معجزات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
معجزات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 10 ستمبر، 2024

اللہ کے ناموں میں تبدیل ہوتا ہوا بادل

 


اللہ نے بادل کے ٹکڑے پر سیدھے ہاتھ کی جانب اوپر کی طرف اپنا نام لکھا ہوا تھا۔ اس کے بعد اللہ نے اسی بڑے بادل کے ٹکڑے کو "اللہ" نام میں تبدیل کیا جو کہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے اور اس کے بعد اللہ نے اس بڑے بادل کو تبدیل کر کے اس کے نیچے والے بادل کو "للہ" میں تبدیل کیا اور اس کا مطلب ہوتا ہے "اللہ کے لیے"

جس بات کا علم نہیں ہوتا اس کو جاننے کو سائنس کہتے ہیں اور جو خود کو سائنسدان کہتا ہے اگر اس کو علم نہ ہو تو وہ اس بات سے جاہل ہوتا ہے جس کا اسے علم نہ ہو کیونکہ جس بات کا انسان کو علم حاصل ہوجائے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ اور پریکٹیکل طور پر بھی وہ اسے مکمل طور پر جانتا اور سمجھتا ہو تو وہ اس علم کا استاد ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اس میں جاہل شمار نہیں ہوسکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ مستقبل میں اسی چیز میں مزید علوم کے دروازے کھل جائیں مگر اس سے اس کی جہالت یا کم علمی یا کسی چیز کو لے کر اس کی تذلیل نہیں کی جائے گی کیونکہ پہلے اس کا علم کامل تھا اس حد تک جتنا وہ جانتا تھا لہذا کوئی انسان اپنے علم پر تکبر ہرگز نہ کرے کہ وہی سب کچھ جانتا ہے کیونکہ یہ صفت صرف اللہ کی ہے کہ وہ ہر چیز، ہر بات، ہر غیب پر مکمل علم و عبور رکھتا ہے۔ سب کو وہی سکھاتا اور سمجھاتا ہے اور ان کے دلوں میں ایسے خیالات بھیجتا ہے ان کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے کہ جن کی بدولت انسان نئی نئی چیزیں یا کام کرنے کے مخلتف انداز اختیار کرلیتا ہے جسے لوگ ترقی اور سائنسی ایجادات کا نام دیتے تھکتے نہیں مگر اللہ کا انکار کرتے ہیں یا اللہ کو کریڈٹ دینا پسند نہیں کرتے یا اس کے ساتھ شرک کرکے دوسروں کو اللہ کے برابر قرار دے کر ان کی پوجا کرتے ہیں۔

جو حقیقی سائنسدان ہوتا ہے اسے جس بات کا علم نہ ہو وہ اس علم کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ اسے جان لے۔ کسی چیز کے نام اور اس کی حقیقت کو جاننا اور اس کو استعمال کرنا، یہی تو سائنس ہے۔

اگر کوئی یہ ہی نہیں جانتا کہ ان بادلوں کو آسمان اور زمین کے درمیان میں کون بناتا ہے اور کون کنٹرول کرتا ہے اور کون تبدیل کرتا ہے اور کون غائب کرتا ہے تو وہ کس منہ سے اپنے آپ کو سائنسدان کہتا ہے؟

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد (10 ستمبر 2024)