آج میرے ایک جاننے والے بہت قریبی رشتہ دار کی موت ہوگئی۔
مجھے بتایا گیا کہ وہ شوگر کا مریض تھا اور شوگر کی وجہ سے اس کا بلڈ پریشر بڑھ گیا یا جو بھی تھا، اس کے جسم میں سانس یا پھیپھڑوں وغیرہ میں مسئلہ پیدا ہوا اور راستے ہی میں اس کی موت ہوگئی۔
کہنے کو تو یہ ایک عام سی بات ہوچکی ہے کہ آئے روز لوگ مرنے لگے ہیں مگر آخر کب تک ایسی بیماریوں سے لڑتے ہوئے مریں گے؟ وہ کوئی عام انسان نہ تھا۔ ایک آئی ٹی پروفیشنل تھا۔میرے ساتھ کام کرچکا تھا۔ ایک کمپنی کا سی ای او رہ چکا تھا جہاں میں اس کو جاکر گائڈ کیا کرتا تھا۔ اس نے بعد میں ریئل اسٹیٹ کاروبار بھی کیا ارو ڈراپ شپنگ بزنس بھی شروع کیا۔ یعنی اچھا خاصا جوان اور تجربہ کار ہونہار لڑکا تھا۔ بہت معلوم ہو تو اس کی عمر تقریبا ۳۰ سے ۴۰ کے درمیان ہوگی۔واللہ اعلم بالصواب۔
میں نے اس کو بتایا بھی تھا کہ شوگر کیسے ٹھیک کرسکتے ہیں مگر شاید اس نے میری بات نہ مانی اور اپنی دنیا میں مست رہا اور اچانک موت کا شکار ہوگیا اسی بیماری کی وجہ سے۔
میں نہیں جانتا کہ پاکستان میں یا دنیا بھر میں کتنے لوگ شوگر کی بیماری کی وجہ سے مرجاتےہیں مگر میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ لاعلاج بیماریوں کو ختم کرنے کی اسکلز سیکھ کر ناجانے کتنے آئی ٹی پروفیشنلز خود کو حفاظت میں رکھ کر کام کرسکتے ہیں کہ جب کوئی خطرناک بیماری ان پر حملہ کرے تو وہ فورا اپنے دفاع کے لیے ایک مارشل آرٹسٹ کی طرح فائٹر بن کر جنگ کریں اور اس بیماری کو جڑ سے ختم کردیں تاکہ نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔
اب میں نے تو لاعلاج مریضوں کو ٹھیک کرنے کی لیجنڈری اسکلز سیکھ رکھی ہیں، روحانی طاقتیں بھی حاصل کرچکا ہوں اور اللہ کے فضل و کرم سے لاعلاج بیماریوں کو جڑ سے ختم کرسکتا ہوں اللہ کی مدد سے مگر لوگ کیا کررہے ہیں؟ اگر اسی طرح انکاری بن کر رہیں گے یا اللہ والوں کا مذاق تماشہ اڑاتے رہیں گے اور میڈیکل سائنس کو اسپریچوئل سائنس پر ترجیح دیتے رہیں گے، جبکہ مقصد صرف علاج معالجہ کرنا ہونا چاہیے، تو یقین کریں، لوگ خود اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتارنے کی کوششیں کرتے رہیں گے جب کہ انہیں معلوم ہے کہ انہیں موت آجائے گی جسم ختم ہونے کے بعد۔
یہ اللہ کا سسٹم ہے کہ موت یا تو فرشتے کے نازل ہونے پر آتی ہے جو اللہ کے حکم سے پہنچتا ہے یا پھر اگر کسی کو جسم کو خراب کردیا جائے، یا اس کا جسم کسی بیماری سے ختم ہوجائے، یا اس پر چھری چاقو تلوار بندوق وغیرہ سے حملہ کرکے زخمی کرکے قتل کردیا جائے، یا ہاتھ پاوں کاٹ کر گردن الگ کردی جائے، ایسی تمام صورتوں میں بھی موت واقع ہوسکتی ہے۔
یہ اس لیے کہ جب جسم روح کو سنبحالنے کے قابل نہیں رہتا تو اللہ کے سسٹم کے تحت روح جسم سے نکل جاتی ہے اور اسے لینے کے لیے موت کا فرشتہ حاضر ہوجاتا ہے۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے گویا موبائل فون کا بٹن خود دباکر موبائل آف کردیا جائے یا پھر کسی وجہ سے اچانک موبائل فون خود بخود بند ہوجائے۔دونوں صورتوں میں گویا موبائل فون کی موت ہوجاتی ہے اور وہ مکمل طور پر آف۔۔۔اب آپ کی زندگی کا بٹن موت کا فرشتہ آکر دبائے یا پھر آپ کے جسم کی خرابی کے تحت آپ کی زندگی آف ہوجائے، یہ فیصلہ آپ خود کرلیں۔
لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد