جمعرات، 22 مئی، 2025

جرات مند بنو مگر بدمعاش نہیں

1. حضرت ابوبکر صدیقؓ

جب کفر کے سرداروں نے نبی ﷺ کو نقصان پہنچانے کی سازش کی، حضرت ابوبکرؓ نے جرات دکھائی اور نبی ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔ مگر وہ کبھی ظلم یا بدتمیزی نہیں کرتے تھے، ہمیشہ اخلاق سے پیش آتے تھے۔


2. شیر اور لومڑی

ایک جنگل میں شیر جرات مند تھا، مگر اپنی طاقت کے باوجود کبھی بدمعاشی نہیں کرتا تھا۔ وہ دوسروں کا حق مارتا نہیں تھا بلکہ انصاف سے حکومت کرتا تھا۔


3. بچہ اور استاد

ایک طالب علم نے اپنے استاد کے سامنے غلطی کی نشاندہی جرات سے کی، لیکن نہ بدمعاشی کی، نہ گستاخی، بلکہ ادب سے بات کی۔


4. خاتون اور دکاندار

ایک عورت نے دکاندار سے جرات مند ہوکر کہا کہ اس نے غلط سامان دیا ہے، مگر وہ نہ بڑائی کی نہ بدتمیزی، بس حق کی بات کی۔


5. فوجی اور عام آدمی

فوجی نے دشمن کے خلاف بہادری دکھائی، مگر کبھی بے وجہ کسی کو نقصان نہیں پہنچایا، وہ جرات مند تھا مگر بدمعاش نہیں۔


6. طالب علم اور کلاس فیلو

کسی نے طالب علم کو چھیڑا، تو اس نے جرات سے مقابلہ کیا، لیکن بدتمیزی سے گریز کیا اور صرف اپنے حق کا دفاع کیا۔


7. والد اور بیٹا

والد نے بیٹے کو سمجھایا،
"بیٹے! جرات دکھاؤ، مگر اپنے اخلاق کبھی خراب نہ کرو۔ جرات اور بدمعاشی میں فرق ہوتا ہے۔"


8. کاروباری اور گاہک

کاروباری نے گاہک کی شکایت جرات سے سنی اور مسئلہ حل کیا، مگر نہ گالم گلوچ کی، نہ دھمکی دی۔


9. حکمران اور رعایا

حکمران نے اپنی رعایا کی بھلائی کے لیے فیصلے جرات سے کیے، مگر ظلم و زیادتی سے ہمیشہ پرہیز کیا۔


10. نوجوان اور سوشل میڈیا

نوجوان نے سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے خلاف جرات دکھائی، لیکن کبھی دوسروں کا مذاق نہیں اڑایا اور نہ ہی گالی دی۔


خلاصہ:

جرات مند وہ ہوتا ہے جو حق پر ڈٹا رہے، خوف نہ کرے، لیکن دوسروں کی عزت اور اخلاق کا خیال رکھے۔
بدمعاشی وہ ہے جو طاقت یا جرات کو غلط استعمال کرے اور دوسروں کو تکلیف دے۔