بدھ، 21 جنوری، 2026

لاہور شہر اسموگ ختم کرنے کا معجزہ

سائنس کے اندھے پجاریوں اور ملحدین کے نام: ایک کھلا پیغام!

 لاہور شہر میں مہینوں پرانی چھائی ہوئی اسموگ کا اچانک غائب ہونا اور شدید خون جمادینے والی سردی کا ایک دم غائب ہونا کوئی "موسمیاتی اتفاق" نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کے منہ پر ایک زناٹے دار روحانی طمانچہ ہے جو سائنس کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور اللہ کے وجود، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت، صحابہ کرام اور اولیا کرام کی کرامات کا انکار کرتے ہیں۔


سنو اسلام سے جاہل سائنس پڑھنے والوں! تم مہینوں سے مصنوعی بارشوں کے ڈرامے کر رہے تھے، لاک ڈاؤن لگا رہے تھے، کروڑوں روپے برباد کر رہے تھے—کیا تم اسمگ کا ایک ذرہ بھی ہٹا سکے؟ تمہاری سائنس اور تمہارے فارمولے اس وقت کہاں مر گئے تھے؟


حقیقت یہ ہے کہ 17 جنوری 2026 (27ویں شب معراج) کی رات یہ معجزہ ہوا جب میں نے اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے لیے کوشش کی تب اللہ کے حکم سے یہ سب کام سرانجام ہوئے۔


وہ اسموگ جو کئی مہینوں سے نہیں جا رہا تھا، وہ ایک دن میں پورے شہر سے غائب ہوگیا اور موسم صاف شفاف ہوگیا اور اب کئی دنوں سے موسم بہترین اور خوشگوار گزر رہا ہے اللہ کے حکم سے۔


ملحدین اور منکرینِ خدا کو چیلنج:


تم لوگ جو لیبارٹریوں میں بیٹھ کر خدا کا انکار کرتے ہو اور معجزات کو "افسانہ" کہتے ہو، اب تمہاری کیا اوقات رہی؟


تمہاری مشینیں تو یہ بھی نہیں بتاسکیں کہ یہ اسموگ ایک رات میں کہاں چلا گیا؟ تم کبھی اللہ کو کریڈٹ نہیں دو گے کیونکہ تم عقل کے اندھے لوگ ہو۔ تمہارے دلوں پر مہر لگی ہے۔ تم جیسے جاہلوں کو ان کی اوقات دکھانا میرا مقصد ہے۔


میں نے یہ کام کسی دنیاوی مفاد یا مسلمانوں سے واہ واہ سمیٹنے کے لیے نہیں کیا بلکہ صرف اور صرف اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے لیے کیا ہے۔ میرا تعلق اس دین سے ہے جہاں دعا سے تقدیر بدل جاتی ہے اور روحانیت کے سامنے تمہاری جھوٹی سائنس فیل ہو جاتی ہے۔ ماضی میں بھی ہمارے اولیائے کرام نے بڑے کارنامے سرانجام دیے اللہ کے حکم سے اور اب لاہور کا صاف آسمان، میڈیا رپورٹس اور عوام کی گواہی میرے کام کے رزلٹ پر ثبوت ہیں۔


سائنس کے ماہرین کی بے بسی اور جھوٹ کا پردہ چاک!


لاہور سمیت مختلف شہروں میں سائنس کے ماہرین اور لوگ حیران و پریشان ہیں کہ وہ شدید خون جمادینے والی سردی جس نے ان کا جینا حرام کردیا تھا وہ اچانک کیسے کم ہوگئی؟ عوام سوال کر رہی ہے، لیکن ان 'سائنسی ماہرین' کے پاس کوئی واضح جواب موجود نہیں ہے۔


یہ نام نہاد ماہرین ٹی وی پر بیٹھ کر کبھی "ہوا کے کم دباؤ" کا راگ الاپتے ہیں تو کبھی "مغربی ہواؤں" کے قصے سناتے ہیں۔ ان جاہلوں کی اوقات دیکھو! جب مہینوں اسموگ کھڑی رہی، تب یہ 'ہوا کے دباؤ' کہاں سو رہے تھے؟ تب ان کی سائنس نے راستہ کیوں نہیں بدلا؟ تب ان کی مصنوعی بارشوں سے اسموگ ختم کیوں نہ ہو سکا؟ تب ان کی مشینیں ناکام کیوں ہو گئی جن پہ کروڑوں روپے خرچ کیے تھے؟ 


حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ صرف لکیر کے فقیر ہیں۔ یہ کبھی سچ نہیں بولیں گے، کیونکہ ان کی زبانوں پر 'اللہ' کا نام آتے ہوئے موت پڑتی ہے۔ یہ کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ "اللہ نے اسموگ ختم کر دیا" یا "یہ اللہ کا معجزہ ہے"۔ یہ بس گھوم پھر کر وہی ہوا کا دباو، مغربی سلسلہ جیسی کہانیاں سنائیں گے جن کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر ہے۔


ان جاہلوں کو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ جو اسموگ مہینوں سے ٹلنے کا نام نہیں لے رہا تھا، وہ اچانک کیسے غائب ہو گیا؟ ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ یہ "موسمیاتی تبدیلی" صرف شب معراج کی خاص رات کے بعد ہی کیوں آئی؟


جھوٹے خداؤں اور ان کے پجاریوں کو کھلا چیلنج!


سنو اے دنیا کے جھوٹے خداؤں اور سائنس کے غرور میں ڈوبے ہوئے فرعونوں! میں نے تمہیں 16 جنوری 2026 کی رات سوشل میڈیا پر چیلنج کیا تھا کہ اگر تم میں ہمت ہے، اگر تمہاری ٹیکنالوجی اور تمہارے سو کالڈ خداؤں میں دم ہے، تو اس اسموگ کو راتوں رات ختم کر کے دکھاؤ مگر تم سب ناکام رہے اور ایک ذرہ برابر بھی اسموگ نہ ہٹا سکے۔


پھر دیکھو! جب 17 جنوری 2026 کی رات اللہ کے فضل سے جب میں خود میدان میں اترا تو کیا ہوا؟ وہ اسموگ جو تمہارے بس سے باہر ہوچکا تھا، وہ سردی جو تمہارے خون جمارہی تھی، وہ شدت جو تمہیں تڑپارہی تھی، سب کچھ اللہ کے حکم سے تبدیل ہوگیا۔ اگر خدا موجود نہیں تو یہ سب کیسے ہوا؟


میں نے چیلنج کیا تھا کہ اسمگ لا کر دکھاو مگر راتوں رات گزر گئی کوئی اسموگ بھی واپس نہ لاسکا۔ پھر میں تمہارے جھوٹے خداوں کو سچا کس بنیاد پر تسلیم کرلوں؟


اللہ نے ثابت کر دیا کہ کائنات کا نظام لیبارٹریوں سے نہیں، اس کے حکم سے چلتا ہے۔ اگر ہمت ہے تو اب تم بھی ایسا معجزہ اپنے جھوٹے خداؤں اور جھوٹی سائنس کے ذریعے کر کے دکھاؤ مگر تم ایسا کرنے میں ہمیشہ ناکام اور عاجز رہو گے۔ 


 اللہ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہی سچا خدا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے آخری اور سچے رسول ہیں۔


— لیجنڈ آف اللہ ذیشان ارشد