شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 18 اپریل، 2025

کسی درد مند کے کام آ کسی ڈوبتے کو اچھال دے (وضاحت)

یہ نظم ایک صوفیانہ اور روحانی پیغام لیے ہوئے ہے، جو انسانیت، عاجزی، اور حقیقی معرفتِ الٰہی کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اس نظم کا مصنف نامعلوم ہے، لیکن اس کا کلام مختلف ذرائع میں موجود ہے۔

مکمل نظم:

کسی دردمند کے کام آ، کسی ڈوبتے کو اچھال دے
یہ نگاہِ مست کی مستیاں، کسی بدنصیب پہ ڈال دے
مجھے مسجدوں کی خبر نہیں، مجھے مندروں کا پتہ نہیں
میری عاجزی کو قبول کر، مجھے اور درد و ملال دے
یہ مے کشی کا غرور ہے، یہ میرے دل کا سرور ہے
میرے مے کدہ کو دوام دے، میرے ساقیوں کو جمال دے
میں تیرے وصال کا کیا کروں، میری وحشتوں کی یہ موت ہے
ہو تیرا جنوں مجھے پھر عطا، مجھے جنتوں سے نکال دے

تشریح:

  1. کسی دردمند کے کام آ، کسی ڈوبتے کو اچھال دے
    یہ مصرع ہمیں دوسروں کی مدد کرنے، ان کے دکھ درد میں شریک ہونے، اور انہیں سہارا دینے کی تلقین کرتا ہے۔

  2. یہ نگاہِ مست کی مستیاں، کسی بدنصیب پہ ڈال دے
    یہاں شاعر دعا کرتا ہے کہ جو روحانی سرور اور کرم کی نگاہ اسے حاصل ہے، وہ کسی محروم اور بدنصیب شخص پر بھی ڈال دی جائے۔

  3. مجھے مسجدوں کی خبر نہیں، مجھے مندروں کا پتہ نہیں
    یہ مصرع مذہبی رسم و رواج سے بالاتر ہو کر خالص روحانیت کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں ظاہری عبادات سے زیادہ دل کی پاکیزگی اور عاجزی اہم ہے۔

  4. میری عاجزی کو قبول کر، مجھے اور درد و ملال دے
    شاعر اپنی عاجزی پیش کرتا ہے اور مزید روحانی تجربات اور درد کی طلب کرتا ہے، تاکہ وہ مزید قربِ الٰہی حاصل کر سکے۔

  5. یہ مے کشی کا غرور ہے، یہ میرے دل کا سرور ہے
    یہاں "مے کشی" روحانی سرور اور معرفت کا استعارہ ہے، جو شاعر کے دل کو سرور بخشتا ہے۔

  6. میرے مے کدہ کو دوام دے، میرے ساقیوں کو جمال دے
    شاعر دعا کرتا ہے کہ اس کے روحانی مرکز کو دوام ملے اور جو اسے روحانی فیض پہنچاتے ہیں، ان کو حسن و جمال عطا ہو۔

  7. میں تیرے وصال کا کیا کروں، میری وحشتوں کی یہ موت ہے
    شاعر کہتا ہے کہ اگر اسے خدا کا وصال حاصل ہو جائے، تو اس کی روحانی تڑپ اور جستجو ختم ہو جائے گی، جو اس کے لیے موت کے مترادف ہے۔

  8. ہو تیرا جنوں مجھے پھر عطا، مجھے جنتوں سے نکال دے
    شاعر دعا کرتا ہے کہ اسے دوبارہ وہی عشق و جنون عطا ہو اور وہ جنت کی آسائشوں سے نکل کر دوبارہ تڑپ اور جستجو کی حالت میں آ جائے۔

یہ نظم صوفیانہ ادب کا ایک خوبصورت نمونہ ہے، جو ہمیں ظاہری عبادات سے ہٹ کر دل کی پاکیزگی، عاجزی، اور دوسروں کی خدمت کی طرف راغب کرتی ہے۔