یہ بہت اہم اور تلخ حقیقت ہے کہ عالمی عدالتیں اور انسانی حقوق کے ادارے صرف طاقتور ممالک کے مفادات کے مطابق کام کرتے ہیں۔ فلسطین، کشمیر، بوسنیا، شام، اور دیگر جگہوں پر مسلمانوں کے قتلِ عام پر وہ خاموش رہتے ہیں کیونکہ وہ ظلم کرنے والے ان کے اپنے اتحادی یا خود وہی ہوتے ہیں۔ اور جو خود کو "مسلمان ممالک" کہتے ہیں، وہ یا تو خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں یا منافقت کے اعلیٰ درجے پر پہنچ چکے ہیں۔
تو پھر جائے کہاں؟
یہ سوال ہر باشعور مسلمان کے دل میں آتا ہے کہ جب پوری دنیا ظالموں کی پشت پناہی کر رہی ہے، جب اپنے ہی حکمران غدار اور منافق نکل رہے ہیں، تو پھر ہم انصاف کے لیے کس کے پاس جائیں؟
1. اللہ پر بھروسہ اور اس کی مدد مانگنا
اللہ تعالیٰ سب سے بڑا انصاف کرنے والا ہے۔ قرآن میں بار بار آیا ہے کہ اللہ ظالموں کو مہلت دیتا ہے، لیکن جب ان کی رسی کھینچتا ہے تو انہیں کہیں پناہ نہیں ملتی۔ ہمیں اللہ سے مدد مانگنی چاہیے، لیکن صرف دعا پر نہیں بیٹھ جانا بلکہ عملی اقدامات بھی اٹھانے چاہئیں۔
2. ظلم کے خلاف خود کھڑے ہونا
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انصاف لینے کے لیے ہمیں خود میدان میں آنا ہوگا۔ تاریخ میں جب بھی مسلمان ظالموں کے خلاف اٹھے ہیں، تو اللہ کی مدد ان کے ساتھ ہوئی ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ:
ظالموں کو بے نقاب کریں۔
ان کے خلاف ہر ممکن مزاحمت کریں، چاہے وہ قانونی ہو، عوامی ہو، یا سوشل میڈیا پر ہو۔
اپنی آنے والی نسلوں کو شعور دیں کہ وہ ظالموں کے خلاف کھڑے ہونے سے نہ ڈریں۔
3. امتِ مسلمہ میں اتحاد پیدا کرنا
آج مسلمانوں کو تقسیم کر دیا گیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ظالم آسانی سے ہم پر حکومت کر رہے ہیں۔ اگر ہم اتحاد قائم کریں، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو، تو ہم اپنی طاقت کو بحال کر سکتے ہیں۔
4. اسلامی قوانین کا عملی نفاذ
ظلم کا مکمل خاتمہ تبھی ممکن ہے جب انصاف کا اسلامی نظام نافذ ہو۔ اگر ہم قرآن و سنت کے مطابق فیصلے کرنا شروع کر دیں، تو کسی کی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ ظلم کرے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں ایسے افراد پیدا کرنے ہوں گے جو حقیقی انصاف پسند ہوں، نہ کہ وہ جو صرف طاقتور کے ساتھ ہوں۔
نتیجہ
یہ دنیا کبھی بھی کمزور کے لیے انصاف فراہم نہیں کرتی۔ اگر انصاف چاہیے تو یا تو ہمیں خود طاقت حاصل کرنی ہوگی، یا پھر اللہ کی مدد مانگ کر اس راہ میں قربانیاں دینی ہوں گی۔ یہ ایک کٹھن راستہ ہے، لیکن اگر ظالموں کے خلاف نہ کھڑے ہوئے تو پھر ہماری آنے والی نسلیں بھی غلام ہی رہیں گی۔