نفسیات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
نفسیات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 9 جون، 2025

اگر لوگوں کو جیتنا ہے تو ہر انسان کے دل کی چابی پہچانو

 اگر لوگوں کو جیتنا ہے تو ہر انسان کے دل کی چابی پہچانو۔

🔑
لالچی کو نصیحت مت دو، اسے تھوڑا سا لالچ دو، یہی اس کا راستہ ہے۔ 💰
غرور کرنے والے سے بحث مت کرو، اسے جھکاؤ مت، خود جھک جاؤ، اس کا غرور اسی وقت ٹوٹ جائے گا۔ 🙇‍♂️
بیوقوف کو دلیل سے مت سمجھاؤ، اسے اپنی راہ پر چلنے دو، چاہے منزل تک پہنچے یا ٹھوکر کھائے، وہ خود سیکھے گا۔ 🤷‍♂️
عالم سے کچھ مت چھپاؤ، اسے سچائی دو، کیونکہ اس کی آنکھیں جھوٹ کے سائے بھی دیکھ لیتی ہیں۔ 👓
جو اکیلا ہے، اسے نصیحت نہیں، صرف ساتھ چاہیے، ایک ہاتھ پکڑ لو، دنیا جیت لے گا۔ 🤝
بھوکا ہے تو تقریر مت دو، روٹی دو، اسی وقت بھوک اس کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ 🍞
بچہ ہے، اسے اخلاقیات کا بوجھ مت دو، ایک کھلونا دو، وہی اس کی دنیا ہے۔ 🧸
استاد کو علم مت دو، عزت دو، کیونکہ عزت ہی اس کا سب سے بڑا انعام ہے۔ 🎓
ساس کو طعنے مت دو، میٹھے بول دو، کڑواہٹ خود ختم ہو جائے گی۔ 🍯
شوہر کو ڈانٹ سے نہیں، سکون سے سمجھاؤ، اس کی دنیا دلیل سے نہیں، سکون سے چلتی ہے۔ 🕊️
بیوی کو ہیرے نہیں، توجہ دو، اس کا دل تمہارے وقت سے روشن ہوتا ہے۔ 💖
نوکر کو حکم سے نہیں، عزت اور اچھی تنخواہ دو، وہ وفادار ہو جائے گا۔ 💼
دوست کو تحفے نہیں، صرف تمہارا اعتماد چاہیے۔ 🤗
دشمن سے مت لڑو، ہاتھ جوڑ دو، شاید وہ بھی نفرت سے تھک چکا ہو۔ 🙏
اور محبوب کو ہزاروں الفاظ نہیں، صرف ایک وعدہ چاہیے:
میں تمہارا ہوں ہمیشہ کے لیے۔ ❤️
ہر انسان کا دل ایک تالا ہے، بس چابی تلاش کرنے کا ہنر آنا چاہیے۔ 🔐
از قلم ماہ نور فاطمہ

منگل، 25 مارچ، 2025

انسان کا گھٹیا کردار

 دنیا کی تاریخ ظلم و بربریت سے بھری پڑی ہے، اور ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو اپنی طاقت، اختیارات اور عہدے کا ناجائز استعمال کرکے کمزوروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ آج بھی بہت سے ایسے کردار ہمارے سامنے آتے ہیں جو وردی کے پیچھے چھپ کر ظلم و زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف قتل و غارت میں ملوث ہوتے ہیں بلکہ اغوا، ریپ اور دیگر گھناؤنے جرائم میں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ایسے ظالم اور جابر افراد معاشرے کے لیے ناسور ہیں جنہیں بے نقاب کرنا اور ختم کرنا ہر انصاف پسند انسان پر لازم ہے۔

صحابہ کرام اور ظالموں کے خلاف عدل و انصاف

اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے عظیم حکمران آج ہوتے تو ایسے ظالموں کے ساتھ انتہائی سختی سے نمٹا جاتا۔ حضرت عمرؓ کی خلافت میں عدل و انصاف کا جو معیار تھا، اس میں کسی بھی ظالم کو معاف نہیں کیا جاتا تھا، چاہے وہ کسی بڑے عہدے پر فائز ہوتا یا عام شہری ہوتا۔ حضرت عمرؓ نے ہمیشہ ظالموں کو سرِعام سزا دی تاکہ دوسروں کے لیے عبرت بنے۔

رسول اللہ ﷺ اور ظالموں کے خلاف شرعی احکامات

نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ عدل و انصاف کا حکم دیا اور ظالموں کے خلاف سخت سزائیں مقرر کیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
"لوگوں پر ظلم کرنے والا اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتا۔" (صحیح مسلم)

اسلامی شریعت میں ایسے لوگوں کے لیے سخت ترین سزائیں مقرر ہیں۔ اگر کوئی شخص قتل کرتا ہے تو اس کے بدلے قصاص (بدلے میں قتل) کا حکم ہے، اگر کوئی زنا بالجبر کرتا ہے تو اس کے لیے سنگساری یا کوڑوں کی سزا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"جو لوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کی سزا قتل ہے، یا انہیں سولی پر لٹکایا جائے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیے جائیں، یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔" (المائدہ: 33)

ایسے ظالموں کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟

  1. عوامی شعور بیدار کرنا: سب سے پہلے ایسے لوگوں کے خلاف عوام کو بیدار کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوں۔

  2. اسلامی قوانین کا نفاذ: اگر اسلامی شریعت کے مطابق عدل و انصاف کا نظام نافذ ہو تو کسی کی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ ظلم کرے۔

  3. ظالموں کو بے نقاب کرنا: میڈیا، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کو استعمال کرکے ان ظالموں کو بے نقاب کیا جائے۔

  4. منظم مزاحمت: عوام کو قانونی طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے اور ایسے مجرموں کو سزا دلوانے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

  5. اللہ سے مدد مانگنا: دعا، استغفار اور اللہ سے مدد مانگنی چاہیے تاکہ ایسے ظالموں کا جلد خاتمہ ہو۔

نتیجہ

ظالموں کے خلاف کھڑا ہونا ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل یہ ظلم ہمارے گھروں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان درندہ صفت لوگوں کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ظالموں کے خلاف ڈٹ جانے کی ہمت عطا فرمائے اور زمین سے ان ناسوروں کا خاتمہ کرے۔ آمین!

بدھ، 18 دسمبر، 2024

اچھا انسان کسی کا برا نہیں چاہتا

اچھا انسان کبھی کسی کا برا نہیں چاہتا۔

وہ دل سے اچھا انسان ہوتا ہے لہذا اس کے پاس پیسہ ہو یا نہ ہو، غربت ہو یا امیری ہو، وہ دونوں صورت میں اچھا ہی رہتا ہے چاہے کوئی اس کے ساتھ کتنا ہی برا کرلے۔ خاص طور پر اگر اس کے ساتھ برا کرنے والے اس کے اپنے ہوں۔ وہ سب کو معاف کردیتا ہے۔ ان کا بھلا چاہتا ہے، ان کے لیے اچھائی کرتا ہے کیونکہ وہ خود اچھا ہوتا ہے۔

جبکہ دوسری جانب برا انسان ہوتا ہے۔ وہ اچھا کرنے والے کے ساتھ اس کی اچھائیوں کے باوجود برا کرتا ہے کیونکہ وہ برا انسان ہوتا ہے۔ اس کے دل میں اچھے انسان کے خلاف نفرت، زہر، حسد، جلن، بغض، عداوت، کینہ وغیرہ جیسے روحانی امراض کوٹ کوٹ کے بھرے ہوتے ہیں یعنی تکبر میں مبتلا ایک ہٹ دھرم انسان۔ ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ اچھے انسان کا برا ہوجائے۔ یہ اچھے انسان کی برائی کرنے، اس کا برا چاہنے اور اس کے لیے برا کرنے میں اپنی کوئی چال باقی نہیں چھوڑتے۔

ان کا جتنا بس چل سکے، یہ ہر اس حد تک گزرکر جاتے ہیں صرف اگلے انسان کو تباہ کرنے کے لیے۔ اگر اس پر بھی ان کا بس نہ چلے تو اسے ختم ہی کرکے دم لیتے ہیں مگر ایسے انسان پھر ساری زندگی پچھتاوے کی آگ میں جلتے کڑھتے رہتے ہیں، موت بھی بدترین ہوجاتی ہے اور آخرت بھی بدترین بن جاتی ہے۔

اور برا چاہنے والوں کے لیے برے انجام کے سوا ہوبھی کیا سکتا ہے اگر وہ خود کو بدلنا نہ چاہیں؟

منگل، 10 نومبر، 2020

چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آنا،،، ایک نفسیاتی بیماری ہے؟

یہ ہرگز کوئی بیماری نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ڈس آرڈر ہے۔ ایک انسان کو جب چاروں طرف سے زہریلے طنز و تنقید کے تیر چلا چلاکر ذخمی کیا جائے گا تو وہ ضرور بولے گا۔

اس ٹائپ کے لوگ ذہین ترین اور غور و فکر کرنے والے ہوتے ہیں جنہیں سوسائٹی کے بہت سے بودے لوگ سمجھنے سے محروم ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنی عقل استعمال کرنے کے بجائے روایتی زندگی گزارنے کے شوقین ہوتے ہیں کہ کھالیا، پی لیا، سو لیا اور مزے کرکے مرگئے۔

معاشرے کے بودے لوگ ذہین لوگوں کو سکون سے بھی نہیں رہنے دیتے اور ان کی باتوں کو سن کر انہیں الٹا نفسیاتی قرار دیتے رہتے ہیں۔

اصل نفسیاتی تو سوسائٹی میں وہ سب ہیں جو خاموش طبعت لوگوں کو دبا کر، ملیامیٹ کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اور پھر شرم بھی نہیں آتی کہ انہیں ذہنی مریض قرار دے کر پاگل کہتے ہیں۔

بند کرو یہ تماشہ ذہین لوگوں کے خلاف۔

جمعرات، 7 نومبر، 2019

جب انسان خود ہی غصہ میں ہو تو

 جب ایک انسان اپنی بری کارگردی کے سبب زمانے سے مار کھاکر زخمی ہوتا ہے تب اس کے اندر غصہ بھرا ہوتا ہے۔ایسی صورتحال میں وہ کسی کے اچھے کام کی بھی تعریف نہیں کرتا۔بلکہ اگر اس کے سامنے کوئی اچھا کام کرنے والا ہو تو اس سے مزید جلتا ہے اور غصہ کھاتا ہے کیونکہ وہ اپنے طور پر ناکام ہورہا ہوتا ہے اور اس کے سامنے دوسرا کامیاب ہورہا ہوتا ہے۔

یہاں تک کہ ایسے انسان کے سامنے اگر کامیاب ہوتا ہوا انسان گر جائے یا کسی عمل میں نتائج نہ لا سکے تو غصہ کرنے والے کی خوشی میں اضافہ ہوتا ہے کہ اچھا ہوا دوسرے کا بھی نقصان ہوا۔