جسے بھی ہمیشہ کے لیے کامیاب ہونا ہے، پیسہ کمائے اور غلبہ اسلام کا کام کرے اور اپنی ضروریات پوری کرے۔ بری خواہشات پہ کنٹرول کرے اور پیسوں کو سنبھال کے رکھے۔ان بے وقوفوں کو ہرگز مت دے جو پیسہ سوچ سمجھ کے استعمال نہیں کرتے بلکہ صرف فضول خواہشات پہ برباد کرتے ہیں۔ یہ بے وقوفی ہے کہ انسان محنت کر کے کمائے اور دوست احباب رشتہ دار وغیرہ اپنی فضول دنیاوی خواہشات میں اس کا وہ پیسہ برباد کردیں اور دن رات گناہوں کے کاموں میں مشغول رہیں جس کا پورا حساب وہ دے گا جس نے انہیں پیسہ دیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ غلط استعمال کر رہے ہیں۔
اللہ نے ضروریات پوری کرنے اور ٹیک کرنے کا حکم دیا ہے پیسہ بھر بھر کر ان جاہلوں اور بیوقوفوں پر برباد کرنے کا حکم نہیں دیا جو اپنی زندگی کا مقصد اس کے دین کی سربلندی کے بجائے اپنی دنیا مست ملنگ بنانے اور گھٹیا حرام کاموں میں ملوث ہوکر گزارنے پر استعمال کررہے ہیں۔
دیکھ لو اپنے ماں باپ کو، بھائی بہنوں کو، رشتہ داروں کو کہ ان کے روزمرہ کے کام کاج کیا ہیں؟ ان کاموں کو دیکھ کر ہی تمہیں ان کے کرتوتوں، ان کی باتوں کو سن کر تمہیں ان کی سوچوں اور خیالات کا علم ہوگا اور تم اپنے مستقبل کے لیے آسانی سے فیصلہ کرسکو گے۔
بے شک اکثر لوگ جہالت سے کام لیتے ہیں اور اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا جبکہ لوگ بلاوجہ اللہ سے شکوے شکایات لگاتے پھرتے ہیں اپنے گھٹیا کرتوتوں کو جاری و ساری رکھنے کے باوجود۔
اللہ اکبر