جمعہ، 14 نومبر، 2025

اگر آپ بچوں کو موبائل خرید کر دیں اور وہ اس پر گانے سنیں تو گناہ کس پر؟

گناہ 100% بچے کے اپنے عمل پر ہوگا — آپ پر نہیں۔

لیکن شرطیں ہیں، نیچے تفصیل موجود ہے۔


اصل اصول (شریعت کا قانون):

**“جہاں چیز کا اصل استعمال جائز ہو، وہاں دینے والے پر گناہ نہیں ہوتا۔

گناہ استعمال کرنے والے پر ہوتا ہے۔”**

موبائل
اصل میں حرام نہیں۔
اس کے حولال** استعمال** بھی ہیں:
— تعلیم
— رابطہ
— قرآن
— سیکھنا
— ایمرجنسی
— ہنر

اور حرام استعمال بھی ہیں:
— گانے
— فحش مواد
— گیمز میں برائی
— وقت ضائع

تو موبائل ذاتی طور پر برا نہیں۔
یہ صرف ایک آلہ (tool) ہے۔

لہٰذا:

✔ آپ نے “حرام مقصد کے لیے” موبائل نہیں دیا

✔ آپ نے “ضرورت / فائدہ” کے لیے دیا

✔ آپ نے “گانے سننے کے لیے” نہیں کہا

✔ آپ نے “منع بھی کیا” یا “حدود بھی بتائیں”

✔ پھر بھی وہ گانا سنتا ہے → اس کا اپنا گناہ


آپ کہاں گناہگار ہوں گے؟ (بہت اہم)

❌ صرف ایک صورت میں آپ شریکِ گناہ ہوں گے:

اگر آپ شعوری طور پر اس لیے موبائل دیں کہ:
“لو، گانے سن لو۔ انجوائے کرو۔”

یا
“تمہیں پتا ہے میرا بچہ فحش ویڈیوز ہی دیکھتا ہے، پھر بھی میں زبردستی اسے یہ چیز پہنچاؤں گا کیونکہ مجھے پرواہ نہیں۔”

یہ “گناہ پر تعاون” کہلاتا ہے۔

باقی ہر حالت میں —
آپ بری الذمہ۔


صحیح طریقہ (جو آپ کو ہر گناہ سے دور رکھتا ہے)

  1. موبائل جائز نیت سے دیں
    (تعلیم، رابطہ، ضرورت)

  2. واضح حدود بتا دیں
    (گانے نہیں، برے چینل نہیں، ٹائم کنٹرول)

  3. رہنمائی دیں
    (کیوں غلط ہے، قرآن و حدیث سے بتائیں)

  4. استعمال کی نگرانی رکھیں
    (وقتاً فوقتاً چیک)

  5. اگر غلط استعمال کریں → موبائل واپس لینے کا حق رکھتے ہیں

یہ سب کرنے کے بعد
اگر وہ پھر بھی سنیں →

آپ بالکل ذمہ دار نہیں۔

گناہ ان پر ہے۔

آپ کو ثواب ملتا ہے کہ آپ نے روکنے کی کوشش کی۔


خلاصہ کی ایک لائن 

“جائز مقصد کے لیے دیا گیا موبائل گناہ کا ذریعہ بن جائے تو اس کا بوجھ استعمال کرنے والے پر ہے، دینے والے پر نہیں — جب تک دینے کی نیت گناہ نہ ہو اور روکنے کی کوشش کی جائے۔”