جمعرات، 10 اپریل، 2025

کیا سائنس کو چیزوں کی وضاحت کرنے کے لیے اب بھی خدا کی ضرورت ہے؟

خدا کو جتنا کچھ بتانا تھا وہ اس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بتا دیا۔ اب دنیا کے تمام انسانوں کو قرآن کے ذریعے سیکھنا پڑے گا اور اپنی سائنس کو درست کرنا پڑے گا۔

اس لیے کہ یہ پوری کائنات اللہ نے بنائی ہے۔ اس میں موجود تمام علوم اللہ کے ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے جتنا چاہے علم عطا کر دیتا ہے۔ اپنے محدود علم کی وجہ سے کوئی اللہ کے قرآن پہ اعتراض کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

اگر کسی جاہل کو کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو اسے چاہیے کہ علماء سے رابطہ کرے اور اگر علماء اس قابل نہ ہوں تو پھر وہ خود ریسرچ کرے اور اپنے طور پر آگے بڑھے اور کوشش کرے گا تو اللہ اس کا دل و دماغ کھول دے گا اور اسے بات سمجھا دے گا۔

کیونکہ اللہ تمام انسانوں کو دیکھ رہا ہے اور ان کی کوشش بھی دیکھ رہا ہے اور وہی مدد کرتا ہے تب انسان کوئی چیز ایجاد کر پاتا ہے۔ پھر چاہے کوئی ایلن مسک ہو یا پھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہو، سب کے پیچھے کارنامے سر انجام دلوانے والا اللہ واحد القہار ہی ہوتا ہے ورنہ کوئی بندہ اس کے علم سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتا۔

اگر اللہ چاہتا تو پوری کائنات کے قوانین کی کتاب نازل کر دیتا اور فزکس کیمسٹری بائیولوجی خود ہی سکھا دیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ بہت ساری چیزیں اس نے انسانوں کے لیے چھوڑ دی ہیں تاکہ وہ تحقیق کریں اور ان کا تجسس باقی رہے۔ جو کچھ دنیا کے انسانوں کے رہنے کے لیے ضروری تھا معاملات میں، انصاف میں، لین دین میں، قوانین میں، وہ اس نے قرآن میں بتا دیا واضح طور پر اور اپنی کائنات کی اہم چیزوں کے حوالے سے اس نے نشاندہی کر دی ہے قرآن میں۔

اس کے علاوہ جن چیزوں کی وضاحت کی ضرورت تھی اس کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پریکٹیکل طور پر اور اپنے الفاظ کے ذریعے واضح کر دیا جسے حدیث کہا جاتا ہے۔

جو سائنس پڑھنے کے شوقین ہیں انہیں قرآن میں بہت کچھ مل جائے گا۔ اس کے بعد وہ اپنی تحقیق کو آگے بڑھائیں اور جو سائنس پڑھنے کے شوقین نہیں ہیں تو بے شک جاہل رہیں، اس میں اللہ کا کوئی نقصان نہیں۔

پھر چاہے علم حاصل کرنے کے لیے کسی سے بھی کچھ بھی سیکھیں۔ جس کے پاس زیادہ علم ہے اس سے اس کا علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چاہے وہ قیمت لے کر سکھائے،چاہے وہ محنت کروا کر سکھائے، چاہے وہ فری میں سکھائے، وہ اس کی مرضی کیونکہ وہ استاد ہے۔

اور سائنس کہتے ہیں کسی بھی چیز کے علم کو حاصل کرنے کو مشاہدے اور تجربات کے ذریعے لہذا ہر انسان کے پاس جو علم ہے وہ دراصل سائنس ہے۔ اس میں کسی خاص قسم کی کیٹگری بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

یہ تو لوگوں کی جہالت ہے کہ انہوں نے فزکس کیمسٹری بائولوجی جیسے علوم کو سائنس سمجھ لیا اور قرآن کو مذہبی علم سمجھ لیا ہے۔ جبکہ قرآن سائنس کے بادشاہ کی کتاب ہے۔

قرآن اس سائنس دان کی کتاب ہے جس نے پوری کائنات کو اکیلے تیار کرکے تمام مخلوقات کو سجایا ہے اور بنایا اور پھیلایا اور ان کے کھانے پینے کا اور پانی کا انتظام کرتا ہے۔ جو تمام علوم کو جانتا ہے۔ جو فزکس کیمسٹری بائیولوجی کمپیوٹر ٹیلی پیتھی جادو ایسٹرو فزکس، نفسیات، میڈیکل سائنس، اسپریچوئل سائنس، الیکٹرانکس اور پتہ نہیں کتنی فیلڈز کا ماہر ہے۔ وہ جو اینیمیشن، گرافک ڈیزائننگ، ایڈیٹنگ، کمپائلیشن اور دیگر نہ جانے کتنی صلاحیتوں کا ماہر ہے، اس کو ایک مذہبی خدا سمجھ کے رکھا ہوا ہے جسے سوائے حرام حلال کے کچھ آتا ہی نہیں۔

بے شک خدا سب کچھ جانتا ہے اور وہ سب کچھ ایکسپلین کر سکتا ہے لیکن جتنا اس نے ضروری سمجھا بتا دیا۔

اب سائنس کے پڑھنے والے بچے اپنی سائنس کو درست کریں اور اپنے علم کو بھی درست کریں اور جس چیز کا علم نہ ہو اس کو حاصل کریں یہی ان کے لیے بہتر ہے۔