🌸 اسلام میں عورت کا عورت سے شرمگاہ کے بال صاف کروانا — ایک اصلاحی پیغام
اللہ تعالیٰ نے اسلام کو حیاء اور پاکیزگی کا دین بنایا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"الحياء شعبة من الإيمان"
یعنی حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے۔
(صحیح بخاری: 9)
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ پردہ صرف مرد و عورت کے درمیان نہیں،
بلکہ عورت اور عورت کے درمیان بھی ایک حد ہے۔
🔹 اسلامی حکم کیا ہے؟
فقہاء کے نزدیک عورت کے لیے عورت کے سامنے ناف سے گھٹنے تک کا حصہ ستر (یعنی چھپانے والا حصہ) ہے۔
یعنی اس حصے کو بلا ضرورت نہ دیکھنا جائز ہے، نہ کسی کو دکھانا۔
فقہی ماخذ:
الدر المختار مع رد المحتار (1/405)
الفتاویٰ الهندیة (5/357)
حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار (ص 43)
ان تمام کتب میں یہی اصول بیان کیا گیا ہے کہ:
"لا يجوز للمرأة أن تنظر إلى ما بين سرة امرأة وركبتها إلا لضرورة."
(یعنی عورت کے لیے عورت کی ناف سے گھٹنے تک دیکھنا جائز نہیں، سوائے ضرورت کے۔)
⚖️ بلا ضرورت یہ عمل حرام ہے
اگر کوئی عورت کسی دوسری عورت سے محض عادتاً، آرام کے لیے، یا فیشن کے طور پر
اپنی شرمگاہ کے بال صاف کرواتی ہے —
تو یہ ناجائز اور گناہ ہے،
کیونکہ اس میں پردہ کی خلاف ورزی اور حیاء کا نقصان ہے۔
ایسا عمل انسان کو اللہ کی ناراضی اور قیامت کے دن شرمندگی میں ڈال سکتا ہے۔
⚕️ کب گنجائش ہے؟
اسلام میں اگر کوئی سخت مجبوری یا طبی ضرورت پیش آ جائے،
تو صرف اتنا حصہ ظاہر کیا جا سکتا ہے جتنی واقعی ضرورت ہو۔
ایسی مجبوریوں کی مثالیں:
عورت بیمار یا معذور ہو اور خود صفائی نہ کر سکے۔
حمل یا زچگی کے آخری مراحل میں جھکنا ممکن نہ ہو۔
آپریشن یا زخم ہو جس سے نقصان کا خطرہ ہو۔
بزرگ عورت جس سے خود صفائی ممکن نہ ہو۔
طبی معائنہ (جیسے نرس یا ڈاکٹر) — تب بھی صرف ضرورت کے مطابق۔
فقہی اصول:
"الضرورات تبيح المحظورات"
(ضرورت بعض ممنوع چیزوں کو جائز کر دیتی ہے)
— [قواعد الفقه الكبرى للسيوطي، ص 88]
🌺 ڈاکٹرز اور نرسوں کے لیے خصوصی نصیحت:
اللہ نے آپ کو شفا دینے کا ذریعہ بنایا ہے،
لیکن شفا کا کام بھی پردہ اور حیاء کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے۔
جو عورت خود صفائی کر سکتی ہے،
اس کی شرمگاہ کے بال کسی دوسری عورت کا صاف کرنا شرعاً حرام ہے۔
اور اگر وہ مجبوری میں ایسا کر رہی ہے،
تو صرف ضرورت کے مطابق اور پردہ کے اہتمام کے ساتھ۔
💔 یاد رکھو بہن:
یہ وہ اعضاء ہیں جنہیں نبی ﷺ نے شرمگاہ کہا —
ان کا ظاہر کرنا بھی گناہ ہے اور دیکھنا بھی۔
ایسی غلط عادتیں اگر عام ہو جائیں تو امت کی حیاء ختم ہو جاتی ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"إذا لم تستحِ فاصنع ما شئت"
جب تم میں سے حیاء ختم ہو جائے تو پھر جو چاہو کرو۔
(بخاری: 3483)
🌷 نتیجہ:
❌ عام حالات میں: عورت کا عورت سے شرمگاہ کے بال صاف کروانا حرام ہے۔
✅ صرف سخت مجبوری یا طبی ضرورت میں: اجازت ہے، وہ بھی محدود حد تک۔
🎥 ویڈیوز
عورت کا دوسری عورت کی شرمگاہ کے بال صاف کرنا
https://www.youtube.com/watch?v=6PeMV5lShOs
💫 دعا کے ساتھ اختتام:
اللہ ہمیں حیاء، طہارت اور حدودِ شرعیہ کا پاس رکھنے والا بنائے،
اور جنہیں یہ بات پہنچے وہ عمل کرنے والی بن جائیں۔
آمین