میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ رات کے سناٹے میں رات کے 12 بجے ایک بجے دو بجے تین بجے اور کچھ بے غیرت تو صبح تک اپنا کنجڑ خانہ چلا کے رکھتے ہیں اور رات بھر کئی کئی گھنٹے الٹے سیدھے بےہودہ اور عجیب گھٹیا قسم کے گانے چلاتے ہیں۔
یہ میں نے کچی آبادیوں میں سنا ہے۔ ان آبادیوں میں جس پہ لوگ ترس کھاتے ہیں کہ یہاں کے لوگ بہت غریب ہیں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہاں کے لوگ غریب تو ہیں لیکن بہت سے لوگ ان کے اندر کنجڑ ہیں۔ بے غیرت ہیں ذلیل ہیں اور انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں ہیں۔
ایسے غریب ہونے پر لعنت بھیجنی چاہیے جو غریب ہونے کے بعد بھی گنہگار بنا ہوا ہے اور اللہ سے معافی نہیں مانگ رہا۔ بجائے یہ کہ اس کو اپنے برے عمل کو چھوڑنا چاہیے تاکہ اللہ اس کے حالات بدلے اور اس کو مالدار بنائے اور اس کے لیے آسانیاں پیدا کرے لیکن وہ بغیرت اپنی غریبی فقیری کو دیکھنے کے باوجود بھی دوسروں کی ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے۔
بھلا کسی جاہل اور بے غیرت پر میں کس قسم کا ترس کھاؤں؟ دل سے تو بددعا نکلتی ہے۔ اس لیے کہ ایک انسان رات کے وقت میں تاریکی میں سناٹے میں خاموشی میں مراقبہ کرتا ہے، اللہ کا ذکر کرتا ہے، توجہ کے لیے بیٹھتا ہے کہ وہ اللہ سے دل لگائے، کچھ باتیں کرے اور پڑوس کے کچھ کنجڑ تیز آواز میں گانے بجاتے ہیں اور اگر ان کو سمجھاؤ تو مزید ہٹ دھرمی سے اور بجاتے ہیں۔ اس لیے میں غریب آبادیوں کے کنجڑوں پر کوئی ترس نہیں کھاتا۔ یہ لوگ عذاب کے لائق ہیں اور اللہ ان کو برباد کرے۔
جو یہ کہتا ہے کہ نرمی دکھائی جائے۔ نرمی سے جہاں کام چلتا ہے وہاں نرمی دکھائی جاتی ہے ورنہ اگر صرف نرمی کی ضرورت ہوتی تو سزائیں نہیں رکھی ہوتیں اللہ نے دین اسلام میں۔
اگر کوئی ٹریفک سگنل کا قانون توڑ دے تو پولیس والا بھی چالان کرتا ہے۔ اس کی معافی تلافی نہیں چلتی۔ تو جب کوئی اللہ کے قانون توڑ رہا ہے تو کس بات کی اس کو معافیاں دی جائیں؟ نرمی دی جائے اس کو جب بے غیرتیاں دکھا رہا ہے، کنجڑ خانے چلا رہا ہے اور رات رات بھر بغیرتیاں مچاتا ہے؟
بات غریب اور امیر کی نہیں ہے۔ بات کنجڑ خانہ چلانے کی ہے۔ چاہے امیروں کی آبادی میں کوئی کنجڑ بنا ہوا ہو، چاہے غریبوں کی آبادی میں کوئی کنجڑ بنا ہو، جو کنجڑ بنا ہوا ہے وہ کنجڑ ہی ہے اور بغیرت ہے۔
جسے دوسروں کا احساس نہیں ہے، جو رات کی تاریکی میں تیز آواز میں گانے بجائے اور لوگوں کی نیند خراب کرے، لوگوں کی عبادت خراب کرے، ایسا بے غیرت جہنم میں جانے کے لائق ہے۔ کم سے کم میری نظر میں تو ایسا ہی ہے۔ اللہ اپنے جس بندے کو چاہے معاف کرے وہ اس کی مرضی لیکن میں ایسے بندوں کے خلاف بد دعا کرتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ ان کو بدترین عذاب ہو۔ ان کو فالج پڑے۔ ان کے ہاتھ پیر ٹوٹ جائیں۔ ان کے کانوں سے یہ بہرے ہو جائیں۔ ان پر دردناک عذاب آسمانوں سے نازل ہو اور یہ عبرت کا نشان بنیں۔ اس لیے کہ یہ دوسروں کو سکون سے رہنے نہیں دیتے۔
اللہ اکبر
لیجنڈ