پانچ ہزار ڈالرز جلدی کمانے کے لیے سب سے بہترین طریقہ فری لانسنگ ہے کیونکہ اس کے ذریعہ فوری رزلٹ فراہم کرکے پانچ ہزار ڈالرز کمائے جاسکتے ہیں۔ کمانے کی رفتار کام کرنے والے فری لانسر کی صلاحیتوں پر منحصر ہے لہذا جتنا ایکسپرٹ لیول ہوگا اتنا جلدی اور اتنا زیادہ پیسہ کماسکتا ہے۔
دوسرے نمبر پر میرے تجربات کے مطابق یوٹیوب ہے ۔ اگر کسی کا یوٹیوب چینل چل پڑے تو اسے ماہانہ ہزاروں ڈالرز گھر بیٹھے صرف اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کرتے رہنے سے ملتے رہتے ہیں۔ اس کے لیے صبر اور حوصلہ کے ساتھ ویڈیوز بنانا لازمی ہیں مگر کامیابی کے چانسز اتنے آسان نہیں ہیں کیونکہ بہت سے یوٹیوبز مقابلہ پر اپنا کام کررہے ہیں اور اپنا کانٹینٹ اپ لوڈ کرتے ہیں۔ کوئی ایسی کیٹیگری منتخب کرنا جس میں مقابلہ بھی ہو اور رینکنگ کے چانسز بھی ہوں بہت مشکل ہے مگر ناممکن نہیں ہے۔
تیسرے نمبر پر میرے تجربات کے مطابق یوڈیمی پر کورسز بناکر بیچنے کا بزنس ہے۔ میں نے گزشتہ ماہ صرف یوڈیمی کورسز کے ذریعہ پانچ ہزار ڈالرز سے زیادہ ارننگ کی ہے۔
میرے رینفنڈ کو ہی اگر چیک کرلیا جائے تو وہ 15 ہزار ڈالرز سے زیادہ ہیں تو اس سے یوڈیمی پر ارننگ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اور یہ آمدنی صرف چند دنوں کے اندر ممکن ہوئی اللہ کے فضل سے۔
لہذا اگر آپ کو اپنے بزنس کو بڑھانا ہے اور کاروبار میں ترقی کرنی ہے تو آپ کو اپنی آن لائن دکان کھولنی پڑے گی اور بحیثیت بزنس آنر اس کو چلانا ہوگا جیسا کہ یوڈیمی پلیٹ فارم یعنی مارکیٹ پر اپنی کورسز کی دکان سجاکر بیٹھ جانا اور محنت جاری رکھنا۔
جبکہ فری لانسنگ بزنس کے لیے آپ کو کلائنٹ تلاش کرنے پڑتے ہیں اور اگر آپ اپنے بزس کے لیے یوٹیوب چینل چلاکر کامیاب ہوجائیں تو لوگوں کی نظریں آپ کے کاوربار کی پہچان پر پڑیں گی اور اس کے بعد آپ کے وارے ڈبل نیارے ہوجائیں گے کیونکہ لوگ آپ سے سروس بھی لینا پسند کریں گے اور یوٹیوب چینل والے بھی آپ کو اشتہارات کی مد میں ڈالرز میں آمدنی بھیجا کریں گے۔
پاکستانی آمدنی کے اعتبار سے صرف 5 ہزار ڈالرز موجود ہ ریٹ کے مطابق 13 لاکھ 87 ہزار روپے کچھ رقم بنتی ہے۔ یہ ایک پاکستانی فری لانسر کے لیے بہترین رقم ہے جو فری لانسنگ بزنس کے ساتھ ساتھ اپنے دیگر بزنس آن لائن شروع کرنا چاہتا ہو۔
فری لانسنگ بزنس میں خود کام کرنا پڑتا ہے جب آمدنی ملتی ہے جبکہ آن لائن کورسز بزنس میں ایک بار کورس بناکر مارکیٹ میں پیش کرنا ہوتا ہے اس کے بعد مارکیٹ میں آنے والے کسٹمرز کی مرضی پر ہے کہ وہ کورس خریدیں یا نہ خریدیں۔ یوڈیمی پر کاروبار کرنے میں ایک شدید نقصان یہ ہے کہ کورس ریفنڈ پالیسی 30 دن کا ٹائم دیتی ہے اور کورس بیچنے والے کو اس پر کچھ بھی اختیار نہیں لہذا کورس بزنس یوڈیمی پر کرتے وقت اس چیز کا خیال رکھا جائے۔
اپنے طور پر اپنے کورسز بیچنے پر انسان خود اپنی مرضی کا مالک ہے۔ جسے چاہے جس ریٹ پر بیچے اور ریفنڈ کے معاملے پر پوچھ گچھ کرسکے تاکہ وجوہات جان سکے مگر یوڈیمی پر ایسا ممکن نہیں کیونکہ یوڈیمی والے اپنے کسٹمرز کا ڈیٹا کورس بیچنے والے کے حوالے نہیں کرتے۔ کوئی رابطہ ممکن نہیں سوائے کورس ڈیش بورڈ پر بات چیت کرنے کے۔ پرسنل معلومات رابطہ کے لیے صرف بونس لیکچر میں دی جاسکتی ہیں اور وہی ایک ذریعہ ہے اپنی دیگر سروسز ااور بزنس پروموٹ کرنے کےلیے جو کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے کہ مصداق ٹھہرتا ہے۔
یوٹیوب چینل چلانا بہت ہی تھکادینے والا معاملہ ہے اور یوٹیوب ایک بزنس ہرگز نہیں ہے بلکہ محض ٹائم گزاری کے لیے اچھی چیز ہے۔کبھی بھی کسی بھی پالیسی کے مدنظر چینل اسٹرائک بھیج کر ڈیلیٹ کردیا جاتا ہے اور ساری محنت منٹوں میں ختم شد! اپنے رسک پر یوٹیوب چینل چلایا جائے مگر بزنس کے طور پر نہیں۔ بزنس کو پروموٹ کرنے کے لیے یوٹیوب چینل چلانا ایک بہترین پالیسی اور اسٹریٹجی ہے۔
اگر آپ کو یوڈیمی یا فری لانسنگ یا دیگر کسی بھی موضوع پر مجھ سے ون ٹو ون سیشن پر بات کرنی ہے تو آپ مجھے اسکائپ پر میسج کرکے آن لائن میٹنگ بک کرسکتے ہیں۔
لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد
Skype: realisticzee