غربت اس لیے ختم نہیں ہوتی کہ وہ لوگ جنہوں نے مکاری اور فریبی سے اللہ کے وسائل پہ قبضہ کیا ہوا ہے وہ یہ نہیں چاہتے کہ دوسرے لوگ بھی ان وسائل کو استعمال کر سکیں۔
یہ لوگ بہت ہی چالاکی اور مکاری کے ساتھ اپنے ادارے بناتے ہیں اور پھر ان اداروں کے اندر ایسے لوگوں کو ہائر کیا جاتا ہے جو ان کے مقاصد کے لیے ان کی سپورٹ کریں اور یہ سب مل کر پھر غریبوں کو مارتے ہیں دبا کے رکھتے ہیں جیلوں میں بند کرتے ہیں حق کی آواز بلند کرنے والے کو ختم کر دیتے ہیں کسی کو بھی اس کے گھر سے اٹھا لیتے ہیں اور معاشرے کے اندر ڈر اور خوف کو قائم رکھتے ہیں۔
ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب تک لوگ ڈرتے رہیں گے سسکتے رہیں گے مرتے رہیں گے بلکتے رہیں گے بنیادی ضرورت سے محروم رہیں گے تب تک لوگ ان کے غلام رہیں گے اور ان کی سرداری چودہراہٹ قائم رہے گی۔
صدیوں سے یہی ہوتا آرہا ہے۔ اپنے مفاد کے لیے دوسرے کو دبا دو یا مار دو۔ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو مارا تھا اپنے مفاد کے لیے۔ لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی اپنے مفاد کے لیے۔ مکے کے کافروں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی سازشیں کی تھیں اپنے مفاد کے لیے۔
اسی طریقے سے امام ابو حنیفہ کو زہر دے کر شہید کیا گیا اپنے مفاد کے لیے۔ امام احمد بن حنبل کو کوڑے مارے گئے اپنے مفاد کے لیے۔ حضرت منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ کو شہید کیا گیا اپنے مفاد کے لیے۔
اور بات صرف یہیں پہ ختم نہیں ہوئی ہے، جن لوگوں نے مذہب سے ہٹ کر سائنس کے نام پر تحقیق کرکے اللہ کی بنائی ہوئی اس کائنات کے اندر سے ایسے اصولوں کو دریافت کیا جس کے ذریعے سے وہ لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتے تھے، ان لوگوں کو بھی چن چن کے مارا گیا اور یہ مارنے والے بھی وہی بغیرت لوگ تھے جو اس معاشرے پر اپنا ہولڈ قائم رکھنا چاہتے تھے۔
اور ان بیغیرتوں کی نسلیں آج بھی کام کر رہی ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو کبھی بھی پسند نہیں کریں گے کہ اگر یہ ایک محلے میں رہتے ہوں اور ان کے پاس طاقت ہو تو کوئی ان کی برابری بھی کر سکے۔
لیکن تم یہ دیکھو گے کہ یہ اپنی طاقت اور وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ناجائز قبضہ کرتے ہیں زمین پر، ناجائز تعمیرات کرتے ہیں، لوگوں کو دبا کے ڈرا کے رکھتے ہیں، ہر قسم کے وسائل جو میسر ہوں گے یہ اس کے اوپر قابو پا لیتے ہیں جبکہ باقی لوگ محروم رہتے ہیں۔
یہ لوگ تمہیں پولیس میں بھی ملیں گے، آرمی میں بھی ملیں گے، حکومت میں بھی ملیں گے، گاؤں دیہات میں بھی ملیں گے، گھروں میں بھی ملیں گے، پڑوسیوں میں بھی ملیں گے، اپنے رشتہ داروں میں بھی ملیں گے۔ الغرض یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مغرور ہوتے ہیں۔ دراصل یہ کافر ہوتے ہیں اور لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور یہ اللہ کے باغی ہوتے ہیں۔ یہ وہ غدار ہیں جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اسلام کے مطابق نہ تو خود زندگی گزاری نہ دوسرے کو گزارنے دیتے ہیں۔
ایمان والوں کو یہ ذلیل ترین بے وقوف قسم کے لوگ سمجھتے ہیں۔ اس لیے کبھی تم غور کرنا کہ جب اللہ نے نبیوں کو بھیجا تو ان پر ایمان لانے والے لوگوں کی جو اکثریت تھی وہ غریب اور کمزور لوگوں کی تھی۔ مالدار اور متکبرین قسم کے لوگوں نے تو انکار ہی کیا تھا بلکہ دشمنی کی اور ان کو گرفتار کر کے ختم کرنے کی کوشش بھی کی۔
یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ جو غریب طبقہ ہوتا ہے وہ تو ویسے ہی حالات کے مارے پسا ہوا ہوتا ہے، دبا ہوا ہوتا ہے، ٹراما کا شکار ہوتا ہے، ڈپریشن میں ہوتا ہے، طرح طرح کے مسائل کا اس کو سامنا ہوتا ہے، اسے تو کوئی بھی مسیحا مل جائے وہ اس کے پیچھے چل پڑتا ہے، کیونکہ اس بیچارے کو تو اپنی پریشانیاں ختم کروانی ہوتی ہیں۔ کبھی دعا کے ذریعے کبھی کسی اور چیز کے ذریعے لیکن یہ جو بغیرتوں کا طبقہ ہوتا ہے ان کے پاس وسائل ہوتے ہیں۔ پیسہ اور دولت سب کچھ ہوتی ہے۔ غرور ان کا اسمانوں پر ہوتا ہے۔ ان کو ایسا لگتا ہے یہ جو چاہیں گے وہ ہو جائے گا۔ جس چیز کی ڈیمانڈ کریں گے وہ پوری ہو جائے گی، اس لیے غریبوں کو اپنے پیر کی جوتی برابر بھی نہیں سمجھتے۔
کبھی بھی کسی مالدار کو پولیس والے کو ارمی افیسر کو جج کو وکیل کو اور دیگر اداروں میں کام کرنے والوں کو غور سے دیکھنا کہ یہ غریبوں کے ساتھ کس طرح سے پیش اتے ہیں؟ کسی یتیم مجبور مسکین کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں؟ اگر تمہیں نظر ائے کہ وہ اخلاق سے پیش ا رہا ہے، نرمی سے پیش ا رہا ہے، ان کے ساتھ اس طرح سے مل رہا ہے جیسے کہ ایک انسان ہے اور اپنی اکڑ میں نہیں ہے تو پھر سمجھ لو کہ اس کے اندر اللہ کا ڈر ہے۔
لیکن اگر معاملہ اس کے الٹ ہے اور وہ انہیں جھڑکتا ہے مارتا ہے ڈانٹتا ہے گالی دیتا ہے ہاتھ نہیں ملاتا دور ہٹتا ہے اور بھی بہت کچھ جو اس کے عمل سے پتہ لگ جائے گا تو پھر سمجھ لو کہ یہ دل سے کافر ہے اور عمل اس کی گواہی دے رہا ہے۔
اس لیے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم غریبوں کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے، مصافحہ بھی کرتے تھے، ان کے مسائل بھی سنتے تھے، ان کی مدد بھی کرتے تھے تو کوئی بھی انسان ان سے زیادہ تو افضل نہیں ہے تو پھر ان جیسے مردودوں کی کیا اوقات ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے؟
تو بہرحال میں نے تمہیں بتا دیا کہ غربت اس لیے ختم نہیں ہوتی کیونکہ جو چودہری وڈیرہ بنا ہوتا ہے، کبھی تم گاؤں میں دیکھ لینا یا فلمیں ڈراموں میں دیکھ لو کہ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کے گاؤں کے لوگ پڑھ لکھ جائیں، ترقی کریں اور آگے نکل جائیں کیونکہ پھر اس چودھری اور اس کے خاندان کا ان لوگوں پر سے ہولڈ ختم ہو جائے گا۔ لوگ پھر ان سے سوال کریں گے۔ پھر وہ لوگ اپنا حق مانگیں گے کیونکہ لوگوں کی اکثریت جاہل ہوتی ہے۔ اسے نہیں پتہ ہوتا دین کے بارے میں۔ اس لیے وہ لوگ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہونے کے باوجود بھی صبر کر کے ذلت کی زندگی گزارتے رہتے ہیں کیونکہ ان کو دو نمبری کا یہ سبق پڑھایا جاتا ہے کہ کوئی کچھ بھی کرتا رہے تم صرف صبر کرو تو نہ وہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں اور نہ ہی وہ حق کے لیے لڑتے ہیں جبکہ قران کے اندر اللہ نے مظلوم کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی اواز بھی بلند کر سکتا ہے اور بدلہ بھی لے سکتا ہے لیکن اتنا جتنا اس پر ظلم کیا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام نے جنگیں بھی کی ہیں، ورنہ جنگ کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ گھروں میں بیٹھے رہتے۔ سکون سے رہتے۔ صبر کرتے۔ شہید ہونے کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی؟ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہاتھوں میں تلواریں اٹھائی ہیں تب جا کر دین اسلام آگے پھیلنا شروع ہوا ہے کیونکہ کافروں نے تو صحابہ کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی تھی لیکن جنگوں کی وجہ سے کافروں کا زور اللہ نے توڑ دیا اور انہیں ذلیل و رسوا کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں۔
اور آخری بات کر کے ختم کرتا ہوں کہ جب تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے چند صحابہ کرام مکے میں چھپ کر تبلیغ کرتے تھے تو اس وقت ڈر خوف حکمت یا جو کچھ بھی تھا وہ موجود تھا۔ خاموشی سے کام ہو رہا تھا لیکن جب حضرت عمر فاروق نے اسلام قبول کیا تھا تو اپنی طاقت کا اظہار کیا تھا۔ کافروں کے سامنے کھڑے ہو کر للکارا تھا اور سب کو لے کر گئے تھے۔ کعبے میں کھڑے ہو کر عبادت کروائی تھی اللہ کی۔ اس کو کہتے ہیں طاقت کا صحیح استعمال۔ تو جب طاقت ہو تو اسلام کو طاقت دینی ہے اپنی طاقت سے اور کافروں کا منہ توڑ کے رکھ دینا ہے اور منافقین کو بھی تاکہ یہ بے غیرت اپنی ذلت اور خواری دیکھیں ایک ایمان والے کے مقابلے پر۔
اگر سارا کام صرف کلمہ پڑھ کر گھر میں بیٹھ کر عبادت کرنے سے ہو جاتا تو حضرت عمر فاروق کو باہر نکلنا نہ پڑتا اور تلوار ہاتھ میں نہ اٹھانی پڑتی۔ بات صاف ہے کہ فتح مکہ کے ٹائم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی پوری فوج لے کر آئے تھے۔ وہ الگ بات ہے کہ معاف کر دیا لیکن اس سے پہلے کی پوری ہسٹری موجود ہے کہ تلواریں، جنگیں اور شہادتیں موجود ہیں۔ بغیر قربانی تو وہاں پر بھی اسلام نہیں پہنچا تھا تو اج کل کے پدی اور پدی کے شوربے جو مذہبی جماعتیں چلا کر کہتے ہیں کہ ان کا سیاست سے کوئی واسطہ نہیں اور نرمی سے اسلام پھیلائیں گے اور اسلام تلواروں سے نہیں پھیلا، اس طرح کی باتیں جب یہ لوگوں کے دلوں میں ڈالیں گے تو بزدلی کی چادریں تان کر ہی لوگ سوتے رہیں گے اور انتظار کریں گے کسی مسیح کا جو اسمانوں سے نازل ہوگا کہ ان کے سارے مسائل حل کر دے لیکن خود انہوں نے کچھ نہیں کرنا۔
تو بس یہی ہو رہا ہے۔ غریب غربت میں پٹ رہا ہے اور امیر اپنی امیری کے اندر اضافہ کر رہا ہے اور وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کی دولت غریبوں کے ہاتھ میں چلی جائے ماسوا یہ کہ اس کی اپنی کوئی چال ہو جیسے ڈونیشن کے نام پہ یا غریبوں کو کھانا کھلانے کے نام پہ ڈرامے بازی کی جاتی ہے تاکہ مزید پیسہ ڈونرز سے حاصل کیا جائے۔