جمعرات، 22 مئی، 2025

مہربان بنو لیکن کمزور نہیں

کہانی 1: شیر اور خرگوش

ایک دن جنگل میں شیر کو اپنے زور پر بہت فخر تھا۔ وہ سب جانوروں پر راج کرتا تھا۔ لیکن ایک دن خرگوش نے شیر سے کہا،
"آپ جتنا طاقتور ہو، اتنے ہی مہربان بھی ہو۔"
شیر نے پہلی بار غور کیا اور اپنے غرور کو کم کیا۔ اب وہ نہ صرف طاقتور تھا بلکہ سب کے ساتھ شفقت سے پیش آتا تھا۔
جب کسی جانور کو مشکل پیش آتی تو شیر مدد کرتا، مگر جب کوئی اس کے یا جنگل کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا تو سختی سے قابو پاتا۔
شیر کی مہربانی اسے کمزور نہیں بلکہ سب سے زیادہ طاقتور بناتی تھی۔


کہانی 2: نیک استاد

ایک استاد اپنے شاگردوں سے بہت محبت کرتا تھا۔ وہ ان کی غلطیوں پر نرمی سے سمجھاتا، مگر اگر کوئی نظم و ضبط خراب کرتا تو سختی سے سبق سکھاتا۔
ایک دن ایک شاگرد نے استاد کو بتایا کہ وہ استاد کو سخت سمجھتا ہے۔ استاد نے مسکرا کر کہا،
"میں تم سے محبت کرتا ہوں، اسی لیے تمہیں صحیح راستہ دکھاتا ہوں۔ محبت کا مطلب کمزوری نہیں، بلکہ مضبوط رہنا بھی ہے۔"
شاگرد نے سمجھا کہ استاد کی مہربانی اور سختی دونوں اس کی محبت کا حصہ ہیں۔


کہانی 3: باپ اور بیٹا

ایک بیٹا اپنے والد سے کہنے لگا،
"ابا، آپ بہت سخت کیوں ہوتے ہیں؟"
والد نے کہا،
"بیٹا، میں تم سے محبت کرتا ہوں، اس لیے کبھی کبھی سخت ہونا پڑتا ہے تاکہ تم غلط راستے نہ جاؤ۔ محبت کا مطلب تمہاری کمزوری برداشت کرنا نہیں ہوتا۔"
بیٹے نے سمجھا کہ والد کی محبت میں جرات اور مضبوطی بھی شامل ہے۔


کہانی 4: بہادر لڑکی

ایک چھوٹی لڑکی اپنی گلی کے دوسرے بچوں کے ساتھ بہت مہربان تھی۔ وہ سب کی مدد کرتی اور ہر کسی کا خیال رکھتی۔
ایک دن کچھ بچے اس کی مہربانی کا غلط فائدہ اٹھانے لگے۔ لڑکی نے اپنی بات واضح کر دی کہ وہ مہربان ضرور ہے، مگر کمزور نہیں۔
وہ نہ صرف محبت سے بات کرتی بلکہ اپنی عزت کے لیے بھی کھڑی ہوتی۔
اسی دن گلی کے سب بچے اس کی عزت کرنے لگے کیونکہ وہ مہربان بھی تھی اور مضبوط بھی۔


کہانی 5: بادشاہ اور رعایا

ایک بادشاہ اپنے لوگوں سے بہت مہربان تھا۔ وہ ان کی مشکلات سنتا اور حل کرتا۔
لیکن جب کوئی ظلم یا زیادتی کرتا تو بادشاہ سختی سے اسے روکتا اور قانون کا نفاذ کرتا۔
لوگ کہتے،
"بادشاہ کی مہربانی ہمیں خوش رکھتی ہے اور اس کی مضبوطی ہمیں محفوظ۔"
بادشاہ کی یہ خوبی اسے ایک بہترین حکمران بناتی تھی۔


یہ کہانیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ:

  • مہربانی دل کو نرم اور رشتے مضبوط کرتی ہے،

  • مگر کمزوری کبھی برداشت نہیں کرنی چاہیے،

  • جرات اور مضبوطی کے بغیر مہربانی مکمل نہیں ہوتی۔