پیر، 10 نومبر، 2025

قطر سے یورپ جانا پاکستان سے زیادہ آسان ہے!

 قطر سے یورپ جانا پاکستان سے زیادہ آسان ہے!

کیوں! حیران کرنے والی بات ہے نا؟
چار پیسے بھی کماو اور چند ملکوں کا فری ویزہ بھی حاصل کرلو جن ملکوں میں جارجیا بھی شامل ہے۔
میں بتاتا ہوں کیسے۔
یورپ، کینیڈا وغیرہ جانے کے صرف تین طریقے ہیں۔ پڑھائی، جاب یا سیر کےلئے جانا۔ ان میں پڑھائی کےلئے جانا سب سے آسان ہے کیونکے ویزہ 99.9 پرسنٹ یقینی ہوتا یے۔
اگر یورپ کے ورک پرمٹ کی بات کریں تو یہ 90% فراڈ ہے اور پاکستان سے یورپ کینیڈا وغیرہ وزٹ ویزہ پر جانا انکار ہی سمجھیں۔
وزٹ ویزہ پاکستان سے مشکل سے لگتا ہے۔
قطر ہی کیوں؟
آپکی عمر 45 سال سے زیادہ ہے تو پڑھائی کےلئے نہیں جا سکتے۔
ثمینہ کئی سال سے باہر پڑھائی کےلئے پیسے جمع کر رہی ہے لیکن یورپ، امریکہ یا کینیڈہ کا خواب پورا نہیں کرسکتی۔ بجٹ کم ہے۔
علی کو دیکھیں سٹڈی گیپ اتنا ہے کہ اسے عبور کرنا مشکل پھر یورپ کے وزٹ ویزہ کےلئے 2 بار رجیکشن بھی ہوگئی۔
ادھر کسی کی امی شادی کےلئے زور دے رہی ہے تو کسی کی بیوی بچوں کے مستقبل کی دہائی دے رہی ہے۔ کیونکے پاکستان میں تو کوئی مستقبل دکھائی نہیں دیتا۔
جاب سے گزارہ نہیں ہوتا، سیونگ زیرو ہیں اور مستقبل غیر یقینی۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آتا۔
اب اگر Study Visa بھی نہیں ہے اور نہ ہی یورپ کا وزٹ پاکستان سے لگتا ہے تو پھر قطر ہی حل ہے۔
یا دبئی، عمان اور سعودیہ۔۔۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
ہم ابھی تک پرانی سوچ میں ہیں کہ ویزہ لگے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
نہیں۔
اگر پلاننگ نہ کی تو سب اور خراب ہو جائے گا۔
اگر عمر زیادہ، یا بجٹ کم ہے تو راستہ بنائیں۔۔۔آہستہ آہستہ آپنی منزل کی طرف بڑھیں۔ آپ کا قطر کا ویزہ خود ایک طاقتور راستہ ہے۔
بس ہم درست راستہ اپنانے کی بجائے یہ سوچتے ہیں کہ “میری قسمت خراب”۔
ہنسی آتی ہے مگر سچ یہی ہے کہ ہماری قوم سارا دن ٹک ٹاک دیکھ کر دنیا بدلنے کا پلان بناتی ہے 🤦‍♂️
چلیں مسئلہ حل کرتے ہیں۔
اصل حل سامنے ہے:
قطر کا ویزہ آپکوآزاد کر دیتا ہے۔۔۔آپ اپنی مرضی کی جاب کریں۔ چار پیسے کمالیں اور اپنا بینک بیلنس بڑھا لیں۔ دو سال تک قانونی طور پر قطر میں رہیں اور ایک شاندار طرز زندگی انجوائے کریں۔
پھر اپنی قطر آئی ڈی آپکا ویزہ اپلائی کریں۔۔۔قطر آئی ڈی ایسی پاور فل ہے کہ اس پر آٹلی، فرانس،یونان، کینیڈا یا جاپان کا ویزہ 80-90% لگ جاتا ہے۔۔۔رجیکشن نہ ہونے کے برابر۔
کیونکے پروفائل سٹرانگ ہو جاتی ہے۔
ٹکٹ بھی سستی، ویزہ بھی تقریبا یقینی اور کسی اپوائنٹمنٹ کا کوئی جھنجٹ نہیں۔
یہ سب "قسمت" نہیں ہے، یہ طریقہ کار ہے۔ جسے آپ سیکھ سکتے ہیں۔
جو قطر میں ہے، اس کو یورپ تک پہنچنے میں آدھی سیڑھی پہلے ہی ملی ہوئی ہے۔
بس آگے چڑھنے کی جرأت چاہیے۔
آخر میں بس اتنا سوچ لو:
یا تو ایک سال درست پلاننگ کر کے نکل جاؤ،
یا پھر اگلے 5 سال وہی کینٹین، وہی روٹین، وہی سیاپہ زندگی۔
پارٹی ختم ہو چکی ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں کہ جو ویزہ میں چاہوں مجھے ملے گا۔۔۔
نہی بئی، نہیں۔۔۔پاکستان سے نکلنا ہی بڑی کامیابی ہے۔
لیکن
ہر ویزہ ہر ایک کےلئے نہیں ہوتا۔ سب کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ مکمل فروفائل کی جانچ کے بعد ہی ملک کا انتخاب کرنا چاہئے۔
ایک اچھی لیکن قانونی حکمت عملی
سے ہی آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔
اور یہ کامیابی صرف اسی کو ملتی ہے جو فیصلہ کرتا ہے۔
— The Professor Naeem 👨‍🏫