Social Life لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Social Life لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 27 جولائی، 2025

کراچی سمندر ہے لڑکی نے سرعام سب کر دیا اتنی بے حیائی

 کراچی سی ویو ہے یا نہیں مگر سی ویو ہے اور ایک لڑکا لڑکی کے ساتھ مٹر گشتی میں مصروف ہے۔

مانا کہ کوئی ساتھ ہیں مگرکیا یہ میاں بیوی ہیں؟

اگر شوہر ساتھ ہے تو لعنت ہے ایسے شوہر ہونے پر کہ بیوی ننگی نظر آرہی ہے اور وہ نہانے میں مصروف ہے جان لینے کے باوجود بھی اور لعنت ہے اس ویڈیو کو بنانے والے پر کہ وہ کسی عورت کی نہم برنہ حالت کی ویڈیو بنارہا ہے۔

عورتوں سے یہی کہوں گا، کہ تم ننگی ہوکر کیا دکھانا چاہتی ہو؟

تمہارے اندر شرم و حیا نام کی چیز باقی ہی نہیں رہی۔

یہ کرنے جاتی ہو تم ساحل سمندر پر؟

کس قدر بے غیرت ہے وہ درزی جس نے اتنے ہلکے لباس کا کپڑا سیا تھا اور پھر بیچا تھا۔

ایسے لعنتی لوگ سی ویو پر ہر روز آتے جاتے رہتے ہیں اور یہ بے حیا لوگ جہنم کا ایندھن ہیں سوائے ان کے جو توبہ کریں، ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔

پیر، 30 دسمبر، 2024

متکبر کے سامنے تکبر اختیار کرنا کیوں ضروری ہے؟

دین اسلام کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی سادگی اور حقیقت پسندی ہے۔ ایک مسلمان کے لیے اس کا ایمان، اس کا اخلاق، اور اس کا عمل ہی اس کی حقیقی عزت و عظمت ہے۔ مال، عہدہ، اور دنیا کی چمک دمک اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں، کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ حقیقی عزت اور طاقت اللہ کی رضا میں ہے۔ لیکن اس کے باوجود، جب وہ دیکھتا ہے کہ کچھ مالدار افراد اور تکبر میں غرق لوگ اپنی دولت اور شان و شوکت کے بل پر دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں، تو ان کے سامنے سر جھکانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایمان کی عظمت اور حقیقت:

اسلام نے ہمیں یہ سکھایا کہ اللہ کی رضا اور ایمان کی طاقت سے کہیں زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہے۔ اگر آپ کے پاس دنیا کی دولت نہیں ہے، تب بھی آپ کے دل میں ایمان کی روشنی اور اس کی مضبوطی ہی آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّٰهِ أَتْقَاكُمْ"
(الحجرات، 49:13)
ترجمہ: "بیشک تم میں سب سے عزت والا وہ ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے۔"

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ عزت کا حقیقی معیار تقویٰ ہے، جو کہ ایمان کا نتیجہ ہے، نہ کہ دنیاوی چیزیں۔ دنیا کی چمک دمک عارضی ہے، اور جو شخص اللہ کے راستے پر چلتا ہے، وہی اصل میں عزت و عظمت کا حامل ہے۔

مالدار متکبرین کے سامنے سر اٹھا کر جینا سیکھیں:

کئی بار آپ دیکھیں گے کہ مالدار، تکبر میں غرق افراد دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں اور اپنی دولت کے بل پر دوسروں پر حکم چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے عہدوں، دولت، یا منصب کو اپنی حقیقت سمجھتے ہیں اور ان کے سامنے جھکنا ان کی نظر میں ضروری بن جاتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حقیقی عزت صرف اللہ کے راستے پر چلنے میں ہے، اور کسی مالدار یا متکبر شخص کے سامنے جھکنا ہماری حقیقت کو مسخ کر دیتا ہے۔

خوشامدی چودہراہٹ کو رد کریں:

مالدار افراد اپنی دولت یا طاقت کے بل پر دوسروں سے خوشامد کرواتے ہیں تاکہ وہ ان کے سامنے جھکیں، ان کی باتوں میں سر دھنتے رہیں، اور ان کے تکبر کو بڑھاوا دیں۔ لیکن دین دار اور ایمان والے مسلمانوں کو اس قسم کی خوشامد کو رد کرنا آنا چاہیے۔ ایسے لوگ جو تکبر سے بات کرتے ہیں، انہیں اسی تکبر کے ساتھ جواب دینا چاہیے، تاکہ ان کا غرور اور تکبر ٹوٹے۔

"وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا" (الکہف، 18:28)

ترجمہ: ان لوگوں کی باتوں کو نہ مانو جنہوں نے اللہ کے ذکر سے اپنے دل کو غافل کر لیا ہے، اور جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔

ایسے افراد کے سامنے آپ کو اپنی حیثیت اور ایمان کی عظمت کا احساس دلانا چاہیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کی عارضی چمک دمک میں غرق ہیں اور اللہ کے راستے سے دور ہیں۔ ان کے ساتھ تعلقات بناتے وقت، ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا تکبر صرف اس دنیا کے فریب میں مبتلا ہونے کی وجہ سےہے، اور ان کے غرور کو ایک طاقت ور مسلمان کی حیثیت سے مضبوط ایمان کے ذریعے چیلنج کرنا بہت ضروری ہے۔

تکبر کا مقابلہ اور اپنی حیثیت کا ادراک:

ایک مسلمان کے لیے اپنی حیثیت کا صحیح اندازہ ہونا ضروری ہے۔ اسے ماننا چاہیے کہ اس کی عزت کا معیار اس کے ایمان اور عمل میں ہے، نہ کہ اس کے مال، دولت یا عہدے میں۔ اگر کسی کے پاس مال و دولت ہے، تو وہ صرف ایک آزمائش ہے، اور اگر کوئی غریب ہے، تو اس کا ایمان اور تقویٰ ہی اس کا اصل خزانہ ہے۔

اختتامیہ:

ہمیں اپنی زندگی میں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم کس کے لیے جیتے ہیں: اللہ کے لیے یا دنیا کے لیے؟ مال و دولت ایک عارضی چیز ہے، اور جو شخص اس کے بل پر اپنی حیثیت کو بڑھاوا دیتا ہے، وہ دراصل اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہے۔ دین دار اور ایمان والے مسلمانوں کو تکبر کرنے والے افراد کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے، بلکہ انہیں اپنے ایمان کی طاقت سے جواب دینا چاہیے۔ ہم اللہ کے راستے پر ہیں، اور یہ حقیقت ہمیں اپنی حیثیت کا صحیح اندازہ دیتی ہے۔ اگر ہم ایمان کے راستے پر ثابت قدم رہیں، تو اللہ کی رضا ہمارے ساتھ ہوگی، اور یہ دنیا و آخرت میں ہماری سب سے بڑی عزت ہوگی۔

عزت اور ذلت کی حقیقت – ایک سبق

یہ بات افسوسناک ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک غلط فہمی پھیل چکی ہے کہ عزت کا پیمانہ صرف اور صرف دنیاوی لباس، دولت، عہدہ، اور ظاہری شان و شوکت پر منحصر ہے۔ بدقسمتی سے کچھ لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی محفل میں اعلیٰ درجے کے کپڑے پہنے یا ان کپڑوں کی استری کرے تو وہ ہی عزت مند اور باعزت سمجھا جاتا ہے۔ یہ حقیقت میں ایک بے بنیاد اور جھوٹا تصور ہے جو دنیاوی سطح پر کامیابی کے لئے ایک خاص قسم کے ظاہر پر مبنی ہے۔

اللہ نے قرآن میں بار بار ذکر کیا ہے کہ عزت و ذلت کا حقیقی مفہوم انسان کے اخلاق، کردار، اور نیک عمل میں ہے، نہ کہ ظاہری حالات یا مال و دولت میں۔ جو لوگ صرف اپنی ظاہری حالت کے ساتھ اپنے آپ کو عزت مند سمجھتے ہیں، وہ دراصل اس فریب میں مبتلا ہیں کہ دنیا کی عارضی چیزوں سے انہیں کوئی بڑا مقام مل سکتا ہے۔

عزت کا اصل مفہوم:

عزت کی حقیقت اس بات میں ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے قریب اور اس کی رضا میں مشغول رکھے۔ اللہ نے فرمایا:

"وَعَدَ اللَّٰهُ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ جَنَّٰتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَارُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةًۭ فِى جَنَّٰتِ عَدْنٍۢ وَرَضِىَ ٱللَّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِىَ رَبَّهُۥ"
(التوبہ 9:72)

ترجمہ:
"اللہ نے ایمان لانے والے مردوں اور ایمان لانے والی عورتوں کے لیے وہ جنتیں وعدہ کی ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ مکان جنت عدن میں، اور اللہ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔"

وہ لوگ جو اپنے آپ کو مال و دولت سے متعلق سمجھتے ہیں، ان کا غلط تصور:

کچھ لوگ اپنے عہدہ، پیسے یا مقامات کے بل پر اپنی عزت و عظمت کا دعوی کرتے ہیں، جیسے وہ کسی کی معیاری زندگی کے معیار بن چکے ہیں۔ "اتنی بڑی ڈاکٹر کا شوہر؟ اتنے بڑے آفیسر کا بیٹا؟" جیسے سوالات ان کے درمیان گاہے بگاہے سننے کو ملتے ہیں، اور ان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ ان کے اندر کوئی خاصیت ہے۔ لیکن حقیقت میں اللہ نے دنیا میں صرف آزمائش رکھی ہے۔ اگر کسی کو مال، عزت، یا مرتبہ دیا ہے تو یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔ ان چیزوں کا حقیقی مقام اور مقصد کسی انسان کی عزت یا ذلت کے پیمانے سے نہیں بلکہ اس کے عمل اور نیت سے وابستہ ہے۔

دنیاوی شین و شوکت کی حقیقت:

دنیا میں مال و دولت کی اہمیت صرف اس حد تک ہے کہ انسان اپنے اور اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرے۔ اس کے بعد انسان کا کام ان مال و دولت کو لوگوں کی خدمت میں، اللہ کی رضا کے لئے اور دوسروں کی مدد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ اگر انسان میں بخل اور غرور ہوتا ہے تو اس کی عزت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

پڑھے لکھے جاہل:

پڑھائی، دولت اور عہدے کی بنیاد پر خود کو عزت میں سب سے آگے سمجھنے والے افراد دراصل جاہلیت میں مبتلا ہیں۔ جو لوگ علم حاصل کرنے اور دنیا کی دولت جمع کرنے کے بعد بھی اپنے اندر اخلاق نہیں رکھتے، وہ حقیقت میں جاہل ہیں۔ وہ دین کی سچی سمجھ سے دور ہیں اور ایک جھوٹی شان و شوکت میں غرق ہیں جو ان کو اللہ سے دور لے جاتی ہے۔

ذلت کی حقیقت:

ذلت کا تعلق انسان کے اعمال سے ہے، نہ کہ اس کی مالی حالت یا عہدے سے۔ اللہ نے فرمایا:

"وَمَنْ يَكْفُرْ بِإِيمَانِهِ فَإِنَّهُ أَصْلَحَ وَلَيْسَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَشْرَكْتَ فِي كَبَرٍ" (الزمر، 39:4)

اگر انسان نے نیک عمل نہیں کیے، اللہ کی ہدایت کو قبول نہیں کیا، اور اپنے نفس اور غرور کو دنیا کی عارضی چیزوں پر ترجیح دی، تو وہ ذلت میں ڈوب جائے گا، چاہے اس کے پاس کتنی بھی دولت یا عزت ہو۔

اختتامیہ:

ہمیں اپنی عزت کا پیمانہ اللہ کی رضا، اخلاقی خوبیوں، اور عمل سے جانچنا چاہیے۔ اس کی قربت میں ہی حقیقی عزت ہے، نہ کہ مال، دولت، یا عہدے میں۔ دنیا میں جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے، وہ عارضی ہے، اور یہ صرف ایک امتحان ہے۔ جو شخص ان چیزوں کو اللہ کے راستے میں صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرتا ہے، وہی سچی عزت کا مستحق ہے۔ اگر یہ لوگ حقیقت میں دین اور اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں اپنی عارضی شان و شوکت کو چھوڑ کر، اپنی اصل عزت کی جانب قدم بڑھانا ہوگا جو کہ اللہ کے راستے میں ہے۔