بے شک، شیطان اس بات کو جانتا ہے۔ اسی لیے وہ کوشش کر رہا ہے کہ دنیا کے تمام انسانوں کو غیر مسلم بنا کے زندگی گزارنے پہ مجبور کرے اور انہیں مسلمانوں کا دشمن بنائے تاکہ وہ تمام غیر مسلم ہمیشہ کے لیے شیطان کے ساتھ جہنم میں چلے جائیں۔
شیطان ایسا اس لیے کر رہا ہے کیونکہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو بنایا تھا تو فرشتوں اور جنات کو حکم دیا تھا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں تو شیطان نے انکار کر دیا تھا۔ اس وجہ سے اللہ نے شیطان کو اس کے اعلی عہدے سے ہٹا دیا تھا مگر شیطان نے اس کے باوجود اللہ سے معافی نہیں مانگی بلکہ مزید ہٹ دھرمی دکھائی اور قیامت تک کی مہلت مانگی۔
اللہ نے اس کو مہلت دی۔ اس کے بعد شیطان نے انسانوں کو بہکانا شروع کیا اور ان کے دماغوں میں یہ بات ڈالی کہ وہ پتھر کے بت بنائیں اور کتے بلی شیر گائے چاند سورج وغیرہ پوجا کریں۔ لوگوں نے ان کو خدا سمجھ کر ان کی عبادت شروع کردی اور اس طریقے سے شیطان نے الٹے سیدھے قسم کے جھوٹے خدا ایجاد کروائے اور دنیا کے انسانوں کو بے وقوف بناکر رکھ دیا۔
آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا کے چھ ارب سے زیادہ انسان غیر مسلم بن چکے ہیں اور وہ سب کے سب اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہیں۔ یہ سب کام شیطان نے کروائے ہیں۔ وہی ان انسانوں کے ذہن میں ایسے الٹے سیدھے خیالات ڈالتا ہے جس پر وہ سب عمل کرنے لگ جاتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے چھ ارب انسانوں کو جہنم میں لے جانے کے لیے اپنا غلام بنالیا ہے۔
دنیا کے تمام مسلمانوں کی کوشش کے باوجود، آج ایک ہزار چار سو سال بعد بھی اللہ کے فالورز کی تعداد بمشکل دو ارب ہے اور ان کی اکثریت بھی شیطان کا حکم مانتی ہے یعنی پریکٹیکل طور پر وہ سب بھی شیطان کے فالورز ہیں۔
لہذا مجموعی طور پر اللہ کو ماننے والے اور اللہ کا حکم ماننے والے سچے اور نیک مخلص مسلمانوں کی تعداد دنیا میں ایک فیصد بھی نہیں ہے جو کہ آٹھ ارب انسانوں میں سے آٹھ کروڑ مسلمانوں پر مشتمل تعداد بنتی ہے۔
کیا دنیا میں آٹھ کروڑ نیک سچے مخلص مومن بندے ہیں جو حقیقی طور پر اللہ والے ہیں؟
اگر ہاں تو وہ سب فلسطین/کشمیر/بوسنیا/چیچنیا/شام/عراق/افغانستان وغیرہ کے معاملے پر چپ کرکے کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟
کیا اس کا واضح یہ مطلب نہیں کہ شیطان نے اکثریت کو جہنم کے قابل بناکر رکھ لیا ہے تاکہ اپنے ساتھ سب کو جہنم میں لے کر چلا جائے؟