جمعہ، 31 اکتوبر، 2025

ایک امید کی آہٹ خوفزدہ عزت دار عورتوں کے لیے

یہ پوسٹ سوشل میڈیا سے ملی ہے۔ پہلے اسے پڑھو پھر میرا کمنٹ پڑھو اگر تم بھی معاشرے کے ہوس زدہ مردوں کے ہاتھوں ڈر اور خوف کا شکار بن چکی ہو۔

دن بدن بڑھتے ہوئے اس فعل کو روکنے کے لیے کون کون میرے ساتھ ہے

 — ایک راز دارانہ حوالہ

یہ کہانی مجھے میرے ایک جاننے والے نے دی، جو تفتیشی شعبے/خفیہ ادارے سے منسلک ہے۔ اُس نے کہا کہ یہ ایک خاتون کی اصل رپورٹ تھی — ثبوت کے ساتھ۔ وہی الفاظ میں تمہارے سامنے رکھ رہی ہوں۔ اور اب نادیہ خود کہتی ہے:

---

میرا نام نادیہ ہے۔

میں لاہور کے ایک عام سے محلے میں رہتی ہوں۔ گھر میں کچن، بچوں کی دیکھ بھال، ساری روزمرہ کی چھوٹی بڑی ذمّہ داریاں میری ہی  ہیں۔ میں نے اب تک بہت کچھ سہا ہے—شکایت کم، برداشت زیادہ۔ مگر آج تمہیں وہ دن بتاؤں گی جب میرا ایک عام سا دن میرے لیے ایک پورا بوجھ بن گیا۔

. میں نے بچوں کے ناشتے کے بعد بیٹے کے لیے اسکول کا لنچ تیار کیا، گھر کے برتن دھوئے، اور چیک کیا کہ کھانا پکانے کے لیے گھر میں لانے والے سامان میں سے کس چیز کی کمی ہے دکانوں پر آج کچھ سامان لینا ہے یا ایسے ہی گزارا ہو جائے گا۔ صبح کے یہ چھوٹے چھوٹے کام کسی بھی عام ماں کی طرح میرے لیے معمول تھے۔ میں نے بچوں کو اسکول بھیجا، پھر رکشہ پکڑا اور قریبی مارکیٹ کی طرف نکل گئی۔

بازار میں رش تھا۔ عورتیں، بچے، دکاندار، گاڑیاں—سب کا اپنا اپنا کام۔ میں ایک سبزی کی دکان کے پاس رک گئی اور کمِ قیمت والی سبزیاں لینے لگی۔ اچانک مجھے لگا کسی کی نظر میرے پیچھے جم گئی ہے۔ میں نے سیدھا منہ نہیں موڑا، بس ہاتھ آگے بڑھا کر پلاسٹک بیگ مضبوط کیا۔   —نہ ہی کوئی زور سے کوشش تھی—بس ایک ہاتھ سا گرد ہوتے ہوئے میرے کندھے کے قریب سے چھو کر گیا، پھر ہنسی کی طرح ہوا میں کھو گیا۔ میں نے سوچا شاید بیگ پکڑتے ہوئے کسی کا ہاتھ مس کر گیا ہو😔 ، مگر وہ نظر پھر بھی پیچھے کھڑی تھی—ایک آدمی، جو ہنستے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا اور میرے پاس سے گزرا۔ اس کے چہرے پر وہی اطمینان تھا جو مجھ جیسی عورت کے خوف پر مبنی ہوتا ہے۔

میں نے اندر کھنچ کر سانس لی، مگر دِل کے اندر ایک چِبھن سی رہ گئی۔ یہ بات ایک لمحے کی بھی سہی، مگر تب سے میرا دماغ تھرتھرا رہا تھا۔ میں نے اپنے آپ کو منایا: "چلو، کام کر کے واپس آتی ہوں"۔

اسکول پک اپ اور بڑھتی ہوئی بے آرامی

دوسرا واقعہ شام کو ہوا، جب میں بچے کو اسکول سے لینے گئی۔ بچے کے ساتھ چلنا کوئی کمال کا کام نہیں، مگر شہر کی سڑکیں عموماً ایسی ہوتی ہیں کہ ایک ماں کی نظر اپنے بچے پر ہی ہوتی ہے۔ اسکول کے باہر ایک بندہ بار بار میری طرف عجیب نظروں سے دیکھتا ہوا ا رہا تھا—پہلے  دور، پھر قریب۔ اس نے کسی بھی شکل میں ہاتھ بڑھایا نہیں مگر اس کی نظریں بتا رہی تھیں کہ وہ ایک نقشہ بنا رہا ہے: کون سی گلی سے میں جاؤں گی، کون سی بس میں بیٹھوں گی۔ جب ہم بس کے قریب پہنچے تو اسی آدمی نے بس کے اندر ہاتھ رکھ کر آگے سے مجھے ٹکرایا😔 — اتنا معمولی کہ لوگ نہ سمجھیں، مگر اتنا کافی کہ میرے بازو میں کانپ سی آگئی۔ بچے نے پوچھا، " ماما، کچھ ہوا؟" میں نے ہنستے ہوئے کہا، "نہیں بیٹا، کچھ نہیں"—لیکن اندر کا خوف بڑھتا گیا۔

میں نے سوچا—کیا میں سیکڑوں چیزیں برداشت کرتی رہوں؟ مگر گھر کے حالات، بچوں کی ذمہ داریاں، اور لوگوں کا وہ سوال—"کیا تم نے کچھ کہہ دیا؟"—یہ سب مل کر مجھے چپ  کرا دیتے ہیں۔ پھر بھی، اپنے اندر ایک نگاہ تھی جو کہتی تھی کہ یہ ٹھیک نہیں۔

 ہم سے دو گلیاں چھوڑ کر ہمارے ایک رشتہ دار کا گھر تھا انہوں نے ہمیں اپنے گھر دعوت پر مدو کیا تھا چونکہ گرنزدیک تھا اور ماشاءاللہ سے ایک بائک پر سب بچوں کا اور میرا پورا انا مشکل تھا تو ہسبینڈ الگ ایک بچے کو بٹھا کر چلے گئے اور واپسی پر میں اپنے تین بچوں کے ساتھ پیدل ارہی تھی — رشتہ دار کے گھر سے واپسی اور وہ لمحہ

رات کو میں اپنے رشتہ دار کے گھر سے واپس آ رہی تھی۔ ۔ راستہ سنسان تھا مگر گھر والوں کا خیال تھا کہ رات کے اس وقت جانا خطرناک نہیں کیونکہ ہمارا گھر کوئی ویران جگہ پر نہیں تھا چہل پہل والا علاقہ تھا۔ ، بیگ ہاتھ میں تھا، اور فون بیگ میں بند تھا۔ اسی دوران ایک دو لڑکے ایک موٹر سائیکل پر آئے دیکھنے میں اچھے گھر کے نوجوان لڑکے تھے—پہلے وہ معمولی سی آوازیں نکال رہے تھے، پھر انہوں نے آہستہ آہستہ  پاس سے گزرتے ہوئے میری طرف 😔بدتمیزی کرنے کی کوشش کی۔ اس دفعہ ایک نے ہاتھ بڑھایا—بہت ہلکے سے، مگر جان بوجھ کر—اور میرا جسم سنبھل گیا۔ بچے کا خیال تھا کہ یہ وہی عام شہر کی باتیں ہیں، مگر میرے اندر ایک سیڑھی سی ٹوٹ گئی۔

میں نے اپنی آواز دبا کر چپ ساتھ لی لیکن  انکھیں انسوں سے بھر گئی—بچوں کی وجہ سے، آئندہ سوچ کر، اور ایک عورت کی وہ دیرینہ عادت کہ ’بولنے سے مسائل بڑھیں گے۔‘ میں نے خود سے کہا، "بس، آئندہ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی"—مگر ان الفاظ کی قوت کم تھی، کیونکہ کس کے سامنے، کس طرح؟

میں نے جب گھر پہنچ کر سوچا تو رات بھر وہ منظر آنکھوں سے نہیں گئے ہاتھ لگا کر جانے والوں میں کچھ لوگ ایسے بھی بارش تھے جن کو دیکھ کر انسان ادب سے انکھیں اور سر جھکا لے کچھ بچے تھے کہ جن کو ہم اپنی اولاد کہہ سکیں ہمارے بچوں جتنے بچے میں بہت ٹوٹ چکی تھی لیکن چونکہ ٹوٹنے کے بعد انسان میں سنبھلنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے میں نے بہت سوچا پھر میں نے کوئی فیصلہ کیا۔ میں نے اپنے پاس موجود چھوٹے چھوٹے نوٹس، وقت، جگہ، اور اگر کوئی تھا تو گاڑی کی تفصیل نوٹ کی۔ پھر میں نے ایک جاننے والے کو فون کیا جو واقعی تفتیشی ادارے میں کام کرتا ہے۔ اس نے بڑے صبر سے میری کہانی سنی اور کہا، "یہ چھوٹی چیزیں ہی بعد میں بڑا مسئلہ بن جاتی ہیں۔ ثبوت جمع کرو، ہم دیکھیں گے۔"

میں نے ہمت کی اور پولیس اسٹیشن جا کر رپورٹ درج کروائی—میں نے جتنا بتا سکتی تھی اتنا بتایا۔ مگر میں جانتی تھی کہ شاید فوراََ کوئی کارروائی نہ ہو۔ اسی لیے میں نے اپنے پاس جو بھی ثبوت جمع کرنے شروع کیے کیونکہ یہ کام کوئی ایک دن کا تو تھا نہیں اور جب موبائل کھولتی تو ہر دوسری خبر پر یہی کچھ چل رہا ہوتا تھا—

سی سی ٹی وی فوٹیج — 

کچھ دن بعد وہ جاننے والا جس نے میری بات سنی تھی، مجھے ایک ویڈیو دکھانے آیا۔ وہ ویڈیو بازار کے ایک کیمرے کی تھی—ساتھ میں ایک دکان کے مالک کی گواہی بھی تھی۔ اس ویڈیو میں وہی موٹر سائیکل چلانے والے دو آدمی صاف نظر آئے، جن کی ایک ادائیگی، وہی نظریں، اور وہی حرکتیں تھیں۔ ویڈیو میں واضح تھا کہ انہوں نے کس وقت کہاں سے گزرا، کون سے راستے اختیار کیے، اور کس لمحے ایک نے میری طرف ہاتھ بڑھایا۔

جب میں نے وہ فوٹیج دیکھی تو میرا دل ایک ہی سانس میں بیٹھ گیا—دکھ کے ساتھ ایک عجیب سی طاقت بھی محسوس ہوئی۔ دل نے کہا، "دیکھا؛ تم نے ثابت کر دکھایا"۔ مگر وہی خوف بھی تھا کہ اگر لڑکے پکڑے گئے تو کون سی سزا ملے گی؟ کیا یہ دوبارہ ہوگا؟ مگر میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس کو خاموشی میں نہیں چھوڑوں گی۔

— کچھ نے کہا کہ اگر تم بھی اپنے اپ کو ڈھانپ کر نکلو تو کسی کی جرات نہیں کہ تمہیں ہاتھ لگا سکے کچھ نے کہا کہ تم جتنا بھی اپنے اپ کو کور کر لو کہ جب تک اگلوں کی انکھوں میں حیا اور عزت نہیں ائے گی تب تک کچھ نہیں ہوگا کچھ نے ساتھ دیا، کچھ خاموش رہے

جب میں نے یہ باتیں اپنے محلے والوں کو بتائیں تو مختلف ردعمل ملا۔ کچھ لوگوں نے کہا، "یہ تو نارمل ہوتا جا رہا ہے"، کچھ نے ہمدردی دکھائی اور ساتھ کھڑے ہوئے، اور کچھ نے طنزیہ تبصرے کیے۔ میرے خاندان میں بھی مختلف آوازیں آئیں—کسی نے کہا "شرمندگی نہیں"، کسی نے کہا "اب جتھہ بنانا خطرناک ہے"۔ مگر میں جانتی تھی کہ سب سے بڑا سوال یہی ہے: اگر آپ خود اپنی آنکھ سے غیر اخلاقی حرکت دیکھیں تو کیا کریں گے؟

  — نادیہ کی آواز سے پکار

میں تم سے براہِ راست کہتی ہوں—جو بھی یہ پڑھ رہا ہے: اگر تمہیں کبھی اپنی آنکھوں سے ایسا کچھ نظر آئے تو رک جاؤ۔ ویڈیو بناؤ، موبائل نکالو اور ریکارڈ کرو، اور فوراً پولیس یا قریبی دکان داروں کو بتا کر اس شخص کو پابند کرو۔ بہت سی بار یہی ویڈیو اور فوراً کی گئی گرفتیں بعد میں ثبوت کا کام دیتی ہیں۔ خاموشی اس ظلم کو فروغ دیتی ہے۔

میرے پاس یہ طاقت اس لیے آئی کہ میرے پاس ثبوت تھے—اور ایک جاننے والے کی مدد تھی۔ مگر ہر عورت کے پاس یہ موقع نہیں  ہوتا ہے۔ اسی لیے میں تم سے کہتی ہوں:

جب بھی تم کسی غیر اخلاقی حرکت دیکھو، ریکارڈ کر لو؛

اگر ممکن ہو تو ملحقہ دکان داروں یا مردوں کو آواز دو کہ آ کر دیکھیں؛

فوراً پولیس کو اطلاع دو اور موقع پر موجود لوگوں سے گواہی  لو؛

اگر بچے یا دوسری عورتیں وہاں ہوں تو پہلے اُن کی حفاظت کر لو؛

اور اگر تم خود ایسی چیز کا شکار ہو تو شرمندگی مت کرو—تم خود قصوروار نہیں ہو۔

 — ایک امید کی آہٹ

میں یہ سب اس لیے لکھ رہی ہوں کیونکہ میرے اندر وہ دن پھر ابھر آتا ہے—ہر چھوٹی حرکت، ہر سرگوشی، ہر رات کی تنہائی۔ مگر آج جب میں یہ الفاظ لکھ رہی ہوں تو میں چاہتی ہوں کہ ہماری گلیاں، ہماری مارکیٹیں، ہمارے راستے—سب امن کی طرف جائیں۔ اور تم جو یہ پڑھ رہی ہو، تم بھی ایک چھوٹی سی روشنی بن سکتی ہو: ایک ویڈیو، اور اگر یہ تحریر اس انسان نے پڑھی ہے جو راستوں پہ پھرتے ہوئے چہرے سے شریف لگتا ہے لیکن حرکتیں ایسی کرتا ہے تو ان کو میں بتا دوں کہ ان کے گھر میں جو ان کی بیوی ماں بہن بیٹی ہے وہ سب بھی ویسے ہی دکھتی ہے اس کا جسم بھی ویسا ہی ہے جیسا ایک راہ چلتی دوسرے کی بیوی بہن اور بیٹی کا ہے ایک آواز، ایک گرفت—یہ سب کافی ہیں۔

یہ کہانی مجھے میرے ایک جاننے والے نے ثبوت کے ساتھ دی تھی—اور میں نے اُس کی زبان میں وہی الفاظ آپ کے سامنے رکھ دیے۔ اگر تم نے کبھی کچھ دیکھا تو خاموش مت رہنا؛ ویڈیو بناؤ، مدد کرو، اور ذرا سی ہمت دکھاؤ۔ یہ شہر، ہماری سڑکیں، ہم سب کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔

— نادیہ

اب میرا کمنٹ پڑھو

میں نے تو بسوں میں سفر کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کہ میں تنگ آچکا تھا ان لڑائی جھگڑوں سے اور عورتوں کی خاموشی سے۔ پوری بس میں اکیلا چیخ رہا ہوتا تھا، ڈیفینڈ کررہا ہوتا تھا، اس مردود کے خلاف بولتا تھا جو غلط حرکات کرتا تھا اور میں نوٹس کرتا تھا مگر پوری بس کے مرد حضرات شکل دیکھ رہے ہوتے تھے اور میں، وہ چھوٹا سا ایک بچہ تب کا، سمجھتا تھا شاید کہ میں ہی غلط ہوں۔ جب خواتین ہی چپ سادھ لیں اور ان کے لیے بولنے والے پر بھی کھڑی نہ ہوسکیں اور جس کے لیے آواز اٹھاو وہی بزدلی کی چادر تان لے تو مجھ جیسا اس وقت کا بچہ کس کس سے لڑے گا؟

آج الحمدللہ، جان چھڑاچکا ہوں اس معاشرے کی ان غلاظتوں سے اور ان راستوں سے اور ان بسوں سے مگر میں جانتا ہوں کہ آج میری جوانی کے دور میں، وہ راستے وہ بسیں اور وہ بازار پہلے سے زیادہ عبرتناک ہوچکے ہیں جس کا اندازہ مجھے میڈیا پر خبروں سے ہوتا رہتا ہے۔

میں جانتا ہوں ان لوگوں کو کیسے لگام ڈالی جاسکتی ہے۔ میں چاہوں تو ایسے ایسے جال بچھادوں کہ یہ لوگ اپنی موت آپ مرجائیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ادارے والے ہی اگر کچھ نہ کرنا چاہیں تو پھر کون کیا کرے؟

جب پولیس کا ملازم کسی عورت کا ریپ کرتا ہے

جب ڈاکٹر اپنی نرس کا ریپ کرتا ہے

جب جج کسی کا ریپ کرتا ہے

جب وکیل کسی کا ریپ کرتا ہے

جب آرمی آفیسر کسی کا ریپ کرتا ہے

جب حکمران کسی کا ریپ کرتا ہے

تب کوئی آواز اٹھانے کی جرات کرسکے گا؟

انہیں تو اللہ ہی ذلت کی موت دے گا

تب جاکر ہوش ٹھکانے لگیں گے کہ اللہ کا عذاب کیا چیز ہے۔

عورتیں - بس "ہمت" سے بولنا سیکھِیں، اسلام کے مطابق ہر نامحرم سے "میٹھی آواز" میں بات کرنا بند کردیں۔ کام کی بات کریں ورنہ راستہ صاف کریں ۔ کوئی آگے بڑھے تو پتھر اٹھاکر سر پر ماریں، بے غیرت کو ڈر بہت ہوتا ہے ۔ کیمرے سے ڈرتا ہے - پلاننگ خوب کرتا ہے - پولیس سے ڈرتا ہے - ثبوتوں سے جان جاتی ہے - اپنے اپنے پاس خفیہ کیمرہ ریکارڈر ایپ موبائل میں انسٹال کرو - جب کسی سے ملنے جاو، تنہائی، آفس، باس وغیرہ تب موبائل سائلنٹ موڈ پر اسکرین آف کرکے ریکارڈر آن رکھو - ثبوت خود بنتے چلے جائیں گے۔ بعد میں اس کی ایسی تیسی کروادو۔

اس کے رشتہ داروں کو بتاو، لوگوں کو بتاو، عوام کو بتاو، اداروں کو بتاو مگر خود کو بھی مضبوط بناو - چپ رہو گی تو ماری جاو گی۔

عزت کی موت ذلت کی غلامی سے بہتر ہے۔