تاریخ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تاریخ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 1 دسمبر، 2025

انٹرنیٹ ڈاون لوڈ کرنے والا لڑکا اپنی جان سے گیا - آخر کیوں اور کیسے؟

 وہ لڑکا جس نے انٹرنیٹ ڈاؤن لوڈ کیا… اور اپنی جان سے قیمت چکائی

سرد جنوری کی 6 تاریخ 2011 کو MIT کے باہر ایک ٹھنڈی فٹ پاتھ پر کیمپس پولیس ایک خاموش 24 سالہ نوجوان کو زمین پر گرا دیتی ہے۔ اس کے بیگ میں ایک ہارڈ ڈرائیو ہے اور اس ہارڈ ڈرائیو میں 48 لاکھ تحقیقی مقالے موجود ہیں۔ ایک ہفتے بعد وفاقی پراسیکیوٹرز اس پر 13 فوجداری مقدمات درج کرتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ سزا 35 سال قید۔ صرف تحقیق کے مقالے ڈاؤن لوڈ کرنے کے جرم میں۔ پھر حکومت کو احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے جس شخص کو گرفتار کیا ہے وہ کوئی عام نوجوان نہیں۔ یہ جدید انٹرنیٹ کے معماروں میں سے ایک ہے۔ اس کا نام ہے ایرون سوارتز۔ اور یہ کہانی ہے کہ کیسے علم کو آزاد کرنے کا خواب رکھنے والا نابغہ نظام کے ہاتھوں کچلا گیا۔

ایرون صرف 14 سال کی عمر میں اپنا پہلا بڑا کوڈ لکھتا ہے۔ سال تھا 2000۔ پروجیکٹ تھا RSS 1.0۔ وہ ٹیکنالوجی جو بعد میں دنیا کی تقریباً ہر نیوز فیڈ کی بنیاد بنی۔ جب دوسرے نوعمر بچے الجبرا سیکھ رہے تھے، ایرون یہ طے کر رہا تھا کہ انٹرنیٹ پر معلومات کیسے بہے گی۔ 19 سال کی عمر میں وہ کروڑ پتی بن جاتا ہے۔ اس کا اسٹارٹ اپ Reddit میں ضم ہو جاتا ہے۔ اسے چاہیے تھا کہ وہ کمپنیوں کا آغاز کرے اور سلکان ویلی سے چیک وصول کرے، مگر وہ سب چھوڑ دیتا ہے۔ دفتر کی سیاست اسے گھُٹنے لگتی ہے۔ کارپوریٹ زندگی اس مشن سے ٹکرا جاتی ہے جو اس کے دل میں جل رہا تھا—معلومات آزاد ہونی چاہیے۔

2008 میں، صرف 21 سال کی عمر میں، ایرون الینوائے کی ایک عوامی لائبریری میں PACER نامی وفاقی ویب سائٹ کھولتا ہے۔ اس میں عوام کی ملکیت عدالتی ریکارڈز موجود تھے مگر حکومت ہر صفحہ پڑھنے کے لیے 8 سینٹ لیتی تھی جو ہر سال عوام سے 12 کروڑ ڈالر سے زائد جمع کرتی تھی۔ ایرون ایک سادہ سا اسکرپٹ لکھتا ہے اور 6 ہفتوں میں 1 کروڑ 90 لاکھ صفحات ڈاؤن لوڈ کر لیتا ہے۔ FBI نوٹس لیتی ہے، تحقیقات ہوتی ہیں، پھر انہیں معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی ڈاؤن لوڈ ہوا وہ پہلے ہی لائبریری ٹرمینلز پر مفت دستیاب تھا۔ نہ ہیکنگ، نہ پاس ورڈ چوری، نہ کوئی جرم۔ کیس بند ہو جاتا ہے۔ مگر یہ لمحہ ایرون کو بدل دیتا ہے۔

اسی سال جولائی میں ایرون “The Guerilla Open Access Manifesto” جاری کرتا ہے۔ اس میں صاف لکھا تھا: جب علم پی وال کے پیچھے بند کر دیا جائے، تو کسی کو تالا توڑنا پڑتا ہے۔ 2010 تک طلبہ، لائبریرین اور ڈیجیٹل کارکن اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور پھر ایرون ایک بڑے ہدف کی طرف بڑھتا ہے—JSTOR۔ ایک نان پرافٹ ادارہ جس میں لاکھوں تحقیقی مقالے مہنگی فیسوں کے پیچھے بند تھے۔ یونیورسٹیاں بھاری رقم ادا کرتی تھیں، طلبہ ہر مقالے پر پیسے دیتے تھے، عوام دو بار قیمت چکتی تھی—ایک بار تحقیق کے لیے ٹیکس دے کر، دوسری بار اسے پڑھنے کے لیے۔ ایرون فیصلہ کرتا ہے کہ اب یہ خزانہ کھولا جائے۔

ستمبر 2010 میں ایرون MIT کے اوپن نیٹ ورک سے جڑ جاتا ہے۔ کوئی پاس ورڈ درکار نہیں۔ اسے ہارورڈ کے ذریعے بھی قانونی رسائی تھی۔ وہ ایک پائتھن اسکرپٹ لکھتا ہے جو ہر منٹ میں سیکڑوں مقالے ڈاؤن لوڈ کرتی ہے۔ JSTOR ٹریفک دیکھ کر اس کا IP بلاک کرتا ہے، وہ نیٹ ورک بدل لیتا ہے، پھر بلاک، پھر بدلتا ہے۔ آخر کار ایرون جسمانی قدم اٹھاتا ہے۔ وہ MIT کی عمارت 16 میں ایک کھلا ہوا وائرنگ کلوست پاتا ہے اور اس میں ایک چھوٹا لیپ ٹاپ اور ایکسٹرنل ڈرائیو چھپا دیتا ہے۔ نہ اسکرین، نہ کی بورڈ، بس اندھیرے میں چلتا ہوا کوڈ۔ چند ہفتوں میں لاکھوں مقالے کاپی ہو جاتے ہیں اور کرسمس تک 48 لاکھ فائلیں محفوظ ہو چکی ہوتی ہیں۔ تین سو سال کا علم ایک چھپی ہوئی مشین میں قید تھا۔

4 جنوری 2011 کو MIT وہ ڈیوائس تلاش کر لیتا ہے۔ اسے ہٹانے کے بجائے وہ ایک خفیہ کیمرہ لگا دیتے ہیں۔ 6 جنوری کو صبح 8:42 پر کیمرہ ایک شخص کو سفید ہیلمٹ پہنے اندر داخل ہوتے دیکھتا ہے۔ وہ ہارڈ ڈرائیو بدلتا ہے—صرف 73 سیکنڈ۔ جیسے ہی ایرون عمارت سے نکلتا ہے، پولیس اسے گھیر لیتی ہے، ہاتھ اوپر، ہتھکڑیاں۔ ایک سیکرٹ سروس ایجنٹ اسے اس کے حقوق پڑھتا ہے۔ وہ کسی مجرم ماسٹر مائنڈ کی طرح نہیں لگتا بلکہ ایک خوفزدہ دکان چور کی طرح۔ وہ 10 ہزار ڈالر ضمانت پر رہا ہوتا ہے۔ جلد ہی JSTOR اعلان کرتا ہے کہ وہ کیس نہیں کریں گے—انہیں سب واپس مل گیا تھا، نہ نقصان ہوا، نہ لیک۔ سب ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر وفاقی حکومت مداخلت کرتی ہے۔

پراسیکیوٹرز 1986 کے Computer Fraud and Abuse Act کا سہارا لیتے ہیں—ایک مبہم قانون جو جدید انٹرنیٹ سے پہلے لکھا گیا تھا۔ وہ ایک ٹرمز آف سروس کی خلاف ورزی کو وفاقی جرم بنا دیتے ہیں۔ جولائی 2011 میں ایرون پر 4 فیلونی چارجز لگتے ہیں، پھر بڑھا کر 13 کر دیے جاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ سزا 35 سے 50 سال قید۔ اُن مقالوں کے لیے جنہیں اس نے نہ بیچا، نہ عام کیا۔ ٹیک دنیا غصے میں پھٹ پڑتی ہے۔ موجد، پروفیسرز، پروگرامرز سب اسے طاقت کا غلط استعمال کہتے ہیں، مگر حکومت پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیتی ہے۔ انہیں ایک ڈیل کی پیشکش کی جاتی ہے—ایک جرم مان لو، چھ ماہ جیل کاٹو، اور باقی زندگی ایک مجرم کے طور پر گزارو۔ ایرون انکار کر دیتا ہے۔ وجہ جیل نہیں تھی، بلکہ یہ یقین کہ اگر یہ عمل جرم بن گیا، تو انٹرنیٹ کا ہر کام جرم بن سکتا ہے۔

الزام کے دوران ایرون ایک اور جنگ شروع کرتا ہے—اس بار کانگریس کے خلاف۔ 2011 کے آخر میں SOPA اور PIPA نامی بل سامنے آتے ہیں جو بغیر مقدمے کے ویب سائٹس بلاک کرنے کا اختیار دیتے تھے۔ ایرون ان کے خلاف مزاحمت منظم کرتا ہے۔ 18 جنوری 2012 کو انٹرنیٹ سیاہ ہو جاتا ہے۔ وکی پیڈیا بند، گوگل کا لوگو سیاہ، ریڈٹ غائب۔ ایک لاکھ پندرہ ہزار سے زائد ویب سائٹس شامل ہوتی ہیں۔ کانگریس پر کالوں کی بارش ہو جاتی ہے، فون سسٹم بیٹھ جاتے ہیں، 24 گھنٹوں میں بل گر جاتے ہیں۔ ایرون جیت جاتا ہے۔ لیکن اس کا مقدمہ ختم نہیں ہوتا۔

2012 کے آخر میں اس کے مقدمے کی تاریخ اپریل 2013 طے ہوتی ہے۔ دباؤ ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے—قانونی اخراجات، میڈیا کا شور، مسلسل نگرانی۔ پراسیکیوٹرز ایک فیلونی سزا پر اڑے رہتے ہیں۔ ایرون ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ دوست اسے ڈیل ماننے کی درخواست کرتے ہیں مگر وہ علم کو آزاد کرنے کی کوشش کو جرم نہیں مان سکتا تھا۔ 11 جنوری 2013 کو بروکلین کے اپنے اپارٹمنٹ میں وہ اپنی جان لے لیتا ہے۔ وہ صرف 26 سال کا تھا۔ دنیا بھر میں غم پھیل جاتا ہے، شمع بردار اجتماعات ہوتے ہیں، MIT کے طلبہ احتجاج کرتے ہیں۔ اس کے والد کہتے ہیں: “میرا بیٹا حکومت نے قتل کیا ہے۔”

الزامات بعد میں ختم ہو جاتے ہیں مگر وہ قانون جو اسے تباہ کر گیا آج بھی موجود ہے، استعمال ہو رہا ہے، اور زندگیاں برباد کر رہا ہے۔ ایرون سوارتز نے کبھی اپنے کام سے پیسہ نہیں بنایا۔ اس نے کبھی کوئی فائل فروخت نہیں کی۔ اس نے کبھی علم بیچنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کا صرف ایک عقیدہ تھا: جس علم کی قیمت عوام ادا کرے، وہ علم عوام کی ملکیت ہونا چاہیے۔ اس نے اپنی جان اسی عقیدے پر قربان کر دی۔ اور دنیا خاموشی سے آگے بڑھ گئی۔ آخر میں اس نے ایک تلخ حقیقت ثابت کی: طاقت کو مجرموں سے نہیں ڈر لگتا، طاقت کو ان خیالات سے ڈر لگتا ہے جنہیں قابو میں نہ لایا جا سکے۔ اور کبھی کبھی، آزاد علم کی قیمت خون سے ادا ہوتی ہے۔

انگریزی سے ترجمہ شدہ

ارسلان 🌸

منگل، 14 جنوری، 2025

غوث پاک نے مردہ زندہ کیا

بے شک شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے مردے زندہ کیے ہیں اللہ کے حکم سے۔

اگرچہ میں اس دور میں نہ تھا مگر میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے ولی ہیں اور اللہ نے ان کو جو رتبہ دیا وہ ان کا ہی حق تھا۔

آج بھی کیمروں کے دور میں اللہ مردے زندہ کرچکا ہے۔

لیکن اولیاء اللہ کے گستاخ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ پر اعتراض کرتے ہیں۔

 شیخ عبدالقادر جیلانی پر کیا اعتراض کرتے ہو؟ اگر کسی ہمت ہو تو لیجنڈری فری لانسر آف پاکستان کا مقابلہ کرکے دیکھ لے مردے زندہ کرنے پر، لگ پتہ جائے گا کہ مردے زندہ کرنا کس قدر مشکل ترین کام ہے۔ کوئی کافر یا منافق، مردہ مچھر تک زندہ نہیں کرسکے گا، مردہ انسان زندہ کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔

جمعرات، 12 ستمبر، 2024

حضرت امام حسین نے گرفتاری کیوں نہیں دی تھی؟

 حضرت امام حسین نے گرفتاری کیوں نہیں دی تھی اور مخالفین سے جنگ کیوں کی تھی جب کہ وہ نہتے تھے اور صرف اپنی فیملی کے ساتھ تھے؟ اگر وہ چاہتے تو گرفتاری دیکر اپنی اور اپنی فیملی کی جان بھی بچاسکتے تھے تو جان بوجھ کر شہادت یا قتل میں ملوث ہوئے یا یہ کیا ماجرہ ہے؟ علماء تو سکھاتے ہیں کہ مجبوری میں کلمہ کفر بھی بولنا پڑے تو حالت جنگ میں جائز ہے کفار کے مقابلہ پر ان کی قید میں جانے کے بعد جان بچانے کی خاطر۔ کیا حضرت امام حسین ایسا کچھ نہیں کرسکتے تھے؟

حضرت امام حسین علیہ السلام کا کربلا میں قیام اور یزیدی افواج کے سامنے جنگ کا فیصلہ محض ایک سیاسی یا ذاتی معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ اسلام کی بقاء اور اس کے اصولوں کے تحفظ کے لیے تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت سے انکار اس لیے کیا کیونکہ یزید کی خلافت اسلام کے حقیقی اصولوں کے خلاف تھی۔ یزید کا طرز حکومت اور اس کی زندگی کے طور طریقے اسلامی شریعت کے مطابق نہیں تھے، اور اگر امام حسین علیہ السلام اس کی بیعت کر لیتے تو یہ اسلام کی اصل تعلیمات کے ساتھ خیانت ہوتی۔

1. **حق و باطل کی جنگ**: امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کے ذریعے حق و باطل کی جنگ کو دنیا کے سامنے واضح کیا۔ اگر وہ یزید کی بیعت کر لیتے تو یہ دنیا کے سامنے یہ پیغام جاتا کہ یزید کا طرزِ حکومت اسلام کے مطابق ہے، جس سے دین کی اصل روح ختم ہو جاتی۔

2. **بیعت اور ظالم کا ساتھ**: امام حسین علیہ السلام جانتے تھے کہ یزید کی بیعت کرنا اس کی ظالم حکومت کو جائز قرار دینا ہے، جس سے اسلام کے اصولوں کی پامالی ہوتی۔ امام حسین علیہ السلام نے ظالم کے آگے جھکنے کے بجائے حق کی حفاظت کو ترجیح دی۔

3. **شہادت اور قربانی کا تصور**: اسلام میں شہادت کا ایک اعلیٰ مقام ہے، اور امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے خاندان کی جانوں کو قربان کر کے اسلام کے اصولوں کی حفاظت کی۔ ان کا یہ عمل ایک مثال بن گیا کہ حق کی راہ میں جان دینے سے بڑی کوئی قربانی نہیں۔

4. **گرفتاری اور ظالم کے آگے جھکنا**: اگر امام حسین علیہ السلام گرفتاری دے دیتے اور یزید کی بیعت کر لیتے تو یہ ظالم کے سامنے جھکنے کے مترادف ہوتا۔ اسلام میں اصولوں کی حفاظت کے لیے جان دینا بہتر سمجھا جاتا ہے، جیسا کہ امام حسین علیہ السلام نے کیا۔

5. **مجبوری میں کلمہ کفر کی اجازت**: علماء نے جو اجازت دی ہے وہ عام حالات کے لیے ہے جہاں ایک مسلمان اپنی جان بچانے کے لیے وقتی طور پر کلمہ کفر بول سکتا ہے، لیکن امام حسین علیہ السلام کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ یہاں بات صرف ان کی ذاتی جان کی نہیں بلکہ اسلام کی بقاء کی تھی۔

نتیجتاً، امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے خاندان کی جانیں قربان کر کے اسلام کے حقیقی اصولوں کی حفاظت کی اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ حق کے لیے ہر قیمت پر کھڑا ہونا چاہیے، چاہے اس کے لیے اپنی جان بھی کیوں نہ دینی پڑے۔ ان کا یہ عمل آج بھی مسلمانوں کے لیے حق کی راہ پر چلنے کی ایک مثال اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔

از چیٹ جی پی ٹی