ایک کافر ملحد نے محمدﷺ کے خلاف سوشل میڈیا پر بھونک کر مجھے موقع دیا کہ میں اسے کے الفاظ کو پلٹ کر ان کفار کی جانب الہامی تیروں کے لشکر بناکر حملہ کروں اور اللہ کے فضل سے میں اس کام میں کامیاب ہوا (الحمدللہ)
“میں اللّٰہ کا پیغمبر ہوں اللّٰہ مجھ سے باتیں کرتا ہے، ایک فرشتہ مجھ تک اللّٰہ کا پیغام لے کر آتا ہے”
ایسے ہی سچے دعوے کیا کرتے تھے
مسلمانوں کے لاڈلے اور پیارے نبی محمدﷺ
جب محمدﷺ کے سچے دعوے سُن سُن کر مکّہ کے
لوگوں کے کان پک گئے تو آخر کار انہوں نے سوال کیا
“ اگر فرشتہ تمہارے پاس آتا ہے، تو یہ فرشتہ ہمیں بھی دکھاؤ،ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں،
ایسا کرو ، ایک کھلی جگہ، ایک میدان میں لوگوں کو
جمع کرو اور اس فرشتے کی ملاقات ہم سے بھی کرواؤ”
تم اللّٰہ کو نہیں دکھا سکتے ٹھیک ہے،۔۔۔۔
مگر فرشتہ تو مخلوق ہے۔۔۔ اسکو دکھاؤ
ہم انسان ہیں ہم بھی مخلوق ہیں،
ہم اس فرشتے کو کیوں نہیں دیکھ سکتے؟
یہ مکہ والوں کا مطالبہ تھا۔۔۔
اور قرآن میں یہ مطالبے آئے ہیں بار بار۔۔۔
آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں۔۔۔
کیا مکّہ والوں کا یہ مطالبہ غلط تھا، نا جائز تھا؟
بے شک ناجائز تھا کیونکہ
جس شخص سے مطالبہ تھا
وہ شخص مکہ کا صادق و امین تھا
کوئی بھی شعور رکھنے والا شخص سچے دعووں پر
ایمان ضرور لاتا جیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہہ
مکہ کے کفار اپنی زبان میں یہ کلام سن رہے تھے
جسے قرآن کہا جا رہا تھا
اور وہ کلام بھی سن رہے تھے جو
محمدﷺ کی زبان مبارک سے نکل رہا تھا
تو ان کو لگ رہا تھا کہ اس میں کوئی ایسی attraction نہیں ہے
جبکہ وہ جاہل دونوں کلاموں میں فرق کرنے سے قاصر تھے
جبکہ دونوں کلام ایک ہی انسان کے منہ سے سن رہے تھے
حالانکہ عربی زبان کے ماہر بنے پھرتے تھے
تب بھی کہتے تھے کہ
اس میں کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے
ہم چاہیں تو ایسی باتیں ہم بھی کہہ سکتے ہیں
تھے نا جاہل کے جاہل؟
یہ بات بھی قرآن میں آئی ہے۔۔۔۔
محمدﷺ جب ان لوگوں سے ایمان کا مطالبہ کر رہے تھے تو
یہ کفار کی ذِمّہ داری تھی کہ سب ملکر انہیں شکست دیتے
فرشتے کو دکھانے میں کیا کمال تھا؟
فرشتہ تو انسانی شکل میں آیا جایا کرتا تھا
لہذا کفار کا مطالبہ ہی غلط اور فضول قسم کا تھا
محمدﷺ نے دکھادیے کئی سو نیچرل معجزات
کیونکہ اللہ واحد القہار تھا ان کی سپورٹ پر
فرشتے بھی حاظر تھے۔۔۔ سب کچھ ہی سچ تھا
سب سچے دعوے تھے 💪
اب چونکہ اس وقت کے لوگوں میں
بہت سے جھوٹے خداؤں کے تصور عام تھے
جنہیں وہ کفار پوجا کرتے رہتے تھے
تو ان لوگوں نے اپنے جھوٹے خداؤں سے فریاد کی
اے خداوں اگر یہ شخص جھوٹا اور جادوگر ہے
اور تمام کارنامے جادو کے ذریعے دکھاتا پھررہا ہے
تو پھر اس پر پتھروں کی بارش برسادو
مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوسکا 👎
اور ان کے تمام جھوٹے خداؤں کی مٹی پلید ہوگئی (اللہ اکبر)
حقیقت یہی ہے کہ محمدﷺ اور قرآن سو فیصد سچے ہیں
یہی وجہ ہے کہ مکہ کے دور میں عقلمند لوگ تو مسلمان ہوگئے
اور بعد میں بہت سے عقلمند کفار بھی فورا مسلمان ہوگئے
مگر اللہ کے دھتکارے ہوئے تمام لوگ کافر ہی رہ گئے
اور لعنت زدہ رہ کر اپنے غلیظ کرتوتوں کے سبب
جہنم میں جاکر ہمیشہ کے لیے
نیست و نابود ہوئے (اللہ اکبر)
اور سنو!
جب مدینہ ہجرت کے بعد جنگیں شروع ہوئیں
تب بھی کفار اپنے جعلی معبودوں سمیت نامراد ہوئے
جنگوں میں مجاہدین اسلام کے ہاتھوں جہنم واصل ہوئے
دنیا کے لالچ میں مزید کفار انکے ساتھ شامل ہوئے
اور سب کے سب مرکر جہنم میں جاکر دفع ہوئے
ویسے تو مکہ مدینہ میں اسلام پھیلنے کی اصل وجہ
محمدﷺ کا اخلاق و کردار ہی تھا
مگر کفار کی ہٹ دھرمیوں کے سبب
تلواریں اٹھانا بھی ضروری تھا (اللہ کے حکم و اجازت سے)
کوئی جھوٹ نہیں۔۔۔ بالکل سچ!
لہذا ایسے جاہل شیطانی ناسوروں سے
خود کو بھی دور رکھو
اور اپنے بال بچوں کو بھی علم سکھاو
یہ خود بھی کفر پر ڈوبیں گے
اور تمہیں بھی برباد کریں گے
وما علینا الاالبلاغ المبین
لیجنڈ آف اللہ واحد القہار