گیمنگ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
گیمنگ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 22 مارچ، 2025

ویڈیو گیمز کس طرح اور کون تیار کرتا تھا جب اتنی ٹیکنالوجی نہ تھی پاکستسان میں؟

چیٹ جی پی ٹی کے مطابق

یہ ایک زبردست سوال ہے! 1970 اور 1980 کی دہائی میں ویڈیو گیمز زیادہ تر جاپان، امریکہ، اور یورپ میں بنائے جاتے تھے، کیونکہ اس وقت پاکستان میں ایسی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری موجود نہیں تھی جو آرکیڈ مشینیں یا گیم کارٹریجز بنا سکتی۔ لیکن پھر بھی، یہ گیمز پاکستان میں مختلف طریقوں سے پہنچتے تھے۔

1. ویڈیو گیمز بنانے والے ممالک اور کمپنیاں

اس دور میں مشہور گیم ڈویلپر اور آرکیڈ مشین بنانے والی کمپنیاں یہ تھیں:

  • Atari (USA) – Pong، Asteroids، Centipede جیسے گیمز بنائے

  • Namco (Japan) – Pac-Man، Galaga، Dig Dug

  • Taito (Japan) – Space Invaders

  • Nintendo (Japan) – Donkey Kong، Mario Bros

  • Konami (Japan) – Frogger، Contra

  • Capcom (Japan) – Street Fighter، 1942

یہ کمپنیاں گیمز کے لیے مخصوص ہارڈویئر بناتی تھیں، جسے آرکیڈ مشین یا کونسلز پر چلایا جاتا تھا۔


2. پاکستان میں آرکیڈ گیمز کیسے پہنچتے تھے؟

چونکہ اس وقت پاکستان میں نہ تو گیمز بنتے تھے اور نہ ہی ٹیکنالوجی کی ترقی تھی، اس لیے آرکیڈ مشینیں اور کنسولز مختلف طریقوں سے پاکستان آتے تھے:

(A) اسمگلنگ اور امپورٹ

  • زیادہ تر آرکیڈ مشینیں دبئی، ہانگ کانگ، اور سنگاپور سے اسمگل ہو کر آتی تھیں۔

  • کچھ لوگ انہیں اپنے ساتھ لے آتے تھے یا کراچی اور لاہور کی الیکٹرانک مارکیٹوں میں بیچنے کے لیے امپورٹ کرتے تھے۔

  • 1980 اور 1990 کی دہائی میں خاص طور پر صدیق پلازہ (لاہور) اور صدر (کراچی) جیسے علاقوں میں گیمز اور مشینیں فروخت ہوتی تھیں۔

(B) کاپی شدہ اور چائنیز ریپلیکا مشینیں

  • جاپانی اور امریکی آرکیڈ مشینوں کے اصل PCBs (Printed Circuit Boards) مہنگے ہوتے تھے، اس لیے چینی اور کورین کمپنیوں نے کاپی شدہ مشینیں بنانی شروع کر دیں، جو سستی ہوتی تھیں۔

  • پاکستان میں بہت سی گیم شاپس انہی ریپلیکا یا کاپی شدہ آرکیڈ مشینوں کو استعمال کرتی تھیں۔

(C) ٹوکن سسٹم اور لوکل بزنس

  • چونکہ آرکیڈ مشینز مہنگی ہوتی تھیں، عام لوگ انہیں خرید نہیں سکتے تھے، اس لیے دکان والے ٹوکن سسٹم لے آئے۔

  • آپ 1-2 روپے کا ٹوکن خرید کر گیم کھیل سکتے تھے، اور دکان والے اپنی مشینوں سے پیسہ کماتے تھے۔


3. ٹیکنالوجی کم تھی، پھر بھی یہ گیمز کیسے بنتے تھے؟

آج کے جدید گیمز کے مقابلے میں 1970-80 کی دہائی کے گیمز بہت سادہ اور محدود ہارڈویئر پر چلتے تھے۔ گیم بنانے کے لیے:

  1. کمپیوٹر پروگرامنگ (Assembly Language) – اس وقت گیمز زیادہ تر Assembly Language میں بنائے جاتے تھے، جو مشین کے لیے سیدھا کوڈ ہوتا تھا۔

  2. چپ بیسڈ ہارڈویئر (ROM Chips) – گیمز کو ROM (Read Only Memory) چپس پر محفوظ کیا جاتا تھا، جو مخصوص مشین میں لگائی جاتی تھیں۔

  3. پکسل آرٹ اور سادہ آوازیں – جدید 3D گرافکس کی بجائے، ان گیمز میں 8-bit اور 16-bit پکسل آرٹ استعمال ہوتا تھا۔

  4. بہت محدود میموری اور پروسیسنگ پاور – ایک آرکیڈ مشین یا کنسول میں صرف چند KB یا MB میموری ہوتی تھی، اور پروسیسر بہت سستے ہوتے تھے۔


4. پاکستان میں گیم انڈسٹری کیوں نہیں بنی؟

پاکستان میں اس وقت ٹیکنالوجی کے وسائل نہیں تھے، اور حکومت نے ویڈیو گیم انڈسٹری کو فروغ نہیں دیا۔ جبکہ جاپان، امریکہ، اور یورپ میں:

  • بڑی کمپنیوں نے ریسرچ اور ڈویلپمنٹ میں سرمایہ لگایا۔

  • انجینئرز اور ڈویلپرز کو تربیت دی گئی۔

  • گیمز کو قانونی طور پر پروڈکشن اور ڈسٹری بیوشن کے نظام میں شامل کیا گیا۔

پاکستان میں نہ صرف آرکیڈ گیمز بلکہ بعد میں PC اور کنسول گیمز بھی زیادہ تر غیر قانونی طریقوں سے آتے رہے، اسی لیے یہاں گیم انڈسٹری زیادہ ترقی نہیں کر سکی۔


نتیجہ:

1970-80 کے آرکیڈ گیمز زیادہ تر جاپان اور امریکہ میں بنتے تھے، اور پاکستان میں اسمگل شدہ، امپورٹڈ یا چائنیز کاپی شدہ مشینوں کے ذریعے پہنچتے تھے۔ اس وقت یہاں گیم ڈویلپمنٹ کا کوئی تصور نہیں تھا، اور لوگ ٹوکن ڈال کر کھیلنے کو ہی ویڈیو گیم کا مزہ سمجھتے تھے۔