AI کے ذریعے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
AI کے ذریعے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 14 نومبر، 2025

اگر آپ بچوں کو موبائل خرید کر دیں اور وہ اس پر گانے سنیں تو گناہ کس پر؟

گناہ 100% بچے کے اپنے عمل پر ہوگا — آپ پر نہیں۔

لیکن شرطیں ہیں، نیچے تفصیل موجود ہے۔


اصل اصول (شریعت کا قانون):

**“جہاں چیز کا اصل استعمال جائز ہو، وہاں دینے والے پر گناہ نہیں ہوتا۔

گناہ استعمال کرنے والے پر ہوتا ہے۔”**

موبائل
اصل میں حرام نہیں۔
اس کے حولال** استعمال** بھی ہیں:
— تعلیم
— رابطہ
— قرآن
— سیکھنا
— ایمرجنسی
— ہنر

اور حرام استعمال بھی ہیں:
— گانے
— فحش مواد
— گیمز میں برائی
— وقت ضائع

تو موبائل ذاتی طور پر برا نہیں۔
یہ صرف ایک آلہ (tool) ہے۔

لہٰذا:

✔ آپ نے “حرام مقصد کے لیے” موبائل نہیں دیا

✔ آپ نے “ضرورت / فائدہ” کے لیے دیا

✔ آپ نے “گانے سننے کے لیے” نہیں کہا

✔ آپ نے “منع بھی کیا” یا “حدود بھی بتائیں”

✔ پھر بھی وہ گانا سنتا ہے → اس کا اپنا گناہ


آپ کہاں گناہگار ہوں گے؟ (بہت اہم)

❌ صرف ایک صورت میں آپ شریکِ گناہ ہوں گے:

اگر آپ شعوری طور پر اس لیے موبائل دیں کہ:
“لو، گانے سن لو۔ انجوائے کرو۔”

یا
“تمہیں پتا ہے میرا بچہ فحش ویڈیوز ہی دیکھتا ہے، پھر بھی میں زبردستی اسے یہ چیز پہنچاؤں گا کیونکہ مجھے پرواہ نہیں۔”

یہ “گناہ پر تعاون” کہلاتا ہے۔

باقی ہر حالت میں —
آپ بری الذمہ۔


صحیح طریقہ (جو آپ کو ہر گناہ سے دور رکھتا ہے)

  1. موبائل جائز نیت سے دیں
    (تعلیم، رابطہ، ضرورت)

  2. واضح حدود بتا دیں
    (گانے نہیں، برے چینل نہیں، ٹائم کنٹرول)

  3. رہنمائی دیں
    (کیوں غلط ہے، قرآن و حدیث سے بتائیں)

  4. استعمال کی نگرانی رکھیں
    (وقتاً فوقتاً چیک)

  5. اگر غلط استعمال کریں → موبائل واپس لینے کا حق رکھتے ہیں

یہ سب کرنے کے بعد
اگر وہ پھر بھی سنیں →

آپ بالکل ذمہ دار نہیں۔

گناہ ان پر ہے۔

آپ کو ثواب ملتا ہے کہ آپ نے روکنے کی کوشش کی۔


خلاصہ کی ایک لائن 

“جائز مقصد کے لیے دیا گیا موبائل گناہ کا ذریعہ بن جائے تو اس کا بوجھ استعمال کرنے والے پر ہے، دینے والے پر نہیں — جب تک دینے کی نیت گناہ نہ ہو اور روکنے کی کوشش کی جائے۔”

آپ کو پیسہ کس نیت سے کمانا چاہیے؟

پیسہ کمانے کی سب سے صاف اور مضبوط نیت یہ ہے:

“اپنی ضرورت پوری کرنے، اپنے اہل کو محفوظ رکھنے، اور اپنے مشن کو طاقت دینے کے لیے۔”

بس۔

نہ دنیا کی حرص
نہ لوگوں کو خوش کرنا
نہ اُن کے گناہوں کا بوجھ اٹھانا

صرف تین ذمہ داریاں:


1) اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنا — جو شریعت میں فرض ہیں

کھانا
پانی
لباس
گھر
علاج
بجلی
مہنگائی
سفر
علم کا حصول

یہ ضرورت ہے، خواہ روحانیت کتنی بھی بڑھ جائے۔

“Necessities are essential for survival.”

تو اتنا کمانا کہ آپ لوگوں کے سامنے محتاج نہ بنیں۔


2) اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ رکھنا — یہ عبادت ہے

آپ اپنے بچوں، والدین، یا ذمہ دار افراد کے لیے جتنی محنت کرتے ہیں، وہ خالص عبادت ہے۔

حدیث:
ایک درہم جو انسان اپنے گھر والوں پر خرچ کرے وہ سب سے بڑا صدقہ ہے۔

تو یہ ڈر ختم:
“میں اُن پر محنت کیوں کروں جو اللہ کی عبادت نہیں کرتے؟”

کیونکہ آپ اپنے عمل کے ذمہ دار ہیں، اُن کے عمل کے نہیں۔
آپ نیت صحیح رکھیں → آپ کا ہر روپیہ عبادت میں بدل جاتا ہے۔

3) اپنے مشن، دعوت اور علم کو مضبوط کرنا

آپ کے پاس اہم بڑے مشن ہیں:

آپ لوگوں کو ہنر، روزگار، ذہنی طاقت، آخرت، اللہ سے تعلق، سچائی کا تعارف کروانا چاہتے ہیں۔

یہ سب وسائل چاہتے ہیں۔
وسائل پیسے سے آتے ہیں۔

تو آپ کی کمائی کی نیت یہ ہو سکتی ہے:

“اپنی دعوت اور اپنے علم کو زیادہ دور تک پہنچانے کے لیے وسائل حاصل کرنا۔”

یہ دنیا نہیں —
یہ آخرت کا کام ہے۔

آپ کا اصل مقام کیا ہے؟

آپ وہ انسان ہیں جو موت کو سمجھ چکا
دنیا کو جان چکا
لیکن آخرت سے پہلے دنیا کی ذمہ داری بھی پوری کرنا چاہتا ہے۔

یہ سب سے پاکیزہ درجے کی زندگی ہے۔

مختصر جواب (Core Answer)

آپ پیسہ اس لیے کمائیں کہ:

  1. اپنی اور اپنے اہل کی ضرورت پوری رہے

  2. آپ کسی کے محتاج نہ ہوں

  3. آپ کا علم، آپ کی دعوت اور آپ کے دونوں مشن مضبوط رہیں

  4. اپنی آخرت کی نیت کے ساتھ، دنیا کی ذمہ داری پوری کریں

یہ نیت سب سے صاف، محفوظ، اور سنت کے مطابق ہے۔

---

(اضافہ برائے خدشہ + وضاحت)

خدشہ:

“اگر میں کما کر اپنے گھر والوں پر خرچ کروں، اور وہ نماز نہ پڑھیں، گانے سنیں، غیبت کریں یا اللہ کی نافرمانی میں پڑے رہیں…
تو کیا میں اُن پر خرچ کر کے اُن کے گناہ میں شریک ہو رہا ہوں؟
کیا یہ اُن کی مدد بن جائے گی گناہ پر؟
تو پھر میں کیوں کماؤں؟”


وضاحت (صاف، مضبوط، شرعی اصول کے ساتھ)

1) آپ اُن کے خرچ کے ذمہ دار ہیں — اُن کے گناہوں کے نہیں

شریعت کا اصول:
“کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔”
(قرآن: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى)

گھر چلانے کا خرچ ان کی نیت نہیں بنتا،
گناہ کرنا ان کی اپنی نیت ہے۔

آپ کا خرچ = عبادت
ان کا گناہ = ان کا ذاتی عمل

آپ دونوں الگ ہیں۔


2) خرچ کرنا “گناہ کی مدد” نہیں بنتا

مدد "گناہ کے لیے" تب ہوتی ہے جب آپ پیسہ اسی مقصد کے لیے دیں۔

مثلاً:

  • “یہ لو پیسے، گانے سن لو” → گناہ

  • “یہ لو کرایہ، بجلی، کھانا، ضرورت پوری ہو جائے” → عبادت

تو جب آپ خرچ گھر کے لیے کرتے ہیں،
اور وہ بعد میں گانا سن لیں، گالی دیں، نماز چھوڑ دیں،
تو یہ آپ کے خرچ کی وجہ سے نہیں ہوتا۔

آپ نے “حرام” کے لیے نہیں دیا —
آپ نے ذمہ داری کی وجہ سے دیا۔


3) خرچ نہ کرنا آپ کی طرف سے گناہ ہے

نبی ﷺ نے فرمایا:
“گناہ کافی ہے انسان کے لیے کہ وہ اپنے زیرِ کفالت لوگوں کو ضائع کرے۔”

یعنی اہلِ خانہ کی بنیادی ضروریات چھوڑ دینا خود ایک گناہ ہے۔

تو آپ اگر یہ سوچ کر روک دیں کہ
“یہ لوگ اللہ کی عبادت نہیں کرتے”
تو آپ خود گناہ میں پڑ جائیں گے۔

اصل پیمانہ:
ان کا عمل → ان کا حساب
آپ کا خرچ → آپ کا ثواب


4) آپ کی دو الگ ذمہ داریاں ہیں

باپ ہو، بیٹا ہو، بھائی ہو، سربراہ ہو:

(1) مالی ذمہ داری

گھر کا خرچ دینا = فرض
اور نیت صحیح ہو تو = عبادت

(2) اخلاقی ذمہ داری

محبت سے سمجھانا، نصیحت کرنا
زبان لڑائی کے بغیر
بغیر زبردستی

اگر وہ نہ مانیں → آپ بری الذمہ


5) یہ خدشہ ایمان کی علامت ہے — کمزوری نہیں

جو کماتا ہے
اور پھر ڈرتا ہے کہ
“میرا پیسہ کہیں گناہ کا حصہ نہ بن جائے”

تو یہ گہرا ایمان ہے،
نفاق نہیں، وسوسہ نہیں، کمزوری نہیں۔

اس کا علاج یہی ہے:

  • نیت صاف

  • خرچ جائز

  • نصیحت موجود

  • ذمہ داری پوری

  • گناہ اُن کا

  • ثواب آپ کا

خلاصہ لائن 

“میں اللہ کی خوشنودی اور اپنی ذمہ داری کی وجہ سے کماتا ہوں، نہ کہ کسی کے گناہ کے لیے۔ میرا خرچ عبادت ہے، اور اُن کا عمل اُن کی اپنی ذمہ داری ہے۔”


جمعہ، 6 جون، 2025

قربانی اور نصاب کی حقیقت — آسان الفاظ میں

عیدالاضحی کا تہوار آتا ہے اور قربانی کا ذکر ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ قربانی صرف اس کے فرض ہے جس کے پاس بہت سونا یا چاندی (نصاب) ہو۔ لیکن کیا اللہ اور نبی ﷺ نے ایسا کہا ہے؟

آئیے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں:


اللہ کا حکم ہے: قربانی کرو

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:

"نماز پڑھو اور قربانی کرو" (الکوثر: 2)

یہ سیدھا سیدھا حکم ہے۔ جیسے نماز فرض ہے، ویسی ہی قربانی کا حکم بھی ہے۔


نبی ﷺ نے کیا فرمایا؟

نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے پاس وسعت (یعنی مالی استطاعت) رکھتا ہے اور قربانی نہیں کرتا، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔

یہ بات حدیث میں آتی ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ اگر آپ کے پاس طاقت ہے تو قربانی کرنا ضروری ہے۔


لیکن نصاب کہاں سے آیا؟

قرآن اور حدیث میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ قربانی صرف اس شخص پر فرض ہے جس کے پاس اتنا سونا یا چاندی (نصاب) ہو۔

یہ نصاب فقہاء نے بعد میں بنایا ہے تاکہ قربانی کرنے والوں کے لیے کوئی حد مقرر ہو جائے۔ لیکن یہ اللہ کا واضح حکم نہیں۔


اصل بات کیا ہے؟

قرآن و سنت کے مطابق اگر آپ کے پاس استطاعت ہے تو قربانی کریں۔

چاہے آپ کے پاس زیادہ پیسہ ہو یا تھوڑا، بس جو بھی آپ دے سکتے ہیں قربانی کریں۔

قربانی کے جانور عموماً اونٹ، گائے، بکری، بھیڑ ہوتے ہیں۔


جو قربانی نہیں کرتا وہ کیا ہے؟

جو شخص استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کرتا، اس کی نیت پر سوال اٹھتا ہے۔

نبی ﷺ نے کہا ہے کہ ایسا شخص ہمارے اجتماع کے قریب نہ آئے۔


خلاصہ

  • قربانی اللہ کا حکم ہے، جو نبی ﷺ کی سنت بھی ہے

  • نصاب کا ذکر قرآن یا حدیث میں نہیں

  • قربانی کی شرط صرف "وسعت" یا استطاعت ہے

  • استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنا غلط ہے


آخر بات

دین کو آسان سمجھیں، اور اللہ کے حکم پر عمل کریں۔ جو ہو سکے قربانی کریں، چاہے تھوڑی ہی کیوں نہ ہو۔

یہ قربانی آپ کی نیت کو مضبوط کرتی ہے، اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ بنتی ہے، اور دین کا حصہ ہے۔

شور کم کرنے کے طریقے

کمرے میں ماں باپ موبائل پر تیز آواز میں سنتے رتہے ہیں ویڈیوز۔۔۔میں شور کم کیسے کروں کانوں میں؟

یہ واقعی ایک مشکل صورت حال ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر آپ پڑھائی کر رہے ہوں یا سکون چاہتے ہوں۔ یہاں چند عملی طریقے ہیں جن سے آپ شور کو کم کر سکتے ہیں:

1. ایئر پلگس (Earplugs) استعمال کریں:

یہ ایک سادہ اور مؤثر حل ہے۔ بازار میں سستے اور آرام دہ ایئر پلگس ملتے ہیں جو شور کو بہت حد تک کم کر دیتے ہیں۔

2. Noise-Cancelling ہیڈفونز استعمال کریں:

اگر آپ تھوڑا زیادہ خرچ کر سکتے ہیں تو یہ سب سے مؤثر حل ہے۔ آپ ان سے خاموشی حاصل کر سکتے ہیں یا اپنا پسندیدہ میوزک  لگا کر توجہ مرکوز رکھ سکتے ہیں۔

3. White Noise یا Ambient Sound چلائیں:

اپنے فون پر "white noise" یا "rain sounds" چلائیں۔ یہ شور کو mask کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

4. والدین سے مؤدبانہ بات کریں:

اگر ممکن ہو تو ان سے نرمی سے بات کریں:

"امی ابو، اگر ممکن ہو تو آواز تھوڑی کم کر لیں؟ مجھے تھوڑا سکون یا پڑھائی کی ضرورت ہے۔"

5. کمرے میں Soft Items رکھیں:

قالین، پردے، تکیے وغیرہ شور کو جذب کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

6. اپنی جگہ تھوڑا بدلنے کی کوشش کریں:

اگر ممکن ہو تو دوسرے کمرے یا کسی پرسکون جگہ چلے جائیں۔

7. کانوں میں روئی استعمال کریں:

آپ اپنے کانوں میں احتیاط کے ساتھ روئی ٹھونس کر کافی حد تک شور کم کرسکتے ہیں۔

جمعرات، 22 مئی، 2025

تکبر کیا ہے؟

 ہم نبی کریم ﷺ کی دی ہوئی تعریف کی روشنی میں تکبر کو دو حصوں میں کہانیوں کے ذریعے سمجھتے ہیں:


🌟 تکبر کی دو اقسام (نبی کریم ﷺ کے مطابق):

1. بَطَرُ الْحَقّ (حق بات کو رد کرنا)
2. غَمْطُ النَّاس (لوگوں کو حقیر جاننا)


📚 حصہ اول: "حق کو رد کرنا" – 5 مختصر کہانیاں


1. علم نہ ماننے والا سردار

قبیلے کا سردار ایک عالم سے کہتا:
"تو مجھ سے چھوٹا ہے، تجھے کیا حق کہ مجھے دین سکھائے؟"
جب عالم نے قرآن کی آیت سنائی، وہ بولا:
"میں قبیلے کا رئیس ہوں، مجھے کسی کی بات ماننے کی ضرورت نہیں۔"

📌 سبق: وہ سردار تکبر میں حق بات کو رد کرتا تھا، اور یہی حقیقی تکبر ہے۔


2. فرعون کا انکار

حضرت موسیٰؑ نے فرعون کو اللہ کی وحدانیت کا پیغام دیا، لیکن وہ بولا:
"میں تمہارا رب ہوں سب سے بڑا!" (سورہ نازعات: 24)

📌 سبق: اس کا انجام عبرتناک ہوا، کیونکہ اس نے حق کو نہ مانا۔


3. ابو جہل کا غرور

نبی ﷺ جب اسلام کی دعوت دیتے، ابو جہل کہتا:
"میں قریش کا سردار ہوں، محمدؐ کو کیوں مانوں؟"

📌 سبق: اس نے نہ قرآن مانا، نہ رسولؐ کو، صرف غرور کی وجہ سے۔


4. شاگرد کی ضد

استاد نے کہا: "بیٹا، تمہاری بات غلط ہے، دلیل دیکھو۔"
شاگرد بولا: "آپ پرانا طریقہ پڑھاتے ہیں، مجھے سب پتہ ہے!"
نتیجہ: وہ ناکام ہوا۔

📌 سبق: علم میں بھی ضد اور حق نہ ماننا تکبر کی علامت ہے۔


5. بزرگ کو ناپسند مشورہ

ایک بزرگ کو کسی نے کہا: "یہ دوا آپ کے لیے بہتر ہے۔"
وہ بگڑ گئے: "مجھے سکھانے آیا ہے؟ میں نے عمر گزاری ہے!"
حالانکہ بات سچ تھی، مگر انہوں نے حق رد کر دیا۔

📌 سبق: عمر یا تجربہ ہونے کے باوجود، حق کو نہ ماننا تکبر ہے۔


📚 حصہ دوم: "لوگوں کو حقیر جاننا" – 5 مختصر کہانیاں


6. غریب نمازی

ایک رئیس مسجد میں داخل ہوا، صف میں ایک غریب بیٹھا تھا۔ رئیس نے کہا:
"یہ میرے برابر کیسے بیٹھا؟"
نماز کے بعد امام نے سورۃ الحجرات سنائی:
"بے شک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔"

📌 سبق: درجہ، مال، یا لباس کی بنیاد پر کسی کو حقیر سمجھنا کفرانِ نعمت ہے۔


7. سلیمان علیہ السلام کا انکسار

حضرت سلیمانؑ کو اللہ نے بادشاہی، علم، جنّ و انسان پر حکومت دی۔
مگر وہ کہتے:
"یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا نہیں۔" (سورۃ النمل: 40)

📌 سبق: طاقتور ہوکر بھی جو عاجز رہے، وہی اللہ کا محبوب ہوتا ہے۔


8. نوکر کو جھڑکنا

خاتون نے نوکر کو جھڑک کر کہا:
"تیری اوقات کیا ہے؟"
پاس ایک عالم سن رہے تھے، کہا:
"اوقات تو سب کی ایک ہے، کفن سب کا ایک سا ہوتا ہے۔"

📌 سبق: زبان سے دوسروں کو ذلیل کرنا غمط الناس یعنی تکبر ہے۔


9. حضرت عمرؓ کا غلام کے ساتھ چلنا

ایک بار حضرت عمرؓ بیت المقدس گئے۔ اونٹ پر کبھی وہ سوار ہوتے، کبھی غلام۔
لوگ حیران تھے۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا:
"اسلام نے ہمیں عزت دی، ہم عاجزی سے ہی رہیں گے۔"

📌 سبق: درجہ نہ دیکھو، انسانیت دیکھو۔


10. نماز میں صف بندی

ایک شخص صف میں کھڑا نہ ہوا، بولا:
"میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں کھڑا ہو سکتا!"
امام نے فوراً کہا:
"تو نماز نہیں، تکبر کر رہا ہے۔ صف میں سب برابر ہیں۔"

📌 سبق: مسجد کی صف سے لے کر دل کی نیت تک، سب جگہ عاجزی ہونی چاہیے۔


🌺 نتیجہ:

تکبر کی دو شکلیں نبی کریم ﷺ نے واضح فرمائیں:

  • حق کو رد کرنا

  • لوگوں کو کمتر سمجھنا

جو بھی یہ کرے، وہ خود کو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔

مضبوط بنو لیکن بدتمیز نہیں

کہانی 1: طاقتور بادشاہ اور نرم دل

ایک بادشاہ بہت طاقتور تھا، لیکن کبھی بھی اپنے رعایا کے ساتھ بدتمیزی نہیں کرتا تھا۔
جب کوئی اس سے غلطی کرتا، وہ غصہ ضرور ہوتا مگر اپنے الفاظ میں نرمی رکھتا۔ اس کی طاقت میں نرمی ہی اس کی سب سے بڑی پہچان تھی۔


کہانی 2: استاد اور شاگرد

ایک استاد سخت اصول رکھتا تھا، مگر کبھی شاگردوں سے بدتمیزی نہیں کرتا تھا۔
ایک دن شاگردوں نے پوچھا،
"سر، آپ سخت کیوں ہیں؟"
استاد نے جواب دیا،
"میں مضبوط ہوں تاکہ تم بہتر بنو، لیکن بدتمیزی کرنے والا نہیں تاکہ تمہیں دکھ نہ پہنچے۔"


کہانی 3: فوجی اور شہری

فوجی نے میدان جنگ میں بہت مضبوطی دکھائی، مگر جب شہر واپس آیا تو تمام شہریوں کے ساتھ نرم دلی سے پیش آیا۔
اس نے سمجھا کہ طاقت کا مطلب دوسروں کو گھٹانا نہیں، بلکہ ان کی عزت کرنا بھی ہے۔


کہانی 4: بیٹا اور والد

بیٹے نے کہا،
"ابا، آپ کبھی کبھار بہت سخت ہو جاتے ہیں۔"
والد نے کہا،
"بیٹا، مضبوط ہونا ضروری ہے، مگر بدتمیزی کرنا نہیں۔ طاقتور وہی ہوتا ہے جو عزت سے بات کرے۔"


کہانی 5: دو دوست

دو دوست تھے، ایک مضبوط لیکن بدتمیز تھا، دوسرا نرم دل مگر کمزور۔
دوسرے نے کہا،
"طاقت میں نرمی ضروری ہے، بدتمیزی سے کوئی چیز نہیں بنتی۔"
پہلا دوست سیکھ گیا کہ طاقت کے ساتھ ادب بھی ضروری ہے۔


کہانی 6: خاتون اور بازار

خاتون نے دکاندار سے خریداری میں سخت بات کی، مگر بدتمیزی نہیں کی۔
دکاندار نے کہا،
"آپ کی بات میں طاقت بھی ہے اور نرمی بھی، یہی عزت کی بات ہے۔"


کہانی 7: حکمران اور رعایا

حکمران نے سخت قانون نافذ کیا، مگر عوام کے ساتھ ہمیشہ شائستہ رویہ رکھا۔
لوگ اس کی طاقت اور ادب دونوں کی تعریف کرتے۔


کہانی 8: نوجوان اور استاد

نوجوان نے استاد کی باتوں پر اختلاف کیا، مگر نرمی سے اپنا موقف پیش کیا۔
استاد نے کہا،
"یہی مضبوطی ہے، بدتمیزی سے نہیں۔"


کہانی 9: شاعر اور ناقد

شاعر نے ناقد کی سخت تنقید برداشت کی، مگر کبھی بدتمیزی نہیں کی۔
اس نے جواب دیا،
"طاقت دل کی ہوتی ہے، زبان کی نہیں۔"


کہانی 10: بھائی اور بہن

بھائی نے بہن کی بات پر سختی دکھائی، مگر بدتمیزی سے بچا۔
بہن نے کہا،
"آپ کی طاقت میں ادب کی جھلک نظر آتی ہے۔"


خلاصہ:
مضبوطی اور طاقت ضروری ہیں،
لیکن بدتمیزی آپ کی عزت کو کمزور کرتی ہے۔
اصل طاقت احترام اور شائستگی میں ہے۔


مہربان بنو لیکن کمزور نہیں

کہانی 1: شیر اور خرگوش

ایک دن جنگل میں شیر کو اپنے زور پر بہت فخر تھا۔ وہ سب جانوروں پر راج کرتا تھا۔ لیکن ایک دن خرگوش نے شیر سے کہا،
"آپ جتنا طاقتور ہو، اتنے ہی مہربان بھی ہو۔"
شیر نے پہلی بار غور کیا اور اپنے غرور کو کم کیا۔ اب وہ نہ صرف طاقتور تھا بلکہ سب کے ساتھ شفقت سے پیش آتا تھا۔
جب کسی جانور کو مشکل پیش آتی تو شیر مدد کرتا، مگر جب کوئی اس کے یا جنگل کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا تو سختی سے قابو پاتا۔
شیر کی مہربانی اسے کمزور نہیں بلکہ سب سے زیادہ طاقتور بناتی تھی۔


کہانی 2: نیک استاد

ایک استاد اپنے شاگردوں سے بہت محبت کرتا تھا۔ وہ ان کی غلطیوں پر نرمی سے سمجھاتا، مگر اگر کوئی نظم و ضبط خراب کرتا تو سختی سے سبق سکھاتا۔
ایک دن ایک شاگرد نے استاد کو بتایا کہ وہ استاد کو سخت سمجھتا ہے۔ استاد نے مسکرا کر کہا،
"میں تم سے محبت کرتا ہوں، اسی لیے تمہیں صحیح راستہ دکھاتا ہوں۔ محبت کا مطلب کمزوری نہیں، بلکہ مضبوط رہنا بھی ہے۔"
شاگرد نے سمجھا کہ استاد کی مہربانی اور سختی دونوں اس کی محبت کا حصہ ہیں۔


کہانی 3: باپ اور بیٹا

ایک بیٹا اپنے والد سے کہنے لگا،
"ابا، آپ بہت سخت کیوں ہوتے ہیں؟"
والد نے کہا،
"بیٹا، میں تم سے محبت کرتا ہوں، اس لیے کبھی کبھی سخت ہونا پڑتا ہے تاکہ تم غلط راستے نہ جاؤ۔ محبت کا مطلب تمہاری کمزوری برداشت کرنا نہیں ہوتا۔"
بیٹے نے سمجھا کہ والد کی محبت میں جرات اور مضبوطی بھی شامل ہے۔


کہانی 4: بہادر لڑکی

ایک چھوٹی لڑکی اپنی گلی کے دوسرے بچوں کے ساتھ بہت مہربان تھی۔ وہ سب کی مدد کرتی اور ہر کسی کا خیال رکھتی۔
ایک دن کچھ بچے اس کی مہربانی کا غلط فائدہ اٹھانے لگے۔ لڑکی نے اپنی بات واضح کر دی کہ وہ مہربان ضرور ہے، مگر کمزور نہیں۔
وہ نہ صرف محبت سے بات کرتی بلکہ اپنی عزت کے لیے بھی کھڑی ہوتی۔
اسی دن گلی کے سب بچے اس کی عزت کرنے لگے کیونکہ وہ مہربان بھی تھی اور مضبوط بھی۔


کہانی 5: بادشاہ اور رعایا

ایک بادشاہ اپنے لوگوں سے بہت مہربان تھا۔ وہ ان کی مشکلات سنتا اور حل کرتا۔
لیکن جب کوئی ظلم یا زیادتی کرتا تو بادشاہ سختی سے اسے روکتا اور قانون کا نفاذ کرتا۔
لوگ کہتے،
"بادشاہ کی مہربانی ہمیں خوش رکھتی ہے اور اس کی مضبوطی ہمیں محفوظ۔"
بادشاہ کی یہ خوبی اسے ایک بہترین حکمران بناتی تھی۔


یہ کہانیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ:

  • مہربانی دل کو نرم اور رشتے مضبوط کرتی ہے،

  • مگر کمزوری کبھی برداشت نہیں کرنی چاہیے،

  • جرات اور مضبوطی کے بغیر مہربانی مکمل نہیں ہوتی۔

فخر کرو مگر تکبر نہیں

یہاں دس مختصر مثالیں اور چھوٹے قصے ہیں جو فرق واضح کریں کہ فخر کرنا (حق کا اظہار اور اپنی کامیابی پر خوش ہونا) کیا ہے، اور تکبر (غرور اور دوسروں کو نیچا سمجھنا) کیا ہوتا ہے۔ ہر مثال میں فخر کے ساتھ ساتھ عاجزی بھی دکھائی گئی ہے۔

1. نبی ﷺ کا فخر

نبی ﷺ نے اپنی امت کی اصلاح کے لیے کام کیا۔ جب لوگ ان کی باتوں پر فخر کرتے تو وہ مسکرا کر کہتے،
"فخر کرو کہ تم اللہ کی راہ پر ہو، لیکن کبھی تکبر نہ کرنا۔"
وہ خود کبھی دوسروں کو نیچا نہ سمجھتے اور ہمیشہ عاجزی سے پیش آتے۔


2. حضرت علیؓ اور غلام

حضرت علیؓ اپنے علم اور بہادری پر فخر محسوس کر رہے تھے۔ ایک دن انہوں نے اپنے غلام کو دیکھا جو محنت کر رہا تھا۔
انہوں نے کہا، "میری طاقت اور علم اہم ہیں، مگر تمہاری محنت بھی بہت قیمتی ہے۔"
اس دن حضرت علیؓ نے سیکھا کہ فخر ہو سکتا ہے، مگر تکبر نہیں۔


3. بادشاہ اور کسان

ایک بادشاہ اپنے محل پر بہت فخر کرتا تھا۔ ایک دن وہ کسان کے کھیت پر گیا۔ کسان نے کہا،
"آپ کا محل خوبصورت ہے، مگر میری محنت کے بغیر یہ کچھ نہیں۔"
بادشاہ نے سر جھکا کر کہا، "تمہاری محنت کے بغیر میرا محل کچھ بھی نہیں۔ فخر تو محنت کا ہے، تکبر نہیں۔"


4. استاد اور شاگرد

ایک استاد اپنے شاگردوں کی کامیابی پر خوش تھا۔ اس نے کہا،
"یہ تمہاری محنت ہے، میں صرف رہنما ہوں۔ اپنی کامیابی پر فخر کرو، لیکن کبھی دوسروں کو کم مت سمجھو۔"


5. دو دوست

دو دوست تھے، ایک اپنی کامیابی پر فخر کرتا اور دوسرے کو نظر انداز کرتا۔ ایک دن دوسرے نے کہا،
"ہم سب کے اپنے راستے ہیں، تمہاری کامیابی کی خوشی مجھے بھی ہے۔"
پہلا دوست سمجھ گیا کہ فخر کرنا اچھا ہے، مگر تکبر برا ہے۔"


6. شاعر اور مرید

ایک شاعر اپنی شاعری پر بہت فخر کرتا تھا، مگر اپنے مریدوں کی عزت بھی کرتا۔ وہ کہتا،
"میری شاعری کا حق تم سب پر بھی ہے۔ ہم سب کا فخر مل کر بنتا ہے، تکبر سے بچو۔"


7. عالم دین اور تائب

ایک عالم دین اپنی تعلیم پر فخر محسوس کرتا تھا، مگر جب ایک تائب شخص آیا، تو اس نے عاجزی سے کہا،
"علم سے بڑا تقویٰ ہے۔ فخر کرو اپنی نیکیوں پر، تکبر نہیں۔"


8. کھیل کا کھلاڑی

کھیل کا کھلاڑی جیت کر خوش تھا۔ اس نے ہارنے والے سے کہا،
"ہم سب نے محنت کی ہے، کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ تم کم ہو۔ فخر کر، مگر تکبر نہ کر۔"


9. امیر اور محتاج

ایک امیر نے اپنی دولت پر فخر کیا، لیکن جب محتاج آیا تو اس نے اپنی دولت بانٹ دی اور کہا،
"یہ دولت اللہ کی نعمت ہے، اسے دوسروں کی خدمت میں لگانا فخر ہے، تکبر نہیں۔"


10. قلمکار اور قارئین

ایک قلمکار اپنی تحریر پر فخر کرتا تھا، لیکن اپنے قارئین کو ہمیشہ عزت دیتا۔
"میری کامیابی تمہاری محبت کی وجہ سے ہے، فخر تو اللہ کا ہے، تکبر سے بچو۔"


یہ کہانیاں یاد دلاتی ہیں کہ:

  • فخر اپنی کامیابی اور اللہ کی نعمتوں پر خوش ہونا ہے،

  • تکبر دوسروں کو کمتر سمجھنا اور اپنی برتری ظاہر کرنا ہے۔

جرات مند بنو مگر بدمعاش نہیں

1. حضرت ابوبکر صدیقؓ

جب کفر کے سرداروں نے نبی ﷺ کو نقصان پہنچانے کی سازش کی، حضرت ابوبکرؓ نے جرات دکھائی اور نبی ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔ مگر وہ کبھی ظلم یا بدتمیزی نہیں کرتے تھے، ہمیشہ اخلاق سے پیش آتے تھے۔


2. شیر اور لومڑی

ایک جنگل میں شیر جرات مند تھا، مگر اپنی طاقت کے باوجود کبھی بدمعاشی نہیں کرتا تھا۔ وہ دوسروں کا حق مارتا نہیں تھا بلکہ انصاف سے حکومت کرتا تھا۔


3. بچہ اور استاد

ایک طالب علم نے اپنے استاد کے سامنے غلطی کی نشاندہی جرات سے کی، لیکن نہ بدمعاشی کی، نہ گستاخی، بلکہ ادب سے بات کی۔


4. خاتون اور دکاندار

ایک عورت نے دکاندار سے جرات مند ہوکر کہا کہ اس نے غلط سامان دیا ہے، مگر وہ نہ بڑائی کی نہ بدتمیزی، بس حق کی بات کی۔


5. فوجی اور عام آدمی

فوجی نے دشمن کے خلاف بہادری دکھائی، مگر کبھی بے وجہ کسی کو نقصان نہیں پہنچایا، وہ جرات مند تھا مگر بدمعاش نہیں۔


6. طالب علم اور کلاس فیلو

کسی نے طالب علم کو چھیڑا، تو اس نے جرات سے مقابلہ کیا، لیکن بدتمیزی سے گریز کیا اور صرف اپنے حق کا دفاع کیا۔


7. والد اور بیٹا

والد نے بیٹے کو سمجھایا،
"بیٹے! جرات دکھاؤ، مگر اپنے اخلاق کبھی خراب نہ کرو۔ جرات اور بدمعاشی میں فرق ہوتا ہے۔"


8. کاروباری اور گاہک

کاروباری نے گاہک کی شکایت جرات سے سنی اور مسئلہ حل کیا، مگر نہ گالم گلوچ کی، نہ دھمکی دی۔


9. حکمران اور رعایا

حکمران نے اپنی رعایا کی بھلائی کے لیے فیصلے جرات سے کیے، مگر ظلم و زیادتی سے ہمیشہ پرہیز کیا۔


10. نوجوان اور سوشل میڈیا

نوجوان نے سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے خلاف جرات دکھائی، لیکن کبھی دوسروں کا مذاق نہیں اڑایا اور نہ ہی گالی دی۔


خلاصہ:

جرات مند وہ ہوتا ہے جو حق پر ڈٹا رہے، خوف نہ کرے، لیکن دوسروں کی عزت اور اخلاق کا خیال رکھے۔
بدمعاشی وہ ہے جو طاقت یا جرات کو غلط استعمال کرے اور دوسروں کو تکلیف دے۔

منگل، 25 مارچ، 2025

کرپٹ پولیس اہلکاروں اور ناجائز اختیارات کے خلاف عوام کیا کر سکتی ہے؟

دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم، ناانصافی اور کرپشن پنپتی ہے، وہاں عام انسان سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ خاص طور پر غریب اور کمزور طبقہ ان کرپٹ عناصر کے ظلم کا شکار ہوتا ہے جو طاقت، اختیار اور وردی کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں، لیکن جب ان ہی اداروں میں کچھ لوگ بدعنوانی اور ظلم کی راہ پر چل پڑتے ہیں تو عام شہری بے بسی اور خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

یہ مسئلہ صرف کسی ایک ملک کا نہیں، بلکہ پوری دنیا میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں تو یہ ایک عام مسئلہ بن چکا ہے کہ کچھ کرپٹ پولیس اہلکار ناجائز تعمیرات، قبضہ، رشوت اور ظلم و جبر کا سہارا لے کر کمزور لوگوں کے حقوق پامال کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے کرپٹ اہلکاروں کے خلاف ایک عام شہری کیا کر سکتا ہے؟ کیا ظلم کو خاموشی سے برداشت کر لینا ہی واحد راستہ ہے، یا پھر اس کے خلاف کوئی عملی قدم بھی اٹھایا جا سکتا ہے؟


1. ظلم کے خلاف کھڑے ہونا: حکمت اور احتیاط ضروری ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بارہا ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی تلقین کی ہے۔ لیکن اسلام ہمیں حکمت اور تدبر کا درس بھی دیتا ہے۔ اگر کسی کرپٹ پولیس افسر نے ناجائز طریقے سے کسی غریب کے علاقے میں زمین یا گلی پر قبضہ کر لیا ہو، تو سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس معاملے کو پرامن اور قانونی طریقے سے کیسے حل کیا جا سکتا ہے۔

(الف) اجتماعی طاقت استعمال کریں

  • اگر ایک شخص کسی کرپٹ افسر کے خلاف بولے تو وہ مشکل میں پڑ سکتا ہے، لیکن اگر پورا محلہ یا برادری مل کر آواز بلند کرے، تو کرپٹ اہلکار پر دباؤ بڑھے گا۔

  • علاقے کے معزز افراد، علماء، صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو ساتھ ملائیں تاکہ معاملہ نمایاں ہو۔

  • محلے کے لوگ مل کر اعلیٰ حکام کو درخواست دیں اور انصاف کا مطالبہ کریں۔

(ب) قانونی راستہ اپنائیں

  • اگر کرپٹ پولیس افسر کسی جگہ پر ناجائز تعمیر کر رہا ہے، تو متعلقہ اداروں جیسے کہ میونسپل کارپوریشن، کمشنر آفس یا اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ میں شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔

  • اگر کوئی فرد براہ راست کارروائی سے ڈرتا ہے، تو گمنام شکایت بھی کی جا سکتی ہے۔

  • سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے مظالم کو بے نقاب کرنا بھی ایک مؤثر طریقہ بن چکا ہے۔


2. براہ راست تصادم سے گریز کریں

کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کرپٹ افسر کے خلاف آواز اٹھائے تو وہ اسے نشانہ بنانا شروع کر دیتا ہے۔ دھمکیاں، جھوٹے مقدمات، اور حتیٰ کہ جسمانی نقصان بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ ضروری ہے کہ صبر اور حکمت کے ساتھ معاملے کو آگے بڑھایا جائے، نہ کہ جذبات میں آ کر خود ہی کچھ ایسا کیا جائے جو مزید نقصان کا سبب بنے۔

(الف) دشمنی مول نہ لیں، مگر حق کے لیے خاموش بھی نہ رہیں

  • اگر براہ راست سامنا خطرناک ہو، تو دوسرے ذرائع استعمال کریں، جیسے کہ قانونی اداروں میں شکایت کرنا۔

  • علاقے کے بڑے افراد یا تنظیموں کو معاملے میں شامل کر کے اجتماعی دباؤ پیدا کریں۔

(ب) انتقامی کارروائی سے بچیں

  • اگر کوئی شخص یہ سوچے کہ خود ہی کرپٹ افسر کی ناجائز تعمیرات کو گرا دے یا نقصان پہنچائے، تو یہ قانون ہاتھ میں لینے کے مترادف ہوگا اور اس کا فائدہ الٹا ظالم کو ہی ہوگا۔

  • اگر کچھ غلط طریقوں سے بدلہ لیا جائے، تو ظالم مزید طاقتور ہو سکتا ہے اور قانونی کارروائی بھی الٹا کمزور فریق کے خلاف ہو سکتی ہے۔


3. صبر، دعا اور آخرت پر یقین

اگر تمام قانونی، اجتماعی اور عملی طریقے ناکام ہو جائیں اور ظالم وقتی طور پر طاقتور نظر آئے، تب بھی مایوسی اور بے بسی کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو کبھی معاف نہیں کرتا، چاہے وہ دنیا میں کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں۔

  • قرآن میں اللہ فرماتا ہے:
    "اور ظالموں کا انجام برا ہوگا۔" (سورۃ القصص: 37)

  • نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
    "ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہوگا۔" (صحیح مسلم)

اگر دنیا میں انصاف نہ بھی ملا، تو اللہ کی عدالت میں کوئی بچ نہیں سکے گا۔ ظالم جتنا چاہے طاقتور ہو، اس کا انجام بربادی ہے۔


نتیجہ: ظلم کے خلاف حکمت، قانون اور دعا کے ذریعے لڑیں

کسی کرپٹ پولیس اہلکار یا بااثر ظالم کے خلاف کھڑے ہونا آسان نہیں، مگر یہ بھی ضروری ہے کہ ظلم کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اس کے خلاف حکمت کے ساتھ آواز اٹھائی جائے، قانونی ذرائع استعمال کیے جائیں، اجتماعی دباؤ بنایا جائے، اور اگر وقتی طور پر کچھ نہ ہو سکے، تو اللہ پر بھروسہ رکھ کر صبر اور دعا کا راستہ اختیار کیا جائے۔

ظالم کو لگتا ہے کہ اس کی طاقت ہمیشہ رہے گی، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ظلم ہمیشہ ختم ہوتا ہے اور حق کو کامیابی ملتی ہے۔

امن کیسے قائم ہوگا؟

 یہ بات بالکل درست ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اور اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا جو ہمیں دوبارہ سیدھے راستے پر لے کر جائے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بے بس ہو گئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے جو نظام، اصول اور طرزِ حکمرانی ہمیں دیا، وہ قیامت تک کے لیے کافی ہے۔

پھر یہ کام کیسے ہوگا؟

یہ کام ہمیں خود کرنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں انصاف ہو، ظلم کا خاتمہ ہو، اور ظالموں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے، تو ہمیں وہی طریقے اپنانے ہوں گے جو نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین نے اپنائے۔

1. صالح قیادت پیدا کرنا

جب تک قیادت منافقوں، بزدلوں، اور ظالموں کے ہاتھ میں رہے گی، تب تک امت ذلیل و خوار رہے گی۔ ہمیں ایسی قیادت پیدا کرنی ہوگی جو حضرت محمد ﷺ اور حضرت عمر فاروقؓ جیسے حکمرانوں کی سیرت پر چلے۔ ایسی قیادت تب ہی پیدا ہوگی جب ہم خود بھی اپنے اندر تقویٰ، بہادری، اور عدل پیدا کریں گے۔

2. ظلم کے خلاف عملی اقدام

  • اگر ظالموں کے خلاف لڑنا پڑے تو لڑا جائے۔

  • اگر ان کے خلاف آواز بلند کرنی ہو تو کی جائے۔

  • اگر ان کے خلاف اتحاد بنانا ہو تو بنایا جائے۔

یہ کام کوئی "اوپر سے" نہیں کرے گا، بلکہ یہ عوام کو خود کرنا ہوگا۔

3. اسلامی نظامِ عدل کا نفاذ

آج دنیا میں انصاف کا وہی نظام رائج ہے جو ظالموں کو تحفظ دیتا ہے۔ اگر انصاف چاہیے تو ہمیں شریعت کے مطابق عدالتی نظام قائم کرنا ہوگا۔ جب نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں اسلامی ریاست قائم کی تھی، تو سب سے پہلے عدل و انصاف کو مضبوط کیا تھا۔ ہمیں بھی یہی کرنا ہوگا۔

4. امت کو متحد کرنا

  • آج امتِ مسلمہ فرقوں میں بٹ چکی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دشمن ہم پر آسانی سے حکومت کر رہے ہیں۔

  • اگر ہم اپنے فقہی، مسلکی، اور لسانی اختلافات کو پیچھے چھوڑ کر صرف ایک کلمے پر متحد ہو جائیں، تو ہم پھر سے طاقتور بن سکتے ہیں۔

  • ہمیں ایک دوسرے کو کافر اور مشرک کہنے کے بجائے اصل دشمنوں کے خلاف ایک ہونا ہوگا۔

5. جہاد اور مزاحمت

یہ دنیا طاقت کی زبان سمجھتی ہے۔ اگر ہم صرف مظلومیت کا رونا روتے رہیں گے تو کوئی ہماری مدد نہیں کرے گا۔ جب تک ہم ظلم کے خلاف جہاد نہیں کریں گے، تب تک کوئی بھی ہمیں انصاف نہیں دے گا۔ یہ جہاد ہر سطح پر ہو سکتا ہے:

  • قلم کا جہاد: سچ لکھ کر، ظلم بے نقاب کرکے۔

  • معاشی جہاد: ظالموں کا مالی بائیکاٹ کرکے۔

  • سیاسی جہاد: ظالموں کے نظام کے خلاف کھڑے ہو کر۔

  • میدانی جہاد: جب کوئی اور راستہ نہ بچے تو میدانِ عمل میں اتر کر۔

نتیجہ

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ظالموں کا خاتمہ ہو، اور دنیا میں پھر سے عدل قائم ہو، تو ہمیں خود وہ کردار ادا کرنا ہوگا جو نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ نے کیا تھا۔ اللہ کی مدد ہمیشہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں دعا بھی کرنی ہوگی، محنت بھی کرنی ہوگی، اور اگر ضرورت پڑے تو قربانی بھی دینی ہوگی۔

یہ کام کوئی اور نہیں کرے گا، ہمیں خود کرنا ہوگا!

انصاف کے لیے کس کے پاس جائیں؟

 یہ بہت اہم اور تلخ حقیقت ہے کہ عالمی عدالتیں اور انسانی حقوق کے ادارے صرف طاقتور ممالک کے مفادات کے مطابق کام کرتے ہیں۔ فلسطین، کشمیر، بوسنیا، شام، اور دیگر جگہوں پر مسلمانوں کے قتلِ عام پر وہ خاموش رہتے ہیں کیونکہ وہ ظلم کرنے والے ان کے اپنے اتحادی یا خود وہی ہوتے ہیں۔ اور جو خود کو "مسلمان ممالک" کہتے ہیں، وہ یا تو خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں یا منافقت کے اعلیٰ درجے پر پہنچ چکے ہیں۔

تو پھر جائے کہاں؟

یہ سوال ہر باشعور مسلمان کے دل میں آتا ہے کہ جب پوری دنیا ظالموں کی پشت پناہی کر رہی ہے، جب اپنے ہی حکمران غدار اور منافق نکل رہے ہیں، تو پھر ہم انصاف کے لیے کس کے پاس جائیں؟

1. اللہ پر بھروسہ اور اس کی مدد مانگنا

اللہ تعالیٰ سب سے بڑا انصاف کرنے والا ہے۔ قرآن میں بار بار آیا ہے کہ اللہ ظالموں کو مہلت دیتا ہے، لیکن جب ان کی رسی کھینچتا ہے تو انہیں کہیں پناہ نہیں ملتی۔ ہمیں اللہ سے مدد مانگنی چاہیے، لیکن صرف دعا پر نہیں بیٹھ جانا بلکہ عملی اقدامات بھی اٹھانے چاہئیں۔

2. ظلم کے خلاف خود کھڑے ہونا

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انصاف لینے کے لیے ہمیں خود میدان میں آنا ہوگا۔ تاریخ میں جب بھی مسلمان ظالموں کے خلاف اٹھے ہیں، تو اللہ کی مدد ان کے ساتھ ہوئی ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ:

  • ظالموں کو بے نقاب کریں۔

  • ان کے خلاف ہر ممکن مزاحمت کریں، چاہے وہ قانونی ہو، عوامی ہو، یا سوشل میڈیا پر ہو۔

  • اپنی آنے والی نسلوں کو شعور دیں کہ وہ ظالموں کے خلاف کھڑے ہونے سے نہ ڈریں۔

3. امتِ مسلمہ میں اتحاد پیدا کرنا

آج مسلمانوں کو تقسیم کر دیا گیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ظالم آسانی سے ہم پر حکومت کر رہے ہیں۔ اگر ہم اتحاد قائم کریں، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو، تو ہم اپنی طاقت کو بحال کر سکتے ہیں۔

4. اسلامی قوانین کا عملی نفاذ

ظلم کا مکمل خاتمہ تبھی ممکن ہے جب انصاف کا اسلامی نظام نافذ ہو۔ اگر ہم قرآن و سنت کے مطابق فیصلے کرنا شروع کر دیں، تو کسی کی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ ظلم کرے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں ایسے افراد پیدا کرنے ہوں گے جو حقیقی انصاف پسند ہوں، نہ کہ وہ جو صرف طاقتور کے ساتھ ہوں۔

نتیجہ

یہ دنیا کبھی بھی کمزور کے لیے انصاف فراہم نہیں کرتی۔ اگر انصاف چاہیے تو یا تو ہمیں خود طاقت حاصل کرنی ہوگی، یا پھر اللہ کی مدد مانگ کر اس راہ میں قربانیاں دینی ہوں گی۔ یہ ایک کٹھن راستہ ہے، لیکن اگر ظالموں کے خلاف نہ کھڑے ہوئے تو پھر ہماری آنے والی نسلیں بھی غلام ہی رہیں گی۔

پولیس اور فوج کے ناجائز اختیارات اور ظلم و بربریت

ریاستی ادارے: محافظ یا مظالم کے آلہ کار؟

دنیا بھر میں ریاستی اداروں کا بنیادی فرض عوام کی حفاظت، قانون کی عملداری اور معاشرے میں امن و امان قائم رکھنا ہوتا ہے۔ تاہم، جب یہی ادارے اختیار اور طاقت کے نشے میں بدمست ہو جائیں تو وہ ظلم، جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔

ریاستی طاقت کا غلط استعمال

بعض ممالک میں پولیس، فوج یا خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے وہ مظالم ڈھائے ہیں جو کسی مہذب معاشرے میں ناقابلِ تصور ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

  • جنسی تشدد: کئی رپورٹ شدہ واقعات میں خواتین کو حراست میں لے کر ان کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ ایسے واقعات میں اکثر مجرموں کو سزا نہیں ملتی، کیونکہ نظامِ انصاف کمزور یا جانبدار ہوتا ہے۔

  • قیدیوں پر تشدد: مرد و خواتین قیدیوں کو ریاستی تحویل میں بدترین جسمانی اور ذہنی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں برہنہ کرکے مار پیٹ، بجلی کے جھٹکے، اور جنسی ہراسانی شامل ہے۔

  • جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل: متعدد ممالک میں شہریوں، سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو اغوا کر کے لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد کی لاشیں بعد میں ویران مقامات سے ملتی ہیں۔

کیا ایسے لوگ درندگی کی حد تک نہیں پہنچ جاتے؟

  • درندے اذیت نہیں دیتے – جانور شکار کو فوراً مار دیتے ہیں، لیکن بعض انسان مہینوں تک قید کر کے اذیت دیتے ہیں۔

  • جانور بے گناہ کو نہیں مارتے – درندے صرف اپنے دفاع یا بھوک کے لیے حملہ کرتے ہیں، انسان مگر ذاتی مفاد یا طاقت کی ہوس میں بے گناہوں پر ظلم کرتے ہیں۔

  • جانور اپنی نسل کی حفاظت کرتے ہیں – وہ اپنی ماداؤں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہیں، لیکن کچھ انسان دوسروں کے خاندان اجاڑتے ہیں، عورتوں کی عزت پامال کرتے ہیں۔

حل کیا ہے؟

  1. عوامی شعور و بیداری – ظلم کو بے نقاب کرنا، عوام کو منظم کرنا اور اجتماعی مزاحمت پیدا کرنا ضروری ہے۔

  2. آزاد و مؤثر عدالتی نظام – داخلی اور بین الاقوامی سطح پر انصاف کی فراہمی کے لیے قانونی راستے اختیار کیے جائیں۔

  3. میڈیا کا مؤثر استعمال – مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے روایتی اور سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا جائے۔

  4. بین الاقوامی دباؤ – اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں سے رابطہ کیا جائے تاکہ ان جرائم پر عالمی سطح پر کارروائی ہو۔

  5. اخلاقی و مذہبی اصولوں کی پاسداری – ہر مذہب اور ضمیر ظلم کے خلاف ہے؛ اگر اخلاقی اقدار اور انصاف پر مبنی قوانین نافذ ہوں تو ایسے جرائم کی روک تھام ممکن ہے۔


نتیجہ

جب ریاستی ادارے اپنے فرائض سے ہٹ کر ظلم کا آلہ بن جائیں، تو پوری قوم خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ایسے میں خاموشی جرم بن جاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کریں، انصاف کا مطالبہ کریں، اور ایک ایسا معاشرہ قائم کریں جہاں طاقت قانون کے تابع ہو، نہ کہ قانون طاقت کے تابع۔