اگر لوگوں کو جیتنا ہے تو ہر انسان کے دل کی چابی پہچانو۔
لالچی کو نصیحت مت دو، اسے تھوڑا سا لالچ دو، یہی اس کا راستہ ہے۔ 
بیوقوف کو دلیل سے مت سمجھاؤ، اسے اپنی راہ پر چلنے دو، چاہے منزل تک پہنچے یا ٹھوکر کھائے، وہ خود سیکھے گا۔ 
عالم سے کچھ مت چھپاؤ، اسے سچائی دو، کیونکہ اس کی آنکھیں جھوٹ کے سائے بھی دیکھ لیتی ہیں۔ 
جو اکیلا ہے، اسے نصیحت نہیں، صرف ساتھ چاہیے، ایک ہاتھ پکڑ لو، دنیا جیت لے گا۔ 
بھوکا ہے تو تقریر مت دو، روٹی دو، اسی وقت بھوک اس کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ 
بچہ ہے، اسے اخلاقیات کا بوجھ مت دو، ایک کھلونا دو، وہی اس کی دنیا ہے۔ 
استاد کو علم مت دو، عزت دو، کیونکہ عزت ہی اس کا سب سے بڑا انعام ہے۔ 
ساس کو طعنے مت دو، میٹھے بول دو، کڑواہٹ خود ختم ہو جائے گی۔ 
شوہر کو ڈانٹ سے نہیں، سکون سے سمجھاؤ، اس کی دنیا دلیل سے نہیں، سکون سے چلتی ہے۔ 
بیوی کو ہیرے نہیں، توجہ دو، اس کا دل تمہارے وقت سے روشن ہوتا ہے۔ 
نوکر کو حکم سے نہیں، عزت اور اچھی تنخواہ دو، وہ وفادار ہو جائے گا۔ 
دوست کو تحفے نہیں، صرف تمہارا اعتماد چاہیے۔ 
دشمن سے مت لڑو، ہاتھ جوڑ دو، شاید وہ بھی نفرت سے تھک چکا ہو۔ 
اور محبوب کو ہزاروں الفاظ نہیں، صرف ایک وعدہ چاہیے:
میں تمہارا ہوں ہمیشہ کے لیے۔ 
ہر انسان کا دل ایک تالا ہے، بس چابی تلاش کرنے کا ہنر آنا چاہیے۔ 
از قلم ماہ نور فاطمہ