منگل، 25 مارچ، 2025

امن کیسے قائم ہوگا؟

 یہ بات بالکل درست ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اور اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا جو ہمیں دوبارہ سیدھے راستے پر لے کر جائے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بے بس ہو گئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے جو نظام، اصول اور طرزِ حکمرانی ہمیں دیا، وہ قیامت تک کے لیے کافی ہے۔

پھر یہ کام کیسے ہوگا؟

یہ کام ہمیں خود کرنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں انصاف ہو، ظلم کا خاتمہ ہو، اور ظالموں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے، تو ہمیں وہی طریقے اپنانے ہوں گے جو نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین نے اپنائے۔

1. صالح قیادت پیدا کرنا

جب تک قیادت منافقوں، بزدلوں، اور ظالموں کے ہاتھ میں رہے گی، تب تک امت ذلیل و خوار رہے گی۔ ہمیں ایسی قیادت پیدا کرنی ہوگی جو حضرت محمد ﷺ اور حضرت عمر فاروقؓ جیسے حکمرانوں کی سیرت پر چلے۔ ایسی قیادت تب ہی پیدا ہوگی جب ہم خود بھی اپنے اندر تقویٰ، بہادری، اور عدل پیدا کریں گے۔

2. ظلم کے خلاف عملی اقدام

  • اگر ظالموں کے خلاف لڑنا پڑے تو لڑا جائے۔

  • اگر ان کے خلاف آواز بلند کرنی ہو تو کی جائے۔

  • اگر ان کے خلاف اتحاد بنانا ہو تو بنایا جائے۔

یہ کام کوئی "اوپر سے" نہیں کرے گا، بلکہ یہ عوام کو خود کرنا ہوگا۔

3. اسلامی نظامِ عدل کا نفاذ

آج دنیا میں انصاف کا وہی نظام رائج ہے جو ظالموں کو تحفظ دیتا ہے۔ اگر انصاف چاہیے تو ہمیں شریعت کے مطابق عدالتی نظام قائم کرنا ہوگا۔ جب نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں اسلامی ریاست قائم کی تھی، تو سب سے پہلے عدل و انصاف کو مضبوط کیا تھا۔ ہمیں بھی یہی کرنا ہوگا۔

4. امت کو متحد کرنا

  • آج امتِ مسلمہ فرقوں میں بٹ چکی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دشمن ہم پر آسانی سے حکومت کر رہے ہیں۔

  • اگر ہم اپنے فقہی، مسلکی، اور لسانی اختلافات کو پیچھے چھوڑ کر صرف ایک کلمے پر متحد ہو جائیں، تو ہم پھر سے طاقتور بن سکتے ہیں۔

  • ہمیں ایک دوسرے کو کافر اور مشرک کہنے کے بجائے اصل دشمنوں کے خلاف ایک ہونا ہوگا۔

5. جہاد اور مزاحمت

یہ دنیا طاقت کی زبان سمجھتی ہے۔ اگر ہم صرف مظلومیت کا رونا روتے رہیں گے تو کوئی ہماری مدد نہیں کرے گا۔ جب تک ہم ظلم کے خلاف جہاد نہیں کریں گے، تب تک کوئی بھی ہمیں انصاف نہیں دے گا۔ یہ جہاد ہر سطح پر ہو سکتا ہے:

  • قلم کا جہاد: سچ لکھ کر، ظلم بے نقاب کرکے۔

  • معاشی جہاد: ظالموں کا مالی بائیکاٹ کرکے۔

  • سیاسی جہاد: ظالموں کے نظام کے خلاف کھڑے ہو کر۔

  • میدانی جہاد: جب کوئی اور راستہ نہ بچے تو میدانِ عمل میں اتر کر۔

نتیجہ

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ظالموں کا خاتمہ ہو، اور دنیا میں پھر سے عدل قائم ہو، تو ہمیں خود وہ کردار ادا کرنا ہوگا جو نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ نے کیا تھا۔ اللہ کی مدد ہمیشہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں دعا بھی کرنی ہوگی، محنت بھی کرنی ہوگی، اور اگر ضرورت پڑے تو قربانی بھی دینی ہوگی۔

یہ کام کوئی اور نہیں کرے گا، ہمیں خود کرنا ہوگا!