اچھا انسان کبھی کسی کا برا نہیں چاہتا۔
وہ دل سے اچھا انسان ہوتا ہے لہذا اس کے پاس پیسہ ہو یا نہ ہو، غربت ہو یا امیری ہو، وہ دونوں صورت میں اچھا ہی رہتا ہے چاہے کوئی اس کے ساتھ کتنا ہی برا کرلے۔ خاص طور پر اگر اس کے ساتھ برا کرنے والے اس کے اپنے ہوں۔ وہ سب کو معاف کردیتا ہے۔ ان کا بھلا چاہتا ہے، ان کے لیے اچھائی کرتا ہے کیونکہ وہ خود اچھا ہوتا ہے۔
جبکہ دوسری جانب برا انسان ہوتا ہے۔ وہ اچھا کرنے والے کے ساتھ اس کی اچھائیوں کے باوجود برا کرتا ہے کیونکہ وہ برا انسان ہوتا ہے۔ اس کے دل میں اچھے انسان کے خلاف نفرت، زہر، حسد، جلن، بغض، عداوت، کینہ وغیرہ جیسے روحانی امراض کوٹ کوٹ کے بھرے ہوتے ہیں یعنی تکبر میں مبتلا ایک ہٹ دھرم انسان۔ ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ اچھے انسان کا برا ہوجائے۔ یہ اچھے انسان کی برائی کرنے، اس کا برا چاہنے اور اس کے لیے برا کرنے میں اپنی کوئی چال باقی نہیں چھوڑتے۔
ان کا جتنا بس چل سکے، یہ ہر اس حد تک گزرکر جاتے ہیں صرف اگلے انسان کو تباہ کرنے کے لیے۔ اگر اس پر بھی ان کا بس نہ چلے تو اسے ختم ہی کرکے دم لیتے ہیں مگر ایسے انسان پھر ساری زندگی پچھتاوے کی آگ میں جلتے کڑھتے رہتے ہیں، موت بھی بدترین ہوجاتی ہے اور آخرت بھی بدترین بن جاتی ہے۔
اور برا چاہنے والوں کے لیے برے انجام کے سوا ہوبھی کیا سکتا ہے اگر وہ خود کو بدلنا نہ چاہیں؟