تاریخی معلومات اور مسلمانوں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق حضورنبی کریم محمد رسول اعظمﷺ کی مقدس اور پاک دامن بیویاں تقریباً سب ہی مالدار اور بڑے گھرانوں سے تھیں۔
حضرت ام حبیبہ رئیس مکہ حضرت ابو سفیان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔
حضرت جویریہ قبیلہ بنی المصطلق کے سردار اعظم حارث بن ضرار کی بیٹی تھیں۔
حضرت صفیہ بنو نضیر اور خیبر کے رئیس اعظم حیی بن اخطب کی نور نظر تھیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ حضرت ابوبکر صدیق کی پیاری بیٹی تھیں۔
حضرت حفصہ حضرت عمر فاروق کی چہیتی صاحبزادی تھیں۔
حضرت زینب بنت جحش اور حضرت اُمِ سلمہ بھی خاندانِ قریش کے اونچے اونچے گھروں کی ناز و نعمت میں پلی ہوئی تھیں۔
یہ سب بچپن سے امیرانہ زندگی اور رئیسانہ ماحول کی عادی تھیں اور ان کا رہن سہن، کھانا پینا، لباس و پوشاک سب کچھ امیروں جیسی زندگی کا آئینہ دار تھا اور محمد رسول اعظم ﷺ کی مقدس اورپاک زندگی بہت ہی سادہ اور دنیاوی تکلفات سے یکسر خالی تھی۔
دو دو مہینےحضورﷺ کے گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا اور صرف کھجور اور پانی پر پورے گھرانے کی زندگی بسر ہوتی تھی۔
لباس و پوشاک میں بھی پیغمبرانہ زندگی کی جھلک تھی ۔
مکان اور گھر کے سازو سامان میں بھی نبوت کی سادگی نمایاں تھی۔
حضور ﷺ اپنی رقم کا اکثر حصہ اپنی امت کے غریبوں پر خرچ کردیتے تھے اور اپنی بیویوں کو صرف بقدر ضرورت رقم ادا کرتے تھے لہذا ان کی بیگمات کی زیب و زینت اور بناو سنگھار کے لیے وہ رقم کافی نہ ہوتی تھی جبکہ حضور کی بیویوں کے مقابلہ پر آج مالدار مسلم عورتوں کے پاس اسقدر دولت ہے کہ اپنےبناو سنگھار کے لیے بیوٹی پارلر جاکر ماہانہ ہزاروں روپے خرچ کردیتی ہیں اور ہرسال عید تہوار اور دیگر تقریبات کے لیے الگ الگ مہنگے جوڑے خرید کر پہنتی ہیں۔
کائنات کے بادشاہ اللہ واحد القہار کے محبوب رسول اعظم ﷺ کی بیگمات یعنی امہات المومنین نے متفقہ طور پر آپﷺسے مطالبہ کیا کہ ان کے اخراجات میں اضافہ فرمادیں۔
یہ بات حضور ﷺکے دل پر بہت بھاری گزری کیونکہ حضور ﷺ غلبہ اسلام کے مشن پر کام کررہے تھے اور ان کے سکون اور اطیمنان میں رکاوٹ پیش آگئی کہ دنیاوی سازو سامان اور زینت و آرائش کی خاطر اگر پیسوں کا انتظام کرنا پڑے گا تو دین اسلام کا کام کیسے ہوگا ؟ اور امت کے غریبوں کو کیسے فائدہ پہنچایا جائے گا؟ اور غیرمسلموں کو اسلا م میں کیسے داخل کرنے پر توجہ دی جائے گی؟ لہذا حضورﷺ نے یہ قسم کھالی کہ اب ایک ماہ تک اپنی بیویوں سے ملاقات اور بات چیت نہیں کریں گے اور پھر حضور نے ایک ماہ تک اس پر عمل کیا، اسے "ایلاء" کہتے ہیں۔
اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی مالدار مسلم عورت کا مسلم شوہر غلبہ اسلام کے مشن پر کام کررہا ہو اور اس مسلم عورت کے پاس اس قدر دولت ہے کہ وہ اپنے اخراجات آسانی سے پورے کرسکتی ہے اور اس کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت اور گھریلو ساز و سامان بھی رکھا ہوا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے ایسے عظیم شوہر کی قدر کرے اور اس کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور اسے ہرگز پریشان اور تنگ نہ کرے تاکہ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ واحد القہار کے مشن غلبہ اسلام پر بھرپور توجہ کے ساتھ کام جاری رکھ سکے۔
بے شک اللہ کسی نیک مسلم عورت کی نیکیاں ضائع نہیں کرتا اور بے حد قدر کرتا ہے اگر وہ اپنے شوہر کی خدمت کرے اور اس کا خیال رکھے اور اس کے شوہر کو بھی چاہیے کہ اگر اسے خدمت گزار اور خیال کرنے والی بیوی ملی ہے اللہ کے فضل سے تو وہ بھی اللہ کا شکر ادا کرے اور اس کے ذہنی سکون کا خیال رکھے، اس کو آخرت کے حوالے سے تعلیم و تربیت کرے اور اسے بھی جنت کے محلات میں لے جانے کے لئے کوششیں کرے اور اپنے بچوں کی تربیت کا بھی خیال رکھے تاکہ شیطان انہیں اللہ سے بدگمان اور اسلام سے بدظن نہ کرسکے۔ بے شک اللہ تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے۔
اللہ اکبر
اللہ واحد القہار
الحمدللہ رب العالمین