پرسنل ڈیویلپمنٹ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
پرسنل ڈیویلپمنٹ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 27 جون، 2025

تمہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ اور دوبارہ واپس مت آنا

social media se ek behtreen post

"تمہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ اور دوبارہ واپس مت آنا۔"
بس یہی الفاظ تھے جو اُس نے سنے۔
نہ کوئی چیخ، نہ آنسو۔ بس ایک سپاٹ جملہ... اور دروازے کے بند ہونے کی آواز۔
یہ اُس کی نانی تھیں۔
وہ عورت جس نے اُسے پالا تھا، کھلایا، ہر قدم پر اُس کا خیال رکھا — آج اُسے ایسے باہر نکال رہی تھیں جیسے وہ کوئی اجنبی ہو۔
قریب کھڑے اُس کے نانا حیران رہ گئے۔
"تم کیا کر رہی ہو؟ وہ تمہارا نواسہ ہے!"
نانی نے کوئی جواب نہیں دیا۔
بس خاموشی سے پلٹ کر گھر کے اندر چلی گئیں۔
اُسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔
کسی کو نہیں آیا — نہ ہمسایوں کو، نہ خود اُسے۔
وہ ابھی تک وہی کپڑے پہنے ہوئے تھا جو دوپہر کو پہنے تھے۔
نہ بٹوہ، نہ فون، نہ چابیاں۔ بس... باہر۔
سو وہ چل پڑا۔
پہلے ایک دوست کے گھر گیا۔
"یار، کیا میں کچھ دن تمہارے ساتھ رہ سکتا ہوں؟"
دوست حیرت سے دیکھنے لگا، "تمہیں نکال دیا گیا؟"
"ہاں..." اُس نے سر ہلایا۔
"یار معذرت، میرے والدین اجازت نہیں دیں گے۔ میں چاہتا ہوں مدد کرنا، لیکن نہیں کر سکتا۔"
وہ وہاں سے بھی چلا گیا۔
راستے میں ایک اور دوست ملا۔
"ٹھیک ہو؟ بڑے پریشان لگ رہے ہو۔"
"میرے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں۔ کچھ دن تمہارے ہاں ٹھہر سکتا ہوں؟"
"تمہارے پاس پیسے ہیں؟ کوئی خرچہ اٹھا سکتے ہو؟"
"نہیں... میرے پاس کچھ بھی نہیں۔"
"تو پھر معذرت، میں کچھ نہیں کر سکتا۔"
وہ خاموشی سے سر جھکائے چلتا رہا۔
آخرکار وہ اپنی گرل فرینڈ کے پاس پہنچا۔
اُسے گلے لگایا اور ساری بات بتائی۔
وہ پریشان ہو گئی۔ بولی کہ اپنے والدین سے بات کرے گی۔
کچھ دیر بعد واپس آئی۔ آواز دھیمی تھی اور آنکھیں اداس۔
"میرے والدین نے منع کر دیا ہے۔ اور سچ کہوں تو... میں اُن کا فیصلہ نہیں بدل سکتی۔ معاف کرنا۔"
وہ خاموش رہا۔
بس سر ہلایا... اور واپس چل پڑا۔
اب وہ واقعی اکیلا تھا۔
ایک پارک کی بینچ پر بیٹھا آسمان کو دیکھنے لگا۔
جس کے لیے وہ ہمیشہ موجود رہا، وہ سب اُس کے لیے موجود نہ تھے۔
کئی گھنٹے گزر گئے۔
اور جب وہ سمجھ بیٹھا کہ اب کوئی نہیں آئے گا...
تب اُس کے نانا کی گاڑی آکر رکی۔
"آؤ، گھر چلتے ہیں۔"
اُس نے سر ہلایا۔
"کس لیے؟ تاکہ کل دوبارہ نکال دیا جائے؟"
"بس ایک بار اور چل پڑو میرے ساتھ... مجھ پر بھروسہ رکھو۔"
اُس نے ہچکچاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
راستے بھر دونوں خاموش رہے۔
گھر پہنچتے ہی نانی دوڑتی ہوئی آئیں اور اُسے گلے لگانے کی کوشش کی۔
لیکن اُس نے پیچھے ہٹ کر اُنہیں روک دیا۔
تب نانا نے نرمی سے کہا، "بیٹھو۔"
اور پھر اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر آہستہ سے بولے:
"اس نے یہ سب تمہیں تکلیف دینے کے لیے نہیں کیا۔ بلکہ کیونکہ وہ تم سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہے۔
وہ چاہتی تھی کہ تم وہ دیکھو، جو وہ کب سے دیکھ رہی تھی۔
تمہیں لگتا تھا تمہارے سچے دوست ہیں۔ ایک مضبوط رشتہ ہے۔
لیکن اُس نے دیکھا کہ یہ سب لوگ صرف تب تک تمہارے ساتھ ہیں جب تم کچھ دے سکتے ہو۔
جب تمہیں کچھ چاہیے ہو، تو سب غائب ہو جاتے ہیں۔
اُسے تمہیں یہ دکھانا تھا — تاکہ تم خود دیکھو، خود سمجھو کہ کون تمہارے لیے سچ میں ہے۔"
اُس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔
تب نانی آہستہ سے آگے بڑھیں، آواز کانپ رہی تھی:
"میرے لیے وہ دروازہ بند کرنا سب سے مشکل کام تھا،" وہ بولیں۔ "لیکن میں مزید ایسے نہیں جی سکتی تھی جیسے سب ٹھیک ہے۔
تمہیں حقیقت کا سامنا کرنا تھا۔
اور مجھے تم سے اتنی محبت کرنی تھی کہ تمہیں تکلیف دے سکوں — تاکہ تم سیکھ سکو۔"
اب وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔
بچوں کی طرح نانی سے لپٹ گیا، ایسا گلے لگایا جیسے الفاظ کی ضرورت ہی نہ ہو۔
اور اُس لمحے میں... اُسے ایک ایسی بات سمجھ آ گئی جو لفظوں سے نہیں سکھائی جا سکتی۔
کبھی کبھی جو انسان تم سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، وہی تمہیں جھنجھوڑنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
تاکہ تم وہ سچ دیکھ سکو، جس سے تم آنکھیں چرا رہے تھے۔
جب تمہارے پاس سب کچھ ہوتا ہے، تو لوگ تمہارے گرد آ جاتے ہیں۔
لیکن جب تمہارے پاس کچھ نہ ہو — تب تمہیں پتا چلتا ہے کون تمہارے ساتھ ہے۔
نہ کسی فائدے کے لیے۔
بس تمہارے لیے۔
اور ہاں، یہ تکلیف دیتا ہے۔
لیکن آخرکار، یہی تمہیں مضبوط بناتا ہے۔

پیر، 12 مئی، 2025

کمانے کی نیت

 بلاوجہ کمانے سے بہتر ہے کہ انسان پہلے کمانے کی نیت بنائے اور اس کے بعد کمانے کے لیے عمل شروع کرے۔

نیت

میں جو بھی کماؤں گا، وہ اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں سے ہے، اور اس کا حق بندوں تک پہنچاؤں گا۔

میں اپنے بچوں، والدین، بیوی، بہن بھائی پر خرچ کر کے ثواب پاؤں گا۔

میں کسی کی حق تلفی، جھوٹ، ملاوٹ، سود یا چالاکی سے نہیں کماؤں گا — میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔

میں جب بھی کماؤں گا، اس میں سے ضرور کچھ صدقہ، زکوٰۃ یا خیر میں خرچ کروں گا — خفیہ طور پر۔

میں دنیا میں رہوں گا، لیکن دنیا میرے دل میں نہیں ہو گی۔ جب بھی اللہ چاہے، میں چھوڑنے کو تیار ہوں گا۔

میں پیسہ کماتا ہوں تاکہ خود محتاج نہ رہوں اور کسی کا محتاج نہ بنوں اور للہ کی مخلوق کو فائدہ دوں اور اور قیامت کے دن کامیاب ہو جاؤں۔

دعا

اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ
"اے اللہ! مجھے حلال کے ذریعے حرام سے بچا اور اپنے فضل سے غیر کا محتاج نہ کر"

قرآن

"وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ"
"جو ہم نے انہیں دیا، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں"

حدیث

جو شخص اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور اس کی نیت ثواب کی ہو، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے" (بخاری و مسلم)

"حلال کمائی نصف عبادت ہے" — (حدیث کا مفہوم)

"فقر سے محبت کرو، کیونکہ وہ جنت کی کنجی ہے" (طبرانی)

بدھ، 16 اپریل، 2025

گدھے کی لات کا جواب

 "اگر ایک گدھا مجھے لات مارے، تو کیا مجھے اسے واپس لات مارنی چاہیے؟"

یہ بات سننے میں تو مزاحیہ لگتی ہے، لیکن اس میں ایک بہت اچھی بات چھپی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ جب کوئی ہمیں برا بولے یا ہمارے ساتھ بدتمیزی کرے، تو ہمیں بھی ویسا نہیں کرنا چاہیے۔

اگر کوئی آپ سے جھگڑا کرنا چاہے یا آپ کو غصہ دلانا چاہے، تو آپ کو چاہیے کہ آپ پرسکون رہیں۔ اگر آپ بھی چیخنے لگیں یا لڑنے لگیں، تو پھر آپ میں اور اس میں کیا فرق رہ جائے گا؟

عقل مند لوگ جانتے ہیں کہ کب بولنا ہے اور کب خاموش رہنا ہے۔ خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، بلکہ یہ طاقت کی نشانی ہوتی ہے۔

کچھ لوگ بہت شور مچاتے ہیں، لیکن وہ ہمیشہ صحیح نہیں ہوتے۔ اچھے لوگ آرام سے، نرمی سے بات کرتے ہیں۔

اگر کوئی صرف آپ کو غصہ دلانے کے لیے بات کرے، تو بہتر ہے کہ آپ اس کا جواب نہ دیں۔ مسکرا دیں، اور آگے بڑھ جائیں۔

یاد رکھیں: ہر لڑائی لڑنا ضروری نہیں ہوتا۔ آپ تب ہی سچے بہادر ہوتے ہیں جب آپ دل بڑا رکھ کر معاف کر دیتے ہیں یا خاموشی سے ہٹ جاتے ہیں۔

عقل مند وہی ہے جو صبر کرے، نرمی سے بات کرے، اور فضول باتوں پر اپنا وقت ضائع نہ کرے۔

بدھ، 26 فروری، 2025

سیکھا ہوا بے بسی

Learned Helplessness

محروم اور پسماندہ لوگوں، خصوصاً رنگ و نسل کی بنیاد پر الگ کئے گئے افراد کو اکثر کاہل یا سست سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ "سیکھا ہوا بے بسی" ہوتی ہے جو کہ ان لوگوں کی مشکلات کو صحیح طور پر پہچاننا ہوتا ہے، جہاں انہیں آزادی اور خود مختاری نہیں دی جاتی اور ان کا احترام نہیں کیا جاتا یا انہیں سننے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ اس لئے کئی دفعہ ہم ان لوگوں کو کاہل کہہ دیتے ہیں جو ایک غیر منصفانہ یا غیر حوصلہ افزا حالت سے الگ ہو جاتے ہیں۔

چلو ایک کہانی کے ذریعے سمجھتے ہیں:

ایک گاؤں میں راحیل نامی شخص رہتا تھا، جو کہ انتہائی محنتی اور مہربان تھا۔ گاؤں کے لوگ اکثر اس کی مدد سے اپنے کام مکمل کرتے تھے، مگر کبھی کبھار اسے "کاہل" یا "سست" کہنے لگتے تھے کیونکہ وہ کسی موقع پر کام سے ہاتھ کھینچ لیتا تھا۔

راحیل نے سوچا کہ اسے یہ کام نہیں کرنا چاہیے اگر لوگ اس کا احترام نہیں کرتے یا اس کی محنت کا صلہ نہیں دیتے۔ وہ خود کو بے بس محسوس کرنے لگا، جیسے اس کی محنت کی کوئی قدر نہیں ہو رہی۔

اس کہانی کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگ مشکل حالات میں خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں یا انہیں انصاف نہیں ملتا، تو وہ اکثر کام سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اس حالت کو "سیکھا ہوا بے بسی" کہا جاتا ہے، جو کہ حقیقت میں لوگوں کی مشکلات کا صحیح ادراک ہوتا ہے، نہ کہ کاہلی۔

چلو "سیکھا ہوا بے بسی" کے تصور کو مزید تفصیل سے سمجھتے ہیں:

"سیکھا ہوا بے بسی" ایک نفسیاتی تصور ہے جو ایک ایسی حالت کی وضاحت کرتا ہے جہاں ایک فرد، جب بار بار مشکل حالات کا سامنا کرتا ہے اور ان سے باہر نکلنے یا انہیں بہتر بنانے کا کوئی طریقہ نہیں پاتا، آخر کار یہ یقین کر لیتا ہے کہ اس کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس ذہنیت کے نتیجے میں فرد ناگوار حالات کو بغیر کسی مزاحمت کے قبول کر لیتا ہے، یہاں تک کہ جب تبدیلی یا بچنے کے مواقع دستیاب ہوں۔

آئیے ایک اور مثال کے ذریعے اس کی وضاحت کرتے ہیں:

تصور کریں کہ ایک طالبہ، عائشہ، کو ریاضی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جب بھی وہ کسی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے، اسے مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور بالآخر وہ ہار مان لیتی ہے۔ کوئی بھی کتنی ہی کوشش کر لے، وہ ریاضی کے تصورات کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، وہ یقین کرنے لگتی ہے کہ وہ ریاضی میں اچھی نہیں ہے اور کوئی بھی محنت اسے بہتر نہیں کر سکتی۔ اس کے نتیجے میں، وہ پوری طرح سے کوشش کرنا چھوڑ دیتی ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی استاد اضافی مدد کی پیشکش کرے یا ایسے آسان مسئلے ہوں جو وہ ممکنہ طور پر حل کر سکتی ہو۔ یہ سیکھا ہوا بے بسی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سیکھا ہوا بے بسی مختلف زندگی کے شعبوں میں ظاہر ہو سکتی ہے، جیسے:

- **تعلیم:** طلباء یہ محسوس کرتے ہیں کہ چاہے وہ کتنی ہی محنت کریں، وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔

- **کام:** ملازمین یہ یقین کرنے لگتے ہیں کہ وہ اپنی ملازمت یا کیریئر میں کوئی فرق نہیں ڈال سکتے۔

- **ذاتی تعلقات:** افراد یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ اپنے تعلقات کو بہتر نہیں بنا سکتے یا نئے دوست نہیں بنا سکتے۔

یہ ضروری ہے کہ سیکھا ہوا بے بسی کی شناخت کی جائے کیونکہ یہ حقیقی صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ ایک ذہنی حالت ہے جو درست حمایت، حوصلہ افزائی اور کامیابی کے مواقع کے ساتھ تبدیل کی جا سکتی ہے۔

پیر، 23 ستمبر، 2024

اپنی زندگی کو خوشگوار بنائیں

ایک ابھی پوسٹ جے مجھے فیس بک سے ملی

 تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن حق ہیں :-

پہلا قانون فطرت:
اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے....
اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے۔
اس لئے مثبت سوچیں، اچھا سوچیں
دوسرا قانون فطرت:
جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔ ۔ ۔
* خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔
* غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔
* عالم "علم" بانٹتا ہے۔
* دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔
* خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے۔
اس لئے خود میں مثبت احساس پیدا کریں۔ اچھی چیزیں سیکھیں۔ مصروف رہیں۔ خوش رہیں۔
تیسرا قانون فطرت:
آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لۓ کہ۔ ۔ ۔
* کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔
* مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے۔
* بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔
* تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے۔
* غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔
اس لئے ہضم کرنا سیکھیں۔
اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں
خوش رہیں۔۔۔خوشیاں بانٹیں۔۔۔۔

خود کو مضبوط بنانا ہے

 یہ اسٹوری اس انگریزی مضمون کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھوائی گئی ہے تاکہ اس کا مطلب اردو پڑھنے والوں کے لیے واضح ہوجائے۔

You've never demanded the rain, sun, or fire to adjust their nature, yet you get angry at people for being harsh. Why not change to avoid being hurt? You protect yourself from natural elements but expect others to protect you from themselves. The rain, sun, and fire don't make an effort to protect you; you do. It's astonishing that you want others to change without recognizing your own need to change and become resistant to oppression.

If you deceive me I see my own mistake, I wasn't discerning that's why you deceived me so instead of getting angry I work on myself to be able to discern well. I work on myself when you are able to manipulate me so that I'm not vulnerable to your tactics next time. I work on myself when you oppress me so that you are unable to oppress me next time. I work on myself so that you are unable to break my heart again next time. It's your responsibility not my to protect yourself from me and others.

Onyema

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک شخص تھا جس کا نام علی تھا۔ علی بہت حساس دل کا مالک تھا اور اکثر دوسروں کی سخت باتوں اور رویوں سے دل برداشتہ ہو جاتا تھا۔ وہ ہمیشہ یہ سوچتا تھا کہ لوگ کیوں اس کے ساتھ نرمی سے پیش نہیں آتے اور اس کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ ہر بار جب کوئی اس سے سخت لہجے میں بات کرتا، علی غصے سے بھر جاتا اور دل ہی دل میں ان لوگوں کو بدلنے کی خواہش کرتا۔

ایک دن، علی بارش میں بھیگ رہا تھا۔ اس نے سوچا، "بارش کیسی عجیب چیز ہے، میں نے کبھی اس سے یہ نہیں کہا کہ وہ رک جائے۔ لیکن جب بارش ہوتی ہے تو میں خود کو چھتری لے کر بچاتا ہوں، یا اندر چلا جاتا ہوں۔" اسی طرح جب دھوپ زیادہ ہوتی ہے تو علی خود کو سورج کی شعاعوں سے بچانے کے لیے سایہ تلاش کرتا تھا، اور جب آگ کے قریب ہوتا تھا تو وہ ہمیشہ خود کو دور کر لیتا تھا تاکہ جلنے سے بچ سکے۔

علی نے اپنے آپ سے سوال کیا، "میں بارش، دھوپ، اور آگ سے تو اپنی حفاظت خود کرتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ اپنی فطرت کے مطابق ہی ہیں، لیکن میں لوگوں سے کیوں توقع کرتا ہوں کہ وہ اپنے رویے بدلیں؟"

یہ سوچتے ہوئے علی کو احساس ہوا کہ جیسے وہ قدرتی عناصر سے بچاؤ کرتا ہے، اسی طرح اسے لوگوں کے سخت رویوں سے خود کو بچانے کی ضرورت ہے۔ لوگ اپنی فطرت کے مطابق عمل کرتے ہیں، اور جیسے بارش یا سورج اس کے لیے رک نہیں سکتے، ویسے ہی لوگ بھی اپنی فطرت کے مطابق پیش آتے ہیں۔

علی نے سوچا، "اگر کوئی مجھے دھوکہ دیتا ہے تو دراصل یہ میری غلطی ہے کہ میں نے اس پر بھروسہ کیا تھا، میں نے سمجھداری سے کام نہیں لیا۔ مجھے اس پر غصہ ہونے کے بجائے اپنی عقل کو بہتر کرنا چاہیے تاکہ دوبارہ دھوکہ نہ کھاؤں۔ اگر کوئی میرے جذبات سے کھیلتا ہے تو یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں خود کو اس قدر مضبوط بناؤں کہ وہ دوبارہ میرے دل کو نہ توڑ سکے۔"

علی کو احساس ہوا کہ لوگوں کو بدلنے کی کوشش کرنے کے بجائے اسے خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔ دوسروں کی سختیوں سے بچنا اس کا اپنا کام تھا، نہ کہ دوسروں کا۔ جیسے وہ آگ سے بچنے کے لیے دور ہوتا تھا، ویسے ہی اسے لوگوں کی سختیوں سے بچنے کے لیے خود کو تیار کرنا تھا۔

یوں علی نے اپنی زندگی میں ایک نیا سبق سیکھا کہ دوسروں کو بدلنے کے بجائے خود کو مضبوط بنانا ہی بہترین راستہ ہے۔

منگل، 10 ستمبر، 2024

ہمیشہ کے لیے کامیابی کا گر

 جسے بھی ہمیشہ کے لیے کامیاب ہونا ہے، پیسہ کمائے اور غلبہ اسلام کا کام کرے اور اپنی ضروریات پوری کرے۔ بری خواہشات پہ کنٹرول کرے اور پیسوں کو سنبھال کے رکھے۔ان بے وقوفوں کو ہرگز مت دے جو پیسہ سوچ سمجھ کے استعمال نہیں کرتے بلکہ صرف فضول خواہشات پہ برباد کرتے ہیں۔ یہ بے وقوفی ہے کہ انسان محنت کر کے کمائے اور دوست احباب رشتہ دار وغیرہ اپنی فضول دنیاوی خواہشات میں اس کا وہ پیسہ برباد کردیں اور دن رات گناہوں کے کاموں میں مشغول رہیں جس کا پورا حساب وہ دے گا جس نے انہیں پیسہ دیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ غلط استعمال کر رہے ہیں۔

اللہ نے ضروریات پوری کرنے اور ٹیک کرنے کا حکم دیا ہے پیسہ بھر بھر کر ان جاہلوں اور بیوقوفوں پر برباد کرنے کا حکم نہیں دیا جو اپنی زندگی کا مقصد اس کے دین کی سربلندی کے بجائے اپنی دنیا مست ملنگ بنانے اور گھٹیا حرام کاموں میں ملوث ہوکر گزارنے پر استعمال کررہے ہیں۔

دیکھ لو اپنے ماں باپ کو، بھائی بہنوں کو، رشتہ داروں کو کہ ان کے روزمرہ کے کام کاج کیا ہیں؟ ان کاموں کو دیکھ کر ہی تمہیں ان کے کرتوتوں، ان کی باتوں کو سن کر تمہیں ان کی سوچوں اور خیالات کا علم ہوگا اور تم اپنے مستقبل کے لیے آسانی سے فیصلہ کرسکو گے۔

بے شک اکثر لوگ جہالت سے کام لیتے ہیں اور اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا جبکہ لوگ بلاوجہ اللہ سے شکوے شکایات لگاتے پھرتے ہیں اپنے گھٹیا کرتوتوں کو جاری و ساری رکھنے کے باوجود۔

اللہ اکبر

جمعہ، 1 دسمبر، 2023

ڈپریشن سے کیسے نجات حاصل کریں؟

اپنے ادھورے خوابوں کو مکمل کرلو یا انہیں اپنی زندگی سے بے دخل کردو یعنی ختم کردو، تم ڈپریشن سے آزاد ہوتے چلے جاو گے۔ اب یہ تمہارے اوپر ہے کہ تمہارے ادھورے خواب یا خواہشات ایک ہیں یا بہت سے، جتنے زیادہ ہوں گے اتنا بوجھ تمہارے اوپر ہوگا اور جتنا کم کرتے جاو گے اتنا تم اپنے ہی بوجھ سے خود کو آزاد اور ہلکا کرتے چلے جاو گے۔ اگر کوئی شک ہے تو کسی بھی ایک خواہش/ادھورے خواب سے آزماکر دیکھ لو، آزمائش شرط ہے۔

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد

جمعرات، 12 اکتوبر، 2023

بہترین جملوں کا انتخاب

تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے سب فانی ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے

دنیا سے بے رغبت ہوجا، اللہ تم سے محبت کرے گا اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے

مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں کے ہاتھوں میں جو مال ہے، وہ اللہ کا مال ہے۔ اللہ نے ان کو اس پر اپنا جانشین بنایا ہے، تاکہ اسے جائز امور میں خرچ کریں۔ اس میں ناحق تصرف کرنا حرام ہے۔ یہ بات حاکموں اور دیگر تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔

جو شخص دوسرے پر حق کے ذریعہ غلبہ حاصل کرتا ہے اور اسے زیر کرتا ہے، تو یہ حق ہے اور ایسا شخص اللہ کے نزدیک محبوب ہے، ناپسندیدہ نہیں۔


منگل، 19 ستمبر، 2023

دنیا میں لاگ ان اینڈ لاگ آوٹ کرنا

اس دنیا کے اندر اگر اس مائنڈسیٹ کے ساتھ کام کیا جائے کہ اس فزیکل دنیا کو اصلی اور خواب کو نقلی یا وہم گمان سمجھنے کے بجائے خواب کو اصلی دنیا اور اس فزیکل دنیا کو نقلی یا وقتی سمجھا جائے تو انسان ایک ویڈیو گیم کی طرح اسے سمجھ کر یہاں اس حال میں آئے کہ جب یہاں لاگ ان کرے تو خود کو اس دنیا کے اندر قید میں سمجھے اور ایک ویڈیو گیم کی طرح اس کو اپنے فزیکل کریکٹر سے انجوائے کرے اور جو کچھ کرسکتا ہے وہ کر گزرے اور اپنے آپ کو ایک ویڈیو گیم کی طرح دشمنوں سے بچانے کا پورا انتظام کرے، اچھی طرح دیکھ بھال کر کریکٹر چلائے، ہوشیاری سے کام لے، اپنی فارمنگ کرے، اپنے آپ کو اپ گریڈ کرے، اپنے آیٹم بنائے، اپنے گیئر خریدے، خود کو طاقتور مسلم کریکٹر میں تبدیل کرے اور آگے سے آگے لیول بڑھاکر ترقی کرتا چلا جائے۔

اب مثال کے طور پر ایک موبائل گیم جب انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو وہ اس میں گیم آن کرکے لاگ ان کرتا ہے اور اسکرین کے اوپر اسقدر گہرائی سے فوکس کرکے کھیلتا ہے کہ اسے یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ وہ گیم کا کریکٹر نہیں بلکہ اس کا اپنی ذاتی اصلی کریکٹر ہے جو کہ صرف ایک وہم و گمان اور دھوکہ ہوتا ہے جبکہ گیم کی دنیا کی حقیقت بس اتنی ہوتی ہے جتنی دیر گیم کی اسکرین آن ہوتی ہے اور جیسے ہی گیم آف کیا ویسے ہی گیم کی دنیا اچانک نظروں سے غائب اور انسان خود کو اس فزیکل دنیا میں موجود پاتا ہے لہذا گیم میں موجود تمام اچیومنٹس، تمام کارنامے تمام ریکارڈز، تمام تعریفیں، تمام دشمن و دوست، تمام آیٹم وغیرہ بیکار یا پھر لایعنی ہوجاتے ہیں۔

اس کے بعد انسان اپنی فزیکل دنیا کے کاموں میں مصروف ہوجاتا ہے۔ کیوں کیا ایسا نہیں ہوتا؟ بالکل ایسا ہی ہوتا ہے لہذا ثابت ہوا کہ گیم کی دنیا میں لاگ ان ہوجانا انسان کو فزیکل دنیا سے کٹ کردیتا ہے اور گیم کی دنیا سے لاگ آوٹ ہونا انسان کو فزیکل دنیا سے فٹ کردیتا ہے۔

یہی طریقہ اگر خواب یعنی روح کی دنیا کو اصلی سمجھ کر اپنالیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ معاملہ تھوڑا آسان ہوجائے۔ وہ اس طرح کہ جب تک انسان اس دنیا میں جاگ رہا ہے وہ اس دنیا کو اصلی کے بجائے ایک گیمنگ ورلڈ سمجھے اور اس کے مطابق یہاں کام کرے اور سب کچھ وقتی سمجھے اور جان لے کہ جیسے ہی اس کا ٹائم پورا ہوگا وہ آٹومیٹک لاگ آوٹ ہوجائے گا۔

اور جیسے ہی انسان لاگ آوٹ ہوگا وہ خود کو واپس خواب کی دنیا میں موجود پائے گا۔ یہی ہے دنیا کی زندگی کی حقیقت اور خواب کی زندگی لامحدود ہوتی ہے نہ ٹائم معلوم ہوتا ہے اور نہ فاصلے۔ انسان آنا فانا کہیں سے کہیں ٹریول کرجاتا ہے۔ ہواوں میں پرواز کرتا ہے۔ آندھی طوفان اور زلزلے برپا کردیتا ہے۔ عجیب و غریب طاقتوں کا مالک ہوتا ہے۔ مگر جب اس دنیا میں لاگ ان کرتا ہے تو؟ اس کو اپنا ایک نیا کریکٹر واپس ملتا ہے اسی حالت میں جس میں وہ اسے یہاں جس طرح چھوڑ کر جاتا ہے اگر کسی اور نے اس کے جسم کے ساتھ یا اس کے سازوسامان کے ساتھ چھیڑ خانی نہ کی ہو۔

کیا اس گیمنگ مائنڈسیٹ کے ساتھ زندگی گزارنا آسان نہیں؟ جب انسان کو یہ شعور حاصل ہوگا کہ وہ کس طرح ریئل ورلڈ میں گیمنگ کررہا ہے اور کس طرح جب چاہے لاگ آوٹ ہوکر واپس جاسکتا ہے تو پھر وہ اس دنیا میں معمولی چیزوں پر لوگوں سے لڑائی جھگڑے نہیں کرے گا بلکہ اس کی نظروں میں دنیا کے اکثر انسان محض غافل نظر آئیں گے جو ویڈیو گیم کے این پی سی

NPC
کے طور پر ہوں گے اور وہ اپنے اپنے کریکٹر چلا رہے ہوں گے۔


میں سمجھتا ہوں اس طرح ہم اپنی مرضی سے جس دنیا میں چاہیں آ اور جا سکتے ہیں نہ کہ صرف جاگ لیے تو یہاں سب کچھ کرنا جب تک کہ واپس تھک ہار کر سونہ جائیں۔بھئی بیٹری بھی تو دوبارہ چارج کرنی ہوتی ہے نا؟ تو پھر جب چاہو جسم کی بیٹری دوبارہ چارج کرلی جائے اور اس دنیا سے نکل کر واپس خواب میں جاکر وہاں کی روٹین انجوائے کی جائے اور واپس یہاں لاگ ان کرکے فریش موڈ میں تازہ دم ہوکر پھر سے اپنی ویڈیو گیمنگ شروع کرے اس لائف کی۔

اور یہ گیمنگ تو اس وقت تک چلے گی جب تک اللہ کے حکم سے موت کا ذائقہ چکھانے کے لیے فرشتے سامنے حاضر نہ ہوجائیں اور تب وہ جسم سے روح نکال کر اسے یا تو جنت کی طرف لے جائیں گے یا پھر جہنم کی آگ میں پھینک دیں گے اور اس کا دارومدار انسان کی نیت اور اس کے اس دنیا میں فزیکل ایکشن پر ہوگا۔


لہذا ایسی وقتی دنیا سے کیا دل لگانا؟ ہاں اس کو بھی حقیقت سمجھ کر قبول کیا جائے مگر بحیثیت گیمنگ ورلڈ جس کا ڈیزائنر اور بنانے والا صرف  اکیلا اللہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ بے شک تمام تعریفوں کے لائق صرف اللہ ہے جو اپنے بندے کے لیے وہاں سے راستے نکالتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ اللہ اکبر

ہفتہ، 5 اگست، 2023

تمہاری شخصیت خوفزدہ بنانے کے مجرم یہ لوگ ہیں

میں نے بذات خود اپنی آنکھوں سے اسکول کالج یونیورسٹی سے پڑھی لکھی تعلیم یافتہ ڈگری ہولڈرز خواتین کو اپنے چھوٹے بچوں سے بدترین فرعون نما سلوک کرتے مشاہدہ کیا ہے اور اس کی بنیاد پر میں تمہیں یہ سچ بتارہا ہوں کہ تمہارے اندر جتنا بھِی ڈر خوف ہچکچاہٹ اور لوگوں کے سامنے کھل کر آنے کا مسئلہ ہے اس کا سارا کریڈٹ تمہارے والدین، اساتذہ اور ماضی کے ان لوگوں کو جاتا ہے جنہوں نے تمہیں ڈانٹ ڈپٹ کرکے، قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑِی کرکے، تمہیں ڈرا دھمکا کر، مار پیٹ کر اور ذہنی مریض بناکر اس معاشرے میں لاوارث تنہا چھوڑ دیا ہے۔

وہ تمام لوگ بہرحال اب تمہارے کسی کام کے نہیں کیونکہ ان سب نے اپنی فرعونیت کی ڈگری پوری کرلی ہے تمہارے اندر ڈر خوف پیدا کرکے اور باقی کسر اسی معاشرے کے ممی ڈیڈی بچوں نے تمہارے خلاف سوشل میڈیا پر بکواسات کرکے پوری کرلی ہے جن کے پیٹ بھرے ہیں اور یہ کتے بن کر بھونکنے چلے آتے ہیں کمنٹس پر تمہارے خلاف لہذا ایسے معاشرتی کتوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

میں سیدھی بات کرتا ہوں اور مجھے ایسے کتوں سے نہ ڈر ہے اور نہ ان کی پرواہ ہے کیونکہ یہ میرے سامنے دو کوڑِی کی حیثیت بھی نہیں رکھتے اپنے مال اور دولت کے سبب اور ان کا سارا مال میرے لیے خاک کا ڈھیر ہے اس لیے یہ نہ مجھے دباسکتے ہیں اور نہ جھکاسکتے ہیں مگر تمہیں نیچا دکھانے کے لیے یہ اپنی ہر ممکن بھرپور کوشش کریں گے تاکہ تم ڈر کر بزدل بن کر رہو۔

اس دنیا کے اندر ماضی سے اب تک حکمرانوں، وڈیروں، چودھریوں، افسروں وغیرہ نے جو کہ خود نفطہ سے بنے انسان ہیں اپنی طاقت اور غرور کے نششہ میں غریبوں کو اپنا غلام بناکر رکھا ہے اور آج بھی دنیا بھر میں ایسا ہی ہورہا ہے۔

جب تک غریب بزدل بن کر جیتا رہے گا یہ غریبوں پر راج کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ڈر اور خوف کا دھندا کرتے ہیں اور اپنے ساتھ ایسے غنڈوں کو رکھتے ہیں جو دکھنے اور نظر آنے میں بہت مہذب لگتے ہیں مگر اندر سے پکے شیطان اور اللہ کے غدار ہوتے ہیں۔

یہ پدی اور پدی کے شوربے تمہیں کبھی آگے بڑھنے سے روکنے نہ پائیں اگر تم واقعی اللہ کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہو کیونکہ اس فزیکل دنیا میں تمہیں ان سب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی لوگ پوری دنیا پر قابض ہیں وسائل اپنے کنٹرول میں رکھ کر۔ یہ نہیں چاہتے کہ اللہ کے بنائے ہوئے قدرتی وسائل تمام انسانوں کے استعمال میں آسکیں تو انہوں نے ذہین نوجوانوں کو غلامی، قید، ڈر خوف بھوک وغیرہ میں پھنسا دیا اور خود عیاشیاں کررہے ہیں۔ 

اتوار، 9 جنوری، 2022

دنیا کے سب سے بہترین اور پرفیکٹ ماہر نفسیات

عالم دنیا میں صرف حضرت محمد رسول اعظمﷺ ہی سب سے بہترین اور پرفیکٹ ماہر نفسیات گزرے ہیں جن کی باتیں فری میں دنیا کے تمام انسانوں کے لیے موجود ہیں۔

یہ سب ہوتے ہوئے ایک سمجھدار مسلم کو کفار سے نفسیات کے اسباق سیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں جنہیں اتنی بھی عقل نہ تھی کہ اس کائنات کو بنانے والا سچا خدا ہے صرف اللہ ہے۔

اگر خود کو پڑھے لکھے سمجھنے والے کسی بھی مسلم کے لیے سب سے ذیادہ آسان ترین طریقوں اور مختصر الفاظ میں نفسیات کے بہترین سبق پڑھانے اور سکھانے والے محمد رسول اعظمﷺ کی باتیں کافی نہیں تو پھر زندگی بھر نفسیاتی اور ذہنی مسائل کا شکار بن کر رہنا ہی اس کا مقدر بنا رہے گا اللہ کے حکم سے کیونکہ وہ ایسا ناشکرا انسان ہے جس نے دنیا کے سب سے اول نمبر کے بہترین اور سو فیصد پرفیکٹ ماہر نفسیات کی قدر ہی نہیں کی اور ان کے فری میں دیے گئے سبق کو اہمیت نہ دی۔

اللہ واحد القہار

جمعہ، 4 جون، 2021

Legend Aagya

اپنی ذہنی موت 2018 کے بعد اپنی ذات اور مائنڈسیٹ پر کام کرتے ہوئے اور خوف کی آہنی دیواریں ایک ایک کرکے پاش پاش کرتے ہوئے اپنا سفر تنہائی میں ہمت اور حوصلہ کے ساتھ اللہ پر بھروسا رکھ کر جاری رکھتے ہوئے اپنی پہچان 2020 حاصل کرنے تک پھر اس کے مطابق دنیا والوں کے سامنے خود کو پیش 2021 کرنے تک اللہ کی مدد اور فضل سے پہلے سے ذیادہ طاقت ور اور ناقابل شکست مسلم بن کر

اجڑے ہوئے درخت کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ تباہ ہوگیا بلکہ اس کا خالق اسے نئے سرے سے تعمیر کرنے کے لیے وقتی طور پر اس حالت میں بدل دیتا ہے اور وہ درخت چپ چاپ خاموشی اور صبر سے اپنی حالت بدلتے دیکھتا رہتا ہے جب تک کہ وہ دوبارہ ہرا بھرا نہ ہوجائے اور پھر اس کی حقیقت دنیا والوں کے سامنے نظر آنا شروع ہوجائے جب اس کا مالک اسے دوبارہ تیار کردے

تمہاری زندگی تباہ نہیں ہوئی ہے بلکہ ایک نئے سرے سے تعمیر کے لیے پلاننگ کے تحت ایسا ہوا ہے جو آج نہیں سمجھ سکو گے لیکن اگر ہمت نہ ہاری اور کوشش جاری رکھی خود کو بدلنے اور آگے بڑھنے کے لیے تو مسقبل میں ان شاء اللہ سمجھ جاو گے کہ اللہ کی تدبیر کتنی بہتر اور پلاننگ کتنی اچھی ہوتی ہے خصوصی طور پر ان کے لیے جو اس دنیا میں بڑے کام کرنا چاہتے ہیں عام لوگوں کی زندگی سے ہٹ کر اللہ کے لیے اللہ کو کچھ کر دکھانا چاہتے ہیں

شیر کی زندگی جینی ہے تو اپنے ذخموں کے بھرنے کا انتظار رکھو اور تب تک بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کو خوش اور اچھلتا کودتا دیکھ کر مایوس مت ہونا اور نہ یہ خواہش رکھنا کہ تم ان میں جاکر کھیلو کیونکہ شیر اکیلا بھی شیر ہی ہوتا ہے اپنے جنگل میں خواہ تنہا ہی کیوں نہ رہتا ہو کہ یہی اس کی پہچان ہے اور ذخمی شیر پہلے سے ذیادہ خطرناک بن جاتا ہے

شاہین کی زندگی جینی ہے تو انتظار کرو اپنے نئے سرے سے تعمیر ہونے والے پروں اور پنجوں کا اور تب تک کووں کی فوج کو خوشی سے اڑتا دیکھ کر مایوس مت ہونا اور نہ یہ خواہش رکھنا کہ تم ان میں جاکر اڑو کیونکہ شاہین بھی اپنی تنہائی میں اپنی پہچان نہیں بھولتا بلکہ صرف انتظار کرتا ہے اپنے صحیح وقت پر دوبارہ پہلے سے ذیادہ طاقت ور بن کر اڑان بھرنے کے لیے

اور اگر کبھی ہمت ٹوٹنے لگے، مایوسی بھرنے لگے، خود کشی سر پر سوار ہونے لگے اور ایسا لگے کہ اس سفر میں اکیلے ہو اور پوری دنیا تمہیں جھوٹا سمجھتی ہے، اعتبار نہیں کرتی، بات نہیں سنتی، ذات نہیں سمجھتی اور تمہیں تمہاری بظاہر بربادی اور تنہائی میں اکیلا چھوڑ کر ہنستی ہے تو تب ایک لیجنڈ کی یہ تحریر اپنے سامنے رکھنا جو ان راستوں سے گزرچکا اور تمہیں امید کی کرن دکھارہا ہے اور حوصلہ بڑھا رہا ہے اللہ کے فضل سے کہ

اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے

بے شک اللہ کوشش کرنا دیکھتا ہے

اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے؟

پھر دیکھ اللہ کیا کرتا ہے!

لیجنڈ