تعلیم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تعلیم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 12 جون، 2025

اگر کوئی فیس دے کر نہیں سیکھنا چاہتا تو تمہیں کیا مسئلہ ہے؟

 پہلے یوٹیوب نہیں تھا۔

پہلے لاکھوں لوگ علم اس طرح نہیں سکھارہے تھے۔
اگر کوئی فیس افورڈ نہیں کرسکتا، وہ جہاں سے چاہے مفت سیکھ سکتا ہے۔
جو فیس افورڈ کرسکتا ہے اور استاد کی اہمیت سمجھتا ہے، یا براہ راست استاد سے سیکھنا چاہتا ہے، وہ اسے فیس دے کر سیکھ سکتا ہے، مسئلہ کسی بھی صورت میں نہیں ہے۔
فری سیکھنے والوں کو ڈی گریڈ کرنا بمقابلہ فیس دے کر سیکھنے والوں کے، کسی کا حق نہیں۔
جسے فری سیکھنا ہے سیکھے، جسے پیسے دے کر سیکھنا ہے سیکھے۔
دنیا میں ہر طرح کے انسان ہیں، اور ہر طرح کے لوگ کامیاب ہوچکے ہیں۔
اگر بہت سے لوگ کروڑوں کمانا چاہتے ہیں اور ہزاروں بھی نہیں لگارہے سیکھنے کے لیے تو اس میں مسئلہ کدھر ہے؟ میں ایک کروڑ سے زائد کماچکا ہوں اور سیکھنے پر اتنے ہزار نہیں لگائے تھے، تو؟
ہر انسان کے حالات و واقعات مختلف ہوسکتے ہیں، ایک قانون سب پر اپلائی نہیں ہوسکتا۔

اب بات کرتا ہوں ڈاکٹر کی
اگر ڈاکٹر 2000 فیس لے رہا ہے تو یہ اس کا حق ہے کہ وہ اپنی فیس 2000 رکھے ہوئے ہے۔ جسے تکلیف ہے وہ اس ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں جاتا جو فی سبیل اللہ علاج کررہا ہے یا 100 روپے فیس لے کر دوا دے رہا ہے؟ کیا معاشرے میں ہر طرح کے ڈاکٹرز موجود نہیں ہیں؟ لہذا بے تکی باتوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ذیادہ فیس مانگنے سے کوئی حرام خور نہیں بن جاتا۔
مجھ سے کوئی علاج کروانے کے لیے آتا ہے، میں پانچ لاکھ روپے ڈیمانڈ کرتا ہوں، یہ میرا بزنس ہے، اب اگر کسی ڈاکٹر کو تکلیف پہنچے یا کسی کے پیٹ میں مروڑ اٹھے، تو میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔
ابھی تو ویسے بھی فی الحال علاج معالجہ کا کام pending میں چھوڑ رکھا ہے کیونکہ اکثر لوگ جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لہذا انہیں بھی سبق ملنا چاہیے کہ لاعلاج حالت میں موت کا ذائقہ چکھنے کے قریب جاتے وقت کیسی حالت ہوجاتی ہے انسان کی، پھر ڈھونڈتے پھرتے ہیں کسی مسیحا کو۔ ناقدرے اور ناشکرے لوگ۔

اور ایک بات یہ کہ اسکل سکھانے والے سے یہ سوال کرنا کہ آپ نے کچھ کمایا یا نہیں؟ یہ انتہائی حماقت انگیز سوال ہے۔ کیا کوئی اسٹوڈنٹ اپنے سر سے کلاس میں پوچھتا ہے کہ سر یہ جو آپ ہمیں انگریزی، اردو، اسلامیات، حساب، فزکس وغیرہ پڑھارہے ہیں تو کیا آپ نے اپنی زندگی میں کبھی ان subjects کے زریعے کچھ کمایا ہے؟ یہ بدتمیزی اور بدتہذیبی کہلائے گی۔

ٹیچر کا کام اپنا ہنر سکھانا ہے، علم ٹرانسفر کرنا ہے تو اس پر فوکس ہونا چاہیے، نہ کہ ٹیچر کی ذاتی زندگی، کمائی اور حالات واقعات پر نظر ثانی کرنا ہر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کا حق ہونا چاہیے۔

یہاں میں ٹیچرز کو بھی ڈیفینڈ کررہا ہوں جن پر تنقید کی جاتی ہے کہ تم خود تو کچھ کمانہیں سکے تو پڑھا کیوں رہے ہو؟ یا کچھ زندگی میں کر نہیں سکے تو پڑھانے لگ گئے۔

مارکیٹ میں ہر طرح کے لوگ ہیں، ہر طرح کے اسٹوڈنٹس ہیں۔ جس کا جہاں دل لگتا ہے، جہاں matching ہوتی ہے، جہاں کنکشن بنتا ہے، کرلے، مگر دوسروں کو تذلیل کرنے کا حق اسے نہیں۔

ایک کورس بیچنے والا ہے تو جسے کورس بیچنے کی اوقات نہیں، اسے کوئی حق نہیں کہ کورس بیچنے والے کو منجن بیچنے والا کہہ کر اس کا مذاق اڑائے۔

یہاں تو عجیب ڈرامے بازی چل رہی ہے۔ جس جاہل کا بس چلتا ہے جو مرضی ہانک دیتا ہے۔

اب سڑتے رہو، پڑھتے رہو، اپنا کام ہوچکا۔

الحمدللہ
ذیشان ارشد

بدھ، 11 جون، 2025

لائف/بزنس/آئی ٹی اسکلز سیکھنے کے لیے بہترین یوٹیوب چینلز

Shaykh Atif Ahmed (Lion-Like Courage)
https://www.youtube.com/channel/UCFsDXM40vHfbNEBt9YdayVg

Shwetabh Gangwar (Personal Development, Study)
https://www.youtube.com/channel/UC2gQaoCItAC-IbT8RNwWqLQ

Zeeshan Arshad (Multipotentialite, Life Transformation, Confidence)
https://www.youtube.com/channel/UCFsDXM40vHfbNEBt9YdayVg

Shabbir Arshad (Martial Arts)
https://www.youtube.com/channel/UCb6ihhxgkWEug_2JBRUBiqg

Kamran Sharif (Mental Health, Depression & Anxiety)
https://www.youtube.com/channel/UCU5aEY3YF7iGgzmWuONJGTA

GFX Mentor (Graphics Designing)
https://www.youtube.com/channel/UCP3AIk974-PeB9bg1Mc7wug

Hisham Sarwar (Freelancing, Blogging & Marketing)
https://www.youtube.com/user/infomist

Sandeep Maheshwari (Motivational Speeches)
https://www.youtube.com/user/SandeepSeminars

Dr. Vivek Bindra (Business and Marketing)
https://www.youtube.com/user/MrVivekBindra

اتوار، 1 دسمبر، 2024

کیا یونیورسٹی میں کوئی اسکل سکھائی جاتی ہے یا آپ کو خود سیکھنا پڑتا ہے؟

بعض یونیورسٹیوں میں کتابوں کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل اسکلز بھی سکھائی جاتی ہیں اور بعض یونیورسٹیوں میں آپ کو صرف کتابیں پڑھائی جاتی ہیں اور اسائنمنٹ کے طور پر پریکٹیکل ٹاسک دیے جاتے ہیں۔

اگر آپ کا مقصد جاب کرنا ہے تو ایسی یونیورسٹی میں ایسی ڈگری حاصل کریں جس کو مکمل کرنے کے بعد لازمی جاب ملنے کے چانسز کم از کم 90 فیصد ہوں کیونکہ جاب والوں کی ڈیمانڈ الگ ہوتی ہیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد پریکٹیکل تجربہ نہ ہونے کی صورت میں وہ جاب نہیں دیتے۔ ایسی صورت میں انٹرنشپ ہوتی ہے۔ اگر مل جائے تو وارے نیارے ورنہ دور کے ڈھول سہانے رہ جاتے ہیں۔

اگر یونیورسٹی والے اپنے اسٹوڈنٹس کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل طور پر انہیں فیلڈ کے لیے تیار کرنے میں بھرپور مدد بھی کرتے ہیں تب ایسی صورت میں ایسی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنا سب سے بہتر ہے بشرطیکہ وہاں ایڈمیشن میرٹ کی بنیاد پر ہو اسٹوڈنٹ کی قابلیت دیکھ کر نہ کہ صرف ماضی کا پیپر والا ریکارڈ دیکھ کر جیسا کہ عام طور پر رائج ہے کیونکہ بہت سے اسٹوڈنٹس گھریلو ماحول کی وجہ سے ذہنی طور پر ڈسٹرب ہوتے ہیں تو وہ اسکول / کالج میں خراب مارکس حاصل کرجاتے ہیں جبکہ بعد میں وہی بچے اپنی ذہانت اور خداداد صلاحیتوں کی بدولت کامیاب ہوجاتے ہیں بغیر ڈگریوں کے اور اگر ایسے اسٹوڈنٹس کو یونیورسٹیوں میں موقع دیا جائے صرف ان کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے تو سونے پر سہاگا ہوگا۔

بہرحال کونسی یونیورسٹی میں اسکل سکھائی جاتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ آپ کو خود کرنا پڑے گا لہذا اپنی تحقیق مکمل کریں اور اس کے بعد فیصلہ کریں۔
بہتر یہی ہے کہ جس یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہو وہاں پر پڑھ کر نکلنے والے اسٹوڈنٹس کا کامیابی کا ریکارڈ دیکھا جائے کہ کتنے اسٹوڈنٹس باہر نکل کر پریکٹیکل طور پر کامیاب جارہے ہیں اور کتنے سڑک پر بیٹھ پر محض نوکری نہ ملنے کی گپیں مار رہے ہیں۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔