اللہ کا ذکر کرنا منہ سے اللہ اللہ اللہ کرنا ہے یا اللہ کا ذکر کرنے سے مراد اللہ کے بارے میں غیرمسلموں کو بتانا اور اس کے بارے میں تعارف کروانا ہے؟ اللہ کے ذکر کی بہت تعریفیں سنی ہیں میں نے۔۔۔اللہ کا ذکر کرنے کی حقیقت کیا ہے؟
اللہ کا ذکر کرنا ایک بہت وسیع اور عمیق مفہوم رکھتا ہے، اور یہ مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ “ذکر” عربی زبان میں یاد کرنے اور یاد دہانی کے معنی میں آتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، ذکرِ الٰہی کا مقصد اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا، اس کی حمد و ثناء بیان کرنا، اور اپنے دل کو اللہ کی محبت اور خشیت سے معمور رکھنا ہے۔
اللہ کے ذکر کی دو اہم اقسام ہیں:
لسانی ذکر (زبانی ذکر):
یہ ذکر زبان کے ذریعے کیا جاتا ہے، جیسے “اللہ، اللہ” کہنا، “سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ” وغیرہ۔ یہ ایک روحانی عمل ہے جس سے دل کو اللہ کی یاد سے معمور کیا جاتا ہے اور ایمان کو تازہ کیا جاتا ہے۔ اس قسم کا ذکر آسان اور عام ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی بہت فضیلت بیان فرمائی ہے۔
مثال کے طور پر، قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“فاذکرونی اذکرکم”
(سورۃ البقرہ: 152)
“پس تم میرا ذکر کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔”
قلبی ذکر (دل کا ذکر):
یہ ذکر دل کے ساتھ اللہ کی یاد میں مشغول رہنے کو کہتے ہیں، یعنی ہر کام میں اللہ کی رضا کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے قریب ہونے کی کوشش کرنا۔ یہ ذکر دل کی گہرائیوں میں ہوتا ہے، اور اس کا مقصد اپنے دل کو دنیاوی علائق سے ہٹا کر اللہ کی محبت میں مشغول کرنا ہے۔
ذکر کا دوسرا پہلو: اللہ کی معرفت اور دعوت
ذکر کا ایک اور معنی ہے کہ اللہ کی معرفت اور اس کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچایا جائے، یعنی غیر مسلموں کو اللہ کے بارے میں بتانا، اس کی وحدانیت اور صفات کا تعارف کروانا۔ یہ بھی ذکر کی ایک صورت ہے، کیونکہ جب ہم دوسروں کو اللہ کے بارے میں بتاتے ہیں، تو دراصل ہم اللہ کی یاد کو ان تک پہنچا رہے ہوتے ہیں۔
ذکر کی حقیقت اور اہمیت:
ذکر الٰہی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک قریبی اور خالص تعلق قائم کرنا ہے۔ ذکر کا تعلق صرف زبان سے نہیں، بلکہ دل، عقل اور عمل سے بھی ہے۔ ذکر سے مراد یہ بھی ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ کو یاد رکھے، اس کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرے، اور دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے اس کی رہنمائی کے مطابق زندگی گزارے۔
حضرت محمد ﷺ نے ذکر کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے، اور ایک حدیث میں فرمایا:
“وہ شخص جو اللہ کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا، ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔”
(صحیح بخاری)
خلاصہ:
اللہ کا ذکر صرف زبان سے “اللہ اللہ” کہنا نہیں، بلکہ دل سے اللہ کو یاد کرنا، اس کی عبادت کرنا، اس کی صفات کو سمجھنا، اور اس کی رضا کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔ اور ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت اور اس کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانا بھی ذکر کی ایک اہم صورت ہے۔
ChatGPT