دنیا کی تاریخ ظلم و بربریت سے بھری پڑی ہے، اور ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو اپنی طاقت، اختیارات اور عہدے کا ناجائز استعمال کرکے کمزوروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ آج بھی بہت سے ایسے کردار ہمارے سامنے آتے ہیں جو وردی کے پیچھے چھپ کر ظلم و زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف قتل و غارت میں ملوث ہوتے ہیں بلکہ اغوا، ریپ اور دیگر گھناؤنے جرائم میں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ایسے ظالم اور جابر افراد معاشرے کے لیے ناسور ہیں جنہیں بے نقاب کرنا اور ختم کرنا ہر انصاف پسند انسان پر لازم ہے۔
صحابہ کرام اور ظالموں کے خلاف عدل و انصاف
اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے عظیم حکمران آج ہوتے تو ایسے ظالموں کے ساتھ انتہائی سختی سے نمٹا جاتا۔ حضرت عمرؓ کی خلافت میں عدل و انصاف کا جو معیار تھا، اس میں کسی بھی ظالم کو معاف نہیں کیا جاتا تھا، چاہے وہ کسی بڑے عہدے پر فائز ہوتا یا عام شہری ہوتا۔ حضرت عمرؓ نے ہمیشہ ظالموں کو سرِعام سزا دی تاکہ دوسروں کے لیے عبرت بنے۔
رسول اللہ ﷺ اور ظالموں کے خلاف شرعی احکامات
نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ عدل و انصاف کا حکم دیا اور ظالموں کے خلاف سخت سزائیں مقرر کیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
"لوگوں پر ظلم کرنے والا اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتا۔" (صحیح مسلم)
اسلامی شریعت میں ایسے لوگوں کے لیے سخت ترین سزائیں مقرر ہیں۔ اگر کوئی شخص قتل کرتا ہے تو اس کے بدلے قصاص (بدلے میں قتل) کا حکم ہے، اگر کوئی زنا بالجبر کرتا ہے تو اس کے لیے سنگساری یا کوڑوں کی سزا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"جو لوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کی سزا قتل ہے، یا انہیں سولی پر لٹکایا جائے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیے جائیں، یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔" (المائدہ: 33)
ایسے ظالموں کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟
عوامی شعور بیدار کرنا: سب سے پہلے ایسے لوگوں کے خلاف عوام کو بیدار کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوں۔
اسلامی قوانین کا نفاذ: اگر اسلامی شریعت کے مطابق عدل و انصاف کا نظام نافذ ہو تو کسی کی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ ظلم کرے۔
ظالموں کو بے نقاب کرنا: میڈیا، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کو استعمال کرکے ان ظالموں کو بے نقاب کیا جائے۔
منظم مزاحمت: عوام کو قانونی طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے اور ایسے مجرموں کو سزا دلوانے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔
اللہ سے مدد مانگنا: دعا، استغفار اور اللہ سے مدد مانگنی چاہیے تاکہ ایسے ظالموں کا جلد خاتمہ ہو۔
نتیجہ
ظالموں کے خلاف کھڑا ہونا ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل یہ ظلم ہمارے گھروں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان درندہ صفت لوگوں کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ظالموں کے خلاف ڈٹ جانے کی ہمت عطا فرمائے اور زمین سے ان ناسوروں کا خاتمہ کرے۔ آمین!