‏دوسروں کی تحریر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏دوسروں کی تحریر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 5 اگست، 2026

صبح سات بجے لیپ ٹاپ کھلتا اور رات گیارہ بارہ بجے سے پہلے بند نہیں ہوتا تھا

صبح سات بجے لیپ ٹاپ کھلتا اور رات گیارہ بارہ بجے سے پہلے بند نہیں ہوتا تھا، درمیان میں بس نماز اور کھانے کا وقفہ ہوتا تھا۔ گھر والے الگ پریشان تھے، دوست ناراض تھے کہ بندہ ملتا ہی نہیں، اور صحت پر بھی آہستہ آہستہ اثر نظر آنے لگا تھا۔ یہ روٹین کوئی نئی نہیں تھی، کافی عرصے سے یہی چل رہا تھا۔
پھر اے آئی آ گیا اور سب کہنے لگے کہ اب تو کام آسان ہو جائے گا۔ میرے ساتھ الٹا ہوا، میری روٹین میں گھنٹے اور بڑھ گئے، جو بندہ گیارہ بجے سوتا تھا وہ دو بجے سونے لگا۔ اور اس کا سب سے بڑا قصوروار میں اپنے بھائی اور استاد Wali Ullah Shah کو ٹھہراؤں گا، کیونکہ ایک آئیڈیا ختم نہیں ہوتا تھا کہ دوسرا آ جاتا تھا۔ آج استاد کوئی نئی چیز بتاتے، اگلے دن میں بنا کر ان کے سامنے رکھ دیتا، اور سچ بتاؤں تو اس میں عجیب سا نشہ تھا جو ان کی وجہ سے ہی ملا ، نیند کم ہوتی گئی مگر مزہ آتا رہا۔
خیر، اصل بات پر آتے ہیں۔ انہی آئیڈیاز کے دوران ایک خیال یہ بھی آیا کہ کچھ وقت کام کم کرنا چاہیے، خود کو سنبھالنا چاہیے اور گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ بھی وقت گزارنا چاہیے۔ مسئلہ یہ تھا کہ کام چھوڑا نہیں جا سکتا تھا اور کم ہونے کے بجائے بڑھتا جا رہا تھا، تو سوال یہ بنا کہ کیوں نہ ایسا کوئی راستہ نکالا جائے کہ کام بھی چلتا رہے اور میں گھر سے باہر بھی نکل سکوں۔ بس یہیں سے ایک ایسے ایجنٹ پر کام شروع ہوا جو پورے سسٹم کو کنٹرول کر سکے، اور اس کا نام مجھے کلاڈ نے خود تجویز کیا، ZARA۔
زارا اصل میں میرے لیپ ٹاپ پر چلنے والا ایک ایجنٹ ہے جسے میں موبائل سے کنٹرول کرتا ہوں۔ سب سے پہلا سوال یہی تھا کہ اس سے بات کیسے کروں، اور اس کا جواب ڈسکورڈ ایپ نکلا، کیونکہ اس میں نہ کوئی پورٹ کھولنی پڑتی ہے، نہ راؤٹر کی سیٹنگ بدلنی پڑتی ہے اور نہ کوئی لنک بنانا پڑتا ہے، لیپ ٹاپ خود باہر رابطہ کرتا ہے اور میں فون سے میسج کر دیتا ہوں۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ اس کا دماغ کہاں سے آئے گا، تو وہ کلاڈ سے آیا، اور وہ بھی میری پہلے سے موجود سبسکرپشن پر، اس کے لیے الگ سے کوئی خرچہ نہیں کرنا پڑا۔
اصل مزہ تیسرے سوال پر آیا کہ یہ کرے گی کیا۔ زارا اسکرین شاٹ لیتی ہے اور صرف مجھے بھیجتی نہیں بلکہ خود بھی دیکھتی ہے کہ اسکرین پر ہو کیا رہا ہے، کمانڈ چلاتی ہے، فائلیں پڑھتی اور لکھتی ہے، ایپس کھولتی ہے، جس ونڈو پر کام کرنا ہو اسے سامنے لاتی ہے، ماؤس چلاتی ہے، ٹائپ کرتی ہے، واٹس ایپ پر میسج بھی بھیج دیتی ہے، اور اگر لیپ ٹاپ سست ہو رہا ہو تو بتا دیتی ہے کہ میموری کہاں خرچ ہو رہی ہے اور کہوں تو خالی بھی کر دیتی ہے۔
پھر خیال آیا کہ ٹائپ کیوں کروں، بول کر کیوں نہ کہوں۔ اب میں وائس نوٹ بھیجتا ہوں، چاہے اردو میں ہو یا انگریزی میں، وہ سمجھ جاتی ہے اور جواب بھی آواز میں دیتی ہے، اسی زبان میں جس میں میں نے بات کی ہو۔ پہلی بار جب میں نے اردو میں وائس نوٹ بھیجا اور جواب اردو آواز میں آیا تو یقین نہیں آ رہا تھا۔
مگر ایک بڑا مسئلہ رفتار کا تھا، شروع میں ایک وائس نوٹ کا جواب ساڑھے تین منٹ میں آتا تھا جو کسی کام کا نہیں تھا۔ میں نے اندازہ لگانے کے بجائے ہر مرحلے کا وقت ناپا اور پتہ چلا کہ سارا وقت آواز کو الفاظ میں بدلنے میں لگ رہا ہے، پورے ایک سو اکیانوے سیکنڈ۔ ماڈل بدلا، کچھ سیٹنگز درست کیں اور آخر میں ایک تیز سروس لگا دی، اور اب وہی کام تقریباً ایک سیکنڈ میں ہو جاتا ہے۔
پھر اصل امتحان بجلی نے لیا۔ بجلی گئی، راؤٹر بند ہو گیا، لیپ ٹاپ بیٹری پر چلتا رہا، اور جب بجلی واپس آئی تو چارجنگ بھی شروع ہو گئی اور راؤٹر بھی چل پڑا، مگر لیپ ٹاپ نیٹ ورک سے دوبارہ نہیں جڑا اور میں اس وقت گھر پر نہیں تھا۔ تو زارا کو یہ بھی سکھایا کہ جیسے ہی چارجر لگے، سمجھ جائے کہ بجلی آ گئی ہے اور راؤٹر بھی چل پڑا ہو گا، اس لیے وائی فائی خود دوبارہ جوڑے اور جیسے ہی انٹرنیٹ آئے مجھے ڈسکورڈ پر بتا دے کہ وہ واپس آن لائن ہے۔
اب زارا لاگ اِن ہوتے ہی خود چل پڑتی ہے، اور ہر تین منٹ بعد ایک چھوٹا سا پہرے دار پروگرام دیکھتا رہتا ہے کہ وہ چل رہی ہے یا نہیں، اگر کسی وجہ سے بند ہو جائے تو خود واپس لے آتا ہے۔
مزے کی بات بتاوں پوسٹ زارا نے ہی لکھوائی ہے میں تو چاہے پینے آیا بیٹھا اور مجھے بھیجی میں نے او کے کیا اس نے پبلش کر دی
اس سارے تجربے سے ایک بات اچھی طرح سمجھ آئی کہ اے آئی خود بخود آپ کا وقت نہیں بچاتا، جتنا آپ اسے اپنے کام کے مطابق بناتے ہیں اتنا ہی بچاتا ہے۔ یہ تو ایک چھوٹا سا ایجنٹ ہے میں مانتا ہوں سلیوشنز پہلے سے مارکیٹ میں ہیں لیکن یہ میں نے خود بنایا ہے بس یہ بات ہے اور کچھ نہیں۔ اگلی پوسٹ میں دکھاتا ہوں بڑا جادو
اور استاد Wali Ullah Shah صاحب کا احسان، جنھوں نے دکھایا یہ بھِیڑ سے نکلو ادھر دیکھو دنیا کہاں جا رہی ہے بس وہ دن تھا اور آج کا دن۔ آپ آئیڈیاز بھیجتے رہیں، سونے کا وقت دیکھا جائے گا۔

Facebook Post: Tanzeel Ur Rehman

Comments Selection from Facebook:

Assalam o Alaikum,
Past few months say me bhe ai ka sath kuch kam or experiments kar raha hun.
Khair mery pass ek chota sa pc setup or gpu free para tha to me nay usko use karty hwa ek apna khus ka Ai model bnaya hai.
Lekin unfortunately mujhy Ye is types ka advance ai models bnany ka idea nhe.
Lekin apki post say to lagta hai ka jessy is say hazaron rasty ho sakty hien.
Kindly kuch guide kijiya ka essa model ya ai agent kessy bna sakta hun me please.
Thanks a lot.

ہفتہ، 27 جون، 2026

ایک واقعہ سبق آموز ہدایت کے لیے نیکی کرنے والوں کو ہمت دینے کے لیے

میں ماڈل ٹاؤن لاہور میں مقیم ہوں اللہ تعالی کا دیا ہوا سب کچھ ہے جو مقامی لاہوریئیے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ لاہور کے جو چند بڑی سوسائٹیاں ہیں ان میں سے ایک ماڈل ٹاؤن ہے اور یہاں ملک کی ایلیٹ کلاس ہی رہ سکتی ہے کسی وقت میں میں بھی بہت عیاش تھا میرے باپ کی کمائی تھی اور کروڑوں میں تھی میں کیا کرتا ہوں کہاں لگاتا ہوں مجھے کوئی پوچھ پکڑ نہیں تھی آئے دن ہمارے گھر میں پارٹی ہوتی تھی شراب شباب سب کچھ وہاں موجود ہوتا تھا اور پھر میں اپنے لیے الگ سے بھی ان چیزوں کا انتظام کیا کرتا تھا اج بھی میں جب دوپہر کے وقت شراب کا انتظام کرنے کے لیے نکلا گو کہ جو لوگ ایسے شغل کرتے ہیں انہیں لگے گا یہ پینے کا کوئی وقت نہیں ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ میرے پینے کا بھی کوئی وقت نہیں ہوتا تھا میرا جب دل کرتا تھا میں انتظام کر لیتا تھا اور پی لیتا تھا اج بھی ایسا ہی تھا مگر جب میں نکلا تو میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر کے قریب ہی ایک گھر سے ایک خاتون باہر نکل رہی ہے جو شاید 24 یا 25 سال کی ہو گئی اس کے کپڑے بوسیدہ اور پھٹے ہوئے ہیں وہ گھر کا دروازہ کھول کر باہر نکلتی ہے تو اسی دوران ایک گاڑی اس گیٹ کے سامنے ا جاتی ہے اور گیٹ خود بخود کھلنے لگتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ وہ گاڑی کسی گھر کے مکین کی تھی مگر وہ گاڑی اس خاتون کے پاس رک جاتی ہے وہ خاتون تپتی دھوپ میں باہر کھڑی گاڑی کے اندر بیٹھے لوگوں سے کچھ گفتگو کر رہی ہے جسے میں سن نہیں سکتا مگر خاتون کے چہرے کا حال بتاتا ہے کہ وہ اپنی کوئی مجبوری بیان کر رہی ہے اسی دوران میری نظر خاتون کے پاؤں کی طرف جاتی ہے تو میں دیکھتا ہوں کہ کبھی وہ ایڑیوں کے بل کھڑی ہو جاتی ہے اور کبھی وہ پنجوں کے بل کھڑی ہو جاتی ہے یعنی وہ اپنے پاؤں کو سیدھا زمین پہ نہیں رکھ رہی میں یہ منظر دیکھ کر رک جاتا ہوں مزید انتظار کرتا ہوں تھوڑی دیر ان لوگوں میں گفتگو ہونے لگتی ہے اسی دوران باہر کھڑی خاتون کی انکھوں سے انسو ا جاتے ہیں وہ انسو صاف کرتے ہوئے بات چیت جاری رکھتی ہے مگر تھوڑی دیر بعد اندر سے ایک نسوانی ہاتھ نکلتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاڑی میں بھی کوئی خاتون موجود تھی وہ باہر کھڑی خاتون کو دھکہ دیتی ہے اور گاڑی لے کر گھر کے اندر داخل ہو جاتی ہے جس خاتون کو دھکہ دیا جاتا ہے وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھا پاتی اور زمین پر گر جاتی ہے اس وقت دوپہر کا وقت تھا سخت گرمی کا موسم تھا زمین تانبے کی مانند گرم تھی یقینا گرنے والی خاتون کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہوگا مگر وہ اٹھتی ہے اپنے انسو صاف کرتی ہے اپنا دوپٹہ درست کرتی ہے اور روڈ پر چلنے لگ پڑتی ہے یقینا وہ اپنے گھر کے لیے نکلتی ہے میں ایک سائیڈ میں کھڑا یہ سارا منظر دیکھ رہا ہوتا ہوں جب وہ خاتون اپنی راہ پر چل دیتی ہے تو میں اپنی گاڑی اگے بڑھاتا ہوں اور اس خاتون کے پاس جا کر رک جاتا ہوں اس سے پوچھتا ہوں کہ کیا وجہ ہے اپ کیوں رو رہی ہیں پہلے تو وہ مجھے دیکھ کر ڈر جاتی ہے مگر میں گاڑی سے اتر کر اس کے پاس جاتا ہوں اس کے سر پہ ہاتھ رکھتا ہوں اسے تسلی دیتا ہوں اور پھر اس سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے اپ کو دھکا کیوں دیا ہے تو وہ خاتون بتاتی ہے کہ 

یہ میری میڈم ہے میں ان کے گھر میں کام کرتی ہوں میرے والد صاحب کا کل انتقال ہوا ہے میں نے ابھی تک کسی کو نہیں بتایا کیونکہ میرے پاس تدفین کے پیسے نہیں ہیں ان کے موت سے تین دن پہلے میں نے ان کو بتایا کہ میرے والد کی طبیعت خراب ہے ان کا کسی بھی وقت انتقال ہو سکتا ہے مجھے میری تنخواہ اور کچھ رقم ایڈوانس چاہیے اپ لوگ دے دیں تاکہ میں اپنے والد کے اخری رسومات ادا کر سکوں لیکن یہ لوگ وعدہ کرنے کے باوجود مجھے رقم نہیں دے رہے وہ تین دن بھی گزر گئیے اس کے بعد میرے والد کا انتقال ہوا اور اج میرے والد کو مرے بھی دوسرا دن ہے اس کی بے گورو کفن لاش میرے گھر میں پڑی ہے جس کمرے میں لاش رکھی ہے اس کمرے میں میں نے اگر بتیاں جلا رکھی ہیں اپنے بچوں کو اس کمرے میں جانے سے منع کر رکھا ہے اور اس کمرے کو باہر سے تالا لگا رکھا ہے تاکہ نہ تو باہر بدبو پھیلے اور نہ ہی میرے بچے میرے والد کی لاش دیکھ سکیں اور نہ ہی محلے کو پتہ چلے میں روٹین کے مطابق کھانے کی پلیٹ لے کر والد کے کمرے میں جاتی ہیں وہاں بیٹھے روتی ہوں اور کھانہ وہیں سائیڈ میں رکھ کے باہر ا جاتی ہوں صرف اس لیے کہ میرے بچوں کو یہی محسوس ہو کہ میرے والد ابھی تک زندہ ہیں خاتون اپنی بات کر رہی ہوتی ہے تو تب تک میں پسینے میں شرابور ہو چکا ہوتا ہوں میں اسے تسلی دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اپ میری گاڑی میں بیٹھیں میں اپ کا سارا انتظام کر دیتا ہوں پہلے تو وہ مجھ پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی وہ مجھے کہتی ہے کہ میں اپ کو اپنے گھر کا ایڈریس دیتی ہوں اپ وہاں چلیں میں پیدل ا جاتی ہوں گو کہ جس جگہ کو اس نے مجھے ایڈریس دیا اس جگہ جانے کے لیے اس کو کم از کم ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے کیونکہ اسے ایک دو گاڑیاں بدلنا پڑتی ہیں میں نے اسے تسلی دی بلکہ یوں سمجھیں کہ اللہ تعالی کی ذات کو ضامن دیا اور اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا جب وہ میرے ساتھ بیٹھی تو تب میں نے دیکھا کہ اس کے جوتے مکمل طور پر گھس چکے تھے اس کے جوتوں کے تلووں میں سوراخ ہو چکے تھے تو مجھے سمجھ اگیا کہ وہ خاتون کیوں کبھی ایڑیوں کے بل کھڑی ہوتی تھی اور کبھی پنجوں کے بل کیونکہ نیچے زمین گرم تھی اس کے پاؤں کی تلیوں کو گرمی محسوس ہوتی تھی اس لیے کبھی وہ زمین پہ اپنی ایڑیاں رکھ لیتی تھی اور کبھی اپنے پاؤں کی انگلیوں پر وزن ڈال لیتی تھی خیر اس نے میرا بھروسہ کر لیا اور میں اس کو لے کر اس کے گھر کے سامنے پہنچ گیا وہاں پہنچنے کے لیے گاڑی پر بھی مجھے بیس سے پچیس منٹ لگ گئیے میرے پاس رقم موجود تھی جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ میں اپنے لیے کچھ عیاشی کا سامان خریدنے جا رہا تھا یقین کریں جتنی رقم کا میرا وہ سامان انا تھا اس سے ادھی رقم میں اس خاتون کے والد کی تدفین ہو گئی میں نے کفن دفن کے انتظام کیا اس شخص کے جنازے کا اعلان ہوا مولوی صاحب ائے اس شخص کو غسل دینے کے لیے میں نے خود بھی حصہ ڈالا اس کی تدفین کے بعد فارغ ہوا تو تب تک کافی وقت گزر چکا تھا میرے پاس جو رقم باقی بچ گئی تھی میں نے وہ رقم بھی اس خاتون کے حوالے کر دی اس نے کہا کہ کچھ دنوں تک میں اپ کے لیے کسی بہتر گھر میں کام تلاش کر لوں گا میں وہ رقم اسے دے کر واپس اپنے گھر ا گیا میں نے اپنی عیاشی کے لیے کچھ نہ خریدا میری وہ رات بہت بے چینی میں گزری رات کو تقریبا 11 بجے کے بعد میرے لیے برداشت کرنا ممکن نہ رہا تو تب مجھے خیال ایا کہ سکون کے لیے سب سے بہترین چیز اللہ تعالی کا ذکر ہے میں نے وضو کیا نماز عشاء ادا کی اور یقین مانیں مجھے نہیں پتہ کہ میں اللہ کے سامنے کتنے وقت کے بعد جھک رہا تھا نماز کے بعد بھی مجھے بے چینی باقی رہی میں نے قران پاک اٹھایا اور تلاوت کرنے لگا تھوڑی دیر تلاوت کی قران پاک رکھا اپنے لیے دعا کی مگر میرے اندر وہ حرام چیز کی طلب ابھی باقی تھی میں نے اپنے موبائل کو سکرول کرنا شروع کر دیا جب پھر بھی وقت نہ کٹا اور مجھے نیند نہ ائی تو میں ایک بار پھر اٹھا میں نے ترجمہ اور تفسیر والا قران پاک اٹھایا اور قران پاک کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنا شروع کر دی اور تقریبا صبح کے تین بجے تک میں قران پاک کی تلاوت ترجمہ اور تفسیر ہی پڑھتا رہا اس کے بعد سو گیا صبح میں بہت دیر سے اٹھا مگر تب تک میں کافی حد تک بہتر ہو چکا تھا میں نے اس خاتون کی خبرگیری کرنے کا فیصلہ کیا اور وہاں چلا گیا 

باہر لوگ فاتحہ خوانی کے لیے بیٹھے ہوئے تھے گو کہ اس خاتون کا بھائی کوئی نہیں تھا شوہر اسے طلاق دے چکا تھا اور باپ کا انتقال ہو چکا تھا شاید اس کا کوئی ایک آدھ عزیز وہاں ہوگا مگر ظاہر سی بات ہے ان کو بھی اس کی ذات سے کوئی سروکار نہیں تھا تبھی اس کی باپ کی لاش دو دن تک اس کے گھر میں پڑی رہی تھی فاتحہ خوانی کے بعد میں نے کسی نہ کسی طرح اس خاتون سے ملاقات کی اس کے سر پہ دست شفقت رکھا اس سے ضرورت کے سامان کے بارے میں پوچھا وہ خاموش رہی مگر اس کی ایک بچی جو تھوڑی سمجھدار تھی اس نے بتایا کہ ہماری پانی والی موٹر خراب ہے ہم نے وضو کرنا ہے اور گھر میں پانی نہیں ہے ساتھ والے گھر سے تین چار بار مانگ چکے ہیں خاتون نے اپنی بچی کو منع کرنا چاہا مگر میں نے خاتون کو روکا بچی کی بات تسلی سے سنی اور ان کا یہ مسئلہ حل کیا اس کے بعد گھر اگیا میرے لیے یہ رات بھی کافی مشکل تھی اور اس رات بھی میں نے قران پاک کی تلاوت اور ترجمے کے ذریعے ہی سکون حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا میں تین چار دن تک وہاں جاتا رہا ان لوگوں کا جو بھی چھوٹا موٹا مسئلہ ہوتا ہے وہ حل کروا آتا 

پھر جب وہ لوگ سوگ سے فارغ ہو گئے اور خاتون واپس اپنی روٹین پر اگئی تو اسی دوران میں نے اپنے ایک ملازم سے جو نسبتا اچھا کماتا تھا اور اس کی بیوی فوت ہو چکی تھی بات کی دوسری طرف اس خاتون سے بھی بات کی اور ان دونوں کا نکاح کروا دیا اس وقت وہ دونوں ایک اچھی زندگی گزار رہے ہیں لیکن اس ایک نیکی کے بعد مجھے دوبارہ کبھی حرام کو منہ لگانے کی عادت نہیں رہی مجھے جو سکون ترجمے کے ساتھ قران پاک کو پڑھ کر ملا وہ سکون کہیں اور نہیں ملا تب مجھے احساس ہوا کہ جو پیسہ ہم لوگ اپنی عیاشی پر لگاتے ہیں اگر وہ پیسہ مخلوق خدا پر خرچ کرتے ہیں تو ہم دگنا سکون حاصل کر سکتے ہیں 

میں نے جب سے مخلوق خدا پر خرچ کرنا شروع کیا ہے اس دن سے اللہ تعالی نے میرے رزق میں بے انتہا اضافہ کر دیا ہے کبھی میرے والد جو میرے لیے فکر مند رہتے تھے کہ میں ان کی ساری دولت کو اڑا دوں گا اور خود سڑک پر ا جاؤں گا اج میرے والد میرے ساتھ بیٹھے ہوں تو مجھ سے پوچھا کرتے ہیں کہ کوئی نیا بزنس کب شروع کر رہے ہو اور میں ان کو کہتا ہوں کہ انشاءاللہ اسی سال کہیں نہ کہیں نئی جگہ پر میں اپنی رقم انویسٹ کر لوں گا اور مجھے ہر سال اللہ تعالی اتنا نواز دیتا ہے کہ میں کہیں نہ کہیں اچھی خاصی رقم لگا لیتا ہوں اور میری زندگی کو اللہ تعالی نے صرف میری ایک چھوٹی سی نیکی کے بدلے بدل ڈالا ھے اگر اس روز میں ان پیسوں کی شراب خرید کر پی لیتا تو ہو سکتا ہے اج واقعی میں سڑک پر ا چکا ہوتا لیکن اس روز وہ رقم میں نے اپنی عیاش پر لگانے کی بجائے ایک مجبور خاتون پر لگا دیا اج الحمدللہ ان کی زندگی بھی سنور چکی ہے اور میرا مستقبل بھی سنور چکا ہے میں اپنے جیسی کلاس کے لوگوں کو صرف اتنی نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں پتہ ہی نہیں ہے کہ لوگ کتنی مشکل زندگی گزار رہے ہیں جہاں ہم رہ رہے ہیں وہاں تو جنت ہے وہاں کسی کو کسی سے کوئی غرض نہیں ہے مگر ہمارے ملک کے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے گھر میں بے گورو کفن لاشیں پڑی ہوتی ہیں اور ان کے پاس کفن دفن کے پیسے نہیں ہوتے ہمیں ایسے لوگوں کا سہارا بننا چاہیے یقین کریں اگر میرے جیسے لوگ یہ بات سمجھ لیں تو ہمارے ملک میں کبھی کوئی بھوکا نہ سوئے مگر افسوس کہ میری بات کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہے بہرحال میں اپنے طور پر اپنے ہر جاننے والے کو یہ نصیحت کرتا ہوں کوئی عمل کرے یا نہ کرے یہ اس کا اپنا فعل ہے 

  #HidayatKiDhoop #EkBetiElBaap #RehamSeHidayatTak #AlllhaKiTadbeer #GunehgarSeBanda See less

پیر، 10 نومبر، 2025

قطر سے یورپ جانا پاکستان سے زیادہ آسان ہے!

 قطر سے یورپ جانا پاکستان سے زیادہ آسان ہے!

کیوں! حیران کرنے والی بات ہے نا؟
چار پیسے بھی کماو اور چند ملکوں کا فری ویزہ بھی حاصل کرلو جن ملکوں میں جارجیا بھی شامل ہے۔
میں بتاتا ہوں کیسے۔
یورپ، کینیڈا وغیرہ جانے کے صرف تین طریقے ہیں۔ پڑھائی، جاب یا سیر کےلئے جانا۔ ان میں پڑھائی کےلئے جانا سب سے آسان ہے کیونکے ویزہ 99.9 پرسنٹ یقینی ہوتا یے۔
اگر یورپ کے ورک پرمٹ کی بات کریں تو یہ 90% فراڈ ہے اور پاکستان سے یورپ کینیڈا وغیرہ وزٹ ویزہ پر جانا انکار ہی سمجھیں۔
وزٹ ویزہ پاکستان سے مشکل سے لگتا ہے۔
قطر ہی کیوں؟
آپکی عمر 45 سال سے زیادہ ہے تو پڑھائی کےلئے نہیں جا سکتے۔
ثمینہ کئی سال سے باہر پڑھائی کےلئے پیسے جمع کر رہی ہے لیکن یورپ، امریکہ یا کینیڈہ کا خواب پورا نہیں کرسکتی۔ بجٹ کم ہے۔
علی کو دیکھیں سٹڈی گیپ اتنا ہے کہ اسے عبور کرنا مشکل پھر یورپ کے وزٹ ویزہ کےلئے 2 بار رجیکشن بھی ہوگئی۔
ادھر کسی کی امی شادی کےلئے زور دے رہی ہے تو کسی کی بیوی بچوں کے مستقبل کی دہائی دے رہی ہے۔ کیونکے پاکستان میں تو کوئی مستقبل دکھائی نہیں دیتا۔
جاب سے گزارہ نہیں ہوتا، سیونگ زیرو ہیں اور مستقبل غیر یقینی۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آتا۔
اب اگر Study Visa بھی نہیں ہے اور نہ ہی یورپ کا وزٹ پاکستان سے لگتا ہے تو پھر قطر ہی حل ہے۔
یا دبئی، عمان اور سعودیہ۔۔۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
ہم ابھی تک پرانی سوچ میں ہیں کہ ویزہ لگے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
نہیں۔
اگر پلاننگ نہ کی تو سب اور خراب ہو جائے گا۔
اگر عمر زیادہ، یا بجٹ کم ہے تو راستہ بنائیں۔۔۔آہستہ آہستہ آپنی منزل کی طرف بڑھیں۔ آپ کا قطر کا ویزہ خود ایک طاقتور راستہ ہے۔
بس ہم درست راستہ اپنانے کی بجائے یہ سوچتے ہیں کہ “میری قسمت خراب”۔
ہنسی آتی ہے مگر سچ یہی ہے کہ ہماری قوم سارا دن ٹک ٹاک دیکھ کر دنیا بدلنے کا پلان بناتی ہے 🤦‍♂️
چلیں مسئلہ حل کرتے ہیں۔
اصل حل سامنے ہے:
قطر کا ویزہ آپکوآزاد کر دیتا ہے۔۔۔آپ اپنی مرضی کی جاب کریں۔ چار پیسے کمالیں اور اپنا بینک بیلنس بڑھا لیں۔ دو سال تک قانونی طور پر قطر میں رہیں اور ایک شاندار طرز زندگی انجوائے کریں۔
پھر اپنی قطر آئی ڈی آپکا ویزہ اپلائی کریں۔۔۔قطر آئی ڈی ایسی پاور فل ہے کہ اس پر آٹلی، فرانس،یونان، کینیڈا یا جاپان کا ویزہ 80-90% لگ جاتا ہے۔۔۔رجیکشن نہ ہونے کے برابر۔
کیونکے پروفائل سٹرانگ ہو جاتی ہے۔
ٹکٹ بھی سستی، ویزہ بھی تقریبا یقینی اور کسی اپوائنٹمنٹ کا کوئی جھنجٹ نہیں۔
یہ سب "قسمت" نہیں ہے، یہ طریقہ کار ہے۔ جسے آپ سیکھ سکتے ہیں۔
جو قطر میں ہے، اس کو یورپ تک پہنچنے میں آدھی سیڑھی پہلے ہی ملی ہوئی ہے۔
بس آگے چڑھنے کی جرأت چاہیے۔
آخر میں بس اتنا سوچ لو:
یا تو ایک سال درست پلاننگ کر کے نکل جاؤ،
یا پھر اگلے 5 سال وہی کینٹین، وہی روٹین، وہی سیاپہ زندگی۔
پارٹی ختم ہو چکی ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں کہ جو ویزہ میں چاہوں مجھے ملے گا۔۔۔
نہی بئی، نہیں۔۔۔پاکستان سے نکلنا ہی بڑی کامیابی ہے۔
لیکن
ہر ویزہ ہر ایک کےلئے نہیں ہوتا۔ سب کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ مکمل فروفائل کی جانچ کے بعد ہی ملک کا انتخاب کرنا چاہئے۔
ایک اچھی لیکن قانونی حکمت عملی
سے ہی آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔
اور یہ کامیابی صرف اسی کو ملتی ہے جو فیصلہ کرتا ہے۔
— The Professor Naeem 👨‍🏫