بعض یونیورسٹیوں میں کتابوں کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل اسکلز بھی سکھائی جاتی ہیں اور بعض یونیورسٹیوں میں آپ کو صرف کتابیں پڑھائی جاتی ہیں اور اسائنمنٹ کے طور پر پریکٹیکل ٹاسک دیے جاتے ہیں۔
اگر آپ کا مقصد جاب کرنا ہے تو ایسی یونیورسٹی میں ایسی ڈگری حاصل کریں جس کو مکمل کرنے کے بعد لازمی جاب ملنے کے چانسز کم از کم 90 فیصد ہوں کیونکہ جاب والوں کی ڈیمانڈ الگ ہوتی ہیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد پریکٹیکل تجربہ نہ ہونے کی صورت میں وہ جاب نہیں دیتے۔ ایسی صورت میں انٹرنشپ ہوتی ہے۔ اگر مل جائے تو وارے نیارے ورنہ دور کے ڈھول سہانے رہ جاتے ہیں۔
اگر یونیورسٹی والے اپنے اسٹوڈنٹس کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل طور پر انہیں فیلڈ کے لیے تیار کرنے میں بھرپور مدد بھی کرتے ہیں تب ایسی صورت میں ایسی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنا سب سے بہتر ہے بشرطیکہ وہاں ایڈمیشن میرٹ کی بنیاد پر ہو اسٹوڈنٹ کی قابلیت دیکھ کر نہ کہ صرف ماضی کا پیپر والا ریکارڈ دیکھ کر جیسا کہ عام طور پر رائج ہے کیونکہ بہت سے اسٹوڈنٹس گھریلو ماحول کی وجہ سے ذہنی طور پر ڈسٹرب ہوتے ہیں تو وہ اسکول / کالج میں خراب مارکس حاصل کرجاتے ہیں جبکہ بعد میں وہی بچے اپنی ذہانت اور خداداد صلاحیتوں کی بدولت کامیاب ہوجاتے ہیں بغیر ڈگریوں کے اور اگر ایسے اسٹوڈنٹس کو یونیورسٹیوں میں موقع دیا جائے صرف ان کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے تو سونے پر سہاگا ہوگا۔
بہرحال کونسی یونیورسٹی میں اسکل سکھائی جاتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ آپ کو خود کرنا پڑے گا لہذا اپنی تحقیق مکمل کریں اور اس کے بعد فیصلہ کریں۔
بہتر یہی ہے کہ جس یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہو وہاں پر پڑھ کر نکلنے والے اسٹوڈنٹس کا کامیابی کا ریکارڈ دیکھا جائے کہ کتنے اسٹوڈنٹس باہر نکل کر پریکٹیکل طور پر کامیاب جارہے ہیں اور کتنے سڑک پر بیٹھ پر محض نوکری نہ ملنے کی گپیں مار رہے ہیں۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔