جب میں کراچی شہر آیا تو میں نے نوٹ کیا کہ کورنگی کے علاقے میں یہ آگ اچانک سے نمودار ہوئی۔ میں تب ہی سمجھ گیا تھا کہ اس کے اگ کے نمودار ہونے کا کوئی خاص مقصد ہے۔
لیکن میں نے اس وقت کوئی خاص توجہ نہیں دی اور میں دیکھتا رہا کہ میڈیا والے اور فائر برگیڈ والے اور یہ سائنس پڑھنے والے کیا تیر ماریں گے؟
ایک ہفتے تک یہ لوگ اپنی تمام تر کوششیں کر کے تھک کر چکے تب میں نے ارادہ کیا کہ اب میں نے بھی اپنی کوشش کرکے دیکھتا ہوں۔
مجھے اللہ سے امید بھی تھی اور تھوڑا تردد بھی کہ اگر ایسا نہ ہوسکا تو؟
مگر ذہن میں ایک بات یاد آئی کہ "what if?" مطلب اگر ہوگیا تو؟
میں نے اس کیس پر غائبانہ (بغیر وہاں وزٹ کیے) کام شروع کردیا۔ دعا وغیرہ جو کچھ تھا وہ کیا۔ اللہ کو بتادیا کس نیت سے یہ کام کرنا ہے۔ اپنے تمام فوٹیج تیار کیے۔
ایک ہفتہ کا چیلنج تھا۔
جمعہ کے دن میں اپنے گھر سے کورنگی فائر لوکیشن پر گیا اور وہاں جا کر میں نے میڈیا کی گاڑی دیکھی، چوکیدار تھا، لوگ تھے، لیکن مجھے سیکیوریٹی والوں نے اگے جانے نہیں دیا۔
وہ لوگ سمجھے کہ کوئی ٹک ٹاکر آگیا ہے لیکن بہرحال میں تو اپنا کام کرنے گیا تھا۔ میں نے وہاں پہ جا کر ویڈیو ریکارڈنگ کی اور بتا دیا کہ اگر اللہ چاہے گا تو وہ اس آگ کو بجھادے گا۔
جب میں اپنی ریکارڈنگ فوٹیج بنا رہا تھا تب اللہ کا نام آسمان پر نمودار ہوا عین اس آگ کے اوپر والی لوکیشن کی جانب۔
اس کے بعد جب میں گھر آگیا ہوں تو اللہ نے وہ آگ بجھا دی۔
یہ سفر کل ملاکر کچھ 4 گھنٹے پر مشتمل تھا۔
میڈیا والوں اور تمام ماہرین کو بھی یہ سب سمجھ نہیں آیا کہ یہ آگ کیسے بجھ گئی؟ انہوں نے صرف یہی رپورٹنگ کی کہ آگ خود بخود بجھ گئی حالانکہ آگ خود نہیں بجھی تھی بلکہ اللہ نے اس آگ کو بجھایا تھا۔
یہ تھی اس پورے کیس کی اصل کہانی جس کو میڈیا نے چھپایا ہے کیونکہ میڈیا کو خود نہیں پتا۔ حالانکہ میں وہاں پہ موجود چوکیدار کو اور میڈیا کے ڈرائیور کو بتا کر آیا تھا کہ اس آگ میں اللہ کی نشانی ہے لیکن ان لوگوں نے عوام کو نہیں بتایا۔
حقیقت یہ ہے کہ آگ خود نہیں بجھی تھی بلکہ اللہ نے بجھائی تھی۔
یہ ان لوگوں کے لیے بھی ایک نشانی ہے جو کہتے ہیں کیمروں کے دور میں معجزات کیوں نہیں ہوتے اور یہ ایک زناٹے دار طمانچہ بھی ہے سائنسی کتابیں پڑھ کر اولیاء اللہ کا مذاق اڑانے والوں کے خلاف کیونکہ اگر میں نہیں جاتا تو یہ آگ نہ بجھتی۔
اور اس کا ثبوت میڈیا کی اپنی گواہیوں اور بیانات کے مطابق ماہرین کی تمام تر کوششوں کے بعد سو فیصد ناکامی ہے۔ اسی لیے تو یہ لوگ امریکی ماہرین سے مدد لینے کے لیے ایک لاکھ ڈالر پر تخمینیہ لگوارہے تھے یا جائزہ کی فیس ادا کرنے جارہے تھے۔ جو کہ شاید اب تک کر بھی چکے ہوں گے۔ یہ ہے ان کی رپورٹنگ کا حال۔
اب یہ ایک تاریخی واقعہ بن چکا ہے ویڈیو فوٹیجز کے ساتھ اور اب اسے کوئی عقلمند نہیں جھٹلا سکتا سوائے یہ کہ کوئی انسان ذہنی مریض اور پاگل ہوچکا ہو۔ لہذا نفسیاتی مریضوں کے جھٹلانے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ایمان والے سمجھ لیں گے کہ یہ واقعہ اللہ کی ایک نشانی تھی۔ اللہ نے اپنی قدرت کا اظہار اپنے ایک بندے کے ذریعہ کیا اور ایک بار پھر ثابت کردیا کہ "ان اللہ علی کل شئی قدیر" ۔ بغیر وسائل اور اسباب کہ اللہ اس طرح کام کرتا ہے۔
آج پھر جمعہ ہے۔ مگر اب میرا وہاں جانے کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ میڈیا والوں کی جہالت کا اندازہ مجھے اسلام آباد میں اللہ کے حکم سے آنے والی تباہی اور غصہ کا اظہار دیکھ کر ہوچکا کہ اسے بھی قدرت آفت یا موسم کی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
ایسے جاہلوں سے کیا بحث کرنی جو "اللہ" کو بھی کوئی کریڈٹ دینا پسند نہ کریں؟
میں تو تم غیرمسلموں کو بتارہا ہوں کہ اللہ سچا خدا ہے اور دیکھ لو کہ جب اس کا لیجنڈ کسی کام کا ارادہ کرلیتا ہے اور اللہ چاہے کہ ویسا ہوجائے تو بس "کن فیکون" وہ ہوجاتا ہے۔
لیجنڈ محمد ذیشان ارشد(18 اپریل 2025)