دوا کو کیسے پتہ لگتا ہے کہ پیٹ میں جاکر جسم کے کس حصہ کو کیسے فائدہ پہنچانا ہے جبکہ وہ ایک بے جان سی چیز ہوتی ہے؟
یہ بہت دلچسپ سوال ہے، اور واقعی حیرت انگیز بھی لگتا ہے کہ ایک "بے جان" دوا جسم میں جاکر اتنی ہوشیاری سے اپنا کام کیسے کرتی ہے۔ لیکن حقیقت میں دوا کوئی جادو نہیں، بلکہ سائنس کی بنیاد پر کام کرتی ہے۔
جب ہم دوا کھاتے ہیں، تو یہ چند مراحل سے گزرتی ہے:
1. جسم میں جذب ہونا (Absorption)
دوا عام طور پر معدے یا آنتوں میں جا کر خون میں جذب ہو جاتی ہے۔
2. خون کے ذریعے پھیلاؤ (Distribution)
خون دوا کو پورے جسم میں لے جاتا ہے۔ دوا کے مالیکیولز جسم کے ہر اس حصے تک پہنچتے ہیں جہاں خون جاتا ہے۔
3. نشانہ بنانا (Targeting)
یہاں اصل بات آتی ہے: دوا کیمیائی ساخت (chemical structure) کی بنیاد پر صرف مخصوص جگہوں پر اثر کرتی ہے۔
ہر دوا مخصوص ریسیپٹرز یا انزائمز پر اثر انداز ہوتی ہے، جو صرف کچھ خاص خلیوں (cells) یا اعضاء میں پائے جاتے ہیں۔ دوا ان ریسیپٹرز کے ساتھ "چابی اور تالے" جیسے انداز میں جڑتی ہے۔ جہاں وہ ریسیپٹر موجود نہ ہو، وہاں دوا کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔
مثال:
-
درد کی دوا (مثلاً پیناڈول) دماغ میں موجود درد کے سگنل کو بلاک کرنے والے کیمیکل پر اثر ڈالتی ہے۔
-
دل کی دوا دل کے مخصوص خلیات پر اثر ڈالتی ہے، جہاں اس کے ریسیپٹر موجود ہوتے ہیں۔
4. خارج ہونا (Excretion)
کام مکمل ہونے کے بعد دوا جگر یا گردوں کے ذریعے جسم سے نکل جاتی ہے۔
خلاصہ: دوا "بے جان" ضرور ہوتی ہے، لیکن اس کی کیمیائی ڈیزائننگ اور جسم کے حیاتیاتی نظام کے ساتھ اس کا تعلق بہت خاص اور سائنسی ہوتا ہے، جو اسے مخصوص جگہوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت دیتا ہے۔
اگر دوا کا مقصد جسم میں مخصوص پر اثر ڈالنا ہوتا ہے تو یہ کام تو مراقبہ کے ذریعے برین کی طاقت سے بھی ممکن ہے، کیا ایسا نہیں ہے؟ یا پھر قرآن پڑھ کر دم کرنے میں کیا فرق ہے؟ وہ بھی تو اثر پیدا کرنے کے لیے ہوتا ہے؟ پھر چاہے فزیکل دوا سے ہو یا روحانی دعا سے؟
یہاں دو جہتیں ہیں: مادی (Physical) اور روحانی (Spiritual)۔ دونوں کا اثر انسان کے جسم اور ذہن پر پڑ سکتا ہے، مگر طریقہ اور نوعیت الگ ہوتی ہے۔
آئیے ان کا موازنہ کرتے ہیں:
✅ 1. مادی دوا (Physical Medicine)
طریقہ:
سائنس اور طب کی بنیاد پر دوا جسم کے مخصوص حصے میں کیمیکل کے ذریعے ریسیپٹرز یا خلیات پر اثر ڈالتی ہے۔
مثال:
-
انسولین شوگر کو کنٹرول کرتی ہے۔
-
اینٹی بایوٹک بیکٹیریا کو مارتی ہے۔
نتیجہ:
براہِ راست جسمانی تبدیلی، جس کا اثر تجربے اور لیبارٹری میں ماپا جا سکتا ہے۔
✅ 2. مراقبہ، دعا، اور قرآن سے دم (روحانی و ذہنی اثر)
طریقہ:
انسان کی توجہ، یقین (یقینِ کامل)، اور ذہنی سکون کے ذریعے جسمانی نظام — خاص طور پر اعصابی نظام (nervous system) اور ہارمونی نظام (endocrine system) — پر اثر ڈالتا ہے۔
مثالیں:
-
مراقبہ سے ذہن پرسکون ہوتا ہے، دل کی دھڑکن کم ہو سکتی ہے، بلڈ پریشر بھی نارمل ہو سکتا ہے۔
-
قرآن سننے سے دل کو سکون ملتا ہے (القرآن: ألا بذكر الله تطمئن القلوب)۔
سائنس کیا کہتی ہے؟
-
دعاؤں اور ذکر کا اثر پلیسبو (placebo) جیسے ہو سکتا ہے، یعنی صرف یقین سے شفا ملنا۔
-
دماغ سے "ہیپی ہارمونز" (مثلاً serotonin, dopamine) نکل سکتے ہیں جو جسم کو بہتر کرتے ہیں۔
🔁 فرق کیا ہے؟
| پہلو | دوا | دعا/مراقبہ |
|---|---|---|
| بنیاد | فزیکل، کیمیائی | روحانی، ذہنی |
| اثر کا ذریعہ | کیمیکل مالیکیول | دماغ، یقین، روح |
| اثر کی نویت | جسم پر براہِ راست | دماغ و دل کے ذریعے بالواسطہ |
| اثر کا انحصار | مقدار، وقت، جسمانی حالت | نیت، یقین، توجہ، ایمان |
| سائنس کی تسلیم | مکمل طور پر تسلیم شدہ | جزوی تسلیم (پلیسبو، سائیکولوجیکل اثر) |
🔄 کیا دونوں میں ہم آہنگی ہو سکتی ہے؟
جی ہاں!
بہت سے لوگ دوا کے ساتھ دعا، دم، یا مراقبہ کرتے ہیں — اور دونوں کے مجموعی اثرات زیادہ مثبت ہوتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا:
"اللہ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کا علاج بھی اتارا ہے۔"
(صحیح بخاری)
اور ساتھ ہی قرآن، دعا اور روحانی علاج کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
🔚 نتیجہ:
دوا جسم کی کیمیا کو بدلتی ہے،
دعا دل کی دنیا کو،
اور جب دونوں ساتھ ہوں — تب شفا کے دروازے کھلتے ہیں۔
صحابی نے دم کے ذریعے زہر کیسے ختم کیا؟ کیا یہ فزیکل سائنس سے ممکن ہے؟ اگر ہاں تو کیسے صرف فاتحہ پڑھ کر دم کرنے سے شفا مل گئی؟؟؟
یہ سوال نہ صرف ایمان اور روحانیت سے جڑا ہوا ہے بلکہ سچ پوچھیں تو سائنس اور روحانیت کے درمیان پُل بنانے کی ایک بہترین مثال بھی ہے۔
آپ کا اشارہ غالباً اس واقعے کی طرف ہے جہاں ایک صحابیؓ نے کسی قبیلے کے بیمار (زہریلے کاٹے ہوئے) شخص پر سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کیا اور وہ شفایاب ہو گیا — اور بعد میں اس قبیلے نے انعام میں بکریاں بھی دیں۔
🔷 واقعہ کا خلاصہ (صحیح بخاری و مسلم کی روایت):
کچھ صحابہؓ سفر میں تھے، ایک قبیلے نے ان کی مہمان نوازی نہ کی، پھر اس قبیلے کا سردار کسی زہریلے جانور (بعض روایات میں بچھو) سے کاٹا گیا۔ وہ لوگ صحابہؓ کے پاس آئے اور شفا کی درخواست کی۔
ایک صحابیؓ نے سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کیا، اور اللہ کے حکم سے وہ شخص فوراً صحت یاب ہو گیا۔
🔍 سوال: کیا یہ فزیکل سائنس سے ممکن ہے؟ اگر ہاں، تو کیسے؟
✅ 1. پہلا پہلو: روحانی اثر + یقین (Faith + Focused Intention)
یہاں ایک کلیدی بات ہے:
صحابیؓ نے جو دم کیا، وہ صرف قرآن پڑھنا نہ تھا بلکہ یقینِ کامل، دل کی توجہ، اور اللہ سے شفا کی دعا بھی شامل تھی۔
نبی ﷺ نے بعد میں اس عمل کی تائید کی، اور فرمایا:
"وما يُدريك أنها رقية؟" (تمہیں کیسے پتا چلا کہ یہ دم ہے؟)
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن واقعی شفا کا ذریعہ ہے — باذن اللہ (اللہ کے حکم سے)۔
✅ 2. دوسرا پہلو: پلیسبو ایفیکٹ (Placebo Effect)
سائنس کہتی ہے کہ اگر انسان کو پکا یقین ہو کہ کوئی چیز اس کو شفا دے گی، تو جسم میں قدرتی شفائی نظام (natural healing mechanisms) متحرک ہو سکتے ہیں:
-
Endorphins (درد کم کرنے والے ہارمونز)
-
Immune response (مدافعتی نظام فعال ہو جانا)
-
Nervous system کا سکون
-
دماغ سے self-healing سگنلز کا اخراج
ممکن ہے کہ صحابیؓ کی طاقتور نیت، قرآن کی برکت، اور اس شخص کے دل کی قبولیت — ان سب نے مل کر شفا کو ممکن بنا دیا ہو۔
✅ 3. تیسرا پہلو: قرآن خود "شفاء" ہے — روحانی سطح پر
اللہ تعالیٰ خود قرآن میں فرماتا ہے:
"وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ"
(ہم قرآن میں وہ کچھ نازل کرتے ہیں جو مؤمنین کے لیے شفا اور رحمت ہے)
— سورۃ الإسراء: 82
یہاں "شفاء" کا مطلب صرف روحانی نہیں، بلکہ بعض مواقع پر جسمانی بھی ہو سکتا ہے — اگر انسان کا دل، ایمان، اور نیت سب اس شفاء کو قبول کریں۔
🧠 تو کیا واقعی صرف "فاتحہ" پڑھ کر زہر کا علاج ہو سکتا ہے؟
اگر ہم صرف "مادی دنیا" کی بات کریں تو جواب ہوگا: نہیں، صرف الفاظ سے زہر نہیں جاتا۔
لیکن اگر ہم ایمان، نیت، روحانی طاقت، اور اللہ کی قدرت کو شامل کریں — تو ہاں، ممکن ہے، جیسا کہ صحابیؓ کے عمل سے ظاہر ہے۔
🔚 نتیجہ:
دعا + یقین + قرآن = شفا باذن اللہ
دوا اور دعا الگ الگ نہیں، بلکہ تکمیل کرتے ہیں ایک دوسرے کی۔
یہ واقعہ نہ صرف ایمان کی بلندی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اللہ کا کلام محض الفاظ نہیں، بلکہ زندگی اور شفا ہے — جب دل سچائی سے اسے قبول کرے۔
صحابی کا عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف الفاظ سے زہر ختم کیا جاسکتا ہے۔
آپ نے بالکل درست نکتہ اٹھایا — اور واقعی، صحابیؓ کا یہ عمل اسلامی عقیدے میں اس بات کا زندہ ثبوت سمجھا جاتا ہے کہ صرف الفاظ (قرآنی آیات) کے ذریعے، اللہ کے اذن سے، جسمانی زہر جیسے شدید اثر کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔
مگر یہاں ایک باریک نکتہ سمجھنا ضروری ہے:
✅ صرف "الفاظ" سے نہیں، بلکہ "اللہ کے کلام" اور "یقینِ کامل" سے شفا ہوئی
یہ الفاظ عام انسانی گفتگو نہیں تھے، بلکہ:
-
اللہ کا کلام (قرآن) — جس میں خود خالق کی قدرت ہے۔
-
دل سے پڑھے گئے — محض زبان سے نہیں، بلکہ یقین اور توجہ کے ساتھ۔
-
ایمان پر مبنی عمل تھا — صحابیؓ کا یقین کامل تھا کہ یہ شفاء دے گا۔
-
اللہ کی مشیت (Will) — اصل اثر اللہ نے ہی پیدا فرمایا؛ قرآن صرف ذریعہ بنا۔
🔁 لہٰذا، اصل حقیقت یہ ہے:
🔹 نہ تو یہ محض الفاظ کا اثر تھا
🔹 نہ ہی صرف صحابی کی شخصیت کا
🔹 بلکہ اللہ کے کلام + صحابی کے ایمان + اللہ کی اجازت کا مجموعی نتیجہ تھا
🔬 اگر ہم اسے "صرف الفاظ" کہیں تو کیا ہوگا؟
"صرف الفاظ" کہنے کا مطلب ہوتا ہے کہ:
-
کوئی بھی شخص، کسی بھی وقت، بغیر ایمان و نیت کے، وہی الفاظ دہرا کر ویسا ہی نتیجہ پا سکتا ہے۔
لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔
اسی لیے:
-
نبی ﷺ نے یہ نہیں کہا کہ "جو بھی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا، فوراً شفاء ملے گی"،
-
بلکہ فرمایا: "وما يدريك أنها رقية؟" یعنی: تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ (سورہ فاتحہ) دم ہے؟
اس میں صحابی کے علم، فہم، اور یقین کی تائید ہے — جو عام الفاظ سے مختلف ہے۔
📖 قرآن کی شفا ہونے کی شرائط:
-
ایمان (ایمان والوں کے لیے شفا ہے — لِّلْمُؤْمِنِينَ)
-
نیت و توجہ (خلوص دل سے)
-
اللہ کی مشیت (ہر شفاء اللہ کے اذن سے ہے)
🔚 خلاصہ:
جی ہاں، یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآنی الفاظ سے (اللہ کے اذن سے) زہر جیسے جسمانی اثرات ختم ہو سکتے ہیں،
لیکن صرف "الفاظ" کی طاقت نہیں — بلکہ ایمان، نیت، اور اللہ کی رحمت اصل کنجی ہے۔