ہوں لہذا یہ اللہ کا فتویٰ ہے جس نے تمام انسانوں کو زندگی دی ہے کہ وہ اپنی راہ میں قتل ہو جانے والوں کو "زندہ" ڈکلیئر کرچکا ہے۔

اب یہ زندہ کیسے ہیں؟ وہ اس طرح کہ ان کے جسم ان کی روحیں ان کے اندر سے باہر نکل جانے کے بعد بھی سڑنے گلنے سے محفوظ رہتے ہیں۔ ان کے جسموں کے اندر خون بھی تروتازہ حالت میں موجود رہتا ہے (بعض میں یا سب کی لاشوں کے اندر جس کی تحقیق ابھی باقی ہے)، ان کے بال اور ناخن بھی بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں (جتنا اور جس کے لیے اللہ چاہے) اور اس طرح زندہ انسانوں کے جسموں کی طرح ان کے جسم میں زندگی کے آثار واضح اور نمایاں ہوتے ہیں۔

اس کا ثبوت دنیا بھر میں نیک مسلمانوں کی قبروں کی کھدائی، قبر کشائی، زمینی حادثات کے سبب زمین اکھڑجانے، بارشوں سے قبروں کی سلیں ہٹ جانے یا آندھی طوفان زلزلوں کے سبب قبروں سے لاشیں باہر آجانے سے دنیا بھر کے ہزاروں لاکھوں مسلم و غیر مسلم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر کے ہیں۔

یہ اس بات پر واضح ثبوت ہیں کہ واقعی اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والے تمام نیک مسلمان جن کے جسم لاش کی صورت میں بوسیدہ ہونے سے محفوظ ہیں وہ درحقیقت اسی طرح زندہ ہیں جیسے ایک زندہ انسان سورہا ہوتا ہے مگر وہ شہید مسلم زندہ انسانوں سے کئی لاکھ گنا بہتر حالت میں زندہ ہوتے ہیں کیونکہ زندہ انسان زیادہ دیر تک سوجائے تو اس کا جسم بدبو چھوڑنے لگتا ہے، منہ سے بدبو آنا شروع ہو جاتی ہے، جسم کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے مگر تروتازہ لاشوں والے شہدائے اسلام کی جسمانی حالت اور کفن تک میں صدیوں خرابی یا بدبو پیدا نہیں ہوتی بلکہ ان کی حالت پہلے سے زیادہ بہتر ہونا شروع ہو جاتی ہے اللہ کے حکم سے

یہ ہے ان کی زندگی کی اصل حقیقت جسمانی طور پر جس کی طرف اللہ نے ان آیات کے ذریعے نشاندہی کی ہے۔ باقی جہاں تک روح کا تعلق ہے تو روحیں تمام مردہ انسانوں بشمول کفار و مشرکین و منافقین و مرتدین و ملحدین اور برے مسلمانوں کی ان کا انتقال ہوجانے کے بعد زندہ ہی رہتی ہیں لہذا ان آیات کا موضوع انسانی روح نہیں بلکہ انسانی جسم ہے۔

یہ سب میری تحقیقات کی بنیاد پر کچھ باتیں میں نے عرض کردی ہیں۔ اگر کسی کے پاس اس موضوع پر اس سے زیادہ بہتر ریسرچ موجود ہے تو وہ مجھے اس بارے میں ضرور آگاہ کرے۔ جزاک اللہ خیرا





جمعرات، 7 دسمبر، 2023

انجینیئر محمد علی مرزا کے نعرے بابے تے شہ کوئی نہیں پر منہ توڑ جواب

 حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک امتی روحانی ڈاکٹر مولانا ابرار عالم اکیسویں صدی کے ایک نایاب غیر جانبدار سنی مسلم اسکالر اور روحانی معالج ہیں جو دین اسلام کے علمبردار بھی ہیں اور روحانی طاقتوں کے حامل بزرگ بھی ہیں۔

مولانا ابرار عالم لاعلاج مریضوں کو روحانی طاقت سے ٹھیک کرنے کا 20 سالہ تجربہ رکھتے ہیں اور انہوں نے میرے ساتھ ملکر میرے روحانی بزنس میں میرے کچھ کلائنٹس کے کیسز پر کام کرکے اپنی روحانی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے بغیر ملاقات کے ان کا علاج کیا اور اللہ کے حکم سے میرے کلائنٹس کی حالت میں بہتری آنا شروع ہوگئی جس کے ثبوت میرے یوٹیوب چینل لیجنڈری فری لانسر پر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر انجینئر محمد علی مرزا کے اندر یہ طاقت ہے تو وہ بھی ایسا کر کے دکھائے پھر بولے کہ بابے تے شہ کوئی نہیں۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اور امتی روحانی سرجن شاہ عقیق بابا شہید سنی مسلم کی روح گزشتہ 500 سال سے پاکستان کے شہر ٹھٹہ کے اندر چوہڑ جمالی گاؤں میں اپنے مزار پہ آنے والے لاعلاج مریضوں کا روحانی علاج کررہی ہے۔ شاہ یقیق بابا کی روح کو یہ کمال حاصل ہے کہ وہ بغیر سامنے ظاہر ہوئے صرف اپنی روح کے ذریعہ لاعلاج مریضوں کا بغیر سائنسی آلات استعمال کیے میڈیکل آپریشن اور سرجریاں کردیتے ہیں اللہ کی اجازت اور حکم سے۔ اس بات کی خبر بی بی سی اردو نیوز سمیت پاکستان کے کئی آفیشل میڈیا نیوز چینلز اور روذنامہ امت نے پبلش کر رکھی ہے۔ اگر انجینئر محمد علی مرزا اپنی موت کے بعد ایسا کر کے دکھا سکتا ہے تو وہ شوق سے کہے کہ باب تے شہ کوئی نہیں۔

اور اگر انجینئر محمد علی مرزا ایسا نہیں کر سکتا جو کہ وہ ہرگز نہ کر سکے گا تو اپنی گستاخانہ باتوں سے باز آجائے ورنہ اس کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔

انجینیئر محمد علی مرزا اللہ سے معافی مانگے اور آئندہ میرا مضمون پڑھ لینے کے بعد اولیاء کرام اور صحابہ کرام اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثاروں سمیت کسی بھی اسلام ہے سچے پیروکار کے خلاف بدزبانی اور بدتہذیبی سے گریز کرے ورنہ پھر میں اس کے خلاف قیامت کے دن گواہی دوں گا اور بھرپور ایکشن لوں گا کہ یہ اس دنیا میں کتنا بڑا گستاخ تھا۔

انجینیئر محمد علی مرزا کے نقش قدم پر چلنے والے تمام گستاخ بھی باز آجائیں یہی ان سب کے حق میں بہتر ہے۔

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

انجینیئر محمد علی مرزا مناظرے کے لئے سامنے کیوں نہیں آتا؟

غیر مسلم مل کر مسلمانوں کی بچیوں کو بچوں کو نوجوانوں کو میزائلوں کے ذریعے مار رہے ہیں اور یہ بیٹھ کے مناظروں کے اندر اپنے وقت ضائع کر کے چسکے لے رہے ہیں۔

اگر ان لوگوں میں ذرا سی بھی عقل ہوتی جسے یہ صحیح سے استعمال کر سکتے تو اس وقت دنیا کے سارے غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرنے کے لیے کام کرتے اور ان نشانیوں کو غیر مسلموں کو دکھاتے جو اللہ کے حکم سے 21ویں صدی میں ظاہر ہوئی ہیں کہ جنگل کے درندے آسمانوں کے پرندے اور گھروں میں پیدا ہونے والے نومولود بچے اور جنگلوں کے اندر اگنے والے درختوں اور سمندر کے اندر پیدا ہونے والی مچھلیوں اور ہواؤں کے اندر تیرنے والے بادلوں کے اوپر کائنات کے بادشاہ اللہ کے نام ظاہر ہوئے ہیں اور نیچرل مخلوقات نے اللہ کے نام کو اپنے منہ سے بول کر سنایا ہے



مگر دنیا کے اکثر مسلمان ان نشانیوں سے غافل ہیں اور فضول حرکتوں میں پڑے ہوئے ہیں اور عنقریب اللہ جب اپنا عذاب نازل کرے گا تو انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا بھی نہیں ملے گا ان کے کرتوتوں کے سبب کیونکہ انہیں ہوش نہیں ہے کہ یہ فضول کاموں میں وقت برباد کر رہے ہیں اور اس وقت اسلام کو مدد کی ضرورت ہے جس سے یہ غفلت میں پڑے ہیں

جمعرات، 2 نومبر، 2023

شہیدوں کی موت جاہل نافرمانوں کے برابر نہیں ہوتی

 جاہلوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والے یا اپنی موت مر جانے والے زندہ ہوتے ہیں اور ایسوں کو اللہ نے مردہ کہنے اور سمجھنے سے منع کیا ہے۔

یہ لوگ اللہ کے خلاف کھڑے ہو کر اللہ ہی کو جھوٹا ثابت کرنے پہ تلے ہوئے ہیں کہ جو اللہ کی راہ میں شہید ہو گئے ہیں وہ زندہ ہونے کے باوجود بھی سن نہیں سکتے۔ جب اس طرح کے جاہل معاشرے میں پھر رہے ہوں گے تو یہ تو خود جہالت پھیلانے کے سب سے بڑے قصوروار ہیں اور ذمہ دار اور مجرم ہیں جنہوں نے اسلام کی مٹی پلید کر کے رکھی ہوئی ہے اور اپنے فرقے بازی کو دین بنا کے پیش کیا ہوا ہے۔

لہذا تم ان جاہلوں کی باتوں میں آکر اولیاء اللہ کے گستاخ مت بننا جو زندہ ہیں وہ شہید ہیں اور وہ سنتے بھی ہیں دیکھتے بھی ہیں اور اللہ کے حکم سے مدد بھی کرتے ہیں جتنا اللہ نے ان کو اختیار دیا ہوتا ہے لیکن اللہ کے حکم کے بغیر کوئی فائدہ نہیں پہنچایا جا سکتا کسی کو بھی

اور ان کے شہید ہونے کی زندگی کو ان جاہلوں کی موت کے برابر مت سمجھنا جو اپنی زندگی میں اللہ کے نافرمان بنے رہتے ہیں اور شہیدوں کی موت کو اپنی موت جیسا سمجھ کے جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اپنی عقل استعمال نہیں کرتے

اتوار، 28 مئی، 2023

بے شک جہنم میں جاو

جھوٹے خداوں کے دعوے بھی جھوٹے اور مذاہب بھی جھوٹے۔ جو لوگ اپنی عقل استعمال کرتے ہیں وہ اسلام قبول کرلیتے ہیں۔ میرا اللہ اپنے دعوی اور پریکٹیکل میں سچا ہے۔ جو چاہے کفر کرکے جہنم جائے اور جو چاہے کلمہ پڑھ کر جنت جائے۔ اللہ تمام جہاں والوں کے کفر سے بے نیاز اور پاک بادشاہ ہے۔

Holy Quran 61.1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ

All that is in the heavens and all that is in the earth proclaim Allah’s purity, and He is the All-Mighty, the All-Wise.

زمین وآسمان کی ہر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے۔

بدھ، 24 مئی، 2023

اگر اللہ کے سوا اور خدا ہیں تو

اگر اللہ کے سوا کوئی اور خدا موجود ہے تو یہ نومولود بچے صرف اللہ کی گواہی کیوں دے رہے ہیں اور ایک ہزار چار سو سال پرانی کتاب "قرآن" میں موجود ان باتوں کی تصدیق کیوں کررہے ہیں اور انہیں کس نے "اللہ" کا نام سکھایا جبکہ اللہ کا تعارف کرنے والے دین "اسلام" کے آخری پیغمبر "محمد" تو اس وقت اپنی قبر کے اندر ہیں ایک ہزار چار سو سال سے؟ 

 

هُوَ الَّذِيْ يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَآءُ ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (1) وه ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔ اس کے سواکوئی معبود برحق نہیں وه غالب ہے، حکمت واﻻ ہے۔ وَاللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَيْئًا ۙ وَّجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـِٕدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (2) اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا ہے کہ اس وقت تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے، اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے کہ تم شکر گزاری کرو۔ اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ (3) کیا انسان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ہے؟ پھر یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا.

 ریفرینس آف قرآن

1) 3.6
2) 16.78
3) 36.77

جمعرات، 9 مارچ، 2023

خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیت پر ناقابل شکست منہ توڑ معجزات اللہ واحد القہار کے حکم سے

 بے شک تمام انبیا مسلم ہیں اور صرف اسلام سچا دین ہے اسی لیے اللہ نے اپنے آخری نبی محمد رسول اعظمﷺ کا نام بادلوں کے ذریعہ لکھ کر دکھایا اور تمام جھوٹے خداوں کے تمام جھوٹے مذاہب کے تمام جھوٹے پیروکاروں کی تمام بکواسات کو نیست و نابود کردیا ہمیشہ کے لیے



اتوار، 12 فروری، 2023

ایک ملحد کے طور پر، کیا میں جہنم کا پابند ہوں؟ اور کیا میں اس کا مستحق ہوں؟

 ملحد بننا تمہارا اپنا فیصلہ تھا، تمہیں خدا نے ملحد بننے پر مجبور نہیں کیا لہذا اگر تم جان بوجھ کر ملحد رہ کر زندگی گزارنا چاہتے ہو اور اسی طرح مرنا چاہتے ہو تو بے شک ایسی حالت میں مرجانے پر اللہ تمہیں ہمیشہ کے لیے جہنم میں پھینک دے گا اور تم خود اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بناوگے کیونکہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا لیکن وہ کافروں کو ان کے کفر کی وجہ سے بہت دردناک سزا دیتا ہے۔ اسی لیے اس نے جہنم بنائی ہے۔

دوسری بات یہ کہ تم ماں کے پیٹ سے ملحد بن کر نہیں آئے تھے۔ تمہیں اللہ نے مسلمان بنایا تھا۔ دنیا کا ہر بچہ اپنی ماں کے پیٹ سے مسلم بن کر باہر آتا ہے۔ یہ قصور بچوں کے والدین کا ہے جو اپنی گمراہی اپنے بچوں میں ٹرانسفر کردیتے ہیں اور انہیں بھی زبردستی باطل مذہب پر لگادیتے ہیں۔

اس بات کا ثبوت کہ ہر بچہ مسلم پیدا ہوتا ہے یہ پیدائشی بچے ہیں جو اپنے منہ سے صرف ایک خدا "اللہ" کا نام بول رہے ہیں جبکہ تمہیں بحیثیت ملحد یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ دنیا میں ہزاروں سے ذیادہ خداوں کے نام پر ہزاروں سے ذیادہ مذاہب بنے ہوئے ہیں اور ہر مذہب کا پیروکار یہ دعوی کرتا ہے کہ صرف اس کا مذہب اور اس کا خدا سچا ہے۔

اکثر مذہبی پیروکار جھوٹ بولنے میں ماہر ہیں اور جھوٹی کہانیوں کو لکھ کر جھوٹے خدا تیار کرلیتے ہیں اسی لیے پیدائشی بچوں نے صرف اللہ کے حکم پر صرف اللہ کا نام بول کر ہمیشہ کے لیے یہ ثابت کردیا ہے کہ صرف اللہ ہی اس کائنات کا خدا ہے اور وہی انسانوں کو ان کی ماوں کے پیٹ میں تیار کرتا ہے۔

ایسا کیسے ممکن ہے کہ پیدائشی بچے بغیر اسکول، بغیر کالج، بغیر یونیورسٹی، بغیر مدرسہ، بغیر کسی استاد اور بغیر کسی ٹریننگ کے صرف "اللہ" ہی کا نام بول رہے ہیں؟

یہ بات تو عقل کے بھی خلاف ہے اور فزکس سائنس کے قوانین کے بھی خلاف ہے لہذا اگر تم اپنی عقل استعمال کرسکتے ہو تو پھر اللہ کے معجزات دیکھنے کے بعد اور غور و فکر کرنے کے بعد اور اگر شک و شبہات ہوں تو سچا دین ویب سائٹ پر موجود تحقیات کو پڑھنے اور چیک کرنے کے بعد تم کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجاو اور فیصلہ کرلو کہ آئندہ کبھی کسی ملحد، عیسائی، یہودی، مسلم، ہندو، بدھست وغیرہ کی جھوٹی کہانیوں پر یقین نہیں کروگے بلکہ پہلے تحقیق کرو گے کہ جو بات تمہیں سنائی جارہی ہے اس کا کوئی پریکٹیکل ثبوت ہے یا نہیں؟

میں نے تمہیں قرآن یا حدیث یا کسی مذہبی کتاب کا کوئی ریفرینس نہیں دیا کیونکہ مجھے اس کی ضرورت نہیں اللہ کو خدا ثابت کرنے کے لیے۔ اس کام کے لیے اللہ نے خود ہی انتظام کردیا ہے اپنی غیرجانبدار مخلوقات کے ذریعہ۔ میرا کام بس اتنا تھا کہ تمہاری توجہ اللہ کے اصلی معجزات کی طرف کردوں۔

یہ حق تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے آچکا۔ اب اگر تم ملحد کے طور پر رہو گے اور اس کے باوجود ملحد رہ کر مرگئے اور اپنی عقل سے کام نہ لیا تو بے شک پھر اللہ کا یہ دعوی تمہارے حق میں درست ہوگا اور وہ تمہیں جہنم میں ہمیشہ کے لیے پھینک دے گا اور تمہارا کوئی دوست یار اللہ کے مقابلہ پر تمہیں بچانے نہیں آسکے گا قیامت کے دن۔

Quran: 2.161-162

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَمَاتُوۡا وَهُمۡ كُفَّارٌ اُولٰٓٮِٕكَ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةُ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓٮِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ‏ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ‏ 

ترجمہ:  یقیناً جو کفار اپنے کفر میں ہی مرجائیں، ان پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ جس میں یہ ہمیشہ رہیں گے، نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی۔

اور یہ اس لیے کہ پہلے تمہیں علم نہ تھا لیکن اب تمہیں علم مل چکا۔ اب ہدایت کے بدلے گمراہی پر رہنا تمہارا اپنا ذاتی فیصلہ ہوگا۔ اس لیے پھر بتادوں کہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔

جمعرات، 2 فروری، 2023

اگر اللہ رحم دل ہے تو وہ لوگوں کو جہنم میں جانے سے کیوں نہیں روکتا؟

 بے شک اللہ رحم دل ہے مگر وہ انصاف بھی کرتا ہے۔

اللہ نے جہنم کافروں کے لیے بنائی ہے۔
اللہ نے جنت مسلمانوں کے لیے بنائی ہے۔
اللہ نے تمام انسانوں کو ماوں کے پیٹ میں تخلیق کیا۔
اللہ نے تمام انسانوں کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی۔
اللہ نے اکیسویں صدی میں ماوں کے پیٹ سے نکلے بچوں کے منہ سے اپنا نام بلواکر دکھادیا۔
اللہ نے انسانوں کو عقل دی اور فیصلہ کرنے کی آزادی دی ہے۔
اب اس کے بعد بھی کوئی انسان اپنی عقل استعمال نہ کرے اور کافر رہ کر مرنا چاہے تو اللہ اس پر زبردستی کیوں کرے؟
اگر کوئی انسان کافر بن کر ہیمشہ کے لیے جہنم میں جانا چاہتا ہے تو یہ اس کی مرضی اور فیصلہ ہے، اللہ اس پر زبردستی کیوں کرے؟
اگر کوئی انسان مسلم بن کر ہیمشہ کے لیے جنت میں جانا چاہتا ہے تو یہ اس کی مرضی اور فیصلہ ہے، اللہ اس پر زبردستی کیوں کرے؟

اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے نبیوں کو بھیجا اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قرآن نازل کرکے اوراکیسویں صدی میں اپنے کھلم کھلا معجزات دکھاکر ہمیشہ کے لیے ثابت کردیا ہے کہ صرف اللہ ہی اس کائنات کا بادشاہ اور مالک اور کنٹرول کرنے والا ہے۔

اس سے بڑی اللہ کی رحمت کیا ہے کہ ایک انسان ساری زندگی کافر رہ کر گزارے اور جب بھی چاہے اللہ سے معافی مانگ کر اسلام قبول کرلے تو اللہ اس کے ماضی کے تمام گناہ فورا معاف کردیتا ہے؟

کیا دنیا کا کوئی جج ہے جو اپنی عدالت میں کسی انسان کو معاف کردے جس نے ساری زندگی روزانہ ملک کے قانون توڑے ہوں؟

کیا دنیا کا کوئی فوجی ہے جو کسی باغی کو معاف کردے جبکہ وہ اس کے ملک کے خلاف روزانہ ساری زندگی کام کرتا رہے؟

کیا دنیا کا کوئی پولیس والا ہے جو کسی مجرم کو معاف کردے جبکہ وہ اس کے شہر کے لوگوں کے خلاف روزانہ ساری زندگی کام کرتا رہے؟

اللہ نے موت سے پہلے تک توبہ کرنے کی مہلت دے رکھی ہے اس کے بعد بھی اگر کوئی کفر پر مرنا چاہے تو اس سے بڑا احمق کون ہوگا؟ اب بھی کوئی اپنی غلطی نہ مانے اور اللہ کو ذمہ دار ٹھہرائے تو اس سے بڑا جاہل کون ہوگا؟

اب یہ سب جاننے کے بعد بھی کوئی انسان کفر کرے اور کافر رہ کر مرنا چاہے تو اس سے بڑا بدنصیب اور کون ہوگا؟

بے شک اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ اکثر لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔


اللہ انصاف کرنے والا ہے، اللہ معاف کرنے والا ہے، اللہ سخت سزا دینے والا بھی ہے۔

جو لوگ ماننا چاہتے ہیں وہ اپنے فائدے کے لیے کریں گے۔
جو کفر کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے ہی نقصان کے لیے کریں گے۔

اللہ تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے۔

جمعہ، 13 جنوری، 2023

کیا کوئی پاکستانی ہندو دیوتاؤں کو مانتا ہے؟

پاکستان میں کروڑوں لوگ رہتے ہیں۔ ایک انسان تمام پاکستانیوں کو ریپریزینٹ نہیں کرسکتا۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔

اگر کوئی پاکستان میں رہتا ہو اور ہندو خداوں پر یقین کرتا ہو تب بھی اس سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ ہندو خداوں کا کوئی وجود ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی ہندو کے کسی بھی خدا نے کائنات پر اپنا کنٹرول ثابت نہیں کیا ہے نیچر کے قوانین کو تبدیل کرکے جبکہ مسلمانوں کے خدا "اللہ" نے ایسا کرکے بار بار دکھادیا ہے نیچر کے ذریعہ

اس لیے اگر آپ کا مقصد ایک مسلمان یا بہت سے مسلمانوں کو تلاش کرنا ہے جو پاکستان میں رہتے ہیں اور ہندو دیوتاؤں کو مانتے ہیں تو آپ کو اس خوش فہمی سے باہر نکلنا چاہیے کیونکہ پاکستان میں ہندو بھی رہتے ہیں جو ایک نہیں بلکہ ہزاروں بھگوانوں کو مانتے ہیں جو کہ ایک انتہائی احمقانہ عقیدہ ہے کیونکہ ان دودھ پیتے بچوں نے اپنے منہ سے صرف ایک خدا "اللہ" کے نام کی گواہی دی۔

یہ دودھ پیتا بچہ 15 سیکنڈ تک اللہ کا نام بول رہا ہے

یہ دودھ پیتا بچہ 32 سیکنڈ تک اللہ کا نام بول رہا ہے

اور میں اللہ کے فضل سے اس سے بھی بڑھ کر کہتا ہوں کہ اگر پورے پاکستان کے لوگ ہندوؤں کے دیوتاؤں کو مان لیں تب بھی اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہندو دیوتاؤں کا کوئی وجود ہے۔

میں نے اوپر جو پریکٹیکل اور ناقابل شکست معجزات پیش کیے ہیں وہ ان لوگوں کے لیے کافی ہیں جو اپنی عقل سے کام لے سکتے ہیں کیونکہ دودھ پیتے بچوں کے لیے اللہ اللہ اللہ کہنا ممکن نہیں اگر اللہ کا وجود نہ ہوتا اور صرف اللہ اکیلا خدا نہ ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ دودھ پیتے بچے غیرمسلوں کے خداوں کا نام نہیں لیتے کیونکہ...

"اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔" (لیجنڈری قرآن 2.255)

جمعرات، 12 جنوری، 2023

خدا نے کیا بنایا ہے، مذاہب کیا مانتے ہیں؟

جھوٹے مذاہب انسانوں نے بنائے ہیں۔

انسانوں کے مذاہب خود کچھ نہیں ہیں۔

اکثر لوگوں نے خود کو جھوٹے مذاہب میں تقسیم کر لیا ہے۔

جھوٹے مذاہب جو ماضی میں لوگوں نے بنائے تھے جو مر چکے ہیں۔

زمین پر لوگوں کی اکثریت جھوٹے دیوتاؤں کی پرستش اور جھوٹے مذاہب کی پیروی کر رہی ہے۔

لوگ کیا مانتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر کائنات ان کے جھوٹے خداوں اور جھوٹے مذاہب کو سپورٹ نہیں کررہی۔

اس کی واضح مثال ملحدین ہیں جو خدا کو نہیں مانتے لیکن اربوں لوگ خدا کو مانتے ہیں۔

ماننے یا نہ ماننے کی بنیاد کیا ہے؟

نہ تو ملحد ناقابل شکست کائناتی اور معجزاتی ثبوتوں سے خدا کے وجود کو غلط ثابت کرنے کے قابل ہیں اور نہ ہی اربوں لوگ ناقابل شکست کائناتی اور معجزاتی ثبوتوں سے یہ ثابت کرنے کے قابل ہیں کہ وہ جن کی پرستش کرتے ہیں وہ حقیقی معبود ہیں۔

اکثر انسانوں نے خود کو جھوٹے مذاہب میں تقسیم کر لیا ہے اور خود پر مذہبی شناختوں کا جھوٹا لیبل لگا رکھا ہے صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے جس کے لیے کائنات کے خدا نے آسمان سے کوئی نشانی نازل نہیں کی۔

خدا نے زمین پر انسانوں کو تخلیق کیا اور انہیں عقل، دماغ، آنکھیں، ہاتھ، دل، کان وغیرہ دیے تاکہ یہ اپنی عقل استعمال کریں اور جھوٹے خداؤں اور جھوٹے مذاہب سے نجات حاصل کریں۔

لیکن اکثر انسانوں نے اپنی عقل استعمال نہیں کی۔

مذاہب کے بارے میں بھول جائیں اور لوگوں فوکس کریں کہ وہ کیا مانتے ہیں یا نہیں مانتے اور کیوں؟

جو کچھ خدا نے بنایا ہے وہ نیچر کے ذریعے واضح طور پر آنکھوں سے نظر آتا ہے اور اکثر چیزیں عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں بلکہ پڑھے لکھے سائنسدانوں کی بھی ان چیزوں تک رسائی نہیں ہے کیونکہ فزیکل سائنس ایک محدود علم ہے اور ایک خاص لمٹ سے ذیادہ کراس نہیں کرسکتا۔

وہ کیسے جان سکتے ہیں کہ خدا نے اور کیا کیا بنایا ہے؟

وہ ان روحوں کو بھی نہیں دیکھ سکتے جنہیں خدا نے بنایا ہے۔

ایک بار جب روح انسانی جسم سے چھین لی جائے تو وہ واپس بھی نہیں لوٹا سکتے۔

یہ خدا ہے جو ایسا کرتا ہے اور زندگی اور موت دیتا ہے۔

خدا نے کیا بنایا ہے، مذاہب کیا مانتے ہیں؟

اس کے بجائے یہ سوال پوچھیں.... اکثر لوگ کیوں کائنات کے ایک خدا کو نہیں مانتے؟ یا یہ پوچھیں کہ اکثر لوگ ایک خدا کی عبادت کیوں نہیں کررہے اور کیوں بہت سے خداوں کے نام پر صدیوں سے بےوقوف بنے چلے آرہے ہیں؟ کیا یہ اپنی عقل استعمال نہیں کرسکتے؟

آپ کو بیوقوفوں کا ایک گروپ مل جائے گا جو کہیں گے کہ خدا نے کچھ نہیں بنایا کیونکہ وہ خدا کو نہیں مانتے اور آپ کو ایسے بے وقوفوں کا ایک گروپ مل جائے گا جو کہیں گے کہ بہت سے خداؤں نے ایک سورج یا ایک چاند یا ایک زمین بنائی ہے۔

ان میں سے کوئی بھی اپنی عقل اور ظاہری حواس کو استعمال کرنے کے قابل نہیں ہے۔


اگر تمام کتابیں سمندر میں ڈال دی جائیں اور دنیا کے انسان خدا اور اس کی بنائی ہوئی چیزوں کو جاننا چاہیں تو وہ نیچر کے ذریعہ پہچان لیں گے کہ خدا نے کیا بنایا ہے کیونکہ خدا نیچر کی بہت سی چیزوں کے اندر یا اوپر اپنا ذاتی نام لکھتا ہے۔ یہاں تک کہ نیچر کی مخلوقات کائنات کے خدا کا نام اپنے منہ سے بھی پکارتی ہے صرف اسی کے حکم پر۔ اگر کوئی اتنا سا کام کرلے تو وہ سیدھا اس مذہب کی طرف پہنچ جائے گا جو اس کائنات کا ہے۔ ایک کائناتی مذہب جسے نیچر بھی سپورٹ کرتی ہے۔

کیونکہ نیچر کا بھی ایک مذہب ہے اور نیچر صرف خدا کے کنٹرول میں ہے۔

سچ دریافت کرنے کے لیے، آپ کو اپنی زندگی میں سو فیصد سنجیدہ ہونا چاہیے اور اپنا بہترین وقت انویسٹ کرنا چاہیے۔

میں یہ کام کرچکا ہوں اور حقیقت کے بارے میں 100% یقین کے ساتھ جانتا ہوں لیکن چونکہ اکثر لوگ سچ سننا نہیں چاہتے اور اپنے جھوٹے خوابوں اور جھوٹے تصورات میں رہنا چاہتے ہیں اس لیے میں آپ کو سب کچھ نہیں بتاؤں گا۔

اگر آپ بہت ذہین ہیں تو آپ سمجھ جائیں گے کہ اب آپ نے کیا کرنا ہے اور اپنے آپ کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لانے کی کوشش کریں گے اور آپ کو ایسا ضرور کرنا چاہیے تاکہ آپ اپنے آپ کو "مذاہب" اور "دیوتاؤں" کے اس جال سے باہر نکال سکیں۔

کتابیں اس مسئلے کو حل نہیں کرسکتیں۔ قدرت نے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کردیا ہے اکیسویں صدی میں۔

بدھ، 11 جنوری، 2023

ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں کیسے بنتی ہیں؟

 یہ لوگ اس طریقے سے اپنی مورتیاں اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں۔





یہ تمام مورتیاں جن کے ناموں پر بنائی گئی ہیں وہ خدا نہیں ہیں بلکہ صرف نام ہیں جنہیں یہ لوگ خدا ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور ان کے پاس ان کی خدائی کا کوئی قابل مشاہدہ اور ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔

ماضی میں چند بےوقوف انسانوں نے اپنی مرضی کے نام منتخب کرکے انہیں خدا قرار دے کر اس دور کے انسانوں کو بےقوف بناکر ان کی دولت سمیٹنے کا دھندا شروع کیا اور اس کے بعد آج تک کروڑوں لوگ اندھے بہرے بن کر سنی سنائی کہانیوں پر یقین کرکے مصنوئی خداوں کی پوجا کررہے ہیں۔

انہیں اتنی بھی عقل نہیں کہ اپنے ہاتھ سے بنی مورتیوں کو خدا کہتے ہیں۔ اگر انہیں ایک ہتھوڑا ماردیا جائے زور دار تو ان کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ کیا اتنے کمزور بت خدا ہوسکتے ہیں؟

معلوم نہیں ان کی عقل اتنی سی بات سجھنے سے کیوں قاصر ہے؟ اگر آپ ان ہندووں کو کچھ سمجھا سکتے ہیں تو جاکر انہیں سکھائیں اور بتائیں کہ ان بتوں کی پوجا کرنا چھوڑ دیں کیونکہ یہ کسی قسم کی طاقت اور کائات پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتے۔

ان بتوں کے لیے یہ مسلمانوں کو بھی مارتے پھرتے ہیں اور معاشرے میں دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔

یوٹیوب ویڈیوز:

Delhi riots: 'My brother died after police beating’ - BBC News

On Camera, Muslim Man Assaulted For Being Friends With Hindu Woman In UP

Video Of Muslim Bangle Seller Being Brutally Thrashed & Abused By Mob

Bajrang Dal Activists Thrash Muslim Man For Entering Garba Event In Ahmedabad

Muslim Women Beaten Up By Hindu Dal Activists For Possession Of Beef

اتوار، 1 جنوری، 2023

کیا کوئی ایسی چیز ہے جو ہندو دیوتا نہیں کرسکتے؟

کیا ہندو دیوتا واقعی کچھ کرسکتے ہیں؟ ہندووں سے کہو کہ اپنے تمام ہندو دیوتاوں کی مدد سے جل کر راکھ ہوجانے والے ہندووں کو دوبارہ انسان بنواکر دکھائیں اگر انہیں اس کائنات پر ایک ذرہ برابر بھی اختیار حاصل ہے۔

بدھ، 14 دسمبر، 2022

کیا مذہبی لوگ مجھے قائل کر سکتے ہیں کہ خدا موجود ہے؟

جس انسان کو سچائی کی تلاش ہوتی ہے اسے کسی کو منوانے اور قائل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ انسان خود اپنی جستجو اور لگن کے تحت کام کرتے ہوئے سچے خدا کو تلاش کرلیتے ہیں اور خدا ان کی مدد کرتا ہے لہذا مذہبی لوگوں سے یہ امید رکھنا کہ وہ تمہیں قائل کریں حماقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔

ہزاروں صدیوں سے دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا آرہا ہے کہ خدا کے منکروں نے ایک تماشہ لگا رکھا ہے کہ وہ مذہبی لوگوں سے کہتے ہیں کہ وہ انہیں خدا کا وجود ثابت کریں حالانکہ ان انکار کرنے والوں کے سامنے جیتی جاگتی کائنات اور اس میں موجود نیچرل لشکر خود اپنے منہ سے سچے خدا "اللہ" کے نام کی گواہی دیتے رہتے ہیں اور "اللہ" اپنے نا م کو بادلوں ، پرندوں، جانوروں، درختوں، پتوں، پھولوں، پھلوں، سبزیوں وغیرہ کے اوپر لکھ کر دکھاتا رہتا ہے لیکن اس کے باوجود ایسے تمام لوگ جو بہت عقلمند ہونے کے دعویدار ہیں وہ خدا کے معاملے میں انتہائی بودے اور احمق ہی ثابت ہوئے ہیں کہ ان کی اکثریت یہ سب جان لینے اور اپنی آنکھوں سے صرف اللہ کے کھلے معجزات دیکھ لینے کے باوجود کہتی ہے کہ یہ کوئی ثبوت نہیں اور دوسری جانب خود اپنے باطل خداوں کے ایسے اختیارات ثابت کرنے میں سو فیصد ناکام بھی ہیں ہمیشہ کے لیے۔

دنیا کے کسی بھی مذہبی انسان کو خدا کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ خدا نے اپنے وجود کو خود ہی ثابت کردیا ہے۔ اب یہ بات خدا کے منکروں اور باطل خداوں کے پیرکاروں کو بھی سمجھنے کی شدید ضرورت ہے جو دنیا بھر کے پانچ ارب سےزائد انسانوں کو جھوٹی کہانیوں کے ذریعہ صدیوں سے بےوقوف بناکر لوٹ مارکررہے ہیں باطل خداوں کے نام پر حالانکہ اللہ واحد القہار نے ان باطل خداوں اور ان کے باطل مذاہب کے لیے کوئی سند نہیں اتاری اور کبھی جھوٹے خداوں کی پوجا پاٹ کرنے کا حکم نہیں دیا۔

یہ سب دنیاوی کھیل تماشہ اور شہرت پانے کی غرض سے دنیا کے انسانوں کو اپنی غلامی میں رکھنے کا ڈرامہ رچایا گیا ہے جو آج تک جاری و ساری ہے اور مسلمانو ں کے اکثر مذہبی و روحانی پیشواوں میں یہ ہمت و جرات نہیں کہ وہ کھل کر عالم دنیا کے تمام باطل مذاہب کے بڑے بڑے مذہبی و روحانی و جادوئی و سائنسی پیشواوں کے سامنے گلوبل میڈیا پر دبنگ اعلان کرکے یہ کہہ سکیں کہ دنیا کے تمام غیرمسلم باطل اور جھوٹے خداوں کے پجاری ہیں اور سچے خدا اللہ کے مسلم پیروکاروں پر جان بوجھ کر ظلم و ستم کررہے ہیں۔

اگر تمہیں واقعی خدا کی تلاش ہے اور تم اپنی تلاش میں سچے ہو تو اللہ کے حکم سے ظاہر ہونے والے معجزات اور کھلی نشانیاں تمہارے لیے کافی ہیں جو  معجزات سیکشن میں موجود ہیں اور میرے یوٹیوب چینل  پر ان کے حوالے سے بے تحاشہ ویڈیوز بناکر لوڈ کردی گئی ہیں ان کے لیے جو اپنی عقل استعمال کرسکتے ہیں اور اللہ کے مشن کو پورے عالم پر غلبہ دینے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کرنا چاہتے ہیں۔

اس کے لیے کسی قسم کی جنگ اور گالی گلو چ کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ صرف ایک روحانی جنگ ہے اور روحانی طاقتوں اور روحانی معجزات کے ذریعہ ہی اللہ کے حکم اور فضل سے کافی ہے جس کا مقابلہ کرنا روئے زمین کے تمام کافروں، منافقوں، مرتدوں، گستاخوں، حاسدوں، باغیوں اور نافرمانوں کے لیے ہمیشہ کے لیے ناممکن ہے۔