یہ دیکھو اس جاہل اور گنوار کو جس کو یہ بھی نہیں پتہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے اخری نبی ہیں اور اس کائنات کا بادشاہ اور مالک اور اقتدار کا شہنشاہ صرف اللہ ہے۔
اس جیسے جاہلوں کی سوشل میڈیا پہ کمی نہیں ہے۔ یہ وہ بغیرت ہیں جو اپنے ناجائز باپ کی اولاد ہیں۔ ان کی ماوں نے جب کئی مردوں کے ساتھ جا کے اپنا ریپ کروایا تھا تب ایسے ناسور پیدا ہوتے ہیں کیونکہ اللہ کسی پہ ظلم نہیں کرتا اور جب یہ شیطان کے کتے بنے ہوئے بھونک رہے ہوتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تو یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی رگوں کے اندر اور ان کے خون کے اندر حرام زدگی شامل ہے۔
اگر یہ اپنی عقل استعمال کرتا تو اس جاہل کو یہ پتہ ہونا چاہیے تھا کہ اسی قران کے اندر اللہ نے شہید مسلمانوں کے زندہ ہونے کا دعوی کیا اور اس زمین کے اندر اللہ نے لاکھوں سے زیادہ شہید مسلمانوں کی لاشوں کو خون کے ساتھ تر و تازہ رکھا ہوا ہے جس کے گواہ دنیا بھر کے اندر لاکھوں مسلمان اور غیر مسلم ہو چکے ہیں۔
اگر یہ جاہل اپنی عقل کو استعمال کرتا اور تھوڑی ریسرچ کر لیتا تو اس کو پتہ ہوتا کہ اللہ نے اسی قران کے اندر اسمان و زمین کی مخلوقات کا اس کے نام کی تسبیح کرنے کا بتایا ہے اور اس کا پریکٹیکل اکیسویں صدی میں اس نے اپنے نیچر کے لشکروں (درند پرند چرند) کے منہ سے اپنے نام کی گواہیاں دلوا کر ثابت کیا ہے اور اسی نے پھولوں پر پتوں پر بادلوں پر جانوروں پر پرندوں پر کیڑے مکوڑوں پر درختوں پر اپنے نام کے دستخط لکھ کر دکھائے اور اپنے آخری نبی محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بطور گواہی لکھ کر دکھایا لیکن ان غیر مسلموں کے جھوٹے خداوں نے مچھر کا پر تک نہیں بنایا اور نہ ان کی اوقات ہے کہ یہ اسمان و زمین کے درمیان ہوا میں اڑتے ہوئے بادلوں کو کنٹرول کر کے اس پر اپنی قدرت سے اپنے نام کو ظاہر کرسکیں۔
یہ کفار اسی بدچلنی میں، بے غیرتی میں اور کمبختی میں مریں گے اپنے حسد اور جلن اور بغض اور عداوت اور دشمنی کی وجہ سے اور اس لیے کہ یہ اپنی عقل کو استعمال نہیں کرتے۔
اگر یہ گدھا اپنی عقل کو استعمال کرتا بلکہ گدھے کی بھی توہین ہے اس کو گدھا کہنا، اگر یہ گدھے سے بدتر انسان جو کہ کتابوں سے لدا ہوا ہے، اپنی عقل کو استعمال کرتا تو اس کو پتہ ہوتا کہ اسی قران کے اندر اللہ نے ایک واقعہ بتایا ہے جس کے مطابق اس نے 100 سال بعد مردہ گدھے کو دوبارہ زندہ کر دیا تھا اور اس جاہل کو یہ پتہ ہوتا کہ اکیسویں صدی میں اللہ نے 20 سے زیادہ مردے زندہ کردیے اور اسی کے ہاتھوں پر زندہ کیے جو اس وقت خطاب کر رہا ہے۔
یہ کفار اکیسویں صدی میں ہونے کے باوجود بھی اس قدر جاہل اور گنوار ہیں اور باتیں کرتے ہیں کہ ان کے پاس سیٹلائٹ ہے اور ان کی ہر خبر پہ نظر ہے پر ان جاہلوں کی ہر خبر پر نظر تو کیا، ان کی تو مچھر تک پہ نظر نہیں ہے۔ یہ بالشتیے تمہیں کیا سکھائیں گے کہ سچا دین کون سا ہے؟ یہ تو خود گمراہ ہیں اور شیطان کے کتے ہیں۔ خود بھی جہنم میں جارہے ہیں اور تمہیں بھی لے جارہے ہیں۔
لہذا اس جیسے بغیرتوں کے ہاتھوں بے وقوف بننے کی ضرورت نہیں ہے اور میرے یوٹیوب چینل
Legend Muhammad Zeeshan Arshad
پہ جا کر ان مردودوں کا حشر دیکھ لو اور اگر انگریزی زبان میں زیادہ سننے کا شوق ہے تو میرے دوسرے چینل
Zeeshan the Legend
پہ جا کر ان کافروں کا حشر دیکھ لو میرے ہاتھوں اور دیکھو کہ کس طریقے سے یہ لوگ ذلیل اور رسوا ہوئے ہیں میرے ہاتھوں اللہ کے حکم سے
یہ ان کے سارے جھوٹے مذاہب کی اوقات ہے میرے سامنے۔ یہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک امتی کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور یہ بھونکنے آتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف؟؟؟ یہ سارے مل کے بھی جمع ہو جائیں تو میرے ہاتھ کی ہتھیلی کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے میرا کیا مقابلہ کریں گے؟
ارے ان کی تو اتنی بھی اوقات نہیں ہے کہ یہ اللہ کے بنائے ہوئے کتے کے بچے کا بھی مقابلہ کر سکیں۔ یہ ہے ان کے ٹوٹل نالج کی دو کوڑی کی اوقات۔
اللہ اکبر وللہ الواحد القہار
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
لیجنڈ آف اللہ واحد القہار
