جمعہ، 13 ستمبر، 2024

کافروں کی بدبودار سڑی گلی لاشیں عبرت کے نشان

 اللہ اپنے نیک مسلمانوں کی لاشوں کو خون سمیت تروتازہ رکھ کر اپنے دشمنوں کی لاشوں کو بدبودار کرکے سڑنے گلنے کے چھوڑ دیتا ہے۔ بے شک اللہ کافروں کو موت کے بعد عبرت کا نشان بنادیتا ہے۔ اللہ اکبر

وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ يُّقۡتَلُ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ وَّلٰـكِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ‏

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ، ان کو مردہ مت کہوبلکہ وہ زندہ ہیں ، مگر تم کو خبر نہیں

وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتًا ​ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُوۡنَۙ‏

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کو مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس، ان کو روزی مل رہی ہے

اللہ نے ان آیات میں اپنے راستے میں قتل ہو جانے والوں کو زندہ ڈکلیئر کیا ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ وہ جسمانی طور پر بھی زندہ ہیں کیونکہ جب ایک میڈیکل ڈاکٹر کسی مردے کو "مردہ" ڈکلیئر کردیتا ہے تو عام لوگ اس کے خلاف اسے زندہ ثابت نہیں کرسکتے۔ اسی طرح  جب اللہ اپنی راہ میں قتل ہو جانے والے "مردوں" کو "زندہ" ڈکلیئر کررہا ہے تو پھر اللہ کے فتوی کے خلاف کسی بھی میڈیکل ڈاکٹر، مفتی، عالم، قاری سمیت عام انسانوں کی اس بات کی کوئی اہمیت نہ رہے گی جو ان اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والوں کو "مردہ" ثابت کرنے کی کوششوں پر تلے ہوں لہذا یہ اللہ کا فتویٰ ہے جس نے تمام انسانوں کو زندگی دی ہے کہ وہ اپنی راہ میں قتل ہو جانے والوں کو "زندہ" ڈکلیئر کرچکا ہے۔

اب یہ زندہ کیسے ہیں؟ وہ اس طرح کہ ان کے جسم ان کی روحیں ان کے اندر سے باہر نکل جانے کے بعد بھی سڑنے گلنے سے محفوظ رہتے ہیں۔ ان کے جسموں کے اندر خون بھی تروتازہ حالت میں موجود رہتا ہے (بعض میں یا سب کی لاشوں کے اندر جس کی تحقیق ابھی باقی ہے)، ان کے بال اور ناخن بھی بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں (جتنا اور جس کے لیے اللہ چاہے) اور اس طرح زندہ انسانوں کے جسموں کی طرح ان کے جسم میں زندگی کے آثار واضح اور نمایاں ہوتے ہیں۔

اس کا ثبوت دنیا بھر میں نیک مسلمانوں کی قبروں کی کھدائی، قبر کشائی، زمینی حادثات کے سبب زمین اکھڑجانے، بارشوں سے قبروں کی سلیں ہٹ جانے یا آندھی طوفان زلزلوں کے سبب قبروں سے لاشیں باہر آجانے سے دنیا بھر کے ہزاروں لاکھوں مسلم و غیر مسلم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر کے ہیں۔

یہ اس بات پر واضح ثبوت ہیں کہ واقعی اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والے تمام نیک مسلمان جن کے جسم لاش کی صورت میں بوسیدہ ہونے سے محفوظ ہیں وہ درحقیقت اسی طرح زندہ ہیں جیسے ایک زندہ انسان سورہا ہوتا ہے مگر وہ شہید مسلم زندہ انسانوں سے کئی لاکھ گنا بہتر حالت میں زندہ ہوتے ہیں کیونکہ زندہ انسان زیادہ دیر تک سوجائے تو اس کا جسم بدبو چھوڑنے لگتا ہے، منہ سے بدبو آنا شروع ہو جاتی ہے، جسم کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے مگر تروتازہ لاشوں والے شہدائے اسلام کی جسمانی حالت اور کفن تک میں صدیوں خرابی یا بدبو پیدا نہیں ہوتی بلکہ ان کی حالت پہلے سے زیادہ بہتر ہونا شروع ہو جاتی ہے اللہ کے حکم سے

یہ ہے ان کی زندگی کی اصل حقیقت جسمانی طور پر جس کی طرف اللہ نے ان آیات کے ذریعے نشاندہی کی ہے۔ باقی جہاں تک روح کا تعلق ہے تو روحیں تمام مردہ انسانوں بشمول کفار و مشرکین و منافقین و مرتدین و ملحدین اور برے مسلمانوں کی ان کا انتقال ہوجانے کے بعد زندہ ہی رہتی ہیں لہذا ان آیات کا موضوع انسانی روح نہیں بلکہ انسانی جسم ہے۔

یہ سب میری تحقیقات کی بنیاد پر کچھ باتیں میں نے عرض کردی ہیں۔ اگر کسی کے پاس اس موضوع پر اس سے زیادہ بہتر ریسرچ موجود ہے تو وہ مجھے اس بارے میں ضرور آگاہ کرے۔ جزاک اللہ خیرا