ہم نبی کریم ﷺ کی دی ہوئی تعریف کی روشنی میں تکبر کو دو حصوں میں کہانیوں کے ذریعے سمجھتے ہیں:
🌟 تکبر کی دو اقسام (نبی کریم ﷺ کے مطابق):
1. بَطَرُ الْحَقّ (حق بات کو رد کرنا)
2. غَمْطُ النَّاس (لوگوں کو حقیر جاننا)
📚 حصہ اول: "حق کو رد کرنا" – 5 مختصر کہانیاں
1. علم نہ ماننے والا سردار
قبیلے کا سردار ایک عالم سے کہتا:
"تو مجھ سے چھوٹا ہے، تجھے کیا حق کہ مجھے دین سکھائے؟"
جب عالم نے قرآن کی آیت سنائی، وہ بولا:
"میں قبیلے کا رئیس ہوں، مجھے کسی کی بات ماننے کی ضرورت نہیں۔"
📌 سبق: وہ سردار تکبر میں حق بات کو رد کرتا تھا، اور یہی حقیقی تکبر ہے۔
2. فرعون کا انکار
حضرت موسیٰؑ نے فرعون کو اللہ کی وحدانیت کا پیغام دیا، لیکن وہ بولا:
"میں تمہارا رب ہوں سب سے بڑا!" (سورہ نازعات: 24)
📌 سبق: اس کا انجام عبرتناک ہوا، کیونکہ اس نے حق کو نہ مانا۔
3. ابو جہل کا غرور
نبی ﷺ جب اسلام کی دعوت دیتے، ابو جہل کہتا:
"میں قریش کا سردار ہوں، محمدؐ کو کیوں مانوں؟"
📌 سبق: اس نے نہ قرآن مانا، نہ رسولؐ کو، صرف غرور کی وجہ سے۔
4. شاگرد کی ضد
استاد نے کہا: "بیٹا، تمہاری بات غلط ہے، دلیل دیکھو۔"
شاگرد بولا: "آپ پرانا طریقہ پڑھاتے ہیں، مجھے سب پتہ ہے!"
نتیجہ: وہ ناکام ہوا۔
📌 سبق: علم میں بھی ضد اور حق نہ ماننا تکبر کی علامت ہے۔
5. بزرگ کو ناپسند مشورہ
ایک بزرگ کو کسی نے کہا: "یہ دوا آپ کے لیے بہتر ہے۔"
وہ بگڑ گئے: "مجھے سکھانے آیا ہے؟ میں نے عمر گزاری ہے!"
حالانکہ بات سچ تھی، مگر انہوں نے حق رد کر دیا۔
📌 سبق: عمر یا تجربہ ہونے کے باوجود، حق کو نہ ماننا تکبر ہے۔
📚 حصہ دوم: "لوگوں کو حقیر جاننا" – 5 مختصر کہانیاں
6. غریب نمازی
ایک رئیس مسجد میں داخل ہوا، صف میں ایک غریب بیٹھا تھا۔ رئیس نے کہا:
"یہ میرے برابر کیسے بیٹھا؟"
نماز کے بعد امام نے سورۃ الحجرات سنائی:
"بے شک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔"
📌 سبق: درجہ، مال، یا لباس کی بنیاد پر کسی کو حقیر سمجھنا کفرانِ نعمت ہے۔
7. سلیمان علیہ السلام کا انکسار
حضرت سلیمانؑ کو اللہ نے بادشاہی، علم، جنّ و انسان پر حکومت دی۔
مگر وہ کہتے:
"یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا نہیں۔" (سورۃ النمل: 40)
📌 سبق: طاقتور ہوکر بھی جو عاجز رہے، وہی اللہ کا محبوب ہوتا ہے۔
8. نوکر کو جھڑکنا
خاتون نے نوکر کو جھڑک کر کہا:
"تیری اوقات کیا ہے؟"
پاس ایک عالم سن رہے تھے، کہا:
"اوقات تو سب کی ایک ہے، کفن سب کا ایک سا ہوتا ہے۔"
📌 سبق: زبان سے دوسروں کو ذلیل کرنا غمط الناس یعنی تکبر ہے۔
9. حضرت عمرؓ کا غلام کے ساتھ چلنا
ایک بار حضرت عمرؓ بیت المقدس گئے۔ اونٹ پر کبھی وہ سوار ہوتے، کبھی غلام۔
لوگ حیران تھے۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا:
"اسلام نے ہمیں عزت دی، ہم عاجزی سے ہی رہیں گے۔"
📌 سبق: درجہ نہ دیکھو، انسانیت دیکھو۔
10. نماز میں صف بندی
ایک شخص صف میں کھڑا نہ ہوا، بولا:
"میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں کھڑا ہو سکتا!"
امام نے فوراً کہا:
"تو نماز نہیں، تکبر کر رہا ہے۔ صف میں سب برابر ہیں۔"
📌 سبق: مسجد کی صف سے لے کر دل کی نیت تک، سب جگہ عاجزی ہونی چاہیے۔
🌺 نتیجہ:
تکبر کی دو شکلیں نبی کریم ﷺ نے واضح فرمائیں:
حق کو رد کرنا
لوگوں کو کمتر سمجھنا
جو بھی یہ کرے، وہ خود کو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔