پیسہ کمانے کی سب سے صاف اور مضبوط نیت یہ ہے:
“اپنی ضرورت پوری کرنے، اپنے اہل کو محفوظ رکھنے، اور اپنے مشن کو طاقت دینے کے لیے۔”
بس۔
نہ دنیا کی حرص
نہ لوگوں کو خوش کرنا
نہ اُن کے گناہوں کا بوجھ اٹھانا
صرف تین ذمہ داریاں:
1) اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنا — جو شریعت میں فرض ہیں
کھانا
پانی
لباس
گھر
علاج
بجلی
مہنگائی
سفر
علم کا حصول
یہ ضرورت ہے، خواہ روحانیت کتنی بھی بڑھ جائے۔
“Necessities are essential for survival.”
تو اتنا کمانا کہ آپ لوگوں کے سامنے محتاج نہ بنیں۔
2) اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ رکھنا — یہ عبادت ہے
آپ اپنے بچوں، والدین، یا ذمہ دار افراد کے لیے جتنی محنت کرتے ہیں، وہ خالص عبادت ہے۔
حدیث:
ایک درہم جو انسان اپنے گھر والوں پر خرچ کرے وہ سب سے بڑا صدقہ ہے۔
تو یہ ڈر ختم:
“میں اُن پر محنت کیوں کروں جو اللہ کی عبادت نہیں کرتے؟”
کیونکہ آپ اپنے عمل کے ذمہ دار ہیں، اُن کے عمل کے نہیں۔
آپ نیت صحیح رکھیں → آپ کا ہر روپیہ عبادت میں بدل جاتا ہے۔
3) اپنے مشن، دعوت اور علم کو مضبوط کرنا
آپ کے پاس اہم بڑے مشن ہیں:
آپ لوگوں کو ہنر، روزگار، ذہنی طاقت، آخرت، اللہ سے تعلق، سچائی کا تعارف کروانا چاہتے ہیں۔
یہ سب وسائل چاہتے ہیں۔
وسائل پیسے سے آتے ہیں۔
تو آپ کی کمائی کی نیت یہ ہو سکتی ہے:
“اپنی دعوت اور اپنے علم کو زیادہ دور تک پہنچانے کے لیے وسائل حاصل کرنا۔”
یہ دنیا نہیں —
یہ آخرت کا کام ہے۔
آپ کا اصل مقام کیا ہے؟
آپ وہ انسان ہیں جو موت کو سمجھ چکا
دنیا کو جان چکا
لیکن آخرت سے پہلے دنیا کی ذمہ داری بھی پوری کرنا چاہتا ہے۔
یہ سب سے پاکیزہ درجے کی زندگی ہے۔
مختصر جواب (Core Answer)
آپ پیسہ اس لیے کمائیں کہ:
-
اپنی اور اپنے اہل کی ضرورت پوری رہے
-
آپ کسی کے محتاج نہ ہوں
-
آپ کا علم، آپ کی دعوت اور آپ کے دونوں مشن مضبوط رہیں
-
اپنی آخرت کی نیت کے ساتھ، دنیا کی ذمہ داری پوری کریں
یہ نیت سب سے صاف، محفوظ، اور سنت کے مطابق ہے۔
---
(اضافہ برائے خدشہ + وضاحت)
خدشہ:
“اگر میں کما کر اپنے گھر والوں پر خرچ کروں، اور وہ نماز نہ پڑھیں، گانے سنیں، غیبت کریں یا اللہ کی نافرمانی میں پڑے رہیں…
تو کیا میں اُن پر خرچ کر کے اُن کے گناہ میں شریک ہو رہا ہوں؟
کیا یہ اُن کی مدد بن جائے گی گناہ پر؟
تو پھر میں کیوں کماؤں؟”
وضاحت (صاف، مضبوط، شرعی اصول کے ساتھ)
1) آپ اُن کے خرچ کے ذمہ دار ہیں — اُن کے گناہوں کے نہیں
شریعت کا اصول:
“کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔”
(قرآن: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى)
گھر چلانے کا خرچ ان کی نیت نہیں بنتا،
گناہ کرنا ان کی اپنی نیت ہے۔
آپ کا خرچ = عبادت
ان کا گناہ = ان کا ذاتی عمل
آپ دونوں الگ ہیں۔
2) خرچ کرنا “گناہ کی مدد” نہیں بنتا
مدد "گناہ کے لیے" تب ہوتی ہے جب آپ پیسہ اسی مقصد کے لیے دیں۔
مثلاً:
تو جب آپ خرچ گھر کے لیے کرتے ہیں،
اور وہ بعد میں گانا سن لیں، گالی دیں، نماز چھوڑ دیں،
تو یہ آپ کے خرچ کی وجہ سے نہیں ہوتا۔
آپ نے “حرام” کے لیے نہیں دیا —
آپ نے ذمہ داری کی وجہ سے دیا۔
3) خرچ نہ کرنا آپ کی طرف سے گناہ ہے
نبی ﷺ نے فرمایا:
“گناہ کافی ہے انسان کے لیے کہ وہ اپنے زیرِ کفالت لوگوں کو ضائع کرے۔”
یعنی اہلِ خانہ کی بنیادی ضروریات چھوڑ دینا خود ایک گناہ ہے۔
تو آپ اگر یہ سوچ کر روک دیں کہ
“یہ لوگ اللہ کی عبادت نہیں کرتے”
تو آپ خود گناہ میں پڑ جائیں گے۔
اصل پیمانہ:
ان کا عمل → ان کا حساب
آپ کا خرچ → آپ کا ثواب
4) آپ کی دو الگ ذمہ داریاں ہیں
باپ ہو، بیٹا ہو، بھائی ہو، سربراہ ہو:
(1) مالی ذمہ داری
گھر کا خرچ دینا = فرض
اور نیت صحیح ہو تو = عبادت
(2) اخلاقی ذمہ داری
محبت سے سمجھانا، نصیحت کرنا
زبان لڑائی کے بغیر
بغیر زبردستی
اگر وہ نہ مانیں → آپ بری الذمہ
5) یہ خدشہ ایمان کی علامت ہے — کمزوری نہیں
جو کماتا ہے
اور پھر ڈرتا ہے کہ
“میرا پیسہ کہیں گناہ کا حصہ نہ بن جائے”
تو یہ گہرا ایمان ہے،
نفاق نہیں، وسوسہ نہیں، کمزوری نہیں۔
اس کا علاج یہی ہے:
-
نیت صاف
-
خرچ جائز
-
نصیحت موجود
-
ذمہ داری پوری
-
گناہ اُن کا
-
ثواب آپ کا
خلاصہ لائن
“میں اللہ کی خوشنودی اور اپنی ذمہ داری کی وجہ سے کماتا ہوں، نہ کہ کسی کے گناہ کے لیے۔ میرا خرچ عبادت ہے، اور اُن کا عمل اُن کی اپنی ذمہ داری ہے۔”