معاشرہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
معاشرہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 5 نومبر، 2025

دولت کی شکلیں

سوشل میڈیا پر دولت کے حوالے سے ایک اچھی تحریر ملی جو شیئر کررہا ہوں کیونکہ اس حوالے سے انسان کا مائنڈسیٹ دولت کو موازنہ نہیں کرتا۔ زیادہ تر لوگ دولت کو "پیسوں کے نظریے" سے دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔

تحریر ملاحظہ کیجئے:

دولت کی کئی شکلیں ہیں اور اللہ تعالی نے دنیا میں سب کو دولت دی ہے دولت کی ایک شکل مٹیریل اور کرنسی ہے جو لوگوں کے پاس ہوتی ہے دوسری شکل اچھی صحت ہے ....اچھے ماں باپ ہیں ....خونی رشتے ہیں.... جو اپ کے پاس ہیں.... دولت کی دوسری شکل اپ کے پاس ہے..., اچھے سے کبھی اسپتال کا وزٹ کریں تو پتہ چلے گا ... یہ جو اچھی صحت کی دولت اپ کے پاس ہے ....اس کو جینے کے لیے کتنے نوجوان ارزو کرتے ہیں کسی 25 سال کے نوجوان کو معدے کا کینسر ہے وہ منہ سے اپنی خوراک نہیں لے سکتا ...کسی کو پیر کا کوئی مسئلہ ہے وہ چل نہیں سکتا اپ کی طرح کوئی نوجوان جوانی میں گردے کے مسئلے میں ہے پھیپھڑوں کے مسئلے میں کڈنی کے مسئلے میں مبتلا ہو گیا ۔۔۔۔وہ زندگی کو اس طرح سے انجوائے نہیں کر سکتا وہ نارمل کام بھی نہیں کر سکتے اور دوسروں کے محتاج پڑے ہوئے ہیں اور صرف اپ کی جیسی صحت والی زندگی جینا چاہتے ہیں اپنی تمام دولت دے کر بھی کچھ لوگوں کے پاس اپ جیسی صحت نہیں ہے اپ جیسے خونی رشتے نہیں ہیں ان کے ماں باپ بھی نہیں ہیں جو ان کو دعائیں دیتے ہیں جو ان کے کام کو اپریشیٹ کرتے ہیں جو ان سے پوچھتے ہیں کہ بیٹا اج کھانا کھایا ہے یا نہیں اج تھا کہ وہ تو نہیں ہو کچھ لوگوں کے پاس بہن بھائی جیسی دولت نہیں ہے جو ان کا خیال کرتی ہے جو ان کے ساتھ کھیلتی اور انگنت نعمتیں ہیں اللہ تعالی کی جو اب گننا شروع کر دے تو صبح سے شام ہو جائے وہ نعمتیں ختم نہ ہوں وہ دولتیں ختم نہ ہو میرے بھائی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں چھوٹی چھوٹی نعمتوں میں اپنی خوشی تلاش کرے ماں باپ کا سر پہ دست شفقت ہونا ہی کافی ہے کیا گاڑی ضروری تو نہیں ہے ان بنگلوں میں ان پراپرٹی رکھنے والوں کے پاس ان اونچی اونچی گاڑیوں میں بیٹھنے والوں کے پاس ان کے پاس کتنے بڑے بڑے دکھ ہیں یہ کسی کو پتہ نہیں ہے تو اس بات کو حضرت نہ بنائیں خواہش ضرور ہونی چاہیے انسان کے خواب ضرور ہونا چاہیے تاکہ وہ اس پہ محنت کر سکے لیکن اس خواہش کو حسرت اور غم کی صورت نہ بنائے باقی اللہ تعالی اپ کے خواب پورے کرے امین

جمعہ، 31 اکتوبر، 2025

ایک امید کی آہٹ خوفزدہ عزت دار عورتوں کے لیے

یہ پوسٹ سوشل میڈیا سے ملی ہے۔ پہلے اسے پڑھو پھر میرا کمنٹ پڑھو اگر تم بھی معاشرے کے ہوس زدہ مردوں کے ہاتھوں ڈر اور خوف کا شکار بن چکی ہو۔

دن بدن بڑھتے ہوئے اس فعل کو روکنے کے لیے کون کون میرے ساتھ ہے

 — ایک راز دارانہ حوالہ

یہ کہانی مجھے میرے ایک جاننے والے نے دی، جو تفتیشی شعبے/خفیہ ادارے سے منسلک ہے۔ اُس نے کہا کہ یہ ایک خاتون کی اصل رپورٹ تھی — ثبوت کے ساتھ۔ وہی الفاظ میں تمہارے سامنے رکھ رہی ہوں۔ اور اب نادیہ خود کہتی ہے:

---

میرا نام نادیہ ہے۔

میں لاہور کے ایک عام سے محلے میں رہتی ہوں۔ گھر میں کچن، بچوں کی دیکھ بھال، ساری روزمرہ کی چھوٹی بڑی ذمّہ داریاں میری ہی  ہیں۔ میں نے اب تک بہت کچھ سہا ہے—شکایت کم، برداشت زیادہ۔ مگر آج تمہیں وہ دن بتاؤں گی جب میرا ایک عام سا دن میرے لیے ایک پورا بوجھ بن گیا۔

. میں نے بچوں کے ناشتے کے بعد بیٹے کے لیے اسکول کا لنچ تیار کیا، گھر کے برتن دھوئے، اور چیک کیا کہ کھانا پکانے کے لیے گھر میں لانے والے سامان میں سے کس چیز کی کمی ہے دکانوں پر آج کچھ سامان لینا ہے یا ایسے ہی گزارا ہو جائے گا۔ صبح کے یہ چھوٹے چھوٹے کام کسی بھی عام ماں کی طرح میرے لیے معمول تھے۔ میں نے بچوں کو اسکول بھیجا، پھر رکشہ پکڑا اور قریبی مارکیٹ کی طرف نکل گئی۔

بازار میں رش تھا۔ عورتیں، بچے، دکاندار، گاڑیاں—سب کا اپنا اپنا کام۔ میں ایک سبزی کی دکان کے پاس رک گئی اور کمِ قیمت والی سبزیاں لینے لگی۔ اچانک مجھے لگا کسی کی نظر میرے پیچھے جم گئی ہے۔ میں نے سیدھا منہ نہیں موڑا، بس ہاتھ آگے بڑھا کر پلاسٹک بیگ مضبوط کیا۔   —نہ ہی کوئی زور سے کوشش تھی—بس ایک ہاتھ سا گرد ہوتے ہوئے میرے کندھے کے قریب سے چھو کر گیا، پھر ہنسی کی طرح ہوا میں کھو گیا۔ میں نے سوچا شاید بیگ پکڑتے ہوئے کسی کا ہاتھ مس کر گیا ہو😔 ، مگر وہ نظر پھر بھی پیچھے کھڑی تھی—ایک آدمی، جو ہنستے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا اور میرے پاس سے گزرا۔ اس کے چہرے پر وہی اطمینان تھا جو مجھ جیسی عورت کے خوف پر مبنی ہوتا ہے۔

میں نے اندر کھنچ کر سانس لی، مگر دِل کے اندر ایک چِبھن سی رہ گئی۔ یہ بات ایک لمحے کی بھی سہی، مگر تب سے میرا دماغ تھرتھرا رہا تھا۔ میں نے اپنے آپ کو منایا: "چلو، کام کر کے واپس آتی ہوں"۔

اسکول پک اپ اور بڑھتی ہوئی بے آرامی

دوسرا واقعہ شام کو ہوا، جب میں بچے کو اسکول سے لینے گئی۔ بچے کے ساتھ چلنا کوئی کمال کا کام نہیں، مگر شہر کی سڑکیں عموماً ایسی ہوتی ہیں کہ ایک ماں کی نظر اپنے بچے پر ہی ہوتی ہے۔ اسکول کے باہر ایک بندہ بار بار میری طرف عجیب نظروں سے دیکھتا ہوا ا رہا تھا—پہلے  دور، پھر قریب۔ اس نے کسی بھی شکل میں ہاتھ بڑھایا نہیں مگر اس کی نظریں بتا رہی تھیں کہ وہ ایک نقشہ بنا رہا ہے: کون سی گلی سے میں جاؤں گی، کون سی بس میں بیٹھوں گی۔ جب ہم بس کے قریب پہنچے تو اسی آدمی نے بس کے اندر ہاتھ رکھ کر آگے سے مجھے ٹکرایا😔 — اتنا معمولی کہ لوگ نہ سمجھیں، مگر اتنا کافی کہ میرے بازو میں کانپ سی آگئی۔ بچے نے پوچھا، " ماما، کچھ ہوا؟" میں نے ہنستے ہوئے کہا، "نہیں بیٹا، کچھ نہیں"—لیکن اندر کا خوف بڑھتا گیا۔

میں نے سوچا—کیا میں سیکڑوں چیزیں برداشت کرتی رہوں؟ مگر گھر کے حالات، بچوں کی ذمہ داریاں، اور لوگوں کا وہ سوال—"کیا تم نے کچھ کہہ دیا؟"—یہ سب مل کر مجھے چپ  کرا دیتے ہیں۔ پھر بھی، اپنے اندر ایک نگاہ تھی جو کہتی تھی کہ یہ ٹھیک نہیں۔

 ہم سے دو گلیاں چھوڑ کر ہمارے ایک رشتہ دار کا گھر تھا انہوں نے ہمیں اپنے گھر دعوت پر مدو کیا تھا چونکہ گرنزدیک تھا اور ماشاءاللہ سے ایک بائک پر سب بچوں کا اور میرا پورا انا مشکل تھا تو ہسبینڈ الگ ایک بچے کو بٹھا کر چلے گئے اور واپسی پر میں اپنے تین بچوں کے ساتھ پیدل ارہی تھی — رشتہ دار کے گھر سے واپسی اور وہ لمحہ

رات کو میں اپنے رشتہ دار کے گھر سے واپس آ رہی تھی۔ ۔ راستہ سنسان تھا مگر گھر والوں کا خیال تھا کہ رات کے اس وقت جانا خطرناک نہیں کیونکہ ہمارا گھر کوئی ویران جگہ پر نہیں تھا چہل پہل والا علاقہ تھا۔ ، بیگ ہاتھ میں تھا، اور فون بیگ میں بند تھا۔ اسی دوران ایک دو لڑکے ایک موٹر سائیکل پر آئے دیکھنے میں اچھے گھر کے نوجوان لڑکے تھے—پہلے وہ معمولی سی آوازیں نکال رہے تھے، پھر انہوں نے آہستہ آہستہ  پاس سے گزرتے ہوئے میری طرف 😔بدتمیزی کرنے کی کوشش کی۔ اس دفعہ ایک نے ہاتھ بڑھایا—بہت ہلکے سے، مگر جان بوجھ کر—اور میرا جسم سنبھل گیا۔ بچے کا خیال تھا کہ یہ وہی عام شہر کی باتیں ہیں، مگر میرے اندر ایک سیڑھی سی ٹوٹ گئی۔

میں نے اپنی آواز دبا کر چپ ساتھ لی لیکن  انکھیں انسوں سے بھر گئی—بچوں کی وجہ سے، آئندہ سوچ کر، اور ایک عورت کی وہ دیرینہ عادت کہ ’بولنے سے مسائل بڑھیں گے۔‘ میں نے خود سے کہا، "بس، آئندہ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی"—مگر ان الفاظ کی قوت کم تھی، کیونکہ کس کے سامنے، کس طرح؟

میں نے جب گھر پہنچ کر سوچا تو رات بھر وہ منظر آنکھوں سے نہیں گئے ہاتھ لگا کر جانے والوں میں کچھ لوگ ایسے بھی بارش تھے جن کو دیکھ کر انسان ادب سے انکھیں اور سر جھکا لے کچھ بچے تھے کہ جن کو ہم اپنی اولاد کہہ سکیں ہمارے بچوں جتنے بچے میں بہت ٹوٹ چکی تھی لیکن چونکہ ٹوٹنے کے بعد انسان میں سنبھلنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے میں نے بہت سوچا پھر میں نے کوئی فیصلہ کیا۔ میں نے اپنے پاس موجود چھوٹے چھوٹے نوٹس، وقت، جگہ، اور اگر کوئی تھا تو گاڑی کی تفصیل نوٹ کی۔ پھر میں نے ایک جاننے والے کو فون کیا جو واقعی تفتیشی ادارے میں کام کرتا ہے۔ اس نے بڑے صبر سے میری کہانی سنی اور کہا، "یہ چھوٹی چیزیں ہی بعد میں بڑا مسئلہ بن جاتی ہیں۔ ثبوت جمع کرو، ہم دیکھیں گے۔"

میں نے ہمت کی اور پولیس اسٹیشن جا کر رپورٹ درج کروائی—میں نے جتنا بتا سکتی تھی اتنا بتایا۔ مگر میں جانتی تھی کہ شاید فوراََ کوئی کارروائی نہ ہو۔ اسی لیے میں نے اپنے پاس جو بھی ثبوت جمع کرنے شروع کیے کیونکہ یہ کام کوئی ایک دن کا تو تھا نہیں اور جب موبائل کھولتی تو ہر دوسری خبر پر یہی کچھ چل رہا ہوتا تھا—

سی سی ٹی وی فوٹیج — 

کچھ دن بعد وہ جاننے والا جس نے میری بات سنی تھی، مجھے ایک ویڈیو دکھانے آیا۔ وہ ویڈیو بازار کے ایک کیمرے کی تھی—ساتھ میں ایک دکان کے مالک کی گواہی بھی تھی۔ اس ویڈیو میں وہی موٹر سائیکل چلانے والے دو آدمی صاف نظر آئے، جن کی ایک ادائیگی، وہی نظریں، اور وہی حرکتیں تھیں۔ ویڈیو میں واضح تھا کہ انہوں نے کس وقت کہاں سے گزرا، کون سے راستے اختیار کیے، اور کس لمحے ایک نے میری طرف ہاتھ بڑھایا۔

جب میں نے وہ فوٹیج دیکھی تو میرا دل ایک ہی سانس میں بیٹھ گیا—دکھ کے ساتھ ایک عجیب سی طاقت بھی محسوس ہوئی۔ دل نے کہا، "دیکھا؛ تم نے ثابت کر دکھایا"۔ مگر وہی خوف بھی تھا کہ اگر لڑکے پکڑے گئے تو کون سی سزا ملے گی؟ کیا یہ دوبارہ ہوگا؟ مگر میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس کو خاموشی میں نہیں چھوڑوں گی۔

— کچھ نے کہا کہ اگر تم بھی اپنے اپ کو ڈھانپ کر نکلو تو کسی کی جرات نہیں کہ تمہیں ہاتھ لگا سکے کچھ نے کہا کہ تم جتنا بھی اپنے اپ کو کور کر لو کہ جب تک اگلوں کی انکھوں میں حیا اور عزت نہیں ائے گی تب تک کچھ نہیں ہوگا کچھ نے ساتھ دیا، کچھ خاموش رہے

جب میں نے یہ باتیں اپنے محلے والوں کو بتائیں تو مختلف ردعمل ملا۔ کچھ لوگوں نے کہا، "یہ تو نارمل ہوتا جا رہا ہے"، کچھ نے ہمدردی دکھائی اور ساتھ کھڑے ہوئے، اور کچھ نے طنزیہ تبصرے کیے۔ میرے خاندان میں بھی مختلف آوازیں آئیں—کسی نے کہا "شرمندگی نہیں"، کسی نے کہا "اب جتھہ بنانا خطرناک ہے"۔ مگر میں جانتی تھی کہ سب سے بڑا سوال یہی ہے: اگر آپ خود اپنی آنکھ سے غیر اخلاقی حرکت دیکھیں تو کیا کریں گے؟

  — نادیہ کی آواز سے پکار

میں تم سے براہِ راست کہتی ہوں—جو بھی یہ پڑھ رہا ہے: اگر تمہیں کبھی اپنی آنکھوں سے ایسا کچھ نظر آئے تو رک جاؤ۔ ویڈیو بناؤ، موبائل نکالو اور ریکارڈ کرو، اور فوراً پولیس یا قریبی دکان داروں کو بتا کر اس شخص کو پابند کرو۔ بہت سی بار یہی ویڈیو اور فوراً کی گئی گرفتیں بعد میں ثبوت کا کام دیتی ہیں۔ خاموشی اس ظلم کو فروغ دیتی ہے۔

میرے پاس یہ طاقت اس لیے آئی کہ میرے پاس ثبوت تھے—اور ایک جاننے والے کی مدد تھی۔ مگر ہر عورت کے پاس یہ موقع نہیں  ہوتا ہے۔ اسی لیے میں تم سے کہتی ہوں:

جب بھی تم کسی غیر اخلاقی حرکت دیکھو، ریکارڈ کر لو؛

اگر ممکن ہو تو ملحقہ دکان داروں یا مردوں کو آواز دو کہ آ کر دیکھیں؛

فوراً پولیس کو اطلاع دو اور موقع پر موجود لوگوں سے گواہی  لو؛

اگر بچے یا دوسری عورتیں وہاں ہوں تو پہلے اُن کی حفاظت کر لو؛

اور اگر تم خود ایسی چیز کا شکار ہو تو شرمندگی مت کرو—تم خود قصوروار نہیں ہو۔

 — ایک امید کی آہٹ

میں یہ سب اس لیے لکھ رہی ہوں کیونکہ میرے اندر وہ دن پھر ابھر آتا ہے—ہر چھوٹی حرکت، ہر سرگوشی، ہر رات کی تنہائی۔ مگر آج جب میں یہ الفاظ لکھ رہی ہوں تو میں چاہتی ہوں کہ ہماری گلیاں، ہماری مارکیٹیں، ہمارے راستے—سب امن کی طرف جائیں۔ اور تم جو یہ پڑھ رہی ہو، تم بھی ایک چھوٹی سی روشنی بن سکتی ہو: ایک ویڈیو، اور اگر یہ تحریر اس انسان نے پڑھی ہے جو راستوں پہ پھرتے ہوئے چہرے سے شریف لگتا ہے لیکن حرکتیں ایسی کرتا ہے تو ان کو میں بتا دوں کہ ان کے گھر میں جو ان کی بیوی ماں بہن بیٹی ہے وہ سب بھی ویسے ہی دکھتی ہے اس کا جسم بھی ویسا ہی ہے جیسا ایک راہ چلتی دوسرے کی بیوی بہن اور بیٹی کا ہے ایک آواز، ایک گرفت—یہ سب کافی ہیں۔

یہ کہانی مجھے میرے ایک جاننے والے نے ثبوت کے ساتھ دی تھی—اور میں نے اُس کی زبان میں وہی الفاظ آپ کے سامنے رکھ دیے۔ اگر تم نے کبھی کچھ دیکھا تو خاموش مت رہنا؛ ویڈیو بناؤ، مدد کرو، اور ذرا سی ہمت دکھاؤ۔ یہ شہر، ہماری سڑکیں، ہم سب کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔

— نادیہ

اب میرا کمنٹ پڑھو

میں نے تو بسوں میں سفر کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کہ میں تنگ آچکا تھا ان لڑائی جھگڑوں سے اور عورتوں کی خاموشی سے۔ پوری بس میں اکیلا چیخ رہا ہوتا تھا، ڈیفینڈ کررہا ہوتا تھا، اس مردود کے خلاف بولتا تھا جو غلط حرکات کرتا تھا اور میں نوٹس کرتا تھا مگر پوری بس کے مرد حضرات شکل دیکھ رہے ہوتے تھے اور میں، وہ چھوٹا سا ایک بچہ تب کا، سمجھتا تھا شاید کہ میں ہی غلط ہوں۔ جب خواتین ہی چپ سادھ لیں اور ان کے لیے بولنے والے پر بھی کھڑی نہ ہوسکیں اور جس کے لیے آواز اٹھاو وہی بزدلی کی چادر تان لے تو مجھ جیسا اس وقت کا بچہ کس کس سے لڑے گا؟

آج الحمدللہ، جان چھڑاچکا ہوں اس معاشرے کی ان غلاظتوں سے اور ان راستوں سے اور ان بسوں سے مگر میں جانتا ہوں کہ آج میری جوانی کے دور میں، وہ راستے وہ بسیں اور وہ بازار پہلے سے زیادہ عبرتناک ہوچکے ہیں جس کا اندازہ مجھے میڈیا پر خبروں سے ہوتا رہتا ہے۔

میں جانتا ہوں ان لوگوں کو کیسے لگام ڈالی جاسکتی ہے۔ میں چاہوں تو ایسے ایسے جال بچھادوں کہ یہ لوگ اپنی موت آپ مرجائیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ادارے والے ہی اگر کچھ نہ کرنا چاہیں تو پھر کون کیا کرے؟

جب پولیس کا ملازم کسی عورت کا ریپ کرتا ہے

جب ڈاکٹر اپنی نرس کا ریپ کرتا ہے

جب جج کسی کا ریپ کرتا ہے

جب وکیل کسی کا ریپ کرتا ہے

جب آرمی آفیسر کسی کا ریپ کرتا ہے

جب حکمران کسی کا ریپ کرتا ہے

تب کوئی آواز اٹھانے کی جرات کرسکے گا؟

انہیں تو اللہ ہی ذلت کی موت دے گا

تب جاکر ہوش ٹھکانے لگیں گے کہ اللہ کا عذاب کیا چیز ہے۔

عورتیں - بس "ہمت" سے بولنا سیکھِیں، اسلام کے مطابق ہر نامحرم سے "میٹھی آواز" میں بات کرنا بند کردیں۔ کام کی بات کریں ورنہ راستہ صاف کریں ۔ کوئی آگے بڑھے تو پتھر اٹھاکر سر پر ماریں، بے غیرت کو ڈر بہت ہوتا ہے ۔ کیمرے سے ڈرتا ہے - پلاننگ خوب کرتا ہے - پولیس سے ڈرتا ہے - ثبوتوں سے جان جاتی ہے - اپنے اپنے پاس خفیہ کیمرہ ریکارڈر ایپ موبائل میں انسٹال کرو - جب کسی سے ملنے جاو، تنہائی، آفس، باس وغیرہ تب موبائل سائلنٹ موڈ پر اسکرین آف کرکے ریکارڈر آن رکھو - ثبوت خود بنتے چلے جائیں گے۔ بعد میں اس کی ایسی تیسی کروادو۔

اس کے رشتہ داروں کو بتاو، لوگوں کو بتاو، عوام کو بتاو، اداروں کو بتاو مگر خود کو بھی مضبوط بناو - چپ رہو گی تو ماری جاو گی۔

عزت کی موت ذلت کی غلامی سے بہتر ہے۔

بدھ، 11 جون، 2025

ایک گھٹیا انسان کی وجہ سے سب کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا

 اس وقت رات کے 3:44 ہورہے ہیں۔

میرے جہاں مہمان ٹھہرا ہوا ہوں اس علاقے میں رات کے اس سناٹے کے وقت ایک شخص اپنے گھر میں تیز آواز میں گانے سن رہا ہے۔

اس وجہ سے علاقے کے نہ سہی، اس کے گھر کے قریب کے لوگوں کی نیند خراب ہورہی ہوگی مگر اسے کوئی پرواہ نہیں۔

میں حالانکہ کافی دور ہوں مگر مجھے اس کے گانوں کی آواز آرہی ہے۔

مجھے شدید غصہ آرہا ہے۔

اس لیے کہ رات کی تاریکی اور سکون میں، مجھے کام کرنا ہوتا ہے۔

میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایسے انسانوں کی کوئی مدد نہ کی جائے۔

اور اسی سے مجھے یہ احساس جاگا کہ اس علاقے میں تمام لوگ تو ایسا نہیں کررہے؟

پھر ایک غلیظ شیطان کی سزا سب کو کیوں دی جائے؟

یعنی اگر میں لوگوں کی مدد کروں تو میں سب کی مدد کرسکتا ہوں سوائے ان خبیثوں کے جن کے بارے میں علاقے والے خود گواہی دیں یا میں نے دیکھا ہو کہ وہ مرد یا عورت، دوسروں کو پریشان کرتا ہے یا ان کا جینا حرام کرتا ہے۔

اس کی مثال کچھ اس طرح ہے کہ اگر میں روحانی علاج کرتا ہوں اور میرے پاس غریب لوگ آئیں تو میں بنیادی طور پر سب کا علاج کرسکتا ہوں، چاہے فیس لوں یا نہ لوں، وہ ایک الگ معاملہ ہے، مگر اگر میں فی سبیل اللہ علاج بھی کرنا چاہوں تو سب میرے پاس آسکتے ہیں، کھلا دروازہ اور کھلے دل سے کام کرسکتا ہوں مگر۔۔۔

جس کے بارے میں مجھے معلوم ہوگا کہ یہ وہ شخص ہے یا عورت، چاہے میرا اپنا قریبی رشتہ دار یا بھائی بہن ہی کیوں نہ ہو، جو دوسروں کو تکلیف پہنچا رہا ہے یا جس کے بارے میں لوگ مجھے آگاہ کریں اور میں تصدیق کرلوں کہ یہ واقعی ایک خبیث انسان ہے تو ایسے لوگوں کو میں اپنی خدمات دینے پر پابندی عائد کرسکتا ہوں۔

یہ ہوتا ہے طریقہ کافروں منافقوں کو لگام دینے کے لیے جو معاشرے میں فساد پیدا کررہے ہوں۔

جب تک ان جیسوں کو کھانا پینا، عیاشی، سہولتیں دی جائیں گی یہ مزید بگاڑ پیدا کریں گے لہذا ان کی سزا بنتی ہے۔

مگر ان کی وجہ سے میں لوگوں سے نفرت کروں؟

یہ بات سمجھ نہیں آتی۔'

اسی سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ میرے اندر انسانوں کے گھٹیا سلوک کی وجہ سے جو نفرت پیدا ہوگئی تھی وہ سب کی وجہ سے نہیں بلکہ بعض انسانوں کی وجہ سے ہے ورنہ تو مجھے بہت سے اچھے لوگ بھی ملتے ہیں لہذا ان چند خبیثوں کی وجہ سے پورے معاشرے سے نفرت نہیں کی جاسکتی۔

عام لوگ تو اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں، وہ تو خود پریشان ہیں، یہ تو چند گھٹیا شیطانی لوگ ہیں جنہوں نے معاشرے میں فساد مچا رکھا ہے۔

میں سوچتا ہوں کہ اگر میں پولیس میں ہوتا تو کیا کرتا؟

یقینا ایسے سب لوگوں کو گرفتار کرکے جیل میں بند کردیتا۔

پھر معاشرے کے لوگ سدھرنا شروع ہوتے کیونکہ جو ڈرتا ہے وہی اپنی لمٹ میں رہتا ہے۔

اللہ نے بھی ڈر سنانے کے لیے نبیوں کو بھیجا اور بے شک وہ خوشخبری بھی سناتے تھے ایمان والوں کو۔

لہذا معاشرے میں اچھے اور برے انسانوں کے ساتھ الگ الگ رویہ رکھنا جائز ہے۔

مگر ایک کی وجہ سے سب کو الزام دینا درست نہیں اور ناانصافی ہے۔

منگل، 10 جون، 2025

میں مسلمانوں کی اصلاح پر کام کرنا کیوں پسند نہیں کرتا؟

میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ معاشرے کے اکثر انسان گمراہ اور مشرک ہیں۔

یہ اللہ کے منکر یا اس کے احکامات کے منکر ہیں۔ 

بعض وہ ہیں جنہوں نے قرآن کا انکار نہیں کیا مگر عملی طور پر کافر ہیں۔

ان کے اعمال دیکھ کر ایک کافر اور مسلمان میں کوئی فرق نہیں کرسکتا۔

کافر بھی وہی کام کررہا ہوتا ہے جو یہ منافقین کررہے ہوتے ہیں۔

فرق یہ ہے کہ وہ یہ کام کلمہ پڑھ کر نہیں کرتے اور یہ اس طرح کے کام کلمہ پڑھ کر کرتے ہیں۔

اب مثال کے طور پر اس وقت گلی میں اندھیرا ہے، لائٹ گئی ہوئی ہے۔

میں جہاں ٹھہرا ہوا ہوں یہ ایک کچی آبادی ہے۔

چاروں طرف لائٹ جانے کے بعد ایک سکون سا ہوتا ہے مگر ساتھ کچھ گھر چھوڑ کر ایک ذلیل انسان جو خود کو مسلمان کہتا ہے، وہ تیز آواز میں گانے بجارہا ہے۔

اسے کوئی پرواہ نہیں کہ اس کے اس گھٹیا کام کی وجہ سے محلہ والوں کو کتنی تکلیف ہورہی ہے۔

وہ اپنی مستی اور عیاشی میں شیطان کا کتا بنا ہوا ہے۔

اس کا باپ پولیس میں ہے۔

ہے تو ویسے ٹلا۔۔۔یعنی ٹریفک پولیس میں مگر ظاہر ہے اس معاشرے کے حرامزدگی کرنے والے زیادہ تر کسی حکمران، پولیس، آرمی، نام نہاد اعلی عہدے پر فائز باپ کی بگڑی ہوئی اولاد ہوتے ہیں۔

یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔

جو بھی ہے مگر اس نے اپنی آخرت خراب کرنے کا سامان خود اپنے ہاتھوں کرلیا ہے۔

ایسے ظالموں، فاسقوں اور کافروں کے لیے میرے دل میں کوئی رحم نہیں ہوتا۔

وجہ صاف ہے کہ جو معاشرے کے لوگوں کو جان بوجھ کر تکلیف دے، انہیں بے سکون کرے اور ان کو اذیت پہنچائے، ایسے منافق اور  کافر سے میرا کیا لینا دینا؟

یہی وجہ ہے کہ میں مسلمانوں کی اصلاح پر کام کرنا پسند نہیں کرتا کیونکہ ان کی اکثریت منہ سے "اللہ" اللہ کرتی ہے مگر اللہ کے حکم کے خلاف جان بوجھ کر کام کرتی ہے۔

یہ لوگ اپنی اصلاح کرنا ہی نہیں چاہتے۔

اسی گلی میں ایک اور گھر والا، اپنے گھر کے باہر بجری اور مٹی منگواکر اپنے گھر میں کام کرواچکا۔ اب چند ماہ سے اس کے گھر کے باہر مٹی اور بجری پڑی ہے، گلی خراب ہورہی ہے، آنے جانے گزرنے میں تکلیف ہوتی ہے، اس کے گھر کے سامنے گٹر کا پانی بھی بہتا رہتا ہے، اس کو میں بول بھی چکا ہوں مگر وہ سدھرنے کو تیار نہیں۔نہ مٹی ہٹائی، نہ سائڈ پر کی، تو ہوگئی اصلاح؟

یہ لاتوں کے بھوت ہیں، باتوں سے ماننے والے نہیں ہیں۔

اتنی مذہبی جماعتوں کے باوجود، مسلمانوں کی اکثریت قرآن سے بے عمل کیوں ہے؟

کیونکہ یہ بے غیرت لوگ خود قرآن پر عمل نہیں کرنا چاہتے۔

یہ اپنے نفس پر وہ پابندیاں نہیں لگانا چاہتے جو اللہ نے ان پر قوانین نافذ کیے ہیں۔

لہذا ایسے سرکش اور بدکے ہوگئے گدھوں سے بدتر انسانوں کو میں اصلاح کرنا پسند نہیں کرتا۔

میں صرف ان مسلمانوں کو سدھرنے میں مدد کرنا پسند کرتا ہوں جو اپنی حالت خود بدلنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے دن رات کوششیں بھی کررہے ہیں۔ گناہگار ہیں مگر شرمسار ہیں۔توبہ کرتے رہتے ہیں۔نہ کہ وہ جو جان بوجھ کر ہٹ دھرمی سے روزانہ ایک غلاظت بھرا کام معاشرے میں ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں اور خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

ایسے کافروں کے لیے تو ذلت کی مار اور دردناک عذاب تیار کرکے رکھا ہوا ہے اللہ نے۔

اور میں قیامت کے دن ایسے ناہنجاروں کے خلاف مکمل گواہی دوں گا۔

اگر اللہ نے اجازت دی تو ان کی سزاوں میں اضافہ بھی کرواوں گا اور انہیں جہنم میں بھی اپنے ہاتھوں سے پھینکوں گا۔

کیونکہ جو لوگوں پر رحم نہیں کرتے، میں ان پر رحم نہیں کرتا۔اور یہی اللہ کا قانون بھی ہے۔

جب اللہ ایسے ناہنجاروں کو ہدایت نہیں دیتا تو میں کون ہوتا ہوں ایسے بے غیرت لوگوں پر اپنا وقت ضائع کرنے والا؟

اس سے تو کئی گنا بہتر ہے کہ میں غیرمسلموں پر کام کروں، انہیں اسلام میں داخل کروں اور ان کو قرآن اور اسلام سمجھاوں کیونکہ وہ کم از کم اسلام کی قدر تو کرتے ہیں۔شوق سے عمل تو کرتے ہیں۔

مجھے نہیں ضرورت ایسے نام کے مسلمانوں کی جو حسد اور جلن سے بھرپور ہیں، مجھے وہ سولڈ مسلم درکار ہیں جو اسلام کا جھنڈا لہراتے ہوئے پوری دنیا پر اسلام غالب کرنے کو تیار ہیں۔

پھر چاہے جس سے جتنا ہوسکے وہ اپنے حصہ کا کام کرے۔

کم از کم میں، اس معاشرے کے منافقین پر اپنا وقت مزید برباد نہیں کرنا چاہتا۔

پہلے ہی بچپن سے جوانی تک یہ لوگ میرا کافی نقصان کرچکے ہیں۔

یہ اسی قابل ہیں کہ انہیں دردناک سزاوں کے ذریعے گرفتار کیا جائے۔

اور یہ کام اللہ کی آرمی کرے گی اور وہ اپنی آرمی سے کام لینا خوب جانتا ہے۔

اللہ واحد القہار کے ساتھ
ڈاکٹر 
لیجنڈ محمد ذیشان ارشد
چیف آف نیچر آرمی اسٹاف
اکیسویں صدی کا مسلم مین
لیجنڈری فری لانسر آف پاکستان

ہفتہ، 22 مارچ، 2025

غربت ختم کیوں نہیں ہوتی؟

غربت اس لیے ختم نہیں ہوتی کہ وہ لوگ جنہوں نے مکاری اور فریبی سے اللہ کے وسائل پہ قبضہ کیا ہوا ہے وہ یہ نہیں چاہتے کہ دوسرے لوگ بھی ان وسائل کو استعمال کر سکیں۔


یہ لوگ بہت ہی چالاکی اور مکاری کے ساتھ اپنے ادارے بناتے ہیں اور پھر ان اداروں کے اندر ایسے لوگوں کو ہائر کیا جاتا ہے جو ان کے مقاصد کے لیے ان کی سپورٹ کریں اور یہ سب مل کر پھر غریبوں کو مارتے ہیں دبا کے رکھتے ہیں جیلوں میں بند کرتے ہیں حق کی آواز بلند کرنے والے کو ختم کر دیتے ہیں کسی کو بھی اس کے گھر سے اٹھا لیتے ہیں اور معاشرے کے اندر ڈر اور خوف کو قائم رکھتے ہیں۔

ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب تک لوگ ڈرتے رہیں گے سسکتے رہیں گے مرتے رہیں گے بلکتے رہیں گے بنیادی ضرورت سے محروم رہیں گے تب تک لوگ ان کے غلام رہیں گے اور ان کی سرداری چودہراہٹ قائم رہے گی۔

صدیوں سے یہی ہوتا آرہا ہے۔ اپنے مفاد کے لیے دوسرے کو دبا دو یا مار دو۔ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو مارا تھا اپنے مفاد کے لیے۔ لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی اپنے مفاد کے لیے۔ مکے کے کافروں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی سازشیں کی تھیں اپنے مفاد کے لیے۔

اسی طریقے سے امام ابو حنیفہ کو زہر دے کر شہید کیا گیا اپنے مفاد کے لیے۔ امام احمد بن حنبل کو کوڑے مارے گئے اپنے مفاد کے لیے۔ حضرت منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ کو شہید کیا گیا اپنے مفاد کے لیے۔

اور بات صرف یہیں پہ ختم نہیں ہوئی ہے، جن لوگوں نے مذہب سے ہٹ کر سائنس کے نام پر تحقیق کرکے اللہ کی بنائی ہوئی اس کائنات کے اندر سے ایسے اصولوں کو دریافت کیا جس کے ذریعے سے وہ لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتے تھے، ان لوگوں کو بھی چن چن کے مارا گیا اور یہ مارنے والے بھی وہی بغیرت لوگ تھے جو اس معاشرے پر اپنا ہولڈ قائم رکھنا چاہتے تھے۔

اور ان بیغیرتوں کی نسلیں آج بھی کام کر رہی ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو کبھی بھی پسند نہیں کریں گے کہ اگر یہ ایک محلے میں رہتے ہوں اور ان کے پاس طاقت ہو تو کوئی ان کی برابری بھی کر سکے۔

لیکن تم یہ دیکھو گے کہ یہ اپنی طاقت اور وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ناجائز قبضہ کرتے ہیں زمین پر، ناجائز تعمیرات کرتے ہیں، لوگوں کو دبا کے ڈرا کے رکھتے ہیں، ہر قسم کے وسائل جو میسر ہوں گے یہ اس کے اوپر قابو پا لیتے ہیں جبکہ باقی لوگ محروم رہتے ہیں۔

یہ لوگ تمہیں پولیس میں بھی ملیں گے، آرمی میں بھی ملیں گے، حکومت میں بھی ملیں گے، گاؤں دیہات میں بھی ملیں گے، گھروں میں بھی ملیں گے، پڑوسیوں میں بھی ملیں گے، اپنے رشتہ داروں میں بھی ملیں گے۔ الغرض یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مغرور ہوتے ہیں۔ دراصل یہ کافر ہوتے ہیں اور لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور یہ اللہ کے باغی ہوتے ہیں۔ یہ وہ غدار ہیں جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اسلام کے مطابق نہ تو خود زندگی گزاری نہ دوسرے کو گزارنے دیتے ہیں۔

ایمان والوں کو یہ ذلیل ترین بے وقوف قسم کے لوگ سمجھتے ہیں۔ اس لیے کبھی تم غور کرنا کہ جب اللہ نے نبیوں کو بھیجا تو ان پر ایمان لانے والے لوگوں کی جو اکثریت تھی وہ غریب اور کمزور لوگوں کی تھی۔ مالدار اور متکبرین قسم کے لوگوں نے تو انکار ہی کیا تھا بلکہ دشمنی کی اور ان کو گرفتار کر کے ختم کرنے کی کوشش بھی کی۔

یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ جو غریب طبقہ ہوتا ہے وہ تو ویسے ہی حالات کے مارے پسا ہوا ہوتا ہے، دبا ہوا ہوتا ہے، ٹراما کا شکار ہوتا ہے، ڈپریشن میں ہوتا ہے، طرح طرح کے مسائل کا اس کو سامنا ہوتا ہے، اسے تو کوئی بھی مسیحا مل جائے وہ اس کے پیچھے چل پڑتا ہے، کیونکہ اس بیچارے کو تو اپنی پریشانیاں ختم کروانی ہوتی ہیں۔ کبھی دعا کے ذریعے کبھی کسی اور چیز کے ذریعے لیکن یہ جو بغیرتوں کا طبقہ ہوتا ہے ان کے پاس وسائل ہوتے ہیں۔ پیسہ اور دولت سب کچھ ہوتی ہے۔ غرور ان کا اسمانوں پر ہوتا ہے۔ ان کو ایسا لگتا ہے یہ جو چاہیں گے وہ ہو جائے گا۔ جس چیز کی ڈیمانڈ کریں گے وہ پوری ہو جائے گی، اس لیے غریبوں کو اپنے پیر کی جوتی برابر بھی نہیں سمجھتے۔

کبھی بھی کسی مالدار کو پولیس والے کو ارمی افیسر کو جج کو وکیل کو اور دیگر اداروں میں کام کرنے والوں کو غور سے دیکھنا کہ یہ غریبوں کے ساتھ کس طرح سے پیش اتے ہیں؟ کسی یتیم مجبور مسکین کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں؟ اگر تمہیں نظر ائے کہ وہ اخلاق سے پیش ا رہا ہے، نرمی سے پیش ا رہا ہے، ان کے ساتھ اس طرح سے مل رہا ہے جیسے کہ ایک انسان ہے اور اپنی اکڑ میں نہیں ہے تو پھر سمجھ لو کہ اس کے اندر اللہ کا ڈر ہے۔

لیکن اگر معاملہ اس کے الٹ ہے اور وہ انہیں جھڑکتا ہے مارتا ہے ڈانٹتا ہے گالی دیتا ہے ہاتھ نہیں ملاتا دور ہٹتا ہے اور بھی بہت کچھ جو اس کے عمل سے پتہ لگ جائے گا تو پھر سمجھ لو کہ یہ دل سے کافر ہے اور عمل اس کی گواہی دے رہا ہے۔

اس لیے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم غریبوں کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے، مصافحہ بھی کرتے تھے، ان کے مسائل بھی سنتے تھے، ان کی مدد بھی کرتے تھے تو کوئی بھی انسان ان سے زیادہ تو افضل نہیں ہے تو پھر ان جیسے مردودوں کی کیا اوقات ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے؟

تو بہرحال میں نے تمہیں بتا دیا کہ غربت اس لیے ختم نہیں ہوتی کیونکہ جو چودہری وڈیرہ بنا ہوتا ہے، کبھی تم گاؤں میں دیکھ لینا یا فلمیں ڈراموں میں دیکھ لو کہ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کے گاؤں کے لوگ پڑھ لکھ جائیں، ترقی کریں اور آگے نکل جائیں کیونکہ پھر اس چودھری اور اس کے خاندان کا ان لوگوں پر سے ہولڈ ختم ہو جائے گا۔ لوگ پھر ان سے سوال کریں گے۔ پھر وہ لوگ اپنا حق مانگیں گے کیونکہ لوگوں کی اکثریت جاہل ہوتی ہے۔ اسے نہیں پتہ ہوتا دین کے بارے میں۔ اس لیے وہ لوگ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہونے کے باوجود بھی صبر کر کے ذلت کی زندگی گزارتے رہتے ہیں کیونکہ ان کو دو نمبری کا یہ سبق پڑھایا جاتا ہے کہ کوئی کچھ بھی کرتا رہے تم صرف صبر کرو تو نہ وہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں اور نہ ہی وہ حق کے لیے لڑتے ہیں جبکہ قران کے اندر اللہ نے مظلوم کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی اواز بھی بلند کر سکتا ہے اور بدلہ بھی لے سکتا ہے لیکن اتنا جتنا اس پر ظلم کیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام نے جنگیں بھی کی ہیں، ورنہ جنگ کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ گھروں میں بیٹھے رہتے۔ سکون سے رہتے۔ صبر کرتے۔ شہید ہونے کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی؟ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہاتھوں میں تلواریں اٹھائی ہیں تب جا کر دین اسلام آگے پھیلنا شروع ہوا ہے کیونکہ کافروں نے تو صحابہ کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی تھی لیکن جنگوں کی وجہ سے کافروں کا زور اللہ نے توڑ دیا اور انہیں ذلیل و رسوا کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں۔

اور آخری بات کر کے ختم کرتا ہوں کہ جب تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے چند صحابہ کرام مکے میں چھپ کر تبلیغ کرتے تھے تو اس وقت ڈر خوف حکمت یا جو کچھ بھی تھا وہ موجود تھا۔ خاموشی سے کام ہو رہا تھا لیکن جب حضرت عمر فاروق نے اسلام قبول کیا تھا تو اپنی طاقت کا اظہار کیا تھا۔ کافروں کے سامنے کھڑے ہو کر للکارا تھا اور سب کو لے کر گئے تھے۔ کعبے میں کھڑے ہو کر عبادت کروائی تھی اللہ کی۔ اس کو کہتے ہیں طاقت کا صحیح استعمال۔ تو جب طاقت ہو تو اسلام کو طاقت دینی ہے اپنی طاقت سے اور کافروں کا منہ توڑ کے رکھ دینا ہے اور منافقین کو بھی تاکہ یہ بے غیرت اپنی ذلت اور خواری دیکھیں ایک ایمان والے کے مقابلے پر۔

اگر سارا کام صرف کلمہ پڑھ کر گھر میں بیٹھ کر عبادت کرنے سے ہو جاتا تو حضرت عمر فاروق کو باہر نکلنا نہ پڑتا اور تلوار ہاتھ میں نہ اٹھانی پڑتی۔ بات صاف ہے کہ فتح مکہ کے ٹائم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی پوری فوج لے کر آئے تھے۔ وہ الگ بات ہے کہ معاف کر دیا لیکن اس سے پہلے کی پوری ہسٹری موجود ہے کہ تلواریں، جنگیں اور شہادتیں موجود ہیں۔ بغیر قربانی تو وہاں پر بھی اسلام نہیں پہنچا تھا تو اج کل کے پدی اور پدی کے شوربے جو مذہبی جماعتیں چلا کر کہتے ہیں کہ ان کا سیاست سے کوئی واسطہ نہیں اور نرمی سے اسلام پھیلائیں گے اور اسلام تلواروں سے نہیں پھیلا، اس طرح کی باتیں جب یہ لوگوں کے دلوں میں ڈالیں گے تو بزدلی کی چادریں تان کر ہی لوگ سوتے رہیں گے اور انتظار کریں گے کسی مسیح کا جو اسمانوں سے نازل ہوگا کہ ان کے سارے مسائل حل کر دے لیکن خود انہوں نے کچھ نہیں کرنا۔

تو بس یہی ہو رہا ہے۔ غریب غربت میں پٹ رہا ہے اور امیر اپنی امیری کے اندر اضافہ کر رہا ہے اور وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کی دولت غریبوں کے ہاتھ میں چلی جائے ماسوا یہ کہ اس کی اپنی کوئی چال ہو جیسے ڈونیشن کے نام پہ یا غریبوں کو کھانا کھلانے کے نام پہ ڈرامے بازی کی جاتی ہے تاکہ مزید پیسہ ڈونرز سے حاصل کیا جائے۔