بچوں کے لیے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بچوں کے لیے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 11 نومبر، 2025

بچوں کی نظر میں ایک پاگل اور جاہل انسان - لیجنڈ آف اللہ واحد القہار

آج کے بچے جو مجھے معمولی سمجھ رہے ہیں اور انہیں ایسا لگتا ہے گویا یہ آئی ٹی پروفیشنل پاگل ہوچکا ہے جو آئی ٹی انڈسٹری چھوڑ کر روحانیت اور عجیب و غریب باتوں میں پڑگیا ہے تو عنقریب وہ جان لیں گے کہ یہی پاگل سمجھا جانے والا انسان انہیں یاد آئے گا جب انہیں اس حقیقت کا سامنا ہوگا کہ ان کا بچپن اس معاشرے کے ظالم، جابر اور جاہل لوگوں کے اسکول کالج یونیورسٹی کے نام پر برباد کرڈالا ہے اور صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے کے لیے انہیں خوار کرکے رکھ دیا ہے۔

ان کی جوانی چھین لی ہے۔ 
ان کا بچپن برباد کردیا ہے۔

اور اس کے ذمہ دار وہ والدین بھی ہوں گے جو اپنے بچوں کو میرے خلاف ورغلاتے ہیں اور انہیں برین واش کرتے ہیں۔

میرے بچوں یاد رکھنا - میں بھی ایک بچہ تھا۔ اسی زمانے میں پیدا ہوکر جوان ہوا ہوں۔

میں وہ سب جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے کیونکہ میں ان راستوں سے گزرچکا ہوں۔

یہ تمہیں برباد کردیں گے۔

صرف دنیا کی چکاچوند میں اندھا کردیں گے۔

تم جہنم میں اوندھے جاکر گرو گے۔

دنیا کمانا برا نہیں مگر تمہارے دل و دماغ کو اسقدر ستیاناس کریں گے کہ تم ڈھونڈتے پھروگے وہ مسیحا جو تمہارے درد کا علاج کرسکے، تمہارے ڈپریشن اسٹریس ایگزائٹی کو ختم کرسکے۔ تمہاری بےچینی مٹاسکے۔ تمہیں سکون پہنچاسکے اور تمہیں راستہ دکھاسکے۔

میں تو ایک گیمر تھا اور گیمر رہوں گا مگر تم ایک گیمر سے بھی نہ سیکھ سکے تو پھر کس سے سیکھ سکوگے؟

میں تو تمہیں زبان بولتا ہوں اور جانتا بھی ہوں کہ گیمرز کن باتوں کے شوقین ہوتے ہیں۔

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ایک گیمر صرف قرآن ہاتھ میں اٹھاکر کن بلندیوں پر پہنچ چکا ہے؟

کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ہو؟

نہیں۔ ابھی تم بچے ہو۔

کل جب تم جوان ہو گے ہم ناجانے کہاں ہوں گے مگر تمہیں یاد ضرور آئیں گے کہ سچ بتایا تھا۔

دنیا ایک مایا جال ہے۔

بالکل میٹرکس مووی کی طرح اور میں ایک نیو جو حقیقت جان چکا ہوں۔

بس جی رہا ہوں۔

وقت گزار رہا ہوں۔

کام کاج میں مصروف ہوں۔

گیمنگ بھی چل رہی ہے۔

دین کا کام بھی ہورہا ہے۔

مگر تم جس دلدل میں دھکیلے جارہے ہو وہ کفر کی طرف جارہا ہے۔

آج بھی جاگ لو تو بہتر ہے ورنہ

وما علینا الابلاغ المبین
لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

بدھ، 16 اپریل، 2025

فضول باتیں کون کونسی ہوتی ہیں؟ (پریکٹیکل لائف کی مثالوں سے جواب)

فضول باتیں وہ ہوتی ہیں جو نہ کسی کو فائدہ دیتی ہیں، نہ ہی ان سے کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ باتیں اکثر وقت برباد کرتی ہیں اور دل دکھاتی ہیں۔


🎯 پریکٹیکل لائف کی آسان مثالیں:

1. کسی کا مذاق اُڑانا:

جب بچے کسی دوسرے بچے کے رنگ، قد، یا کپڑوں پر ہنسیں تو یہ فضول اور غلط بات ہوتی ہے۔
مثال: "دیکھو اس کے جوتے کتنے پرانے ہیں!"
یہ بات نہ اچھی ہے، نہ ضروری، اور کسی کو دُکھ  دے سکتی ہے۔


2. جھوٹ بول کر کھیل جیتنا:

جب کوئی بچہ کھیل میں دھوکہ دے کر جیتنے کی کوشش کرے، تو یہ فضول حرکت ہے۔
مثال: "میں نے پہلے کہا تھا! میری باری ہے!" (حالانکہ ایسا نہ ہو)


3. جھگڑا بڑھانا یا تکرار کرنا:

جب کسی بات پر معمولی سی بحث ہو، تو اسے ختم کرنے کے بجائے بار بار لڑنا۔
مثال: "بس! اب میں تم سے دوستی نہیں رکھوں گا!" صرف اس لیے کہ کسی نے کھلونا نہ دیا۔


4. غیبت یا چغلی کرنا:

کسی کے پیچھے اس کی برائیاں کرنا یا اس کی بات دوسروں کو بتانا۔
مثال: "تمہیں پتہ ہے وہ لڑکی کیسے بات کرتی ہے؟"


5. بار بار شکایت کرنا:

اگر کوئی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہر وقت شکایت کرے، جیسے: "اس نے مجھے دیکھا کیوں؟" یا "اس نے مجھے سلام نہیں کیا!"
یہ باتیں دلوں میں نفرت پیدا کرتی ہیں، اس لیے فضول ہیں۔


اچھی باتیں کون سی ہیں؟

  • دوسروں کی مدد اور رہنمائی کرنا

  • ہمت بڑھانے والی باتیں کرنا

  • کچھ سکھانے والی باتیں کرنا

  • کسی کوسچ بول کر خوش کرنا


✨ آخر میں سبق:

ہمیں چاہیے کہ ہم ایسی باتوں میں وقت نہ ضائع کریں جو کسی کو تکلیف دیں یا ہمیں غصہ دلائیں۔ اگر بات فائدے کی نہیں ہے، تو بہتر ہے کہ خاموشی اختیار کریں یا بات کو بدل دیں۔

عقل مند بچہ وہ ہوتا ہے جو اچھا بولتا ہے، اور بیکار باتوں سے بچتا ہے۔ 😊