Business لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Business لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 28 دسمبر، 2024

مختلف شعبوں میں کام کرنے والے فری لانسرز کے لیے "فیس"، "چارجز"، "پراجیکٹ"، اور "کیس" جیسے تصورات

مختلف شعبوں میں کام کرنے والے فری لانسرز کے لیے "فیس"، "چارجز"، "پراجیکٹ"، اور "کیس" جیسے تصورات مختلف معانی رکھتے ہیں۔ اگر فری لانسر اسپریچوئل ہیلر ہو، یا وہ متعدد خدمات جیسے ویب ڈویلپمنٹ، ہیلنگ، کاؤنسلنگ، اور کوچنگ فراہم کرتا ہو، تو ان تصورات کی وضاحت درج ذیل انداز میں کی جا سکتی ہے:


1. اسپریچوئل ہیلرز: "کیس" یا "پراجیکٹ"؟

(الف) کیس کا مطلب:

  • اسپریچوئل ہیلرز کے لیے "کیس" کسی مریض یا کلائنٹ کی مخصوص صورت حال یا مسئلے پر کام کرنے کو کہا جاتا ہے۔
  • مثال: کسی شخص کو جذباتی مسائل، روحانی الجھنوں، یا لاعلاج بیماری میں مدد فراہم کرنا۔

(ب) پراجیکٹ کا مطلب:

  • اسپریچوئل ہیلرز کے لیے "پراجیکٹ" وہ کام ہو سکتا ہے جو ایک مخصوص مدت کے لیے ہو اور جس کے اہداف واضح ہوں۔
  • مثال: ایک ورکشاپ، آن لائن پروگرام، یا طے شدہ تعداد میں سیشنز کی پیش کش۔

فرق:

  • اگر ہیلر کسی فرد کے ذاتی مسئلے پر کام کر رہا ہے، تو یہ "کیس" کہلائے گا۔
  • اگر ہیلر ایک گروپ ورکشاپ یا پروگرام چلا رہا ہے، تو یہ "پراجیکٹ" کہلائے گا۔

2. فیس، چارجز، قیمت، یا پیمنٹ؟

(الف) فیس:

  • اسپریچوئل ہیلرز عموماً اپنی خدمات کے بدلے "فیس" وصول کرتے ہیں۔
  • فیس کا تعین: سیشنز کی تعداد، وقت، اور فراہم کردہ خدمات کی نوعیت کے حساب سے ہوتا ہے۔

(ب) سروس چارجز:

  • اگر ہیلر اضافی خدمات فراہم کر رہا ہو، جیسے رپورٹ تیار کرنا یا اضافی مواد فراہم کرنا، تو اسے "سروس چارجز" کہا جا سکتا ہے۔

(ج) قیمت یا پیمنٹ:

  • "قیمت" یا "پیمنٹ" عام طور پر کل سروس کے مجموعی معاوضے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
  • مثال: اگر کلائنٹ نے ایک مکمل ہیلنگ پروگرام خریدا ہے، تو وہ "پیکیج کی قیمت" کہلائے گی۔

3. ویب ڈویلپمنٹ اور اسپریچوئل ہیلنگ دونوں پر کام کرنا

(الف) ویب ڈویلپمنٹ:

  • یہ کام عام طور پر "پراجیکٹ" کہلاتا ہے۔
  • مثال: ایک ویب سائٹ بنانا، جس کے لیے ایک معاہدہ کیا جاتا ہے اور ڈیڈ لائن طے کی جاتی ہے۔

(ب) اسپریچوئل ہیلنگ:

  • اگر یہ کسی فرد کے ذاتی مسئلے پر ہے، تو یہ "کیس" ہوگا۔
  • اگر یہ ایک گروپ یا پیکیجڈ سروس ہے، تو یہ "پراجیکٹ" کہلا سکتا ہے۔

اہم نکتہ:

  • اگر فری لانسر دونوں خدمات فراہم کر رہا ہے، تو وہ مختلف گاہکوں کے لیے مختلف انداز میں کام کر رہا ہوگا:
    • ایک ویب سائٹ کے کلائنٹ کے ساتھ وہ "پراجیکٹ" پر کام کر رہا ہوگا۔
    • ایک ہیلنگ کلائنٹ کے ساتھ وہ "کیس" پر کام کر رہا ہوگا۔

4. کاؤنسلنگ اور کوچنگ: کیس یا پراجیکٹ؟

(الف) کاؤنسلنگ:

  • عام طور پر یہ ایک "کیس" کہلاتا ہے، کیونکہ یہ کسی فرد کی مخصوص صورت حال یا مسئلے پر مبنی ہوتا ہے۔
  • مثال: کسی شخص کے ذاتی یا پیشہ ورانہ مسائل کو حل کرنا۔

(ب) کوچنگ:

  • کوچنگ ایک "پراجیکٹ" ہو سکتا ہے اگر یہ ایک خاص مدت کے لیے ہو اور اس کے اہداف طے شدہ ہوں۔
  • مثال: تین ماہ کا "لیڈرشپ کوچنگ پروگرام"۔

فرق:

  • اگر یہ طویل مدتی اور گہرائی میں ذاتی مدد ہو، تو یہ "کیس" کہلائے گا۔
  • اگر یہ طے شدہ اہداف اور وقت کے ساتھ ایک منظم پروگرام ہو، تو یہ "پراجیکٹ" ہوگا۔

5. پورٹ فولیو میں شامل ہونا

(الف) کیسز:

  • اسپریچوئل ہیلرز یا کاؤنسلرز اپنے کامیاب کیسز کو تجربے کے طور پر اپنے پورٹ فولیو میں شامل کر سکتے ہیں، لیکن کلائنٹ کی رازداری کا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔

(ب) پراجیکٹس:

  • پراجیکٹس کو کھلے طور پر پورٹ فولیو میں شامل کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ عام طور پر عوامی نوعیت کے ہوتے ہیں، جیسے ویب سائٹ ڈیزائن یا گروپ کوچنگ پروگرام۔

خلاصہ

  1. ویب ڈویلپمنٹ: ہمیشہ "پراجیکٹ" کہلائے گا۔
  2. اسپریچوئل ہیلنگ:
    • انفرادی کلائنٹس کے لیے "کیس"۔
    • گروپ یا پروگرام کے لیے "پراجیکٹ"۔
  3. کاؤنسلنگ: عام طور پر "کیس"۔
  4. کوچنگ: طے شدہ اہداف کے ساتھ "پراجیکٹ"۔

فری لانسر کو ان خدمات کے معاوضے کے لیے فیس، چارجز، یا پیکیجڈ قیمت کے تصورات استعمال کرنے چاہییں، اور ہر کام کی نوعیت کے مطابق اسے اپنی خدمات کی وضاحت کرنی چاہیے۔

فری لانسرز اور ان کے کام کی نوعیت

فری لانسنگ آج کی صدی میں کام کرنے کا ایک نہایت اہم اور مقبول طریقہ بن چکا ہے۔ فری لانسنگ کی دنیا میں "فیس"، "پراجیکٹس"، اور "چارجز" جیسے تصورات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ آئیے فری لانسرز کے حوالے سے ان پہلوؤں پر روشنی ڈالیں:


فری لانسرز اور ان کے کام کی نوعیت

فری لانسرز وہ ماہرین ہوتے ہیں جو کسی کمپنی یا ادارے کے مستقل ملازم کے طور پر کام کرنے کے بجائے آزادانہ طور پر مختلف منصوبوں یا خدمات پر کام کرتے ہیں۔ ان کا معاوضہ ان کی مہارت، کام کی نوعیت، اور منصوبے کی پیچیدگی پر منحصر ہوتا ہے۔


فیس (Fee) اور فری لانسرز

فری لانسرز اپنی خدمات کے بدلے میں "فیس" لیتے ہیں۔ یہ فیس ان کی مہارت، وقت، اور کام کی پیچیدگی کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔

مثالیں:

  • ایک گرافک ڈیزائنر لوگو ڈیزائن کرنے کے لیے فیس لیتا ہے۔
  • ایک کنٹینٹ رائٹر کسی آرٹیکل یا بلاگ کے لیے مخصوص فیس چارج کرتا ہے۔

اہم پہلو:

  • فیس کا تعین اکثر فی گھنٹہ یا فی پروجیکٹ کیا جاتا ہے۔
  • فری لانسرز فیس وصول کرتے وقت اپنے وقت اور محنت کی قیمت کو مدنظر رکھتے ہیں۔

چارجز (Charges) اور فری لانسرز

"چارجز" عام طور پر اضافی یا مخصوص خدمات کے لیے لیے جاتے ہیں جو بنیادی کام کے علاوہ ہوتی ہیں۔

مثالیں:

  • ایک فری لانسر ویب ڈویلپر فوری ڈیلیوری کے لیے اضافی چارجز وصول کر سکتا ہے۔
  • ویڈیو ایڈیٹر کسی اضافی راؤنڈ آف ریویژن کے لیے چارجز لگا سکتا ہے۔

اہم پہلو:

  • چارجز اکثر کلائنٹ کی خصوصی درخواست پر مبنی ہوتے ہیں۔
  • یہ اضافی کام کے لیے معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں۔

پراجیکٹس (Projects) اور فری لانسرز

فری لانسرز کا زیادہ تر کام "پراجیکٹس" کی شکل میں ہوتا ہے۔ یہ پراجیکٹس مختصر مدتی یا طویل مدتی ہو سکتے ہیں۔

مثالیں:

  • ایک ڈیجیٹل مارکیٹر سوشل میڈیا کیمپین پر کام کر سکتا ہے۔
  • ایک فری لانسر انجینئر کسی مخصوص سافٹ ویئر یا ایپلی کیشن کی تیاری پر پراجیکٹ مکمل کر سکتا ہے۔

اہم پہلو:

  • پراجیکٹس کے لیے فری لانسرز اکثر پیشگی ادائیگی یا معاہدہ کرتے ہیں۔
  • پراجیکٹ کی تفصیلات اور ڈیلیوری کی تاریخ پہلے سے طے کی جاتی ہے۔

رشوت اور فری لانسرز

فری لانسرز کی دنیا میں رشوت جیسا کوئی تصور نہیں ہے کیونکہ یہ کام زیادہ تر دیانتداری اور آن لائن معاہدوں کے ذریعے انجام پاتا ہے۔

وضاحت:

  • کام کے لیے ادائیگی براہِ راست کلائنٹ سے کی جاتی ہے اور فری لانسنگ پلیٹ فارمز (جیسے Fiverr، Upwork) اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ لین دین شفاف ہو۔
  • اگر کوئی غیر قانونی یا غیر اخلاقی درخواست کی جاتی ہے، تو فری لانسر اسے مسترد کر سکتے ہیں۔

فری لانسرز کی اہمیت اس صدی میں

  1. ماہرانہ خدمات تک رسائی:
    فری لانسرز کسی بھی شعبے میں مہارت فراہم کرتے ہیں، جیسے گرافک ڈیزائن، پروگرامنگ، مواد نویسی، اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ۔

  2. کمپنیوں کے لیے فائدہ:
    کمپنیاں مختصر مدتی پروجیکٹس کے لیے فری لانسرز کو بھرتی کرتی ہیں تاکہ وقت اور پیسہ دونوں کی بچت ہو۔

  3. لچکدار کام کے اوقات:
    فری لانسرز آزادانہ طور پر اپنی سہولت کے مطابق کام کرتے ہیں۔

  4. عالمی پلیٹ فارمز:
    فری لانسرز Fiverr، Upwork، Freelancer.com اور Toptal جیسے پلیٹ فارمز پر اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں۔


نتیجہ

فری لانسرز موجودہ صدی میں کام کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ بن گئے ہیں۔ "فیس"، "چارجز"، اور "پراجیکٹس" کا ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں اہم کردار ہے۔ یہ رجحان نہ صرف کمپنیوں بلکہ افراد کے لیے بھی معاشی مواقع پیدا کر رہا ہے۔ طلباء کو چاہیے کہ وہ فری لانسنگ کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے کیریئر کے لیے اس میدان میں مہارت حاصل کریں۔

منگل، 1 اکتوبر، 2024

پانچ ہزار ڈالر کمانے کا تیز ترین طریقہ کیا ہے؟

 پانچ ہزار ڈالرز جلدی کمانے کے لیے سب سے بہترین طریقہ فری لانسنگ ہے کیونکہ اس کے ذریعہ فوری رزلٹ فراہم کرکے پانچ ہزار ڈالرز کمائے جاسکتے ہیں۔ کمانے کی رفتار کام کرنے والے فری لانسر کی صلاحیتوں پر منحصر ہے لہذا جتنا ایکسپرٹ لیول ہوگا اتنا جلدی اور اتنا زیادہ پیسہ کماسکتا ہے۔

دوسرے نمبر پر میرے تجربات کے مطابق یوٹیوب ہے ۔ اگر کسی کا یوٹیوب چینل چل پڑے تو اسے ماہانہ ہزاروں ڈالرز گھر بیٹھے صرف اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کرتے رہنے سے ملتے رہتے ہیں۔ اس کے لیے صبر اور حوصلہ کے ساتھ ویڈیوز بنانا لازمی ہیں مگر کامیابی کے چانسز اتنے آسان نہیں ہیں کیونکہ بہت سے یوٹیوبز مقابلہ پر اپنا کام کررہے ہیں اور اپنا کانٹینٹ اپ لوڈ کرتے ہیں۔ کوئی ایسی کیٹیگری منتخب کرنا جس میں مقابلہ بھی ہو اور رینکنگ کے چانسز بھی ہوں بہت مشکل ہے مگر ناممکن نہیں ہے۔

تیسرے نمبر پر میرے تجربات کے مطابق یوڈیمی پر کورسز بناکر بیچنے کا بزنس ہے۔ میں نے گزشتہ ماہ صرف یوڈیمی کورسز کے ذریعہ پانچ ہزار ڈالرز سے زیادہ ارننگ کی ہے۔

میرے رینفنڈ کو ہی اگر چیک کرلیا جائے تو وہ 15 ہزار ڈالرز سے زیادہ  ہیں تو اس سے یوڈیمی پر ارننگ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اور یہ آمدنی صرف چند دنوں کے اندر ممکن ہوئی اللہ کے فضل سے۔


لہذا اگر آپ کو اپنے بزنس کو بڑھانا ہے اور کاروبار میں ترقی کرنی ہے تو آپ کو اپنی آن لائن دکان کھولنی پڑے گی اور بحیثیت بزنس آنر اس کو چلانا ہوگا جیسا کہ یوڈیمی پلیٹ فارم یعنی مارکیٹ پر اپنی کورسز کی دکان سجاکر بیٹھ جانا اور محنت جاری رکھنا۔

جبکہ فری لانسنگ بزنس کے لیے آپ کو کلائنٹ تلاش کرنے پڑتے ہیں اور اگر آپ اپنے بزس کے لیے یوٹیوب چینل چلاکر کامیاب ہوجائیں تو لوگوں کی نظریں آپ کے کاوربار کی پہچان پر پڑیں گی اور اس کے بعد آپ کے وارے ڈبل نیارے ہوجائیں گے کیونکہ لوگ آپ سے سروس بھی لینا پسند کریں گے اور یوٹیوب چینل والے بھی آپ کو اشتہارات کی مد میں ڈالرز میں آمدنی بھیجا کریں گے۔

پاکستانی آمدنی کے اعتبار سے صرف 5 ہزار ڈالرز موجود ہ ریٹ کے مطابق 13 لاکھ 87 ہزار روپے کچھ رقم بنتی ہے۔ یہ ایک پاکستانی فری لانسر کے لیے بہترین رقم ہے جو فری لانسنگ بزنس کے ساتھ ساتھ اپنے دیگر بزنس آن لائن شروع کرنا چاہتا ہو۔

فری لانسنگ بزنس میں خود کام کرنا پڑتا ہے جب آمدنی ملتی ہے جبکہ آن لائن کورسز بزنس میں ایک بار کورس بناکر مارکیٹ میں پیش کرنا ہوتا ہے اس کے بعد مارکیٹ میں آنے والے کسٹمرز کی مرضی پر ہے کہ وہ کورس خریدیں یا نہ خریدیں۔ یوڈیمی پر کاروبار کرنے میں ایک شدید نقصان یہ ہے کہ کورس ریفنڈ پالیسی 30 دن کا ٹائم دیتی ہے  اور کورس بیچنے والے کو اس پر کچھ بھی اختیار نہیں لہذا کورس بزنس یوڈیمی پر کرتے وقت اس چیز کا خیال رکھا جائے۔

اپنے طور پر اپنے کورسز بیچنے پر انسان خود اپنی مرضی کا مالک ہے۔ جسے چاہے جس ریٹ پر بیچے اور ریفنڈ کے معاملے پر پوچھ گچھ کرسکے تاکہ وجوہات جان سکے مگر یوڈیمی پر ایسا ممکن نہیں کیونکہ یوڈیمی والے اپنے کسٹمرز کا ڈیٹا کورس بیچنے والے کے حوالے نہیں کرتے۔ کوئی رابطہ ممکن نہیں سوائے کورس ڈیش بورڈ پر بات چیت کرنے کے۔ پرسنل معلومات رابطہ کے لیے صرف بونس لیکچر میں دی جاسکتی ہیں اور وہی ایک ذریعہ ہے اپنی دیگر سروسز ااور بزنس پروموٹ کرنے کےلیے جو کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے کہ مصداق ٹھہرتا ہے۔

یوٹیوب چینل چلانا بہت ہی تھکادینے والا معاملہ ہے اور یوٹیوب ایک بزنس ہرگز نہیں ہے بلکہ محض ٹائم گزاری کے لیے اچھی چیز ہے۔کبھی بھی کسی بھی پالیسی کے مدنظر چینل اسٹرائک بھیج کر ڈیلیٹ کردیا جاتا ہے اور ساری محنت منٹوں میں ختم شد! اپنے رسک پر یوٹیوب چینل چلایا جائے مگر بزنس کے طور پر نہیں۔ بزنس کو پروموٹ کرنے کے لیے یوٹیوب چینل چلانا ایک بہترین پالیسی اور اسٹریٹجی ہے۔

اگر آپ کو یوڈیمی یا فری لانسنگ یا دیگر کسی بھی موضوع پر مجھ سے ون ٹو ون سیشن پر بات کرنی ہے تو آپ مجھے اسکائپ پر میسج کرکے آن لائن میٹنگ بک کرسکتے ہیں۔

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد
Skype: realisticzee