کہانی سے سیکھیں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
کہانی سے سیکھیں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 23 مارچ، 2025

دوستی کا امتحان: جہاد اور نیکی کا حقیقی مقام

 مدینہ کی گلیوں میں دو قریبی دوست، راشد اور اسلم، ایک درخت کے نیچے بیٹھے گفتگو کر رہے تھے۔ راشد مسجدِ نبوی کے قریب پانی پلاتا تھا، حاجیوں کی خدمت کرتا تھا اور بھوکوں کو کھانا کھلاتا تھا۔ مدینہ کے لوگ اسے عزت کی نظر سے دیکھتے تھے، کیونکہ وہ ہمیشہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا تھا۔

اسلم، دوسری طرف، وہ شخص تھا جس نے بدر اور احد کے معرکوں میں تلوار اٹھائی تھی، دشمن کے خلاف ڈٹا رہا تھا، اور جب میدان میں جانے کا وقت آیا تو اس نے گھر بیٹھنے کے بجائے اپنے خون سے وفاداری کا ثبوت دیا تھا۔ وہ صرف جسمانی طور پر نہیں لڑا تھا بلکہ دل و دماغ اور زبان سے بھی اسلام کا دفاع کیا تھا۔

راشد کا نظریہ

راشد نے گہری سانس لی اور کہا، "میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ خانہ کعبہ کی خدمت اور لوگوں کو پانی پلانے جیسا کام اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ بابرکت ہے۔ ہم حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں، لوگوں کو کھانے کھلاتے ہیں، ان کی ضروریات پوری کرتے ہیں، یہ سب بہت بڑی نیکی ہے۔"

اسلم نے مسکراتے ہوئے کہا، "بے شک، یہ سب نیکیاں ہیں، لیکن کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا درجہ ان لوگوں سے زیادہ ہے جو محض خانہ کعبہ کی خدمت کرتے ہیں؟"

اصل جہاد کیا ہے؟

راشد نے حیرانی سے پوچھا، "مگر کیوں؟ خانہ کعبہ کی خدمت تو مقدس ترین عمل ہے!"

اسلم نے کہا، "دیکھو، اگر صحابہؓ صرف نیکیاں کرتے رہتے اور گھر بیٹھ کر عبادت و خدمت میں مشغول رہتے تو کیا اسلام کبھی مکہ اور مدینہ کی گلیوں سے باہر نکل سکتا تھا؟ اگر حضرت خالد بن ولیدؓ تلوار نہ اٹھاتے، اگر حضرت علیؓ میدان میں نہ اُترتے، اگر حضرت حسانؓ اپنے اشعار سے کافروں کے پروپیگنڈے کا جواب نہ دیتے، تو کیا دین قائم رہ سکتا تھا؟"

اسلم نے ایک پتھر اٹھایا اور زمین پر پھینک کر کہا، "یہ ایک کمزور ایمان والے کی مثال ہے، جو مشکل وقت میں صرف عبادت کو کافی سمجھتا ہے اور میدان میں نہیں آتا۔ لیکن ایک مجاہد وہ ہوتا ہے جو اس پتھر کو اٹھا کر دشمن کے خلاف استعمال کرے، حق کی آواز بلند کرے، اور دین کی حفاظت کرے۔"

کمزور ایمان والے کا جہاد

یہ سن کر راشد سوچ میں پڑ گیا اور بولا، "لیکن اگر کوئی واقعی کمزور ہے، جو لڑ نہیں سکتا، تو وہ کیا کرے؟ کیا اس کے لیے بھی جہاد کا کوئی درجہ ہے؟"

اسلم نے جواب دیا، "بالکل! اللہ نے ہر شخص کو ایک الگ صلاحیت دی ہے۔ کچھ لوگ میدانِ جنگ میں تلوار اٹھاتے ہیں، جیسے حضرت خالد بن ولیدؓ۔ کچھ اپنی زبان اور قلم سے جہاد کرتے ہیں، جیسے حضرت حسان بن ثابتؓ نے شاعری سے اسلام کا دفاع کیا۔ اور کچھ لوگ اپنے مال سے جہاد کرتے ہیں، جیسے حضرت عثمانؓ نے اپنی دولت اسلام کے لیے وقف کر دی۔ اور اگر کوئی جسمانی طور پر کمزور ہو، تو وہ دل سے جہاد کرے، حق کے لیے دعا کرے، سچ کی گواہی دے، اور برائی کے خلاف اپنی آواز بلند کرے۔"

جہاد کا اعلیٰ درجہ کیوں؟

راشد نے پھر سوال کیا، "لیکن اللہ نے پھر بھی مجاہدین کا درجہ سب سے بلند کیوں رکھا؟"

اسلم نے سنجیدگی سے کہا، "اس لیے کہ اسلام صرف عبادت اور نیکی کے کاموں سے نہیں پھیلا، بلکہ قربانی اور جہاد سے پھیلا۔ اگر صحابہؓ نے اپنی جانیں، مال اور وقت قربان نہ کیے ہوتے، تو آج اسلام صرف مکہ کے چند گھروں میں محدود رہتا۔ خانہ کعبہ کی خدمت بے شک نیک عمل ہے، مگر اگر اسلام کو بچانے والے ہی نہ ہوں تو یہ خدمت بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔"

نتیجہ

راشد نے گہری سوچ میں ڈوب کر کہا، "تو مطلب یہ ہے کہ دین کے لیے صرف نیکیاں کافی نہیں، بلکہ قربانی دینا بھی ضروری ہے۔ اور اگر کوئی لڑ نہیں سکتا تو وہ اپنی صلاحیت کے مطابق اللہ کے دین کی حفاظت کرے؟"

اسلم نے مسکراتے ہوئے کہا، "بالکل! یہی اصل جہاد ہے۔ ہر کوئی اپنے طریقے سے اللہ کی راہ میں لڑتا ہے، مگر جو جان و مال کے ساتھ جہاد کرتا ہے، اللہ نے اس کا درجہ سب سے بلند رکھا ہے۔"

یہ سن کر راشد نے سر جھکایا اور کہا، "میں نے ہمیشہ سمجھا کہ صرف عبادت اور خدمت ہی کافی ہے، مگر آج میں نے سیکھا کہ اصل دین کی حفاظت کرنے والا، خواہ وہ تلوار سے کرے، قلم سے کرے، یا مال سے، وہی اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ بلند ہے۔"

اسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، "یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن ہمیں سکھاتا ہے۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جو ہمیں اپنی زندگی میں اپنانی چاہیے۔"